مطالعہ سیرت کی ضرورت واہمیت از: محمد عدنان عالم.

0
53

کسی بھی عاشق کے عشق کی سچائی کو اس وقت تک تسلیم نہیں کیا جاسکتا جب تک یہ واضح نہ ہو کہ وہ اپنے معشوق کی تمام اداؤں، جملہ احوال سے واقف ہے. اور خود کو اپنے معشوق کے طریق حیات اور طرز زندگی کے عین مطابق ڈھال رکھا ہے. ٹھیک اسی طرح کوئی بھی مومن نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو جانے بغیر یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم ان کے آئیڈیل اور نمونہ ہیں. نیز کسی بھی شخصیت کی طرز زندگی اور ان کے احوال سے واقفیت اسی وقت ہو گی جب ان کی سیرت کا مطالعہ کیا جائے.

نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا مطالعہ کئی نظریہ اور زاویہ سے اہمیت کا حامل اور ناگزیر ہے. اللہ نے قرآن میں آنحضرتؐ کی ذات کو بہترین نمونہ قرار دے کر آپ کے اسوہ حسنہ پر عمل پیرا ہونے کا حکم ارشاد فرمایا ہے. سورۃ الآحزاب میں ہے “لقد كان لكم في رسول لله أسوة حسنة”. “نبی کریم کی زندگی، اور ان کی شخصیت مومنوں بلکہ پوری انسانیت کے لئے ایک مثال اور نمونہ ہے” . نیز اللہ تعالیٰ نے نبی کریم کی اتباع پوری انسانیت کے لئے لازم قرار دیا ہے. تو اس زاویہ سے ہمارے لئے سیرت پاک کا مطالعہ نہایت ہی اہم اور ضروری ہوجاتا ہے.

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات زندگی کے ہر شعبہ کے لئے ایک مثال اور نمونہ پیش کرتی ہے. خواہ اس کا تعلق سماجیات سے ہو. یا وہ معاملہ سیاسیات سے جڑا ہو. عائلی زندگی ہو یا عدالتی نظام، جملہ گوشہ حیات کے مسائل کا حل اور ان کے آداب وقوانين آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مبارکہ میں موجود ہے. اس لحاظ سے ایک قائد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیاسی زندگی میں اپنے مسائل کا حل ڈھونڈ سکتا ہے. ایک تاجر تجارت اور تجارت میں امانت داری کے آداب آپ کی سیرت طیبہ سے سیکھ سکتا ہے. ایک شوہر امہات المومنین کے ساتھ آپ کے معاملات کو دیکھ اپنی عائلی زندگی کو خوش گوار بنا سکتا ہے. ایک یتیم آپ کی زندگی سے سبق لیکر عزم استقلال سے مصائب کا سامنا کر سکتا ہے. ایک حاکم اپنے رعایا کے ساتھ برتاؤ کے آداب آپ کی بادشاہت سے لے سکتا ہے. خلاصہ کلام ایک کامل زندگی کی مثال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں موجود ہے. اس اعتبار سے بھی سے سیرت طیبہ کا مطالعہ بے حد ناگزیر ہوجاتا ہے.

ایک مرتبہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا گیا کہ “نبی علیہ السلام کے اخلاق کیسے تھے” تو انہوں نے جواب دیا “کان خلقہ القرآن”. “آپ صلی اللہ کا اخلاق تو قرآن ہے”. یعنی آپ کی شخصیت قرآن کی عملی تفسیر ہے. اورہماری شر یعت کا دارومدار قرآن ہی ہے. اور قرآن کو صحیح مفہوم ومعانی، اس کو باریکیوں کے ساتھ سمجھنا اور اس کے تقاضوں پر اترنا ممکن نہیں إلا یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی سے واقفیت حاصل کیا جائے. چنانچہ قرآن کو سمجھنے کے زاویہ سے بھی سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مطالعہ لازم ہے.
حدیث پاک میں ہے “بلغوا عني ولو أية” تم نے ہم سے جو احکامات اور تعلیمات کو حاصل کیا ہے وہ دوسروں تک پہونچا دو اگرچہ وہ ایک آیت اور مختصر سی بات ہی کیوں نہ ہو. اگر تبلیغ کے نقطہ نظر سے دیکھیں تو ایک داعی کے لئے یہ ناگزیر ہوجاتا ہے کہ وہ آپ کی زندگی، آپ کے داعیانہ اسلوب، طریقہ خطاب اور بات پیش کرنے کے طریقہ سے واقفیت حاصل کریں. نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت کے بنا کسی کافر کے سامنے اسلام کو پیش کرنا اور سمجھانا ممکن نہیں. اور یہ انسانی فطرت بھی ہے کہ وہ فیکٹ سے زیادہ کسی مثال اور عملی نمونہ کو دیکھ کر متاثر ہوتا ہے. لہٰذا تبلیغ کے نقطہ نظر سے یہ لابدی امر ہے.

افسوس صد افسوس! ہم اپنی زندگی کے اصل ہیرو ، اور آئیڈیل سے اتنا ہی دور ہوگئے ہیں جتنا کہ ہمارا ان کی زندگی کو جاننا اور ان کی زندگی کے ہر کردار کی کاپی کرنا ضروری تھا. ہم اور ہماری نئ نسل فلمی اورڈرامائی اداکار واداکارہ کی زندگی، ان کی عادت، ان کے فیملی پس منظر، ان کا پسندیدہ رنگ حتی کہ ان کی ہائٹ تک کا علم رکھتے ہیں جو کہ ہمارے آئیڈیل ہو نہیں سکتے. اور اپنی زندگی کے اصل ہیرو کے متعلق بنیادی معلومات سے بھی عاری ہیں. میں یہ دعویٰ کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ ہمارے 70-65٪نوجوانوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بچپن کے حالات سے بھی واقف نہیں ہے چہ جائے کہ ہماری نوخیز نسل.

خیر…..! نہایت ہی ضروری ہے ہم خود سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھیں اور اس کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھالنے کی کوشش کریں. ساتھ ہم اپنی نئی نسل کی توجہ کو اس جانب مرکوز کرائیں. اس کے لئے کسی بڑی تحریک یا انجمن کے قیام کی ضرورت نہیں. بلکہ علاقائی اس سے بڑھ کر کہوں گا کہ گاؤں اور محلہ کے اعتبار ایک چھوٹی سی انجمن بنے اور یہیں سے اپنی نو خیز نسل کو سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق آگاہی فراہم کریں. اس کا ایک طریقہ کار یہ ہوسکتا ہے ہفتہ میں کم از کم دو گھنٹے اس عظیم عمل کے لئے منتخب کریں اور لوگوں، خاص کر نئی نسل کو سیرت النبی کے حسین باغوں کا سیر کرائیں.

Previous articleہندوستان میں دینی جامعات کا نصاب اور موجودہ حالات کا تقاضا از : مولانا خالد سیف اللہ رحمانی
Next articleدرجہ فوقانیہ اورمولوی امتحانات رجسٹریشن کی آخری توسیعی تاریخ

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here