ساس اور بہوخاندان کےلئےرحمت ،قسط نمبر4 محمد علی جوہرسوپولوی

0
76

mdalij802@gmail.com

ومن ایته ان خلق لکم من انفسکم ازواجا لتسکنو الیھا وجعل بینکم مودۃ ورحمۃ
ساس اور بہو میں ہم آہنگی کا مسئلہ

بسا اوقات لڑکا اپنی مرضی سے شادی کر لیتا ہے، اور ماں اس سے خوش نہیں ہوتی_وہ اپنی بہو کے بارے میں اپنا نقطۂ نظر تبدیل کرنے پر آمادہ نہیں ہوتی_اسی طرح کبھی بہو کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ساس کی اس بارے میں کیا رائے ہے، اور ساس کے اس کے بارے میں احساسات کچھ اچھے نہیں ہیں-چناں چہ وہ بھی اسی طرح بے رخی برتتی ہے جس طرح اس کی ساس برتتی ہے، اور اس کے نتیجے میں دونوں کے درمیان عداوت کی وہ آگ بھڑک اٹھتی ہے جس کے شعلے پھر کبھی ماند نہیں پڑتے …
اس صورت حال میں لڑکا بے چارہ چکی کے دوپاٹوں کے درمیان پستا رہتا ہے_ہمارا مشورہ یہ ہے کہ لڑکا جب شادی کا ارادہ کرے تو اس کو چاہئے کہ اپنے گھر والوں سے اپنی شادی کے بارے میں مشورہ ضرور کرے، اور ان پر زور دے کہ وہ اس کے ساتھ انتخاب میں شریک ہوں، خواہ برائے نام ہی کیوں نہ ہو، دلوں کو خوش کر دیتا ہے اور معاملہ سب کی آنکھوں کے سامنے آجا تا ہے اور پریشانی نہیں ہوتی…..
دوسری بات یہ ہے کہ ماں کو بھی چاہئے کہ اپنے بیٹے کی پسند کا خیال رکھے اور اس کو کسی ایسی لڑکی کے ساتھ شادی پر مجبور نہ کرے جس سے ذہنی ہم آہنگی نہ ہو…اس لئے کہ شادی ایک ایسا رشتہ ہے جو ساری زندگی پر محیط ہے_اس رشتے کو دوام بخشنے کے لئے ضروری ہے کہ ذہنی ہم آہنگی ہو……
تیسری بات اس مسئلے کی تلخ حقیقت کے ساتھ تعلق رکھتی ہے- جب شادی ماں کی رضا مندی کے بغیر طے پاجائے تو ایسی صورت میں ہم بہو کو نصیحت کریں گے کہ وہ ساس کی ترش روئی کا جواب خندہ پیشانی کے ساتھ دے اور نرمی سے پیش آتے ہوئے دل سے اس کا احترام کرے…
اس کی نفرت کا جواب محبت سے دے- دوسری طرف ساس کا فرض ہے کہ وہ اپنی بہو کے بارے میں اللہ سے ڈرے اور اسے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اس کے حقوق سے نوازے_اسے چاہئے کہ اپنے بغض اور ناپسندیدگی کو اس کے حقوق کی ادائیگی میں حائل نہ ہونے دے…..
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے *’’ اَلاَکُلُّکُمْ رَاعٍ وُکُلُّکُمْ مَسْئُوْلٌ عَنْ رَعِیَّتِہٖ‘‘* کان کھول کر سن لو تم میں ہر شخص نگراں اور محافظ ہے اور ہر شخص سے اس کی نگرانی کی بابت سوال کیا جائے گا شوہر سے اس کی بیوی کے بارے میں سوال کیا جائے گا کہ اپنی بیوی کے حقوق کی رعایت کی کہ نہیں، اس کے حقوق کو ادا کیا کہ نہیں- بیوی سے اس کے شوہر کے متعلق پوچھا جائے گا کہ اس کے حقوق کو ادا کیایا نہیں_ اسی طرح ہر شخص سے سوال کیا جائے گا اگر ساس بہوکے حقوق کی ادائیگی میں روڑے اٹکارہی ہے تو یقینا اسے بھی جوابدہ ہونا ہوگا… اس لئے ساس کو بھی چاہئے کہ اپنی بہو کو بیٹی ہی تصور کرے اور وہ خیال کرے کہ اگر اس کی بیٹی کو کوئی تکلیف پہونچائے تو اس کے دل پر کیا گزرے گی اسی طرح ہر ایک ماں کو اپنی بیٹی کے تئیں یہی جذبہ ہو تا ہے.……….

Previous articleعقلمند کو ن اور بیوقوف کون؟ از: مدثر احمد قاسمی
Next articleہندستانی سنیما کا تاج محل خاموش!از:صفدر امام قادری

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here