ادائے خلیل کی اتباعِ ایمانی

0
124
ادائے خلیل کی اتباعِ ایمانی

ادائے خلیل کی اتباعِ ایمانی
عبدالوہاب قاسمیؔ

عیدِ قرباں اسلامی ارکان میں اپنی اہمیت ،فضیلت ،معنویت ،روحانیت،انسانی قلوب کی پا کیزگی اور روحانی تطہیرو تسکین کے حوالے سے منفرد شنا خت رکھتی ہے ۔یہ ابراہیمی عمل اگر ایک طرف قربِ خداوندی ،رـضائے الٰہی اور خوشنودیٔ رب کا با عث ہے تودوسری طرف ہر قدم پر سر فروشی ،قربا نی ،جاں سپاری ،طاعت وعبودیت ،عا جزی و انکساری ،تسلیم و رضا ،صدق وصفا اور صبر وشکر سے لبریز ہونے کا متقاـضی بھی ہے ۔

قربا نی ایک ایسا عمل ہے جو امتِ مسلمہ کی طرح اممِ سا بقہ کی متنوع عبا داتی شکلوں کا اٹوٹ اور نا قابل انفکاک جزو ہے ۔گو کہ طریقہ کار اور قبولیت کے مدار و شرائط مختلف ہیں ۔توا تر و تسلسل کے ساتھ اقوام و ملل کی شر اکت نے اس عمل کو ہمہ گیریت،معنویت اوروسعت عطا کر د ی ہے ،یہود ونصا ری کے ہاں بھی قربا نی کا تصور ملتا ہے۔زرتشتوں اورایرانیوں کے یہاں بھی فلسفہ قربا نی موجود ہے اور ہندوستان کے دیگر مذاہب کے یہاں بھی قربا نی کا عملی اظہار ہو تا ہے اور اسے مختلف الفاظ کا لباس پہنا کے کسی نے ’’نروان،،تو کسی نے ’’بلیدان،،اور کسی نے ’’بھینٹ ،،سے مو سوم کیا ہے ۔مگر قرآن نے اسے ’’نسک،،’’نحر،،اور ’’قربان ،، کے سا تھ مختص کیا ہے ۔قربانی جملہ انبیاء و کرام کا شیوہ رہی ہے ۔ہا بیل و قا بیل کے ذریعے ابتدا ئے آفرینش سے ہی قربانی انسا نی زندگی سے جڑی ہے ۔
قرآنی آیات اور احاد یثِ صحیحہ کی روشنی میں قربا نی کا حکم اور اس کی اہمیت و فضیلت کا عر فان کچھ یو ں ہو تاہے ۔ارشا د ربا نی ہے :مفہوم نماز پڑھئے اپنے رب کے لیے اور قربانی کیجئے ! یہاں تخا طبِ امری قربا نی کے وجوب پر دال ہے ،!!(سورۃالکوثر) دوسری جگہ ارشاد ہے : آپ فر مادیجئے ! کہ یقینا میری نماز ،میری قربانی اورمیری حیات وممات سب اللہ ہی کیلئے ہے جو پا لنہار ہے سا رے جہان کا (سو رۃ الانعام)۔ سورۃالحج میں قربا نی کا فلسفہ کچھ یوں سامنے آتاہے ۔فرمانِ الہی ہے :ہم نے ہر امت کے لئے ذبح کا طریقہ مقرر کیاہے ،کہ وہ اس طریقے پر ذبح کیا کر تے تھے ،…اس آیت میں اممِ سا بقہ کی قربا نی کی حقیقت کو روشن کیا گیا ہے ۔ایک او ر جگہ ارشاد ہے: ہرگز نہیںپہنچتا ہے با رگاہِ الہی میں قربانی کا گو شت اور اس کا خون …ہاں ! مگر تمہا ری پر ہیز گا ری اور تمہارا تقوی ہی با رگاہِ ایزدی تک رسائی حاصل کر تاہے ،…اس آیت میں اخلاص کے ساتھ قربا نی کے عمل کو انجام دینے کی تلقین کی گئی ہے ۔میدانِ عرفات میں کھڑے ہوکر آپﷺ نے ارشاد فریا ،: ’’اے لو گو !!ہرگھر والے پر ہر سال قربا نی ضروری ہے‘‘ (ابوداؤد،ترمذی)۔
حضرت عائشہ صدیقہ ؓسے روایت ہے کہ آپﷺ نے فرمایا ’’ذی الحجہ کی دسویں تاریخ کوکوئی نیک عمل با رگاہ ِخدا وندی میںقربا نی کا خون بہانے سے زیادہ محبوب وپسندیدہ نہیں ہے ،قیامت کے دن قربا نی کا جا نور اپنے سینگوں ،بالوںاور کھروں کے ساتھ (زندہ ) ہوکر آئیگا اورقربا نی کا خون زمین پر گر نے سے پہلے اللہ کے یہاں مقبول ہوجاتا ہے ،لہذا خوشدلی کے ساتھ قربا نی کیا کرو (ترمذی:۳،۸۳)۔
مذکورہ آیات واحادیث میں قربا نی کا حکم ،اسکے وجوب اور اسکے فضائل و برکات کے طرف واضح اشارے موجود ہیں ۔
قربانی ہر ایسے مسلمان ،عاقل ،بالغ اور مقیم پر وا جب ہے جس کی ملکیت میں ساڑھے با ون تولہ یعنی چھے سو با رہ گرام چاندی یا اس کی قیمت کے بقدر رقم یا تجا رت کا مال اس کی بنیا دی ضرورت سے زائد مو جود ہو یا ضرورت سے زائد گھریلو سا مان یا رہا ئشی مکان کے علا وہ کو ئی مکان یا زمین وغیرہ اسکی ملکیت میں موجود ہو ، (الفتاوی الہندیہ ۵:۲۹۲)۔ توسع کے با وجود قربا نی نہ کر نے پر آپﷺنے ایسے شخص کو عیدگا ہ میں داخلے کی مما نعت فرمائی ،آپنے ﷺ ارشا د فر مایا : جس کے پاس قربانی کی وسعت ہو اور وہ قربانی نہ کرے تو وہ میری عیدگاہ میں حا ضر نہ ہو (مسند احمد ،ابن ما جہ ،حاکم )یہ ایک طرح کی وعید اور پھٹکا ر ہے ایسے صا حبِ نصا ب کے لئے جو قربا نی کر نے میں تسا ہلی برتتے ہیں اور دنیا وی اعتبار سے سود و زیاں کا نظریہ قا ئم کر تے ہیں ۔
قربا نی کے اوقات صرف تین ایام یعنی ۱۰،۱۱،اور۱۲ویں ذی الحجہ پر محیط ہیں۔ البتہ افضلیت دسویں ذی الحجہ کو ہے۔ ان اوقات کی تعیین و تحدید میں حضرت عمر ،حضرت علی،ابوہریرہ اور حضرت انس ؓسے مذکو رہ ایا م ہی کتب احادیث میں منقول ہیں ،حضرت انس فر ماتے ہیں،:قربا نی دسویں ذی الحجہ کے بعد صرف دودن ہے ۔ائمہ میں امام ابو حنیفہ،امام مالک اورامام احمد ؒکے نزدیک بھی قربا نی کا مسلک ۱۰،۱۱اور با رہویں تا ریخ ہی ہے ۔ (المغنی لابن قدا مہ :۲،۳۸۱)
یہ تا ر یخ آج ہمارے سامنے ہے اور ہم سب سنتِ ابراہیمی کو ادا کر نے جا رہے ہیں ،دنیا کے مختلف حصوں اور خطوں میں قربا نی کایہ روحانی منظر سا منے ہوگا ،کتنی قربا نیاں عمل میں آئیںگی اورکتنے قسم کے جا نور قربا ن ہو ں گے ،…لیکن یہی وہ وقت ہے کہ ہمیں اپنا محاسبہ کر ناچا ہئے ،کہ کیا ہماری قربا نیاں صرف خدا ئی فرمان کی تعمیل میں ایک علا متی قربا نی ہے ؟ کیا جانوروں کو قربان کر تے وقت ہمارے قلوب میں اخلاص و للہیت کی قندیلیں روشن ہیں ؟ اور کیا ہمارے ذہنوں میں حقیقت کا یہ چراغ ضوفشاں ہے کہ جانوروں کی قربانی دراصل ہما ری جا نوں کی جگہ ہے ،…بعض مصلحتوں اور حکمتوں کی بنیاد پر جا نوروں کی قربانی کو انسانی جانوں کا مبدل قرار دیا ہے ،…خدا کو انسان سے وہی قربا نی مقصود ہے جس کی تفصیل سورہ انعام میں کچھ یوں ہے ،:تم کہہ دو کہ میری نماز ،میری قربانی ،میرا جینا اورمرنا اللہ ہی کیلئے ہے،جوسارے جہان کا پالنہار ہے ،(سورۃالانعام)ایک سچے مسلمان کی ایما نی وروحانی معراج یہی ہے کہ اپنی حیات کے ہر گوشے ،اپنی جان ،اپنی آل واولاد،قیمتی متاعِ حیات ،اپنامال ،مادی اور غیر مادی ،محسوس اور غیر محسوس مرئی یا غیر مرئی اشیاء کو راہِ خدا میں بلا تذبذب و ہچکچا ہٹ قربان کردے ،اپنی خواہشات ،مرضیات ، ترجیحات،ذاتی پسند و نا پسند ،آرائش و آرام ،عہدے اور منصب کو را ہِ خدا میں لٹانے کا حوصلہ اور ارادہ رکھے ۔حضرت ابراہیم ؑکی قربا نی انھیں عنا صر کی آمیزش کا حسین استعارہ ہے۔ برسوں کی ما نگی ہو ئی دعائوں کا ثمرہ ،آہِ سحر گاہی کا تحفہ اور بوڑھا پے کا سہارا ،اپنے لخت جگر ، نور نظر حضرت اسمعیل ؑکوراہ ِخدا میں قربان کر نے سے نہ دنیاوی رکا وٹوں نے روکا ،نہ بشری تقا ضے اور مطا لبے اس راہ میں آڑے آئے ،نہ ماں کی مامتا اورشفقتِ پدری اس عمل کو انجام دینے میں حائل ہو ئی ،نہ اندیشہ ہائے فردا کا خیال دل میں جاگزیں ہوا اور نہ ہی اس جاںگسل ،جا نکاہ اور جانگداز وقت میں کسی بذبذب ،کسی لغزش اور کسی تزلزل کا آپ پر اثر ہوا ،حکم الوہی پاتے ہی اس کو انجام دینے کے لیے پیکرِ صبرو رضا اورخوگرِ صدق وصفا حضرت اسمعیل ؑ کو قبلہ روٗ زمین پر لٹا دیا اور جذباتِ اطاعتِ الہی سے سر شار ہوکر ان کے گلے پر چھری پھیر دی ،…آسمان و زمین لرزگئے ،کا ئنات متزلزل ہو گئی اور فرشتے بے چین ہو اٹھے ،رحمتِ الہی جوش میں آئی ،چھری حکمِ الہی پا کر کند ہو گئی ،…اللہ نے حضرت ابراہیم ؑ کے جذبہ ٔ صا دق اوراخلا صِ کا مل کا انعام یوں دیا کہ ہر صاحب ِاستطاعت اور مالکِ نصاب پر قیامت تک کے لئے اس ادائے خلیل کو اتباعِ ایمانی قرار دیکر اسلامی شعار کا درجہ عطا کردیا ۔آج ہم سے بھی انہیں جذبا ت اور ایمانی سر شا ری کے ساتھ جانوروں کی قر با نی مطلوب ہے ،مادیت اور صا رفیت کے اس دور میں ہم نے ذرائع کو مقا صد پر فو قیت دے رکھی ہے ،دنیا وی مال ومتاع ،مادہ پرستی ،جاہ و منصب ،عیش و آرام ،خواہشات کی اتباع ،چند روز ہ زندگی کی آسا نیاں ،اور اس کی خوشیاں ہی ہماری نظروں میں مقصودِ حیات بن کر رہ گئی ہیں ،…ایسے میں اگر ہم سے حقیقی قربا نی کا مطالبہ ہوتا ہے ،تو ہما رے قدم لرزنے لگتے ہیں، قلوب پر رعشہ کی کیفیت طاری ہو جا تی ہے اور ارادے متزلزل ہو جا تے ہیں ،…حالانکہ اگر ہم اس فلسفے کوسا منے رکھیں کہ ہما ری زیست کے ہر سود وزیاں ،نفع ونقصان اور ہمارے قیمتی سے قیمتی سر مایۂ حیات کا مالک صرف اور صرف اللہ ہے اور اسی کی طرف یہ چیزیں لوٹا ئی جا رہی ہیں ،تو پھر اس کاانجام دینا آسان اور سہل ہو جا تا ہے ۔
دنیا وی عیش وآرام اورلذت ونشاط کی خا طر جانی ومالی قربانی سے راہِ فرار اختیار کرنا نہ دنیا وی زندگی کی فلاح کا ضامن ہے اور نہ ہی اخروی حیات میںفا ئزالمرام ہونے کی دلیل !کا میاب مومن وہی ہے جس کا مطمح نظر اپنی جان ومال کو مر ضیاتِ الہی پر قربان کر دینا ہو ، قربانی خواہ جان کی ہو یا مال کی ،نفس کی ہو کہ خواہشا ت کی ،وقت کی ہو کہ چا ہت کی ۔یہ ایک امر مشکل ہے جس کا انجام دینا آسان نہیں ،قربانی قوموں کے عروج و زوال کی ضامن ہے ،حیاتِ فانی کو حیات ِجا ودانی میں تبدیل کرنے کا اشا ریہ ہے ،قربا نی سرا پا اطاعت ، ایثار اور اظہار محبت کی انتہا ہے ۔ قربا نی کو کسی بھی قوم کی ارتقاء وارتفاع میں رہروِ حیات خیال کیا گیا ہے ،قربا نی آنے والی نسلوں کی صا لحیت اور حیات کی مقصدیت پر اپنے حسین اثرات اور نقشِ جمیل مر تسم کر تی ہے ،قربا نی مذہبی وملی تشخص کی علا مت ہے ،قربا نی باپ اوربیٹے کی محبت و اتفاق رائے کا حسین درس دیتی ہے ،قربا نی کر نے والا نوازشاتِ الہی کا مستحق ہو تا ہے ،قربا نی سے سنتِ ابراہیمؑ کی تجدید ہو تی ہے ،قربا نی امیدوں کے ساتھ جانفشانیوں کا حوصلہ عطا کرتی ہے ،قربا نی اسلامی تہذیب وتمدن ا ورروایت و ثقافت کی شناخت ہے،عید قربا ں کے موقع پر یقینا انسانی جان کی قربانی مطلوب نہیں ہے لیکن ہر ایمانی قلوب میں ان تمنائوں کی انگڑا ئیاں ضرور ہونی چا ہئے کہ اپنے مطلوبہ اہداف کے لئے قربان ہونے ،اوروقت آنے پر سر بکف جہادِ زندگانی میں اتر نے کا جذبہ اس میں موجود ہے ،اپنے دین و شریعت ،اپنے عقائد ،اپنے شعائر ،اپنی تہذیب و تمدن ،اپنی ثقافت وروایت ،اپنے وطن اور اپنی قوم کی حفاظت کے لئے ہر آن اور ہر لمحہ بلا خوف و تردد وہ تیار ہے ۔
آئیے!!سنت ابراہیمیؑ کی ادا ئیگی کے وقت ہم یہ عہد کریں کہ راہ ِخدا میں ہرطرح کی قربا نی کے لیے ہمہ وقت تیار رہیں گے ۔آج امت ِمسلمہ جس طرح کے گرداب بلا کا شکا ر ہے اورگردشِ دوراں کا نشانہ بنی ہو ئی ہے ،حا لات و حادثات کے جس بھنور میں وہ پھنسی ہے ،ادبار ونکبت کی مہیب گھٹائیں جس طرح ان پر منڈلا رہی ہیں اور مسائل ومشکلات کا طوفان بلا خیز جس طرح امڈ ا پڑ رہاہے ،…ان خونفشا ں حا لات میں ہر موڈاورہر محاذ پر قربانی کی ضرورت ہے !!

Previous articleٹونٹی دار لوٹا
Next articleقرآن مجید کے ایک نقطہ اور شوشہ میں بھی تبدیلی نہیں ہوسکتی

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here