عید قرباں اور خواتین کے مسائل۔۔ از:عین الحق امینی قاسمی

0
148

عید وبقرعید مسلمانوں کےدو ایسے بین الاقوامی تہوار ہیں ،جسے امیر غریب ،خواہ اقلیت میں ہوں یااکثریت میں ،مسلمان مردو عورت جہاں بھی جس حال میں بستے ہیں ہر جگہ اجتماعی طور پر حسب استطاعت ، خوشی ومسرت کے ساتھ مناتے چلے آرہے ہیں ۔بعض جہتوں سے خواتین میں ان تہواروں کی عظمت و قدردانی زیادہ پائی جاتی ہے اور اسی وجہ سے وہ اس کی تیاریاں بھی بصد شوق بہت پہلے سے شروع کردیتی ہیں ۔عام طور پر وہ ان تہواروں کے موقع پر اہل خانہ کے درمیان خوشیوں کو انجام تک پہچانے میں اپنی راحت وسکون تک کو فراموش کرجاتی ہیں ،وہ ہر حال میں خود پر اضافی ذمہ داریاں سوار کرلینے کے باوجود بچے اور گھر کے بڑے بوڑھوں کے چہرے پر نہ صرف مسکان دیکھنے کی آرزو مند ہوتی ہیں، بلکہ اجر وثواب اور رضاء الٰہی کے حصول میں بھی غیر معمولی حوصلوں کے ساتھ بلا واسطہ حصے داری چاہتی ہیں ،اسی لئے شریعت اسلامیہ نے عید قرباں اور اس میں انجام دی جانے والی عبادتوں کے حوالے سے بھی خواتین کی عظمتوں کا احترام کرتے ہوئے باضابطہ انہیں ایام قربانی کے اعمال میں شرکت کی اجازت دی ہے ،بل کہ مردوں کے مساوی اجر وثواب سے بھی نوازا ہے ۔“(یہ بھی پڑھیں!خطبات سبحانی” :ایک سرسری مطالعہ از: عین الحق امینی قاسمی)

چنانچہ فقہاء نے لکھا ہے کہ تکبیر تشریق نویں ذی الحجہ کو فجر کے وقت سے تیرہویں ذی الحجہ کی عصر کے وقت تک ہرفرض نماز کے بعد کہنا واجب ہے، صاحبین رحمہما اللہ کے نزدیک شہر دیہات ہرجگہ منفرد اور جماعت سے پڑھنے والے ہرایک شخص پر تکبیر تشریق واجب ہے، اس لیے عورتوں کو بھی آہستہ آواز میں اس کا اہتمام کرنا چاہیے۔

اسی طرح عورت اگر ذبح کرنا جانتی ہے تو اس کے لیے قربانی کا جانور یا کسی اور غرض سے کوئی جانور ذبح کرنا جائز ہے،ذبیحہ کے حلال ہونے کے لئے یہ ضروری نہیں کہ ذبح کرنے والا مردہی ہو ، بلکہ عورت کا ذبیحہ بھی حلال ہے چنانچہ ایک صحابی ہیں کعب بن مالک رضی اللہ عنہ ،ان سے مروی ہے کہ ایک خاتون نے پتھر کی نوک سے بکری ذبح کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے حلال ہونے کے بارے میں پوچھا کیاگیا تو آپ صلی الللہ علیہ وسلم نے اس کے کھانے کاحکم دیا۔
قربانی کےگوشت کی تقسیم میں خواتین کے لئے بھی وہی حکم ہے کہ قربانی کے گوشت کو تین حصوں میں تقسیم کیا جائے،ایک حصہ غرباء اور مساکین کے لئے مختص کرلیں ،جب کہ دوسرا حصہ اپنے رشتہ دار دوست اور سہیلیوں میں تقسیم کریں اور تیسرا حصہ خود استعمال کریں ۔قربانی کے فضائل ومسائل وہی ہیں جو مردوں کے لئے ہیں ، اسی طرح قربانی درست ہونے کے لئے جو شرائط مردوں کے لئے ہیں وہی سب شرائط خاتون کے لئے بھی ہیں ،یعنی وجوب قربانی کے شرائط ،کن جانوروں کی قربانی درست ہے ؟ کن لوگوں کے لئے قربانی واجب ہے ؟کب تک قربانی کی جاسکتی ہے وغیرہ۔
خواتین اگر خود صاحب حیثیت ہیں اوراپنے مرحومین کی طرف سےبھی قربانی کرنا چاہتی ہیں ، تو فقہا ءکے یہاں اس کی گنجائش ہے کہ وہ اپنی قربانی کے ساتھ اپنے مرحومین کی طرف سے قربانی کرسکتی ہیں اور یہ قربانی قابل اجر وثواب سمجھی جائے گی ۔یہاں اس بات کو بھی ذہن میں رکھ لینا ضروری ہوگا جوکہ مردو خواتین سب کے لئے یکساں ہے ،یعنی ایک ہے ثواب میں مرحومین کو شریک کر نا اور دوسری صورت ہے ،جانور میں شریک کرنا ۔اپنی قربانی کے ثواب میں ایک سے زائد مرحومین ومرحومات کو ثواب میں شریک کیا جاسکتا ہے ،اگر جانور میں ایک سے زائد مرحومین کو شریک کرنا چاہتے ہیں تو چھوٹے جانور میں صرف ایک مرحوم کو شریک کر اس کی قربانی کی جائے گی ،جب کہ بڑے جانور میں فی حصہ ایک مرحوم یا مرحومہ کے نام سے قربانی کریں ،گویا اس طرح بڑے جانور میں ایک سے زائد مرحومین کے نام سے قربانی کی جاسکتی ہے ۔
خواتین کے لئے یہ کہیں سے بھی درست نہیں ہے کہ جب خود ان پر قربانی واجب ہو تو اپنے نام سے قربانی کرنے کی بجائے وہ ہر سال الگ الگ ناموں کے ساتھ قربانی کرنے کی غیر اصولی روایت اپنائیں ۔یا خود سے وہ قربانی کرسکتی ہےتو بہتر ہے کہ اوروں کی مدد سے اپنے جانور کو قربان کریں ،یا اسی طرح خواتین کے لئے یہ بھی صحیح نہیں ہے کہ ایام قربانی کے اعمال میں غیر اہمیت کے ساتھ شریک ہو کر اللہ تعالی کی رضا و خوشنودی سے خود کو محروم رکھیں ۔
حرف آخر کے طور پر یہ عرض کردینا بھی ضروری ہے کہ خواتین کے لئے دین اسلام میں جو عظمتیں ہیں وہ دوسرے کسی مذاہب میں نہیں ہیں ،ضرورت ہے کہ خواتین اسلام ،شریعت میں دیئے گئے اپنے حقوق کو جانیں ،سمجھیں اور اس پر سعادت سمجھ کر عمل کریں ۔ عید قرباں کے اس موقع پر ٹولہ محلہ ،پاس پڑوس میں بہت سی ایسی ضرورت مند خواتین رہتی ہیں جو زبان سے اپنی تنگ دامانی کا اظہار نہیں کرتیں ،مگر وہ عید کے اس حسین موقع پر خواہش رکھتی ہیں کہ وہ بھی آپ کی طرح کشادگی اورخوشحالی سے عید منائیں ،مگر مالی وسائل انہیں اس کی اجازت نہیں دیتے ،آپ کی انسانی واخلاقی ذمہ داری ہے کہ آپ ان کا اور ان کے بچوں کا بھی اس عظیم عید قرباں کے موقع پر خاص خیال رکھیں ،ہوسکے تو تہوار کے بہانے اپنے گھریلو سامان کچھ زیادہ مقدار میں بازار سے منگوالیں اور اس میں سے حسب ضرورت اپنے لئے رکھ کر ان پڑوس میں رہنے والی باغیرت خاتون کے گھر بھی کچھ تھوڑا بہت بھجوادیں ،تاکہ ان کے بچے بھی آپ کے بچوں کے ساتھ تہوار کی خوشیاں لوٹ سکیں ، اس بات کو بھی ذہن میں جگہ ملی چاہئے کہ عید قرباں اپنی تمام تر عبادتوں ،روایتوں اور سنتوں پر عمل کے ساتھ ہمیں اپنے اندر ایک دوسرے کے تئیں ایثار ،ہمدردی ،محبت ،پیار کا احساس پیدا کرنے پر بھی ابھارتی ہے اور ہر سال اس عہد کا اعادہ کراتی ہے کہ میری نماز ،میری قربانی ،میری زندگی اور میری موت سب اللہ کے لئے ہے اور سید نا حضرت اسماعیل ذبیح اللہ کا اپنے پیارے باپ سیدنا حضرت ابرہیم خلیل اللہ سےیہ کہنا کہ آپ کو جو حکم ملا ہے وہ کر گذرئیے ،ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے ۔ اس میں پوری امت کے مرد وخواتین کے لئے کامیابی کا بہت بڑا سبق ہے ،در اصل عید قرباں کے موقع پر سنت ابراہیمی کی انجام دہی سے اسی عہد اور اسی سبق کا اعادہ کرا یا جاتا ہے ،تاکہ بندگان خدا میں جذبہ ایثار پیدا ہو اور وہ دوسروں کے کام آئیں ،اورزندگی میں اطاعت وجاں نثاری کا مزاج پیدا ہو ۔

نائب صدر جمعیۃ علماء بیگوسراے

Previous articleجے این کالج نہرا دربھنگہ میں پروفیسر ابوالکلام قاسمی کے سانحہ ارتحال پر تعزیتی نشست
Next article’’ضرورت ہے براہیمی اولو العزمی کی مومن کو‘‘ از: عبدالوہاب قاسمی

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here