“معاشرے کی عکاس ذاکر فیضی کی کہانیاں “از: عارفہ مسعود عنبر مرادآباد

0
123

‌قلم کاری محض وقت گزاری اور تفریح کے لئے ہو تو کسی قلم کار کی یہ کوئ فنکارانہ صلاحیت نہیں ہو سکتی کیونکہ قلم کاری ایک ایسی امانت ہے جس کا پاس و لحاظ رکھنا اور ادب و احترام کرنا ہر قلم کار کے لئے لازم ہے اس کا صالح اور بہترین استعمال یہی ہو سکتا ہے کہ قلم کار اپنے قلم کو بامقصد حصول کے لئے بروئے کار لائے ـ بلا شبہ قلم کاری ایک ایسی نعمت اور لافانی خزانہ ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتا جاتا ہے۔ اس دولت کو جتنا استعمال کیا جاتا ہے اس میں اتنا ہی اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ یہ ایک بیش قیمتی دولت ہے اللہ ربّ العزت کی جانب سے ہر کسی کو عطا نہیں کی جاتی۔یہ خداداد صلاحیت ہوتی ہے۔ شعور کوشش اور مشق سے فن کو جلا ضرور ملتی ہے لیکن یقیناً پرور دگار عالم ہی اس ذخیرے کا ودیعت کردہ ہے۔ڈاکٹر ذاکر فیضی کو اللہ کریم نے اس دولتِ خاص سے مالامال کیا ہے۔ میرے لیے یہ مسرت کی بات ہے کہ ڈاکٹر فیضی کہانیوں کا مجموعہ”نیا حمام” سے متعلق چند سطریں تحریر کرنے کا موقع ملا۔ اس خوشی کی ایک خاص وجہ یہ بھی ہے کہ ڈاکٹر فیضی میرے وطنِ عزیز “شہر جگر” مرادآباد سے تعلق رکھتے ہیں۔

ذاکر فیضی کا شمار ان فعال و متحرک قلم کاروں کی میں ہوتا ہے جو نو عمری کے زمانے سے ہی اپنی شناخت قائم کرنے میں کامیاب ہوئے۔
مسلسل محنت، لگن اور مستقل لکھتے پڑھتے رہنے کے شوق نے ان کی تحریروں کو استحکام بخشا ہے۔ اس وقت میرے پیش نظر ان کی کہانیوں کا مجموعہ ہے۔

مجموعہ کی پہلی کہانی کامطالعہ کرتے ہی مجھے محسوس ہو گیا تھا کہ اس مجموعہ کی کہانیوں کی نوعیت کیا ہے؟ میں ایک کہانی پڑھتی اور تو اس سے آگے کی دوسری کہانی پڑھنے کا اشتیاق بڑھتا جاتا۔۔۔یہاں تک کہ کتاب کی آخری کہانی پڑھنے کے بعد بھی میری تشنگی باقی رہی۔

ڈاکڑ فیضی کی کہانیاں حالاتِ حاضرہ کی چلتی پھرتی تصویریں ہمارے سامنے پیش کرتی ہیں۔ کہانیوں کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ ذاکر فیضی کی روح معاشرے کے کرب کو اپنے اندر محسوس کر رہی ہے اور اس کرب کی سلگتی ہوئ چنگاری کو بھی اور کہانیوں کے مطالعہ کے دوران اس نادیدہ کرب کی تپش کو عنبر بھی مسلسل اپنے اندر محسوس کرتی رہی۔ دوران مطالعہ مجھے اس بات کا بھی اندازہ بخوبی ہوگیا تھا کہ ڈاکٹر فیضی کے اس مجموعہ پر اگر میں کچھ تحریر کرنے کے لیے کاغذ قلم لے کر بیٹھوں گی تو میری چشم تر ہوجائے گی کیونکہ بقول شاعر

‌یہ میرا درد ہے جسے آپ کم سمجھتے ہیں
قلم کے کرب کو اہل قلم سمجھتے ہیں

ڈاکر فیضی نے ہمیشہ معاصر مسائل کو اپنی کہانیوں کا موضوع بنایا ہے وہ روز مرہ اور ہمارے معاشرے میں در پیش مسائل کو نہایت موثر انداز میں پیش کرتے ہیں جس کی وجہ سے معاشرے کی چلتی پھرتی جھانکی ہماری آنکھوں کے سامنے گھوم جاتی ہے۔ ڈاکٹر فیضی نے کتاب میں شامل اپنی پہلی کہانی “نیا حمام ” میں ایک اندھی،بہری ،اور گونگی لڑکی کے ذریعے میڈیا اور صحافت کے گرتے ہوئے معیار کو اس روح فرساں انداز میں پیش کیا ہے کہ قارئین کی چیخ نکل جائے۔ ان کے قلم نے موجودہ زمانے کے درباری میڈیا کو نہایت بے باک اور جرات مندانہ انداز میں برہنہ کیا ہے۔

گذشتہ ایک زمانے سے ڈاکٹر فیضی کا قلم رواں دواں ہے۔ اب ان کے قلم میں پختگی آچکی ہے۔ ان کے اندر ایک ماہرِ فن اور منجھے ہوئے قلم کار کی تمام خوبیاں موجود ہیں۔ ذاکر فیضی کی کہانی” ٹوٹے گملے کا پودا” جھوٹی شان و شوکت،خاندانی جاہ وحشمت اور فرسودہ روایات میں مقید آلسی اور نکمے افراد کی کہانی ہے۔جو زمیں داری ختم ہونے کے بعد بھی اسی تکبر میں رہتے ہیں۔ نہ کوئی کام کرتے ہیں اور 35 سال تک بہن کی شادی نہیں کرتے۔ ڈبل ایم اے ہونے کے باوجود حنا کو نوکری کی اجازت نہیں کہ زمیندار گھر کی بیٹی نوکری کیسے کر سکتی ہے۔ جس کی وجہ سے حنا ذہنی تفکرات میں مبتلا ہو جاتی ہے۔ بھائیوں کے نکمے اور آلسی ہونے کی وجہ سے آخرکار خاندانی حویلی تک فروخت ہو جاتی ہے، کہانی کا ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیں:

” نہانے کے لئے آخری بار ہنڈ پمپ سے پانی بھرتے ہوئے اداس اداس آنکھوں سے سارے گھر کا جائزہ لیا اس کی نگاہ کونے میں پڑے ٹوٹے گملے کی طرف گئ تو اسے خیال گزرا کہ اس کی زندگی بھی اس کے پودے کی ہی طرح ہے جس کی زندگی اس گملے سے شروع ہو کر اسی گملے میں ختم لیکن آج یہ پودا اس گملے سے اکھاڑ کر کہاں لگا دیا جائے گا اور خدا جانے وہ وہاں پنپ بھی پائے گا یا نہیں ”

ہمارا معاشرہ سماجی و اخلاقی اقدار سے دن بہ دن عاری ہوتا جا رہا ہے رشوت خوری معاشرے کے لئے ناسور بن گئی ہے. رشوت خوری کے ذریعے سچ و حق کا قتل ہر گھڑی ہر جگہ ہوتا نظر آ رہا ہے “اسٹوری میں دم نہیں”کہانی کے ذریعے ڈاکٹر ذاکر فیضی نے ایسے حالات کی بہترین عکاسی کی ہے۔ ہر کوئی اپنے ذاتی مفاد کے لیے حق اور انصاف کی گردن پر تلوار چلاتا نظر آ رہا ہے چاہے وہ کلرک ہو ،مینیجر، پولیس یا نیتا جی۔

ڈاکٹر‌فیضی کی کہانی ” ہریا کی حیرانیاں” نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا۔ یہ کہانی اس حدیث پاک کی غماز ہے جو ہمیں سبق دیتی ہے کہ کوئ بھی کام چھوٹا بڑا نہیں ہوتا دنیا کا ہر شخص استاد اور جمہورے کا رول ادا کر رہا ہے چاہے وہ آفیسر ہو ، ریسرچ اسکالر ،کلرک، چپراسی یا کاروباری۔
ذاکر فیضی نے ان کہانیوں میں بڑی بیباکی سے سماجی حقیقت نگاری اور کرداروں کا نفسیاتی تجزیہ کیا ہے۔ کہانی کے فن اور اس کے اسرارورموز تخلیقی سطح پر جس خوبصورتی سے برتے ہیں وہ قابلِ ستائش ہیں۔ انھوں نے اپنے آس پاس ہونے والی ہر سماجی ناہمواریوں کو محسوس کیا ہے نیز وہ واقعات اور سانحات جنہوں نے روح کو اندر تک جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے ذاکر فیضی کے فن کے دائرے میں شامل ہو گئے ہیں۔
انھوں نے ان کہانیوں کے کرداروں کے ذریعہ اس عہد کا بد نما چہرا دکھانے کی کامیاب کوشش کی ہے اور زندگی کی ان حقیقتوں کو بے نقاب کیا ہے جس کا نظارہ ہمارے لیے ناقابل برداشت ہے۔

ڈاکٹر فیضی نے جس ٹھوس حقیقت کو بیان کیا ہےاس کو جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ ان کی کہانیاں جرات مندانہ حقیقت نگاری کا منھ بولتا ثبوت ہیں۔ڈاکٹر فیضی کے پاس کہانی میں معمولی سے معمولی اظہار کے لیے ایک غیر معمولی انداز موجود ہے۔ ان کا افسانچہ “دلہن” میرے اس قول کی عکاسی کرتا نظر آے گا, جس میں معاشرے کی لڑکیوں کی بے شرمی، بے حیائ اور بے باکی کو منفرد انداز میں پیش کیا ہے۔ ڈاکٹر ذاکر فیضی ایک صاحب طرز ادیب اور نثر نگار ہیں۔ مجھے. امید ہی نہیں بلکہ یقین یقین کامل ہے کہ فیضی صاحب کا یہ مجموعہ “نیا حمام”اردو ادب میں بیش بہا شہرت اور مقبولیت کا حامل ہوگا اور اہلیان ادب اس کا کھلے دل سے استقبال کریں گے۔اردو کی اس خدمت کے عوض میں عارفہ عنبر ڈاکٹر ذاکر فیضی کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتی ہوں۔ بہت بہت شکریہ

Previous articleبدقسمتی ہے کہ کافی عرصے سے اردو زبان زوال کا شکارہے از :رازدان شاہد
Next articleافسانہ ’’چھڑی ‘‘ از : ڈاکٹر اختر آزاد

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here