“فریاد ہے اے کشتئ ملت کے نگہباں” امارت شرعیہ کے تناظر میں از: انوار الحسن وسطوی

0
357

ملک ہندوستان کی سطح پر کشتئ ملت کے نگہباں سے میری مراد امیرالہند حضرت مولانا ارشد مدنی مدظلہٗ، نائب امیر الہند مفتی محمد سلیمان منصور پوری مدظلہ، حضرت مولانا سید رابع حسنی ندوی مدظلہ صدر آل انڈیامسلم پرسنل لابورڈ، مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی مہتمم وشیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند، مولانا محمود مدنی صدر جمیعت علمائے ہند، جماعت اسلامی ہند کے ذمہ داران جناب سید سعادت اللہ حسینی اور مولانا سید جلال الد عمری، آل انڈیا ملی کونسل کے صدر مولانا عبداللہ مغیثی، نائب صدر مولانا انیس الرحمن قاسمی اور جنرل سیکریٹری ڈاکٹر منظور عالم، آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صدر جناب نوید حامد اور جناب عبد الحمید نعمانی، کل ہند امارت اہل حدیث کے امیر مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی، مولانا خالد سیف اللہ رحمانی قائم مقام جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، اتر پردیش کے امیر شریعت مولانا عبدالعلیم فاروقی، خانقاہ مجیبیہ پھلواری شریف پٹنہ کے مولانا بدر احمد مجیبی جمیعتہ العلماء آسام کے صدر مولانا بدرالدین اجمل قاسمی (ایم پی) اور آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر بیرسٹر جناب اسد الدین اویسی( ایم پی) جیسی شخصیتوں سے ہے – یہ وہ شخصیتیں ہیں جنہیں ملت کا درد بھی ہے اور یہ حضرات ملت کو متحد اور سرخرو بھی دیکھنا چاہتے ہیں- مذکورہ تمام اکابرین ملت کو یہ بات بخوبی معلوم ہے کہ بہار اڑیسہ اور جھارکھنڈ کے امیر شریعت مفکر اسلام حضرت مولانا محمد ولی رحمانی سال رواں کے3 اپریل2021 کو ہمیں داغ مفارقت دے گۓ – امارت شرعیہ کے دستور کے مطابق نئے امیر شریعت کا انتخاب 3 جولائی 2021 سے قبل ہو جانا چاہیے تھا لیکن بوجوہ یہ انتخاب اپنے وقت مقررہ پر نہیں ہو سکا جس کے سبب تینوں ریاستوں کے مسلمانوں میں ایک بے چینی اور اضطراب کی کیفیت پائی جا رہی ہے- مسلمانوں کے جذبات اور احساسات کے مدنظر نائب امیر شریعت بہار اڑیسہ و جھاڑکھنڈ مولانا محمد شمشاد رحمانی مدظلہ نے 8 اگست 2021 کوامارت کے نئے امیر شریعت کے انتخاب کی تاریخ کا اعلان کردیا ہے- انتخاب کی تاریخ مقرر ہونے سے قبل حضرت موصوف نے کئی دفعہ مسلمانوں کے کئی مؤقر وفود کو یہ بھروسہ دلایا تھا کہ ہر حال میں صاف و شفاف اور منصفانہ انتخابات کرائے جائیں گے انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ انشاء اللہ پوری ایمانداری اور خدا ترسی کے ساتھ ہم انتخاب امیر کی ذمہ داری پوری کریں گے- موصوف نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ انتخاب امارت کے دستور کے مطابق ہوگا اور پوری شفافیت سے انجام دیا جائے گا لیکن مقام افسوس ہے کہ کرونا پروٹوکول کی آڑ میں نائب امیر شریعت اور دیگر ذمہ داران امارت شرعیہ نے امارت کے دستور اور اس کی سو سالہ روایت کو پس پشت ڈال کر پولنگ بوتھوں پر ووٹنگ کے ذریعے امیر شریعت کے انتخاب کا فیصلہ لیا ہے – باوثوق ذرائع سے یہ خبر ملی ہے کہ انتخاب کے لیے تینوں ریاستوں میں 15زون بنائے گئے ہیں جہاں امارت شرعیہ بہار اڑیسہ اور جھارکھنڈ کے مجلس ارباب حل و عقد کے اراکین اپنے اپنے ووٹ ڈالیں گے، یعنی امیر شریعت کے لیے اپنی پسند کے نام پیش کریں گے- اس کا مطلب یہ ہوا کہ جس شخص کے لیے سب سے زیادہ ارباب حل وعقد اپنی رائے دیں گے وہی امیر شریعت منتخب ہوں گے- اس عمل کو صاف و شفاف اور بدعنوانی سے پاک انتخاب تو کہا جاسکتا ہے لیکن یہ عمل اور یہ طریقہ امارت کے دستور اور امارت کے سوسالہ روایت کے بالکل منافی اور برعکس ہو گا – ماضی میں اس طریقے عمل کی کوئی دوسری نظیر نہیں ملتی ہے – امیر شریعت کے انتخاب کا ایک ضابطہ رہا ہے جس کے تحت ہی ہمیشہ امیر شریعت کا انتخاب ہوتا رہا ہے- اب تک کی تاریخ میں ہمیشہ اتفاق رائے سے ہی امیرشریعت منتخب ہوتے رہے ہیں ہیں – طریقہ یہ رہا ہے کہ مجلس ارباب حل و عقد کے تمام افراد کسی مقام پر یکجا ہوتے ہیں اور ان کے درمیان سے ہی امیر شریعت کے نام کا اعلان ہوتا ہے جس کی تمام حاضرین اتفاق رائے سے تائید کرتے ہیں- اس موقع پر اتحاد و اتفاق کا قابل دید منظر دیکھنے کو ملتا ہے-

امیر شریعت کے مجوزہ انتخاب میں پولنگ مراکز بنا کر اگر رائے شماری لی گی اور طریقئہ انتخاب کی روایت سے انحراف کیا گیا تو مجلس ارباب حل و عقد کئی خیموں میں تقسیم ہو کر رہ جائیں گے اور پھر عرصہ دراز تک ان کے درمیان پیدا ہوئی کھائی برقرار رہ جائے گی- اگر امارت شرعیہ کے ذمہ داران حضرات نے اپنے فیصلے پر نظر ثانی نہیں کی تو اس نئے طریقئہ کے سبب ایک سو سال قدیم یہ شاندار ادارہ تباہ و برباد ہو جائے گا- نیز بہار، اڑیسہ و جھارکھنڈ کے مسلمانوں کے اتحاد کو جو نقصان پہنچے گا وہ الگ ہے- امارت شرعیہ بہار اڑیسہ اور جھارکھنڈ میں مسلمانوں کی شناخت ہے اگر یہ شناخت مٹ گئی تو مسلمان ہندوستان میں بے وزن ہو کر رہ جائیں گے- خدانخواستہ اگر امارت شرعیہ کا وجود ختم ہو گیا یا اس کی بنیاد ڈگمگاگئی تو اس سے ہمارے برگزیدہ اکابرین کی روح کو بھی تکلیف پہنچے گی- مسلمان حشر کے میدان میں فکر امارت کے بانی ابوالمحاسن مولانا محمد سجاد رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر اکابرین امارت کو کیا منھ دکھائیں گے؟

راقم الحروف کی نگاہ میں امیر شریعت کے انتخاب سے زیادہ ضروری مسلمانوں کا اتحاد و اتفاق ہے- میری ذاتی رائے ہے کہ اتحاد قائم کرنے کے لیے اگر انتخاب کو کچھ دنوں اور مؤخر کرنا پڑے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے – اگر کچھ دنوں اور امیر شریعت کا انتخاب نہیں ہو تو قیامت نہیں آجائے گی – لیکن اگر مسلمانوں کا اتحاد یاد باقی نہیں رہا تو یہ بہت بڑا المیہ ہوگا- اس بات سے سبھی واقف ہیں کہ معمار قوم امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد جنگ آزادی کے دوران قوموں کے اتحاد کو آزادی سے بھی مقدم سمجھتے تھے- 1923میں کانگریس کے خصوصی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے مولانا آزاد نے جو فرمایا تھا اس کی معنویت آج بھی برقرار ہے مولانا آزاد نے اپنی صدارتی تقریر میں کہا تھا:
” اگر بادلوں سے اتر کر ایک فرشتہ قطب مینار کی چوٹی پر کھڑا ہو جائے اور یہ اعلان کرے کہ ہندوستان کو آزادی آج ہی مل سکتی ہے بشرطیکہ وہ ہندو مسلم اتحاد سے دستبردار ہو جائیں تو میں آزادی سے دستبردار ہو جاؤں گا، کیوں کہ اگر ہمیں آزادی نہیں ملی تو یہ ہندوستان کا نقصان ہوگا لیکن اگر ہندو مسلم اتحاد نہ رہ سکا تو یہ عالم انسانیت کا نقصان ہوگا-”
مولانا ابوالکلام آزاد نے یہ بات ہندو مسلم اتحاد کے تعلق سے کہی تھی، لیکن یہاں تو معاملہ خالص مسلمانوں سے تعلق رکھتا ہے اگر آج مولانا آزاد زندہ ہوتے تو موجودہ ذمہ داران امارت شرعیہ کے متعلق کیا رائے قائم کرتے یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے- یہاں مولانا آزاد کا تذکرہ لانا میں نے بطور خاص اس لیےضروری سمجھا ہے کہ امارت شرعیہ کے بانیان میں سے ایک مولانا ابوالکلام آزاد بھی ہیں – تاریخ شاہد ہے کہ امارت شرعیہ کی بنیاد مولانا آزاد کی موجودگی میں ڈالی گئی تھی- اس تاریخ کو نہ فراموش کیا جا سکتا ہے اور نہ جھٹلایا ہی جا سکتا ہے-

امارت شرعیہ کے بہی خواہان اور تمام اراکین ارباب حل وعقد اگر یہ چاہتے ہیں کہ امارت شرعیہ کا وجود پوری شان بان کے ساتھ قائم رہے، اس کی ساکھ برقرار رہے، اس کے وقار کو ذرہ برابر بھی ٹھیس نہ پہنچے تو یہ اسی وقت ممکن ہوسکتا ہے جب امارت شرعیہ کو اس کے دستور کے مطابق چلایا جائے- اس کی روایت کو برقرار رکھا جائے اور امیر شریعت کا انتخاب بھی دستور اور روایت کے مطابق ہی ہو- امارت شرعیہ کے امیر کا منصب کوئی سیاسی عہدہ نہیں ہے کہ اس کا انتخاب سیاسی طریقے سے انجام پذیر ہو اور اس کے لیے ووٹنگ کرائی جائے، پھر ووٹوں کی گنتی ہو، فتح و شکست کا فیصلہ ہو، جیتنے والے جشن منائیں اور ہارنے والے آنسو بہائیں- امارت شرعیہ کے امیر کے انتخاب کے لیے اگر سیاسی طریقہ اختیار کیا گیا تو اس ادارے کو تباہی سے کوئی نہیں بچا سکتا خواہ وہ کتنا ہی بڑا قابل یا دبنگ شخص کیوں نہ ہو- (یہ بھی پڑھیں!امارتِ شرعیہ کو سولی پر چڑھانے کی تیاری از:سید فضیل احمد ناصری)
امارت شرعیہ بہار اڑیسہ و جھاڑکھنڈ ملت کا قیمتی اثاثہ ہے جس پر بجا طور پر بہار اڑیسہ اور جھارکھنڈ کے مسلمانوں کو فخر ہے- مزید یہ کہ امارت شرعیہ ملت اسلامیہ کی روح بھی ہے- اسی لیے مفکر اسلام مولانا سید ابو الحسن علی ندوی رحمۃ اللہ علیہ کہا کرتے تھے کہ “مجھے بہار پر فخر ہے اور فخر اس لیے ہے کہ یہاں امارت شرعیہ ہے” – امارت شرعیہ نے بہت سارے نشیب و فراز اور سخت ترین حالات کا سامنا کرتے ہوئے اپنی زندگی کے سو سال کامیابی کے ساتھ مکمل کیے ہیں- امارت شرعیہ کی بقا میں ملت اسلامیہ کی بقا کا راز مضمر ہے- یہ صرف ایک ادارہ نہیں بلکہ مسلمانوں کے وقار کی علامت ہے- امیرشریعت کے انتخاب کے مجوزہ طریقے کے سبب امارت شرعیہ خدانخواستہ اپنے دستور سے ہٹ گئی اور کمزور ہو گئی تو اس سے پوری ملت کی رسوائی ہوگی- اس لئے امارت شرعیہ کے دستور و آئین کی حفاظت اور دستور کے مطابق امیر کے انتخاب کو یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش ہونی چاہیے- دوسری بات یہ کہ جب بھی امیر کا انتخاب ہو تو یہ امارت شرعیہ کے مرکزی دفتر پھلواری شریف، پٹنہ میں کرایا جائے اور تمام ارباب حل و عقد کی موجودگی میں ہی ہو، ورنہ دیگر طریقے سے کرایا گیا انتخاب قطعی قابل قبول نہیں ہو سکتا ہے-
امارت شرعیہ کی بقا اور اس کے تحفظ کی ذمہ داری جہاں مسلمانان بہار اڑیسہ و جھاڑکھنڈ پر عائد ہوتی ہے وہیں یہ ملک کے تمام مسلمانوں پر بھی عائد ہوتی ہے اور بالخصوص اس ملک کے تمام قائدین ملت پر تو یہ فرض کا درجہ رکھتی ہے- ہمارے قائدین خواہ وہ جس تنظیم اور جس ادارے سے تعلق رکھتے ہوں انہیں ہر موڑ پر بہار کے مسلمانوں کی ضرورت پڑتی ہے اور پڑے گی- لہذا اب جب بہار کے مسلمانوں پر آزمائش کی گھڑی آگئی ہے تو اس وقت قائدین ملت کا خاموش تماشائی بنے رہنا قطعی مناسب نہیں ہے- ہمارے قائدین کو چاہیے کہ وہ آگے آکر مسلمانان بہار اڑیسہ و جھارکھنڈ کی رہنمائی فرمائیں اور امیر امارت کے انتخاب کے مسئلے میں آئی پیچیدگی کو دور کرنے کی حتی الامکان کوشش کریں – امارت شرعیہ کے ذمہ داران کو امارت کے دستور اور اس کی روایت کو یاد دلائیں – قائدین ملت کو ساحل سے ڈگمگاتی کشتی کا نظارہ کرنے کے بجائے ڈگمگاتی کشتی کو ساحل تک پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے- یہ نیک کام کون حضرات کر سکتے ہیں یا جنھیں کرنا چاہیے ان کے ناموں کا ذکر میں اپنی تحریر کے آغاز میں کر چکا ہوں- آخر میں میں کشتئ امت کے نگہبانوں کو حکیم الامت شاعر مشرق علامہ اقبال کا یہ شعر یاد دلاتے ہوئے اپنی تحریر ختم کرتا ہوں :
یہ گھڑی محشر کی ہے اور تو عرصۂ محشر میں ہے پیش کر غافل عمل کوئی اگر دفتر میں ہے

آشیانہ کاونی. باغ ملی،حاجی پور (ویشالی) بہار
پن:844101
9430649112

Previous articleحضرت ابراہیم علیہ السلام اور عید الاضحی’ کی اہمیت از: احسان قاسمی ( پہلی قسط )
Next articleرینو کے شہر میں: تخلیقی بیانیہ کی تمثال از: محمد جابر زماں

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here