مسلم خواتین میں تعلیمی شرح کا تناسب ، مسائل اور ان کا حل از:پروفیسر صالحہ رشید

0
268

صدر شعبہ عربی و فارسی
الہ آباد یونیورسٹی

نیپولین کا قول ہے کہ تم ہمیں تعلیم یافتہ مائیں دو ، ہم تمھیں مہذب معاشرہ دیں گے۔اسی طرح ہندوستان کے سابق وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو کے مطابق کسی ملک کی کارکردگی کا اندازہ اس ملک کی خواتین کی حیثیت کو دیکھ کر لگایا جا سکتا ہے۔ان دونوں ہی نامور ہستیوں کے خیال کی روشنی میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ خواتین معاشرہ سازی میں معمار اول کا کردار ادا کرتی ہیں۔یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ جب ایک خاتون تعلیم یافتہ ہوتی ہے تو وہ پورے خاندان کی مثبت تبدیلی کا سبب بنتی ہے۔یہی مثبت تبدیلی آگے بڑھتے ہوئے ہمارے ملک ہندوستان اور ہندوستانی مسلمانوں کے بہتر مستقبل کی ضامن قرار پاتی ہے۔با لفاظ دیگرایک تعلیم یافتہ خاتون ایک با شعور نسل تیار کرتی ہے جس پر کسی قوم کی ترقی و بہبود کا دارو مدار ہوتا ہے۔

تعلیم کے عموماً دو مراحل نظر آتے ہیں۔بنیادی تعلیم اور اعلیٰ تعلیم۔بنیادی تعلیم ابتدائی مرحلہ ہے تو اعلیٰ تعلیم انتہائی مرحلہ ہے۔ابتدائی تعلیم انسان کو ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے جس پر اس کے پورے مستقبل کا انحصار ہوتا ہے۔اعلیٰ تعلیم جہاں ایک طرف انسان کے شعور میں بالیدگی پیدا کرتی ہے وہیں دوسری جانب اس کے ذریعہ اقتصادی مسائل بھی حل ہوتے ہیں۔اس سے انسانی رویے میں تبدیلی آنے کے ساتھ ہی خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے اور ایک خوش حال معاشرہ وجود میں آتا ہے۔یہ تمام عوامل باور کراتے ہیں کہ ترقی خواہ کسی ملک اور قوم کی ہو یا صنف کی ،اس کا تعلق تعلیم سے ہے۔
حکومت ہند کی Ministry of Statistics and ProgrammeکےNational Sample Survey officeکی اگست ۲۰۲۰ء کی جاری رپورٹ کے مطابق کل ہند خواندگی کی شرح 77.7%ہے۔جس میںمردوں کی خواندگی کی شرح84.7%اور خواتین کی خواندگی کی شرح70.3%ہے۔اس میں مسلم مردوں کی خواندگی کی شرح 81%اور مسلم خواتین کی خواندگی کی شرح 69%ہے۔یہ ریسرچ ۱۸۔۲۰۱۷ء میں کی گئی جس کے نتائج ۲۰۲۰ء میں عوام کے درمیان پیش کئے گئے۔ایک اور سروے کے مطابق مسلم خواتین میں تین سے پینتیس برس کی عمر کی 22%خواتین ایسی ہیں جنھوں نے اسکول کی شکل ہی نہیں دیکھی ۔مذہبی اعتبار سے یہ فی صد کسی بھی مذہب سے وابستہ خواتین کی شرح خواندگی میں سب سے کم ہے۔کرسچین خواتین کی شرح خواندگی 82%ہے۔

مسلم خواتین میں خواندگی کا تناسب کم ہونے کے اسباب معلوم کرنے سے قبل ایک حقیقت جان لینی ضروری ہے کہ تعلیم اور صحت کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔کسی معاشرے کے مہذب ہونے کا اندازہ مندرجہ ذیل نکات سے لگایا جا سکتا ہے ؎
(۱) اس معاشرے کی آبادی میں خواتین اور مردوں کا تناسب کیا ہے
(۲) ان میں خواتین کی خواندگی کی شرح کیا ہے
(۳) زچگی کے دوران ہونے والی اموات کی شرح کیا ہے
(۴) زچگی کے لئے کتنی سہولیات فراہم ہیں
مسلم خواتین کی تعلیمی شرح کے کم ہونے کے اسباب پر نگاہ ڈالیں تو واضح طور پر مذہبی ،اقتصادی اور سماجی تین وجہیں نظر آتی ہیں۔ان تینوں اسباب کا تعلق انسانی فکر سے ہے۔صنفی تفریق تقریباً ہر سماج میں پائی جاتی ہے۔ خواتین کو نظر انداز کرنے کی روایت صدیوں پرانی ہے خواہ وہ تعلیم کا میدان ہو یا صحت کا۔معاملہ عقل و فراست کا ہو تو اس کی رائے کو بالکل ہی غیر ضروری سمجھا جاتا ہے ۔حتیٰ کہ اسے ناقص العقل تک گردانا گیا ہے۔اس تفریق کا اثر اتنا گہرا ہوتا ہے کہ اکثر ایک خاتون جب حاملہ ہوتی ہے تو اس کے ذہن میں ایک سوال عموماً گردش کرتا رہتا ہے کہ اگر لڑکی پیدا ہوئی تو کیا ہوگا؟ اور جلدی سے وہ اپنے معبود کے سامنے دست بدعا ہو جاتی ہے کہ الٰہی لڑکی ہو تو اس کا نصیب اچھا لکھنا۔یہ تذبذب ساری زندگی اس کا پیچھا کرتا رہتا ہے کیونکہ مذہبی ، اقتصادی اور سماجی دشواریاں اسے آزادانہ جینے نہیں دیتیں۔ابھی ان والدین کی تعداد بہت کم ہے جو یہ کہیں کہ لڑکا ہو یا لڑکی ہمارے لئے دونوں یکساں ہیں۔یہ تو فکری سطح پر صنفی مساوات کی بات ہوئی۔لڑکی کے دنیا میں آتے ہی اس کو دیکھنے والے دعا بھی کچھ اس طرح دیتے ہیں ، اللہ نصیب اچھے کرے، جس گھر جائیں اسے جنت بنائیں، وغیرہ ۔گویا پیدا ہوتے ہی دوسرے گھر جانے کی نوید سنا دی گئی۔ساری زندگی اس کی تربیت اسی پرائے گھر کے تناظر میں کی جاتی ہے۔اس کا بچپن ، اس کا الہڑ پن، اس کی خواہشیں، اس کی صحت ، اس کی تعلیم، اس کی خود اعتمادی، اس کی خود کفیلی، اس کا نکاح، ان سب پر پرایا گھر ہی حاوی ہوتا ہے۔پورے وقت وہ اس دبائو میں جیتی ہے۔وہ ذرا ہوش سنبھالتی ہے تو گھر کے کام کاج نپٹانے کے بعد پڑھائی کرتی ہے۔اکثر مالی دشواری آنے پر لڑکی کی پڑھائی ہی منقطع کی جاتی ہے۔کئی مرتبہ سماجی اور اقتصادی دبائو میں بچپن میں ہی اس کی شادی کر دی جاتی ہے۔کبھی ایسے حالات بن جاتے ہیں کہ وہ جنسی تشدد اور ہراسانی کا شکار ہو جاتی ہے۔مزید بر آن اس کا گھر سنبھالنا اور بچوں کی پرورش اور تربیت، کام کے زمرے میں شمار ہی نہیں کئے جاتے۔
ہندوستان میں اگر ہم لیبر فورس پر نگاہ ڈالیں تو مجموعی طور پر اس میں پندرہ برس سے اوپر کی 25.8%خواتین شامل ہیںاور ہندوستان کا دنیا میں دسواں مقام ہے۔یہاں بھی مسلم خواتین کا فی صد 15.58ہے۔یہاں کی فقط دس فیصد خواتین منسٹر ہیں اور لوک سبھا میں چودہ فیصد خواتین ہیں۔تعلیم، صحت، سیاست، معیشت اور خود کفیلی کے اعتبار سے خواتین کی شمولیت میں ہندوستان کا دنیا میں 153میں112واں مقام ہے۔

خواتین بالخصوص مسلم خواتین کی تعلیم سے متعلق مسائل بے شمار ہیں۔ہر شخص اپنے تجربے کی بناء پر ان کی وجہیں بیان کرتا ہے۔مسلم خواتین میں تعلیمی شرح کی کمی کے اسباب کچھ بھی ہوں مگر ان کا حل ایک ہی ہے اور وہ ہے تعلیم کی شرح میں با لعموم اور مسلم خواتین کی تعلیمی شرح میں بالخصوص اضافہ کرنا ۔تعلیمی شرح کے گراف کو اوپر لے جانے کے لئے حکومت کی سطح پر بھی مختلف اقدام کئے گئے ہیںمثلاً ابتدائی تعلیم سے لے کر اعلیٰ تعلیم تک مختلف مالی مراعات کا اعلان جس میں جنسی تفریق نہیں کی گئی ہے۔اس کے علاوہ لڑکیوں کے لئے تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے خاص اسکالر شپ، شادی اور زچگی کے وقت مالی مراعات وغیرہ ہیں۔Government Scholarship for Education کلک کرنے سے انٹرنیٹ پر ایک لمبی فہرست دستیاب ہے جس سے واقف ہونا ضروری ہے۔ان میں سے چند ملاحظہ فرمائیں ؎
Pre & post matric merit cum means scholarship, Ministry of Minority Affairs, Human Resource Development
Pre & post matric scholarship for students with disabilities, Department of Empowerment of persons with disabilities
Merit cum means scholarship for professional and Technical courses CS, Minorities, Ministry of Minorities Affairs
Central sector scheme of scholarship for colleges and university students, Ministry of Human resource Development.
Prime Minister scholarship scheme, Kendriya Sainik Board Secretariat, Department of Ex Servicemen welfare, Ministry of Defence
اسی قسم کی کئی اسکیمیں ریلوے، ٹرائیبل افیئرس، سوشل جسٹس اینڈ امپاورمنٹ منسٹری وغیرہ کی موجود ہیں۔ ان کے علاوہ سب سے ضروری اور اہم کچھ اسکالرشپ ہیں جن پر توجہ دینے سے غریب نادار مزدور طبقے کے بچوں کی تعلیم کا مرحلہ آسان ہو سکتا ہے۔ان میں سے ایک یہ ہے ؎
Financial assistance for education of the wards of Beedi/Cine/IOCM/LSDM workers-post matric, Ministry of Labour and Employment
Prime Minister Research Fellowship
Kishor Vaigyanik Protsahan Yojana
Swarna Jayanti Fellowship Scheme
PG Scholarship for Professional courses, UGC
Post Graduate Indira Gandhi Scholarship for Single Girl Child, UGC
Women Scientist Scheme-C
AICTE Pragati Scholarship for Girls
AICTE Saksham Scholarship
اسی طرح صوبائی سطح پر Fee reimbursmentاور کیٹیگری وائز اسکالرشپ ہوتے ہیں۔
Department of School Education & Literacy, Ministry of Education نے مدرسہ اور اقلیتی طبقے کی تعلیم کے معیار کو بہتر کرنے کے لئے SPEMM, SPQEM, IDMIوغیرہ اسکیمیں چلا رکھی ہیں۔SPQEMدرجہ ایک سے بارہویں تک سائنس ، ریاضی، ہندی، انگریزی، سوشل سائنس وغیرہ کی تعلیم دینے کے لئے ہے۔IDMIیعنیInfra Structure Development in Minority Institutionsکے لئے ہے۔مدرسہ اور مکتب کے طلباء کے تعلیمی معیار کو عام اسکول کے طلباء کے برابر لانے کے لئے Remedial TeachingاورTeachers Trainingکا بھی بند و بست کیا گیا ہے۔ان سب کی نگرانی کے لئے راشٹریہ آوشکار ابھیان چلایا گیا ہے۔اس کے علاوہ اقلیتی طبقے کی لڑکی کی شادی اگر گریجویشن کر لینے کے بعد ہوتی ہے تو اسے پردھان منتری شادی شگن یوجنا کے تحت 51000روپئے کی رقم دی جاتی ہے۔اس کے ساتھ ہی شادی انودان اسکیم، سکنیا سمریدھی اسکیم وغیرہ سے بھی لڑکیوں کی بہبود میں مدد مل سکتی ہے۔بیگم حضرت محل اسکالر شپ پر اب تک 70کروڑ روپئے خرچ کئے جا چکے ہیں۔مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری کے لئے بھی گورنمنٹ کی جانب سے مفت کوچنگ اور رہائش کی سہولت دی جاتی ہے۔ابھیودے اسکیم اس کی تازہ مثال ہے۔اس طرح کی مزید اسکیمیں صوبائی سطح پر چل رہی ہیں جن میں نئی روشنی کنیا اتّھان وغیرہ کا نام لیا جا سکتا ہے۔بہار سرکار نے لڑکیوں میں تعلیمی رجحان کو فروغ دینے کے لئے کئی قدم اٹھائے۔مثلاً وہاں لڑکیوں کے گریجویشن میں داخلہ لینے پر 50000ہزار روپئے اور انٹر میڈئیٹ میں داخلہ لینے پر 25000روپئے دئے جاتے ہیں۔مزید بر آن پنچایت انتخابات میں 50%سیٹیں خواتین کے لئے مختص کی گئیں۔سرکاری نوکریوں میں 33%حصہ خواتین کے لئے رکھا گیا۔اگر کوئی لڑکی BPSCیاUPPSCکا ابتدائی امتحان پاس کر لیتی ہے تو اسے آگے کے امتحان کی تیاری کے لئے 50,000روپئے کی مالی مدد کی جاتی ہے۔ان تمام میں ایک نام مولانا آزاد نیشنل اسکالرشپ کا بھی ہے جس سے کافی طلباء فیضیاب ہو رہے ہیں۔انگنت مخیر حضرات ہیں جو دامے درمے قدمے سخنے اپنی قوم کی بہبود کے لئے کام کر رہے ہیں۔ان سب کے باوجود جہالت اور ناداری ہمارے لئے ایک بڑا مسئلہ بنے ہوئے ہیں۔سرکاری مراعات حاصل کرنے کے لئے طلباء کو کئی دستاویز کی ضرورت ہوتی ہے ۔جن میں اس کی پیدائش ، رہائش ، کیٹیگری اور بینک اکائونٹ وغیرہ ہیں۔ایک زبردست مسئلہ اسے تب درپیش ہوتا ہے جب وہ پرائیویٹ ادارے سے تعلیم حاصل کر رہا ہوتا ہے۔اکثر ایسے اداروں نے اپنے اکائونٹ شفاف نہیں رکھے ہیں۔فیس کی کثیر رقم وصول کرنے والے یہ ادارے طلباء کی مدد نہیں کرتے۔لاک ڈائون کے دوران یہ حقیقت کھل کر سامنے آئی۔نتیجتاً بچوں کی تعلیم متأثر ہوئی اور اندراج کی شرح غیر معمولی طور پر کم ہو گئی ہے۔اس کا پہلا اثر بچیوں کی تعلیم پر پڑا ہے۔ان دشواریوں کے پیش نظر سرکاری مراعات کو حاصل کرنے کے مراحل کو آسان کرنا ہوگا جس میں تعلیمی اداروں کی دیانت اور شفافیت کا اہم کردار ہے۔ہماری دیہی آبادی زیادہ ہے۔جب شہر میں اتنی دشواریاں ہیں تو گائوں کی مشکلوں کا تو اندازہ ہی نہیں لگایا جا سکتا۔ہمیں کسی رضا کار تنظیم کی مدد سے یا فرداً فرداً اس جانب قدم بڑھانا ہوگا۔
مسلم خواتین میں تعلیمی رجحان کی کمی کو مذہبی تناظر میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔قرآن میں اقرأ کا حکم بنا صنفی تفریق کے آیا ہے۔ہمیں یہ جان لینا چاہئے کہ علم کا تقاضہ گناہ سے بچنا ہے۔اس لئے تعلیم کے معاملے میںصنفی تفریق برتنا غیر مناسب ہے۔یہاں ہمیں فکری سطح پر خود کو بدلنے کی ضرورت ہے۔مسلم معاشرے میںتعلیم حاصل کرنے کے لئے مدارس کا جال بچھا ہوا ہے۔کیا شہر کیا گائوں، ہر جگہ مسجد اور مکتب موجود ہیں۔ان کا الگ تعلیمی نظام ہے۔حفظ اس کی انفرادیت ہے۔اس کے علاوہ وقف کی املاک بہت ہیں۔قبرستانوں کی زمین ہے۔اگر ان سب کا استعمال تعلیم و تدریس کے لئے کیا جائے تو ان جگہوں کی حفاظت کا مسئلہ بھی حل ہو جائے گا۔جہاں لڑکوں کے مدرسے چلتے ہیں وہیں دوسرے وقت لڑکیوں کی تعلیم کا انتظام کیا جا سکتا ہے۔زکوٰۃ کی شکل میں ایک ایسا فنڈ موجود ہے جس کے صحیح مصرف سے یہ مشکلیں دور ہو سکتی ہیں۔ہم یہ عزم کریں کہ اپنی بچیوں کی عمر ،صحت ، تعلیم ، تحفظ اور نکاح پر توجہ دیں گے جہیز پر نہیں۔ان کے اندر تحفظ اور خود اعتمادی کا احساس جگائیں گے۔اچھی تعلیم پر سب کا حق ہے۔تعلیم پر کیا گیا خرچ سیدھے بچوں کی بہبود اور خود کفیلی سے جڑتا ہے۔جس سے ایک پر سکون معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔اس معاملے میں جامعہ اردو علی گڑھ کی خدمات قابل ذکر ہیں جس نے فاصلاتی تعلیم کا نظام اپنایا ہے اور سی بی ایس ای نصاب لاگو ہے۔نیز اردو میڈیم میں ابتدائی سے لے کر اعلیٰ تعلیم اور معلم کی سند بھی دیتا ہے جس کی بدولت بے شمار بچیاں خود کفیل بن پائی ہیں۔ہمیں اس نہج پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔(یہ بھی پڑھیں!بہ یاد خواجہ جاویداختر۔۔با دیدۂ تر۔۔از:پروفیسرصالحہ رشید)
ہماری حکومت نے بیٹی بچائو بیٹی پڑھائو کا نعرہ دیا ہے اور ملک میں 56جنڈربجٹنگ سیل بھی قائم ہیں۔مگر لڑکیوں کی بہبود پر کئے جانے والے خرچ اور نتیجوں کاکوئی ڈاٹا نکل کر نہیں آتا۔نئی ایجوکیشن پالیسی میں حکومت کو بچیوں کی تعلیم و تربیت کے مزید راستے کھولنے ہوں گے جس سے ملک کو مضبوط کرنے والی ورک فورس تیار ہو سکے۔مسلم خواتین کو خود بھی غیر ضروری مذہبی سماجی اور اقتصادی بندشوں سے باہر نکلنے کے راستے تلاشنے ہوں گے۔انھیں نامساعدات کا مضبوطی سے مقابلہ کرنا ہے تاکہ مساوات کی راہیں ہموار ہوں۔اس کے لئے اولاً انھیں تعلیم کے زیور سے آراستہ ہونا ہو گا۔

Previous articleنصراللہ نصر ” اذکارِ ادب ” کے آئینے میں از: عظیم انصاری
Next articleیکساں سول کوڈ دستور کے خلاف اور ناقابل عمل از : مولانا خالد سیف اللہ رحمانی(2)

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here