’’ضرورت ہے براہیمی اولو العزمی کی مومن کو‘‘ از: عبدالوہاب قاسمی

6
183

چشم تصور سے اس ملک کا نظارہ کیجیے…!!جس کا نام آج سے تقریبا چار یا پانچ ہزار سال پہلے کالدیا، یا کلدانیہ تھا۔ جسے آج عراق کہا جاتاہے۔ اس وقت یہ پورا ملک ضلالت و گمراہی کی بے پناہ تا ریکیوں میں ڈوبا ہواتھا۔ عرفان خداوندی سے دوری، احکام الہیہ سے بیزاری اور ایک معبود کی جگہ سینکڑوں معبودان باطل کی پرستش اس کے مکینوں کا شیوہ تھا۔ انھیں کے سامنے جبین شوق خم کر نا اقبال مندی و فیروز مندی کی علامت سمجھی جاتی تھی۔ مگر تاریخ بتا تی ہے کہ یہی وہ وقت ہو تاہے جب معمورۂ ارضی پر بھو نچال آتاہے۔ دریائے امن و سکون کی سطح متزلزل ہوتی ہے۔ خدا کی پاک سرزمین پر اللہ کا کوئی بندہ حق کی آواز بلند کرتاہے۔ اس کی صدا ، صدائے الہی بن کر معبو دان باطل کی سر زمین کو لرزاتی ہے۔ صنم خانوں میں زلزلے آتے ہیں۔ سینکڑوں خدائوں کے سامنے جبیں سائی کر نیو الے مبہوت ہو کر رہ جاتے ہیں۔ بادشاہ وقت کی انانیت سپر د خاک ہو جاتی ہے۔ اس کے انا ربکم الاعلی کے سارے دعوے کھوکھلے ثابت ہو تے ہیں۔ ماحول او ر سماج کی لادینیت بھی چیخنے لگتی ہے کہ میں باطل ہو ں اور حق کی یہ آواز جو تمھاری سماعت سے ٹکرارہی ہے، وہی حق ہے، وہی سچ ہے!!

ایک ایسی ہی حق کی آواز بلند کر نے والے اللہ کے خلیل حضرت ابرہیم علیہ السلام اس ملک کی تا ریکیوں میں شمع تو حید فر وزاں کر نے میں منہمک ہیں جن کی پوری زندگی ابتلا ئو آزمائش کی کھلی کتاب ہے۔ امتحان الہی سے عبارت ہے۔ قدم قدم پر عشق و محبت کے سنگین مراحل در پیش ہیں لیکن کہیں بھی پائے استقامت میں تزلزل نہیں۔ صبرو استقامت، عزم وحوصلہ اور پامرادی وعالی حوصلگی کے جوہر ان میں نمایاں ہیں۔
آپ ایک بڑے مجاور یا پروہت کے گھر پیدا ہو ئے۔ پلے بڑھے اور وہیں جوان ہوئے۔ جس کا پیشہ صنم تراشی اوربت گری تھا۔ جو شہر کے سب سے بڑے معبد میں مجاور بھی تھا۔ اس مشرکانہ ، بت پرستانہ اور جہالت و گمرا ہی کے ماحول میں کو ئی ایسی چیز نہ تھی جو ایمان کی شمع قلب کی تا ریکیوں میں روشن کر سکتی لیکن اس قلبِ سلیم کی بات ہی نرالی تھی۔ جس کا انتخاب نور نبوت سے سرفرازی اورعالم نو کی تعمیر کے لیے کیا جا چکا تھا۔ چنانچہ خالق کائنات خود فر ماتا ہے:
’’ولقد آتیناابراہیم رشدہ من قبل وکنابہ علمین‘‘
تر جمہ:’’ اور آگے دی تھی ہم نے ابراہیم کو اس کی نیک راہ اور ہم رکھتے ہیں اس کی خبر‘‘ (سورہ انبیاء آیت :۵۱)
عمر رواں کے ساتھ مناظر فطرت میں اپنے معبود حقیقی کی جستجو جاری ہے۔ کبھی ستاروں کی جھلملاہٹ اور کبھی چاندکی دلکشی اور سورج کی ضیابار کرنوں میں معبود حقیقی کا گمان کھٹکتاہے۔لیکن ان کے زوال پذیر وجود سے ان پر یہ حقیقت عیاں ہو جاتی ہے کہ خدا تو وہی ہو سکتاہے جو لازوال ہو ۔ چنانچہ لا زوال خدا کا نور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنے گھیرے میں لے لیتا ہے۔ وہ پکار اٹھتے ہیںکہ خدا وہی ہے جس کے دست قدرت میں یہ ساری کائنات ہے۔ وہ ایک ہے۔ تنہاہے۔ اس کا کو ئی شریک نہیں اور وہی اس لائق ہے کہ اس کے سامنے پیشانی رگڑی جائے۔ وحدانیت کی یہ آواز سب سے پہلے ان کے گھر کی دیوار و در سے ٹکراتی ہے۔ پھر رفتہ رفتہ پو رے ما حول میں گو نجتے ہوئے در بار شاہی پر رعد بن کر گتی ہے۔ ( یہ بھی پڑھیں!ادائے خلیل کی اتباعِ ایمانی)

وقت کا نمرود یہ سنتے ہی آگ ہو جاتا ہے۔ پورا شہر دشمن، پوری سوسائٹی خون کی پیاسی ہے۔ نمرود فر مان جاری کر تاہے۔ آگ کا شعلہ ٔجوالہ بھڑکا یا جائے اور اس کو اس میں جھونک دیا جائے…اللہ اللہ…!!آسمان کی بے داغ نیلگونی، سورج کی بے نقاب درخشندگی، پہاڑوں کی بلندی، وادیوں کی وسعت، حوروملائک، لاتعداد خلائق، فضا کے سناٹوں اورفلک کے ستاروںنے دیکھا…دیکھا ہی نہیں چشم پر نم ہو کر دیکھا…آہ…!! آگ کا شرارہ پھوٹ رہاہے۔ اس کی لپٹ آسمان کو چھو رہی ہے۔ حرارت اتنی تیز کہ قریب جانے کی کسی میں تاب نہیں۔ جو جائے جل جائے۔ قریب ہو تو بھن جائے۔ نظر کرے تو دہل جائے… لیکن اس میں تو حید کا منادی ٹہل رہا ہے۔ ہو ائیں فر یاد رسی کو پہنچتی ہیں۔ حکم ہو تو بجھا دیا جائے۔ با دلیں امنڈ امنڈ کر آئے۔ اجا زت ہو تو ٹھنڈا کر دیا جائے۔ لیکن خلیل کا جواب یہ تھا کہ نہیں نہیں…!!وہ خدا جس کے قبضۂ قدرت میں یہ ساری کائنات ہے وہ ہمیں دیکھ رہا ہے اور وہی ہمارا نجات دہندہ ہے۔ کیا غضب کی عبدیت تھی۔ اخلاص کتنے اعلی پیمانے کا تھا۔ یقین کے پہاڑ ثابت ہو ئے۔ ان کے عزم مصمم کے سامنے ہر چیز سر نگوں ہوگئی۔ یقینا با دہ بقدر ظرف ہی عطا ہوتا ہے ؎
جی خوش ہوا ہے راہ کو پر خار دیکھ کر
دیتے ہیں بادہ ظرف قدح خوار دیکھ کر
اللہ کو معلوم تھا کہ میری آزمائشوں پر اس کی پیشانی پر سلوٹیں نہیں آئیں گی، بلکہ وہ صبر وشکیب کا پیکر بن جائے گا۔ لہذا اپنے شاکر و صابر بندہ کی ارادت مندی کو دیکھ کر مژدہ سنایا جاتا ہے:
’’قلنایانارکونی برداوسلاماعلی ابراہیم‘‘(انبیاء:۷۸)
تر جمہ:’’ہم نے کہا اے آگ ٹھنڈی ہو جااور آرام کر ابراہیم پر‘‘
اللہ اکبر …!! وہ آگ جس کی حدت و تپش پرندوں کو پر مارنے کی اجازت نہیں دے رہی تھی۔ یکایک گل گلزار کی باد بہاری بن گئی۔ جو صبر کرتا ہو ا دا خل ہواتھاشکر کر تا ہوا صحیح سالم نکل آیا تھا۔
اب حکم ہو تا ہے اپنے اہل وعیال کے سا تھ اس وادی کے طرف چلو جو ’غیر ذی زرع ‘ ہے۔ حکم ربا نی پاتے ہی خلیل کی سر شاری شروع ہو جاتی ہے۔ اس وادی میں پہنچتے ہیں جہاں نہ سایہ ہے نہ پانی ، نہ کسی بشر کا گزر ہے اور نہ کوئی مو نس و غمخوار۔ چاروں طرف جلے ہوئے پہاڑ، تپتی ہو ئی ریت اور چلچلاتی دھوپ کی تپش ہے ۔ ہو کا عالم ہے۔ سناٹوںکا پہرہ ہے۔ ا س عالم بے بسی میں حکم ملتا ہے ۔ بیوی اور بچے کو یہیں تنہا چھوڑ دو…!!آہ …!!جدائی کا یہ کتنا ہولناک منظر چشم تا ریخ کے سامنے ہویدا تھا ۔ بیوی دامن پکڑ تی ہے، عاجزی کر تی ہے، ہمیں تنہا چھوڑ کر نہ جائیے ! اس معصوم کی زندگی کا کیا ہوگا!! جواب دیتے ہیں ۔ یہی مرضیٔ رب ہے۔ جس کی خلاف ورزی تادم حیات نہیں ہو سکتی…اس چٹیل اور ریتیلے میدان میں وہی تیرا سہارا اور آخری آسرا ہے…الوداعی نظریں ڈال کر نگا ہوں سے اوجھل ہو جاتے ہیں۔
لق ودق صحرا کے سینے پر عشق و عبودیت کا یہ منظر دیکھ کر تا ریخ کے سینے بھی لرز گئے ہوں گے۔ ان کے جد اہونے کے بعد جو واقعہ پیش آیا وہ اس قدر ہوش ربااور روح فرسا تھا کہ اسے سن کر کلیجہ منھ کو آنے لگتا ہے۔ رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔بیتتے لمحوں کے ساتھ اسباب زندگی ختم ہوجا تے ہیں۔ پھول سا بچہ پیاس کی شدت سے تڑپنے لگتاہے۔ ماں بیتاب ہو جاتی ہے۔ اس کی مامتا جوش مارنے لگتی ہے۔ ماں کی نظر وں کے سامنے لخت جگر تڑپ رہا ہو اور وہ مطمئن ہو ۔شاید تاریخ میں اس کے حوالے ناپید ہیں۔ وہ بے قرار ہو کر والہانہ انداز میں دوپہاڑیوں کے درمیان دوڑنے لگتی ہیں۔ وہ پانی کے نشان ڈھونڈتی ہیں ۔ کسی قافلے کی راہ تکتی ہیں۔ کوشش یہی ہے کہ کہیں سے پانی مل جائے۔ امیدوبیم کی سای کیفیت میں ایک پہاڑی سے دوسری پہاڑی پر چڑھتی ہیں۔ فورا بچہ کی یاد آتی ہے۔ نہ جانے وہ کس حال میں ہے ۔ ٹھہرے بغیر واپس آتی ہیں ۔ اپنے آپ کو مطمئن کر تی ہیں۔ دیکھتی ہیں کہ ابھی وہ زندہ ہے۔ اس میں زندگی کی رمق باقی ہے۔ پھر ممتا کی شدت روح میں ہلچل مچاتی ہے۔ رقت انگیز حالت میں پھر اسی پہاڑی کی طرف دوڑ پڑ تی ہیں۔ اس اضطراری کیفیت میں سات چکر لگا تی ہیں۔ لیکن آہ …!!ہر بار و ہی لق و دق صحرا، وہی آگ بر ساتا آسمان، وہی شعلہ اگلتی زمین، وہی بھنبھناتا سناٹا،ہر طرف پھیلی ہوئی وہی تنہائی تا حد نگا ہ دکھائی دے رہی ہے۔مگر اس اضطراب میں بھی اطمنان تھا۔ اس بے چینی و بے کلی میں سکون تھا۔ یہ ظاہری اسباب کی سعی پیہم تھی۔ جو ایمان اور توکل کے منافی نہیں تھی۔ بھروسہ تو اللہ ہی پر تھا۔ امید اسی پر ٹکی ہو ئی تھی۔ مایوسی اور نا امیدی کا کو ئی شا ئبہ نہ تھا۔ ایسامنظر چشم فلک نے شاید کبھی نہ دیکھا تھا۔
اب رحمت الہی جوش میں آتی ہے۔ایک چشمہ پھوٹ پڑتا ہے۔یہی وہ زم زم کا مبا رک چشمہ ہے۔ جو آج تک جاری ہے اور سارا عالم اس سے فیض یاب ہو رہا ہے۔ جس میں شفا بھی ہے، بر کت بھی۔ غذائیت بھی اور اجر و ثواب بھی۔ ایک مخلص مومنہ سے جواضطراری کیفیت صادر ہو ئی تھی ۔ اللہ نے اسے اب اختیاری حالت میں تبدیل کردیاہے۔ یہ دونوں پہاڑیاں ہر محب و عشاق کی منزل عشق بنادی گئیں۔ جب تک کو ئی حاجی ان کی سعی نہ کرلے اس کے حج کی تکمیل نہیں ہوسکتی۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اب سے پہلے کے اوراق زندگی کو الٹیے تو آزمائش الہی سے عبارت ہے۔ مگر اب اس امتحان کا وقت آتا ہے۔ جس سن کر پتھر دل بھی موم ہوجاتاہے۔ آنکھیں نمدیدہ ہوجاتی ہیں۔ یہ امتحان وہی ہے۔ جس کا اعلان قرآن میں یوں ہو تاہے:
’فلمابلغ معہ السعی قال یابنی انی اری فی المنام انی اذبحک فانظرماذاتری قال یاابت افعل ماتؤ مرستجدنی ان شاء اللہ من الصابرین‘‘ (صافات:۵۹)
تر جمہ:’’ پھر جب پہنچا اس کے ساتھ دوڑنے کو کہا اے بیٹے میں دیکھتا ہوں خواب میں کہ تجھ کو ذبح کر رتا ہوں پھر دیکھ توتو کیا دیکھتا ہے۔ بو لا اے باپ! کر ڈال جو تجھ کو حکم ہوتا ہے۔ تو مجھ کو پائے گا اگر اللہ نے چاہا سہارنے والا
بیٹا کہتا ہے ابا !! جلدی کیجیے کہیں حکم ربانی میں دیر نہ ہوجائے۔ کلام الہی اپنے فصیح و بلیغ الفاظ میں اس مناظر کی تصویر کشی کر تا ہے:
’’فلمااسلماوتلہ للجبین ونادیناہ ان یاابراہیم قد صدقت الرؤیااناکذلک نجزی المحسنین ان ہذالہوالبلاء المبین‘‘ (ایضا:۶۰تا۶۲)
تر جمہ:’’پھر جب دونوں نے حکم مانااور بچھا یا اس کو ماتھے کے بل اور ہم نے اس کو پکارا یوں کے اے ابراہیم تو نے سچ کر دکھایا خواب۔ہم یوں دیتے ہیں بد لانیکی کر نے والوںکو۔ بیشک یہی صریح چانچنا ‘‘
یہ قر بانی جس امتحان کا پیش خیمہ تھی ۔حضرت ابرہیم علی نبیناعلیہ الصلوۃ والسلام اس میں کامرا ن ہو چکے تھے اور اسمعیل علیہ السلام:وفدیناہ بذبح عظیم
(اور اس کا بدلہ دیا ہم نے ایک جانور ذبح کر نے کے واسطے)
کا مژدۂ جانفزا پر کر زندۂ جا وید ہو گئے۔
آج بھی مومن کو برا ہیمی اولو العزمی کی ضرورت ہے۔کیونکہ وقت کا نمرود اپنی پوری طاقت کے ساتھ مسلمانوں سے نبر د آزماہے!!

Previous articleعید قرباں اور خواتین کے مسائل۔۔ از:عین الحق امینی قاسمی
Next articleصیرم نشاط کی نمایاں کامیابی- دخترانِ ملت کے لیے مشعلِ راہ۔۔ از مظفر نازنین، کولکاتا

6 COMMENTS

  1. پورے مضمون کو پڑھنے کے بعد
    اتنا کہ دینا کافی ہوگا کہ وقت کے نمرود سے نبرد آزمائی کے لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام جیسی اولولعزمی کا ہونا بہت ضروری ہے
    آج وقت کا یہی تقاضہ ہے
    اللہ ہمیں براہیمی صفات سے متصف کرے

  2. ارادہ تھا مضمون کا کچھ حصہ پڑھنے کا ،مگر ایسی کشش تھی کہ الحمد للہ پورا مضمون پڑھ گیا ، ملک کےموجودہ منظر نامے کو سامنے رکھ کر جس خوش اسلوب میں براہیمی اولوالعزمی کی دعوت دی گئی ہے ،وہ قابل قدر بھی ہے اور قابل عمل بھی ،تحریرمیں ایسا لگتا ہے کہ الفاظ واستعارہ آپ کے روبرو دست بستہ اپنی باری کا انتظار کررہے ہیں ، مثبت فکر وقلم سے قارئین کو تعمیری دعوت دی گئی ہے ،اللہ ہمیں عمل کی توفیق بخشے ۔آمین ۔ آپ سے تو پہلے سے متاثر تھا اس مضمون نے دوبارہ اسیر کرلیا ہے ۔
    جزاکم اللہ خیرا

  3. ناچیز کی حوصلہ افزائی کا بہت بہت شکریہ۔
    آپ نے جس انداز سے اپنا تاثر پیش کیا ہے وہ یقینا آپ کی وسیع المشربی کا عکاس ہے۔مزید دعاؤں کی درخواست ہے

  4. جی خوش ہوا ہے راہ کو پر خار دیکھ کر
    دیتے ہیں بادہ ظرف قدح خوار دیکھ کر
    واقعى اس پر آشوب اور گمرہی کے دور مرد مومن کو براہیمی اولوالعزمی اور اسماعیلی تابعداری ہی کامیابی سے ہمکنار کر سکتی ہے
    اللہ ہمیں بھی ملت ابراہیمی پر سختی کے ساتھ عمل پیرا ہونے کی توفیق بخشے اور مضمون نگار کی کامیاب کاوش کو قبول فرمائے آمین

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here