مزدور کی عید

0
94

(عالمی یوم مزدور پر خاص)

پھیکی پھیکی سی نظر آتی ہے مزدور کی عید
یوں ہی بے کیف گزر جاتی ہے مزدور کی عید

کام ملتا نہیں مہنگائی فلک بوس ہوئی
ٹوٹ کر یوں ہی بکھر جاتی ہے مزدور کی عید

دیکھ کر غربت و افلاس کی گہری کھائی
اس کے گھر آنے سے ڈر جاتی ہے مزدور کی عید

خواہشیں بچوں کی دم توڑ کے رہ جاتی ہیں
ساتھ بے موت ہی مر جاتی ہے مزدور کی عید

تن پہ بچوں کے نہیں اس کے ہیں خوش رنگ لباس
ان سے ملنے سے مکر جاتی ہے مزدور کی عید

سرد موسم میں کھلی چھت پہ برہنہ تن سی
آ بھی جائے تو ٹھٹھر جاتی ہے مزدور کی عید

مال و زر دولت دنیا میں ہی مدغم ہو کر
کیوں جفاکش کو بسر جاتی ہے مزدور کی عید

حسرت و یاس در و بام پہ استادہ دیکھ
فاصلے پر ہی ٹھہر جاتی ہے مزدور کی عید

وقت بدلیگا مسرت پئے داماں ہوگی
یوں خیالوں میں سنور جاتی ہے مزدور کی عید

ریشمی پردہ ہٹا اونچی عمارت والے
جھانک کر دیکھ کدھر جاتی ہے مزدور کی عید

امان ذخیروی, ذخیرہ, جموئی, بہار الہند

8002260577

Previous articleعید الفطر کے موقع پر علمائے کرام کی ملت اسلامیہ سے اپیل
Next articleآٹھ سالہ فرحین نے مکمل کئے 30 روزے

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here