ساس اور بہو:خاندان کےلئے رحمت: قسط نمبر2) محمد علی جوہر سوپولوی

1
137

ومن ایته ان خلق لکم من انفسکم ازواجا لتسکنو الیھا وجعل بینکم مودۃ ورحمۃ………

شوہر پر سب سے زیادہ حق اس کی ماں کا ہے

ماں کو بھی اس بات کا علم ہونا چاہئے کہ ماں ہونے کایہ مطلب نہیں کہ بیٹا اور بیٹی ہمیشہ کے لئے اس کی ملکیت ہیں، ماں ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس کے دل میں مامتا کے ناقابلِ انقطاع جذبات ہوں، ماں کو اس بات کا احساس ہونا چاہئے کہ بیٹا جب شادی کرتا ہے، تو وہ اپنی زندگی کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہوتا ہے، اور اس کے اپنے تقاضے ہیں۔ اس مرحلے کے بعد اس کا یہ حق بنتا ہے کہ اس کا مستقل گھر ہو اور وہ اپنے طور پر زندگی گزارے۔
اس لئے ماں باپ کو چاہئے کہ بیٹے اور بہو کے لئے الگ گھر کا انتظام کریں، اور بہو بیٹے بھی گھر والوں کا خیال کریں، ان کے حقوق کی پاسداری اور لحاظ کریں ،کیوں کہ بیٹے پر ماں کا سب سے زیادہ حق ہے، اور بیوی پر اس کے شوہر کا سب سے زیادہ حق ہے، حضورنبی *اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔’’اَعْظَمُ النَّاسِ حَقًّا عَلَی الْمَرَأَۃِ زَوْجُھَا وَاَعْظَمُ النَّاسِ حَقًّا عَلَی الرَّجُلِ اُمُّہٗ‘‘* عورت پر سب سے بڑا حق اس کے شوہر کا ہے اور مرد پر سب سے بڑا حق اس کی ماں کا ہے اور *اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے *’’وَعَاشِرُوْھُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ‘‘* اور بیویوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو اس حدیث اور قرآنی آیت کے ذریعہ معلوم ہوا کہ سب سے زیادہ حق شوہر اور ماں کا ہے اور اللہ تعالیٰ مردوں کو حکم دے رہے ہیں کہ بیویوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو، اس لئے بیوی کو چاہئے کہ کبھی بھی اپنے شوہر کے بارے میں یہ ارادہ نہ کرے کہ وہ اپنی ماں سے جدا ہوجائے اور ماں کو چھوڑکر زندگی گذارے، اسی طرح شوہر بھی بیوی کی جائز باتوں میں حتی الامکان پاسداری کرے۔

شوہر کی بیوی (ساس کیلئے بہو)
سب سے پہلے ہمیں اس پر غور کرنا چاہئے کہ کیا ساس بہو اور ساس داماد کے درمیان تعلق باہمی کش مکش کا ذریعہ ہے؟ ماہرین نفسیات کے مطابق اس کی کوئی ایک وجہ نہیں بلکہ اس میں کئی عوامل کا رفرماہیں.. یہ نفرت ایک طرف ماں کے دل میں اپنے بیٹے یا بیٹی کے شریک حیات کے خلاف پیدا ہوتی ہے ، اور دوسری طرف بہو یا داماد کے دل میں اپنی ساس کے خلاف…
ان عوامل میں سب سے اہم عامل، ماں کا احساس ملکیت ہے.. وہ اس بات پر عقیدے کی حدتک یقین رکھتی ہے کہ اولاد گویا اس کی ملکیت ہے، اور کسی کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ اسے چھین سکے۔
دوسری طرف ساس کی ناپسندیدگی کا احساس اس وجہ سے بھی ہوتا ہے کہ بہو اپنے طور پر اس بات پر آمادہ نہیں ہوتی، کہ شوہر کے ساتھ اس کی محبت میں کوئی دوسرا شریک ہو، خواہ وہ شوہر کی ماں ہی کیوں نہ ہو.. وہ اس بات کی خواہش رکھتی ہے کہ شوہر کی پوری توجہ اس کی طرف ہو اور اس کی سوچ فکر کا مرکز ومحور صرف وہی ہو، نئے گھر میں مسائل پیدا ہونے کی وجہ اکثریہ ہوتی ہے کہ وہاں شادی کا ایک غلط تصور پایا جاتا ہے.. بیوی چاہتی ہے کہ شوہر کسی بھی معاملے میں صرف اس کی بات مانے، اور شوہر کی زندگی کا ہر چھوٹا بڑا معاملہ اس کے سامنے ہو.. وہ وہی غلط کردار اداکرنا چاہتی ہے، جو بعض مائیں ادا کرتی ہیں، کہ وہ اپنے بیٹے کے لئے خود اعتمادی کا کوئی موقع فراہم نہیں کرتیں۔
یہ بات اپنی جگہ صحیح ہے کہ بیوی اپنے شوہر کے بارے میں یہ حق رکھتی ہے، اور یہ بے شک بڑا بنیادی حق ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ دوسروں کے حقوق پر دست درازی کرے…
مسلمان تو اس بات کا مکلف ہے کہ وہ ہر صاحب حق کو اس کا حق ادا کرے.. ایک مسلمان جب اپنے اوپر عائد حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی کرتا ہے تو وہ گناہ گار ہوتا ہے..
اللہ تعالیٰ اس عبادت گزار بیوی پر اپنی رحمتیں نازل فرماتے ہیں، جو اپنے شوہر کو اس بات پر ابھارتی ہے کہ وہ اپنی والدہ کی بات مانے اور ان کی دل جوئی وخدمت کرے.. وہ اسے کہتی ہے میں تجھے قسم دیتی ہوں کہ صرف حلال مال کماؤ، اور میری وجہ سے اپنے آپ کو آگ میں نہ ڈالو…
اپنی والدہ کے ساتھ نیک سلوک کرو، ان کے ساتھ صلہ رحمی کرو، اور قطع تعلق نہ کرو ،ورنہ اللہ تعالیٰ تجھ سے قطع تعلق کر لے گا…
ایک صالح بیوی کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ذہن سے ساس کا یہ مہیب تصور نکال دے، اور وہ یہ سوچے کہ میرے شوہر کی ماں، یعنی ساس میرے لئے بھی ماں کی طرح ہے… اگر ساس کی طرف سے اس کے بارے میں کوئی غلط فہمی ہو جائے تو جواب میں اس کا طرز عمل وہی ہونا چاہئے ، جو وہ اپنی ماں کی کسی غلطی کی وجہ سے اختیار کرتی تھی…
جب بیوی یہ تصور کرے کہ میری ساس بھی میری ماں ہے، اور اس کے ساتھ بھی مجھے ماں جیسا ہی سلوک کرنا چاہئے، اور ساس کی طرف سے اگر کوئی غلطی ہو جائے، تو اس سے چشم پوشی اور در گزر کرے، اور ساس کی خدمت اور اطاعت شعاری کرے تو ساس بہو کے جھگڑے جو آئے دن پیش آتے رہتے ہیں، اس سے بڑی حد تک نجات مل جائے گی لیکن ہوتا ہے کہ بیوی شوہر ہی کے حقوق کی بجا آوری میں کوتاہی کرتی ہے اور اپنی ماں اور بھائیوں کے ساتھ اس کا جو برتاؤ رہتا ہے سسرال والوں کے ساتھ اس کا برتاؤ نہیں رہتا بلکہ دورخ معاملہ کرتی ہے.……………….

Previous articleحیات اللہ انصاری کے افسانوں میں مارکسیت:از رضوان بن علاء الدین
Next articleکہانی “دودوست” از جہانگیر انس

1 COMMENT

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here