مسلمانوں میں تعلیمی بیداری: آزادی سے پہلے اور آزادی کے بعد از: مظفر نازنین، کولکاتا

0
147

1857ء کی بغاوت تاریخ ہند میں بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ بغاوت 1857ء ناکام ہوئی۔ لیکن اس سے ہندوستانیوں کو آزادی حاصل کرنے کی راہ ہموار ہوئی اور ہندوستانیوں نے یہ ٹھان لیا کہ اب وطن عزیز ہندوستان میں غلام بن کر نہیں رہا جا سکتا۔ اس زمانے میں ہندوستان میں بہت عظیم مصلح پیدا ہوئے جیسے راجہ رام موہن رائے، ایشور چندر ودیاساگر، سوامی دیانند سرسوتی ، جیوتی راؤ پھولے، سوامی وویکا نند۔ اسی اثنا میں سرزمین ہند میں ایک عظیم مصلح سر سید احمد خان نے جنم لیا۔ جنہوں نے مسلمانوں کو تعلیمی میدان میں آگے بڑھانے کے لیے اپنی ساری زندگی وقف کردی۔ سر سید اپنی ذات میں ایک انجمن تھے۔ سرسید کی شخصیت ہمہ گیر تھی۔ انگریزوں سے قبل یہاں یعنی ہندوستان میں ہندوؤں کی ابتدائی تعلیم کے لیے پاٹھ شالے تھے۔ جب کہ مسلمانوں کے لیے مدرسے اور مکتب تھے۔ لیکن ہندوستانی انگریزی اور مغربی تعلیم سے نابلد تھے۔مٹھی بھر ہندوستانی ایسے تھے جنہوں نے بیرون ممالک جا کر تعلیم حاصل کی تھی اور جو ہندوستانی ہندوستان میں مقیم تھے انہیں انگریز صرف اس غرض سے تعلیم دیتے اور ان کی تعلیم کے لیے پیسے صرف کرتے تھے کہ انہیں معمولی درجے کا کلرک ملے جو انہیں انگلینڈ سے لانے میں زیادہ پیسے صرف کرنے پڑتے۔ زیادہ اخراجات اٹھانے پڑتے۔ لیکن جو ہندوستانی بیرونی ممالک جا کر تعلیم حاصل کی تھی ۔ وہ شعوری طور پر بیدار ہو چکے تھے اور سمجھ چکے تھے کہ تعلیم کے بغیر ان کی حیثیت نامکمل ہے۔ اور پھر رفتہ رفتہ انہیں Nationalism کا احساس ہوا۔ اور وہ وطن عزیز کو آزاد کرانے کی فکر کرنے لگے۔

اس زمانے میں سر سید احمد خاں جو عظیم مصلح تھے وہ سمجھ چکے تھے کہ ہندوستان بالخصوص مسلمانوں کے لیے مشرقی علوم و فنون کے ساتھ مغربی تعلیم بھی بے حد ضروری ہے۔ تب ہی آزاد ہندوستان کی تشکیل ممکن ہے۔ انہوں نے تعلیم نسواں پر زور دیا اور اس کی پر زور حمایت کی اور ہندوستانیوں کو اس بات سے روشناس کرایا کہ تعلیم نسواں کے بغیر ہندوستان کی آزادی کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ اسی کوشش کو عملی جامہ پہنانے کی غرض سے سر سید نے محمڈن اینگلو اورینٹل کالج کی بنیاد ڈالی۔ جو بعد میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ( علی گڑھ ، اتر پردیش) کے نام سے صرف ہندوستان بلکہ جنوبی ایشیا میں مقبول ہوئی۔ آج ہندوستان کے مختلف ریاستوں سے طلبا و طالبات علی گڑھ مسلم یونیورسٹی جاتے اور اپنی تشنگیٔ علم کو بجھاتے ہیں۔ یہاں تک کہ بیرون ممالک سے بھی طلبا و طالبات یہاں آتے ہیں۔ مسلم یونیورسٹی کا شمار ہندوستان کی اچھی یونیورسٹی میں ہوتا ہے۔ یہ امر حقیقت ہے کہ اس یوینورسٹی سے ہندوستان اور بر صغیر کے نامور شخصیات نے جنم لیا۔ اور بین الاقوامی شہرت حاصل کی۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی ایک شاخ ریاست مغربی بنگال کے مرشد آباد میں زیر تعمیر ہے۔ بنگال وہ ریاست ہے جس کے بارے میں رابندر ناتھ ٹیگور نے کہا تھا کہ ’’بنگال جاگتا ہے تو ہندوستان سوچتا ہے‘‘ یہ حقیقت ہے۔ ہماری ریاست مغربی بنگال علم و فن کا گہوار ہ ہے۔ تعلیم و تہذیب کا مزکر ہے۔ بنگال کی مٹی میں پلنے والا ہر ذرہ نیّر اعظم ہوتا ہے۔ سر زمین بنگالہ میں بہت ہی عظیم شخصیتوں نے جنم لیا۔ جسٹس امیر علی، حاجی محمد محسن، سہروردی برادران، فضل الحق جن کی ملی اور قومی خدمات کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ اس ضمن میں رقیہ بیگم اور سخاوت حسین کے اسمائے گرامی قابل ذکر ہیں۔ جنہیں ملت کے بچیوں کی فکر ستاتی ہے اور انہیں کی کوششوں کا ثمرہ سخاوت میموریل گورنمنٹ گرلس ہائی اسکول آج بھی شہر کلکتہ کے لارڈ سنہا روڈ پر واقع ہے۔ جو بنگلہ اور اردو تہذیب کا منارہ نور ہے۔

آزادی کے بعد اعلیٰ تعلیم مسلمانوں کے جس طبقے میں آئی وہ تھی Professional Class غریبوں کی خستہ حالی اس قدر تھی کہ اشیائے خورد و نوش مہیا کرنے میں ہی وہ مصروف رہے۔ تو اپنے بچوں کی تعلیم ان کے لیے محال تھا۔ اور اعلیٰ تعلیم تو ان کے بس سے باہر تھی ۔ آج سے پچیس سال قبل ایسی تنظیم بھی نہیں تھی جو غریب بچوں کو اسکالرشپ مہیا کرتی اور پھر سب سے زیادہ کمی جس بات کی تھی وہ تھا گھر کا ماحول اور والدین کی تعلیم کے تئیں لاشعوری ۔ امیروں کے یہاں دولت تھی لیکن علم کی اہمیت اور افادیت سے ناآشنا تھے اور غریب یہ سوچتے کہ اعلیٰ تعلیم پر پیسے نہ خرچ کر کے اس پیسے سے لڑکی کی شادی کر دی جائے تو منزل آسان ہے۔ اور وہ اپنے فرض سے سبکدوشی ہو جائیں گے۔ اور یہی وجہ تھی کہ کمر عمری کی شادی کو تقویت ملی۔ ایک ہی ماحول میں پرورش پانے کے باوجود لڑکے اور لڑکیوں میں امتیاز ہوا کرتاتھا۔ ایک ہی چراغ میں تعلیم حاصل کرتے لیکن لڑکوں کو جو روشنی ملتی اس میں والدین کی حوصلہ افزائی ہوتی اور لڑکیوں کو جو روشنی ملتی اس میں والدین کی پست ہمتی ہوئی۔ لیکن الحمدﷲ اب والدین میں بیداری آئی ہے مگر مزید بیداری کی ضرورت ہے۔ اور آج بیشتر تنظیمیں ہیں جو طلبا و طالبات کو اسکالرشب فراہم کر رہے ہیں تاکہ ہونہار طلبا و طالبات اعلیٰ تعلیم حاصل کریں اور ان کی تعلیم کا سلسلہ منقطع نہ جائے۔

آج ثنا خوان تقدیس مشرق اور ہمدردان قوم کی ضرورت ہے۔ آج مسلمانوں کو دہشت گرد قرار دیا جارہا ہے۔ لیکن زہر افشانی کرنے والوں کو ذرا غور کرنا چاہیے کہ مجاہدین آزادی میں بیشتر مسلمان تھے۔ اشفاق اﷲ خاں اور حولدار حمید وہ مسلمان تھے جنہوں نے اپنے خونِ جگر سے سر زمین ہند کی آبیاری کی۔ آج ہندو مسلم اتحاد کی ضرورت ہے تب ہی ایک عظیم اور مستحکم ہندوستان کی تشکیل ممکن ہے۔ مہاتما گاندھی ہندو مسلم اتحاد کے علمبردار تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی ہندو مسلم یکجہتی کے لیے وقف کر دی۔ ہندوستان ایک قوس و قزح کی مانند ہے۔ اور قو س و قزح سات رنگوں سے مکمل ہوتا ہے۔ اس میں ایک رنگ بھی غیر نمودار ہو تو اس کی خوبصورتی ماند پڑ جاتی ہے۔ یہی کیفیت وطن عزیز ہندوستان کی ہے Different languages but one nationکے مصداق آج ہندوستان آزاد ہے۔ ہمیں وطن کی خاک پسند ہے۔ اسی وطن کی خاک کے لیے شاعر نے کہا :

ہے جوئے شیر ہم کو نور سحر وطن کا
علامہ اقبال نے 1904 ء میں لکھا تھا :
یونان و مصر و روما سب مٹ گئے جہاں سے
اب تک مگر ہے باقی نام و نشاں ہمارا
کچھ بات ہے کہ ہستی مٹتی نہیں ہماری
صدیوں رہا ہے دشمن دور زماں ہمارا

ہندوستان کی تہذیب، یہاں کی ثقافت، وراثت ، دوسرے تمام ممالک سے جدا گانہ۔ ہماری کوشش ہونی چاہیے کہ ہندو مسلم اتحاد قائم رہے۔ جو تہذیب ثقافت ہمیں ورثے میں ملی ہے۔ اس کا تحفظ ہمارے لیے لازمی ہے اور وہ تب ہی ممکن ہے جب مشترکہ تہذیب کا پاس رہے۔ ہماری گنگا جمنی تہذیب سلامت رہے۔ جس طرح اردو زبان پر کسی کی اجارہ داری نہیں ہو سکتی ۔ اردو زبان صرف مسلمانوں کی ہی زبان نہیں ۔ ہندوؤںاور سکھوں نے بھی اسے گلے لگایا اور اس کے اصناف سخن پر طبع آزمائی کی ہے۔ پنڈت برج نارائن چکبست، راجندر سنگھ بیدی، رگھوپتی سہائے فراق گورکھپوری، دیاشنکر نسیم، منشی پریم چند جیسے عظیم شعراء و ادباء گزرے ہیں۔ اسی طرح ہندو مسلم اتحاد قائم رکھنے پر ہی ہندوستان مکمل ہے۔ آج اعلیٰ تعلیم کی ضرورت ہے۔ تب ہی ہندوستان متحد ہو سکتا ہے۔ گوکہ ہمارے روحانی عقائد مختلف ہیں۔ ہندومندر میں گھنٹی بجائیں۔ مسلمان مسجد میں نماز پڑھیں ، سکھ گرودوارے میں گرو گرنتھ صاحب پڑھیں یا عیسائی گرجا گھروں میں Prayerکریں۔ لیکن باور ہے کہ ہم ہندوستانی ہیں ۔”Our India is great and we are Indians” کے مصداق ہم سب ایک ہیں۔ اور اپنی پستی کو ختم کر کے اپنے رہنماؤں کے مشن کو کامیاب بنانے کے لیے کمر بستہ ہو جائیں۔ سیکولر ہندوستان کو ہندو مسلم اتحاد کی سخت ضرورت ہے۔ بلا تفریق مذہب و ملت نئی نسل کو تعلیم سے روشناس کرایا جائے۔ قوم و ملت کے لیے حوصلہ بلند ہوں تو جدید ہندوستان کی تشکیل ممکن ہے۔ بقول شاعر :

ناقوس کی فغاں میں ہے جنت کا رنگ اب تک
کشمیر سے عیاں ہے جنت کا رنگ اب تک
اب تک وہی کڑک ہے بجلی کے بادلوں میں
پستی سی آگئی ہے پر دل کے حوصلوں میں

E-mail : muzaffarnaznin93@gmail.com

Previous articleڈاکٹر ظفر الاسلام خان دار المصنفین کے ناظم منتخب۔ محمد انس اصلاحی
Next articleاردو آنرز کے طلبا کے لیے سنہرا موقع

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here