ساس اوربہوخاندان کےلئےرحمت -قسط نمبر 3 محمدعلی جوہرسوپولوی

0
94

mdalij802@gmail.com

ومن ایته ان خلق لکم من انفسکم ازواجا لتسکنو الیھا وجعل بینکم مودۃ ورحمۃ

بیوی کا شوہر (ساس کا بیٹا) اور اس کی ذمہ داری

اس بارے میں شوہر کی ذمہ داری اور اس کے کردار کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا. حقیقت یہ ہے کہ ساس بہو کے درمیان پیداہونے والے اختلافات کی ایک بڑی وجہ شوہر کا کردار ہی ہوتا ہے…
اس لئے کہ اسے سمجھ نہیں آتی کہ وہ اپنی بیوی بچوں اور نئے گھر کے حقوق اور اپنے والدین، بہن بھائیوں اور خصوصا ماں کے حقوق، نیز اپنے کام کاج، کے ذریعہ معاش اور دوست احباب کے ساتھ تعلقات میں توازن کیسے پیدا کرے……
چنانچہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کی توجہ ان میں سے کسی ایک طرف مرکوز ہو جاتی ہے اور باقی حقوق متاثر ہونے لگتے ہیں اور اسے اس بات کا احساس بھی نہیں ہوتا… اس کی وجہ یا وقت کی کمی اور مصروفیات کی کثرت ہوتی ہے، یا پھر یہ کہ آدمی کو زندگی کے معاملات کا تجربہ نہیں ہوتا.. وہ بیک وقت سب کو خوش رکھنا چاہتا ہے. نتیجتا اپنی تمام تر کوشش کے باوجود وہ کسی ایک کو بھی پوری طرح خوش نہیں رکھ پاتا. اگر لڑکا سمجھ دار ہوتو وہ اپنے معاملات کو خوب سو چ سمجھ کر آگے بڑھتا ہے… وہ اپنی ذمہ داریوں اور میسر وقت کے درمیان توازن قائم رکھنے کی کوشش کرتا ہے… وہ اپنی پوری توجہ کسی ایک طرف مرکوز نہیں کرتا، بلکہ اس کی کوشش ہوتی ہے ، کہ وہ اپنے وقت کو اپنی ذمہ داریوں کے مطابق تقسیم کرے، تاکہ دیگر حقوق بھی ادا کئے جاسکیں… اگر چہ وہ یہ طاقت تو نہیں رکھتا کہ ہر پہلو میں حدکمال تک پہونچے لیکن اپنی وسعت کے مطابق ہر باغ میں کوئی پھول تو لگا سکتا ہے……
لیکن عام طور پر اکثر وبیشتر شوہر جوانی کے جوش اور عدم تجربہ کی بنیاد پر ان سب باتوں کی طرف توجہ نہیں کرپاتے، اور کسی ایک کی طرف پوری التفات ہو جاتی ہے، جس کے نتیجہ میں ہر ایک کے حقوق کی رعایت نہیں ہوپاتی، بلکہ زیادہ تر اپنی نئی نویلی دلہن کی باتوں میں آکر اپنے دیگر رشتہ داری حتی کہ ماں کے حقوق تک کا خیال نہیں کرتے، ان کی توجہ اور محبت کا مرکز ومحور صرف ان کی بیوی ہی ہوا کرتی ہے… اور وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ ماں نے کس محنت و مشقت اور تکلیف پر تکلیف برداشت کر کے بچپن سے جوانی کی دہلیز پر پہونچایا ہے. اور جب لڑکا اس لائق ہوا کہ اب ماں کی خدمت کرے. تو اس وقت اسکے سامنے صرف اور صرف اپنی بیوی ہوا کرتی ہے.. لیکن بعض لوگ اس کاخیال بھی کرتے ہیں، کہ ماں کی باتیں ہی مانتے ہیں اور ماں بیوی کی جتنی شکایتیں کرتی ہے اس کو قبول کر لیتے ہیں، وہ فراموش کر جاتے ہیں، کہ آخر اس کی بیوی کی بھی کوئی رائے ہوتی ہوگی، اس کو بھی اپنے شوہر سے محبت ہوگی صرف اور صرف ماں کی باتوں پر ہی کان دھرتے ہیں خواہ وہ سچ کہے یا جھوٹ کہے…….
__جاری__

Previous articleناول’ ہاں! میں دیش بھکت ہوں‘:ایک جائزہ از: منظور حسین
Next articleکہانی ”بے بسی کے آنسو ” از قلم : تنویر رضا برکاتی

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here