مرکز نظام الدین کو ہمیشہ کے لیے بند تو نہیں کیا جاسکتا: عدالت

0
96

نئی دہلی،14 ستمبر-مرکزی حکومت نے دہلی ہائی کورٹ میں کہا ہے کہ گزشتہ سال جو تبلیغی جماعت کے مرکز میں ہوئے اجتماع میں کووڈ -19 کے ضابطوں کی مبینہ خلاف ورزی کے تعلق سے کیس درج ہے وہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے۔

مرکزی حکومت نے یہ بات اس کیس کی سنوائی کے دوران کہی جس میں وقف بورڈ نے تبلیغی جماعت کے مرز کو کھولے جانے کے لئے عرضی لگائی ہے۔ واضح رہے تبلیغی جماعت کا مرکز گزشتہ سال 31 مارچ سے بند ہے۔عدالت نے مرکز ی حکومت سے کہا ہے کہ تبلیغی جماعت کے مرکز کو ہمیشہ کے لئے تو بند نہیں کیا جا سکتا۔ مرکزی حکومت کے وکیل نے کہا کہ تبلیغی جماعت کے مرکز کو کھولے جانے کی قانونی کارروائی جائداد کو لیز پر دینے والے کا اختیار ہے اور اس سلسلہ میں قانونی کارروائی ہو رہی ہے۔وکیل نے کہا کہ وقف بورڈ کے پاس اس تعلق سے کوئی حق نہیں ہے۔

نیوز 18 پر شائع خبر کے مطابق جج نے کہا ’’کچھ لوگوں کے پاس یہ جائداد تھی ، کورونا وبا کی وجہ سے ایف آئی آر ہوئی اور حکومت نے کیس جائداد کے طور پر جائداد کو اپنے قبضہ میں لے لیا اب یہ نہیں ہے کہ جائداد ہمیشہ کے لئے رکھی جا سکتی ہے۔ آپ بتائیں کہ آپ نے کس سے جایئداد لی اور کب تک اسے کیس جایئداد کے طور پر بند رکھیں گے۔‘‘اس معاملہ کی سنوائی اب 16 نومبر کو ہوگی اور عدالت نے اس تعلق سے جواب مانگا ہے۔ وقف بورڈد کی جانب سے پیش ہوئے سینئر وکیل رمیش گپتا نے کہا کہ مرکزی حکومت اس جایئداد کو بورڈ کو واپس کرے اور حکومت کا اس معاملہ میں کوئی کردار نہیں ہے۔

Previous articleاردو اسکولوں کی طرح ہندی اسکول بھی خطرے میں از: اشعر نجمی
Next articleاردو میڈیا فورم کےزیراہتمام مولانا محمد باقر کو خراج عقیدت پیش کرنے کا اعلان

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here