مسلمانوں کے خلاف ہیٹ اسپیچ کامعاملہ!

0
80

(مسلمانوں کے خلاف ہیٹ اسپیچ کامعاملہ، راجیہ سبھا چیئرمین نے کمیونٹی کا نام ہٹوایا۔)
نئی دہلی:(ایجنسی) راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر ملیکارجن کھڑگے نے 6 اپریل کو ملک کے مختلف حصوں میں مسلمانوں کے خلاف ہیٹ اسپیچ کے مسئلے کو اٹھایا۔انہوں نے براڑی میں منعقد حالیہ ہندو مہاپنچایت کا بھی تذکرہ کیا، جہاں ہندوتوا لیڈریتی نرسنہانند نے ضمانت کی شرائط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک بار پھر لوگوں سےہتھیار اٹھانے کی اپیل کی تھی۔

کھڑگے نے سشمیتا دیو اور ترنمول کانگریس کے محمد ندیم الحق کے ساتھ بڑھتی ہوئی قیمتوں اور ہیٹ اسپیچ کے معاملے پر ضابطہ 267 کے تحت نوٹس دیا۔تاہم جب ایوان کی کارروائی شروع ہوئی تو چیئرمین ایم وینکیا نائیڈو نے کہا کہ انہوں نے ضابطہ 267 کے تحت ان مسائل کو اٹھانے کی اجازت نہیں دی۔

کھڑگے نے اصرار کیا کہ وہ صرف ایک جملہ کہنا چاہیں گے اور نائیڈو نے انہیں بولنے کی اجازت دی۔کھڑگے نے کہا، جناب، میں نے ملک بھر میں ہیٹ اسپیچ کے بڑھتے ہوئے معاملوں کے سلسلے میں ضابطہ 267 کے تحت نوٹس دیا، اس کےساتھ ہی صحافیوں کو ہراساں کرنے بالخصوص ہندوستان گزٹ، نیوز لانڈری، دی کوئنٹ، آرٹیکل 14 وغیرہ کے صحافیوں کو ہراساں کرنے کے بارے میں نوٹس دیا ہے۔ یہ چلا آرہا ہے اور سوامی (یتی نرسنہانند) ہری دوار سے دہلی تک اشتعال انگیز تقریر کر رہے ہیں۔کھڑگے نے ہندو مہاپنچایت کا بھی حوالہ دیا اور الزام لگایا کہ اتوار (3 اپریل) کو ایک سوامی نے کہا کہ تمام مسلمانوں کو قتل کر دینا چاہیے۔

اس پر نائیڈو نے ہدایت دی،یہ ریکارڈ پر نہیں جائے گا۔ کسی کمیونٹی کا نام ریکارڈ پر نہیں جائے گا۔انہوں نے کہا، اگر انہوں نے بے معنی باتیں بھی کہی ہیں تب بھی ہمیں ان باتوں کو نہیں کہنا چاہیے۔ اسے دوبارہ ایوان میں اٹھانا اور پھراس پر بحث کرنا کہ کس نے کیا کہا ہے۔ اس سے مسئلہ حل نہیں ہونے والا۔ میں نے اس کی اجازت نہیں دی ہے۔انہوں نے کہا کہ ،کسی کو بھی کسی کمیونٹی کے خلاف نفرت انگیز تقریر نہیں کرنی چاہیے، چاہے وہ اقلیت ہو یا اکثریت۔ برادریوں کا نام نہ لیا جائے اور کوئی کسی کے خلاف بھی تقریر نہیں کرنی چاہیے۔

بتا دیں کہ یتی نرسنہانند غازی آباد کے ڈاسنہ مندر میں اپنے خطاب سے لے کر ہری دوار دھرم سنسد تک اپنی مسلم مخالف تقریروں اور سرگرمیوں کی وجہ سے مسلسل تنازعہ میں ہیں۔ہری دوار دھرم سنسد کے بعدایک بار پھرمسلمانوں کے خلاف لوگوں سے ہتھیار اٹھانے کی ان کی اپیل کے بعد مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ ہندوتوا کے حامیوں کی طرف سے شیئر کیے گئے ویڈیو میں انہیں مسلمانوں کے خلاف کھلے عام دھمکیاں دیتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔تازہ ترین معاملہ دہلی کے براڑی کا ہے، جہاں پولیس کی منظوری کے بغیر ہندو مہاپنچایت کا انعقاد کیا گیا اور نرسنہانند اور دیگر کے ہیٹ اسپیچ کے بعد مقدمہ درج کیا گیا۔

بتا دیں کہ یتی نرسنہانند غازی آباد کے ڈاسنہ مندر میں اپنے خطاب سے لے کر ہری دوار دھرم سنسد تک اپنی مسلم مخالف تقریروں اور سرگرمیوں کی وجہ سے مسلسل تنازعہ میں ہیں۔ہری دوار دھرم سنسد کے بعدایک بار پھرمسلمانوں کے خلاف لوگوں سے ہتھیار اٹھانے کی ان کی اپیل کے بعد مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ ہندوتوا کے حامیوں کی طرف سے شیئر کیے گئے ویڈیو میں انہیں مسلمانوں کے خلاف کھلے عام دھمکیاں دیتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔تازہ ترین معاملہ دہلی کے براڑی کا ہے، جہاں پولیس کی منظوری کے بغیر ہندو مہاپنچایت کا انعقاد کیا گیا اور نرسنہانند اور دیگر کے ہیٹ اسپیچ کے بعد مقدمہ درج کیا گیا۔

(بشکریہ : دیوبندٹائمز)

Previous articleمسجدکے سامنے دی مسلمان عورتوں کے ریپ کی دھمکی، ویڈیو وائرل!
Next articleاجمیر میں دفعہ 144 نافذ، مذہبی تقاریب میں لاؤڈ اسپیکر پر پابندی!

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here