مرشد نے بھی رخت سفر باندھا! انا للہ و انا الیہ راجعون

0
250

از : امتیاز وحید
شعبہ اردو، یونیورسٹی آف کلکتہ

غارت گر عالمی وباکووڈ۔19 نے انسانیت کشی کا جو المانک کھیل گزشتہ دو برسوں سے شروع کررکھا ہے ،اس نے انسانی جان کی بے توقیری پر تقریباً مہر ثبت کردی ہے۔ موت کا ایک لامتناہی سلسلہ ہے، جو تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے،دیکھتا ہوں تو اس نے میرے گھر آنگن کو ویران کیا، دانش گاہوں میں فروکش بیش قیمت اذہان، اشخاص و رجال اور دانش مندوں کو تباہ کیا، علی گڑھ کو تباہ کیا، مانو کو تہہ و بالا کیا، دلی میں کیا جامعہ ملیہ اسلامیہ، کیا جے این یو، ڈی یو، جامعہ ہمدرد اور وہاں آباد میرے ہم جماعت، سینئر، اساتذہ، رفقائے کار اور متعلقین کی ایک پوری انجمن تھی، جواجڑگئی۔چہار سو اب ہو کا عالم ہے۔مولانا عبدالعزیز سلفی مرحوم ہوئے تو یاد آیا کہ موت سے بھلا کس کو رُستگاری ہے۔فانی انسان کو خدائے بزرگ و برتر کی اس حقیقت کا سامنا تو بہرکیف کرنا ہے۔غم کی شدت کو اس بار اس احسا س سے البتہ کم کئے لیتے ہیں کہ مولانا کی موت کوئی حادثاتی یا وبائی اسباب کی بناپر نہیں ہوئی بلکہ طبعی عمر کو پہنچ کر ہوئی ہے۔ مولانا اپنی عمر کی 71ویں بہاریں دیکھ چکے ہیں۔انھیں کوئی عارضہ تھا اور نہ کوئی جسمانی پریشانی، طویل عمری کے جو اثرات انسانی اعضا اور حواس پر مرتب ہوتے ہیں، اس سے بھلا کسی کو کیوں کر مستثنی قرار دیا جاسکتا ہے، مولانا اسی سے جوجھ رہے تھے۔ مولانا جسمانی طور پر تنومند اور ہمیشہ چلتے پھرتے دیکھے جاتے تھے۔ریٹائر منٹ کے بھی بعد وہ معمول کی زندگی جی رہے تھے۔ادھر ایک آدھ ماہ و سال سے البتہ نقاہت میں اضافہ ہوگیا تھا اور وہ صاحب فراش تھے۔اس کے باوصف انھیں وہ ساری نعمتیں میسر تھیں، جن کی تمنا کسی خوش بخت انسان کے لیے کی جاسکتی ہے۔نیک اور صالح اولاد کی معیت بلکہ اہل خانہ کی گرم جوش آو بھگت نے مولانا کے گرد خوش کن ساعتوں کا ایک ہالہ بنارکھا تھا۔البتہ احساس کی سطح پر بیرون خانہ کی ناقدریوں نے ان کا پیچھا نہیں چھوڑا، جن پر ہمیشہ ان کی خاموشی کی مہر لگی رہتی تھی۔یہ آزار ان کی حیات کا اصل خاتم تھا۔

موت کیا ایک لفظ بے معنی
جس کو مارا حیات نے مارا

مولانا مرحوم کو ہم نے ایام طفولیت ہی سے اپنے آبائی گاوں”مدھواپٹی” میں دیکھا۔ مرحوم کی دوڑمسجد سے شروع ہوکر مسجد ہی پر ختم ہوتی تھی۔نماز،خطاب، اور تدریس سبھی نوع کی سرگرمیوں کے درمیان مسجد ان کا محورتھی۔ناشتہ، کھانا اور زندگی کے بیشتر اوقات وہ مسجد ہی میں رہ کر گزارتے تھے۔اس وقت گاوں کی یہ واحد مسجد تھی، اور مولانا اس کے امام و خطیب تھے۔بہت بعد میں معلوم ہوا کہ مدھواپٹی ان کا نانیہال تھا، جہاں وہ اپنے والدکے انتقال کے بعد آبسے تھے۔

مولانا1951ء مںر اپنے آبائی گاؤں بیرو پٹی پورب ٹولہ، کٹار، ضلع مدھوبنی مںس پدیا ہوئے۔ان کے والدکا نام محمد حشمت تھا۔وہ جانوروں کے دییں معالج تھے اور کھاتے پتے انسان تھے۔معاشی طور پران کی زندگی قدرے پرسکون اور خوشگوار تھی، لیکن یہ طمانیت دیرپا نہ رہ سکی۔مولانا ابھی سات، آٹھ برس کی عمر ہی کو پہنچے تھے کہ والد کا انتقال ہوگیا۔وہ یمجد ہوگئے اور والدہ دَناد خاتون بے سہارا ہوگئیں۔ ناچار وہ اپنے میکے’مدھواپٹی‘ آگئیں اور یہیں کی ہو کر رہ گئیں۔مرحوم کے والد انھیں ڈاکٹر بنانا چاہتے تھے، تنگ دستی کے باوجود ماں نے اپنے شوہر کی خواہش کی تکمیل کی صورت نکالی، محنت مزدوری کرکے انھیں پڑھایا لکھا اوراس مقام تک پہنچایا۔ماں ان کی معمار اور شخصیت ساز تھیں۔

مرحوم مولانا عبدالعزیز کا خاندان تنو مختلف جگہوں پر آباد ہے۔ کٹای مںن انصاری فیاپ ،محلہ:کھوّارہ ، مدھواپٹی میں جناب اعظم علی اور سالم اور موّاہی مںا جناب منجا کے اہل خانہ ان کے خاندانی رشتے دار ہوتے ہںل۔مولانا کے دادا کا نام عبداللہ اور نانا کا نام برکت علی تھا۔مولانا پستہ قد تھے۔رنگت صاف، سر پر چھوٹے بال اور سفدا لمبی داڑھی سے مزین چہرہ گول اور بضادوی تھا۔لباس مںہ سادگی تھی۔ گاؤں مںص عام طور پر وہ لنگی کرتہ اور کبھی صدری اور گاؤں سے باہر لنگی کی جگہ پائجامہ زیب تن فرماتے تھے۔ان کی شادی ان کے نانہال مدھواپٹی میں انسہپ عزیز بنت عبدالعزیز سے ہوئی، جن سے ان کی چار اولادیں ہوئیں؛ دو بٹےا شکل۔ حشمی، اور عقلل حشمی اور دو بانہ ں،رابعہ حشمی اور رضوانہ حشمی۔گزشتہ برس عقیل کا انتقال ہوگیا۔ بقیہ سبھی بچے بقید حیات ہیں، شادی شدہ ہیں اور معمول کی زندگی جی رہے ہیں۔

مولانا عبدالعزیز سلفی کی ابتدائی تعلمی مدرسہ اسلامہت رگھے پورہ و نبٹولی مںص ہوئی،جہاں ان کے اساتذہ مںد مولوی سعدا(اُسراہا)،مولوی مجبے الرحمٰن (مدھواپٹی) اور مولوی زبرشامدادی (رگھے پورہ)وغریہ تھے۔ اعلی تعلم کے لےں وہ دارالعلوم احمدیہ سلفہا، دربھنگہ گئے اوروہاں سے9196ء میںفراغت حاصل کی۔سلفہم مںگ ان کے اساتذہ مںل مولانا ظہور (رَجورا)، شیخ الحدیث مولانا عبدہ الرحمٰن عاقل رحمانی،مولانا عنف الحق سلفی، رئسل الاحرارندوی، حببا المرسلنہ سلفی، شمس الحق سلفی،عبدل الرحمٰن (رَجورا) اور سلفہع کے ان کے ہم جماعت احباب میںمولانا امانت اللہ سلفی، مدنی[سوٹھگاوں]، مولانا زبیر عالم سلفی[ بسوریا]، مولانا فیض الرب سلفی[بھوارہ]، مولانا محمد اسحاق سلفی [کھٹونا]، مولانا محمد مشتاق سلفی[مہواوا]، مولانا محمد علقمہ سلفی [کھرایاں، دربھنگہ]، مولانا نظیرالحسن سلفی[چھتون]، مولانا محمد قاسم سلفی[کنور]، مولانا محمد سلیمان سلفی[سپول] قابل ذکر ہیں۔ فارغین کی یہ جماعت دس طلبہ پر مشتمل تھی، جس میں مولانا عبدالعزیز مرحوم کی دوسری پوزیشن تھی۔وہ مدرسہ بورڈ سے بھی فاضل تھے۔

سلفہل کے زمانہ ء طالب علمی میں مولانا عبدالعزیزاپنے زمانے کے جدا عالم دین مولانا عبدم الرحمن عاقل رحمانی کے عزیز ترین شاگرد تھے۔اس زمانے میں مغرب کی نماز کے بعد سلفہز کی مسجد کے صحن مںی گروپ کی شکل مںر طلباء اجتماعی مطالعہ کار کرتے تھے۔ مولانا کے گروپ کا نام ”دائرۂ عزیز“ تھا۔ ان دنوں مولوی محسن سلفی، حاجی محسن سلفی اور مولوی شرف الدین سلفی وہاں زیر تعلمم تھے اور مولانا کے جونرم تھے،مولانا ان تنواں کو بحکم عاقل رحمانی پڑھایا کرتے تھے۔ عربی اور فارسی گرامر پر مولانا کی گرفت بڑی مضبوط تھی۔ سعدی کی شہرۂ آفاق کتاب ”گلستان، بوستاں“ وہ گاؤں کے مدرسے مںٹ اپنے شاگردوں کو پڑھاتے تھے۔

مولاناکاشعری مذاق بڑا عمدہ تھا۔اوائلی دور میں سلفہو سے نکلنے والے جریدہ ”الہدی“ مںل ان کا کلام (نظم،غزل) شائع ہوتا تھا۔ ایک بار الہدی مںا ”احساسات“کے عنوان سے ان کی ایک مطبوعہ غزل کی کافی پزیرائی ہوئی۔ اس غزل کا آخری شعر یہ ہے۔ ؎

ادب استاد کا کر اب بہت کچھ کہہ گاف حشمی
کہ اب توحضرت عاقل لےم تلوار بٹھے ہںن!

مولانا عبدالعزیز سلفیاونچی صلاحتچ کے مالک تھے۔ مولانا عاشق الہی مرحوم کے حوالے سے یہ روایت مجھ تک پہنچی ہے کہ شیخ عاقل رحمانی کے انتقال کے بعد مولانا مرحوم بخاری کا درس دینے کے لےندارالعلوم احمدیہ سلفہت جانے والے تھے۔پتا نہیں پھر کیا ہوا کہ وہ مدھواپٹی ہی کے ہوکر رہ گئے اور اپنی صلاحتی کو ضائع کار۔ گاءوں کی زنجر ان کے پاؤں مںل نہ پڑی ہوتی تو قوی امکان ہے کہ یہ اپنے وقت کے جدر علماء مںس شمار کئے جاسکتے تھے۔تعلیم سے جس روشن خیالی، بلند نگہی اور استقلال باطن کی افزائش ہوتی ہے، وہ بالعموم مدارس میں مفقود ہے۔اقبال کو اس کی سب سے زیادہ شکایت رہی ہے۔ ع گلہ تو گھونٹ دیا اہل مدرسہ نے ترا؛ عم مکرم مرحوم عاشق الہی سلفی کو یہ شکوہ سلفی مدارس سے رہا ہے کہ ان کے بموجب” سلفی تحریک ایک شکست خوردہ تحریک ہے، جس سے شاہین صفتی کی توقع بے جا ہے”۔مولانا عبدالعزیز سلفی جیسے باصلاحیت عالم دین کو دیکھ کر عاشق الہی سلفی کی بات یاد آتی ہے کہ مولانا اگر بستی سے باہر نکلتے تو ان کی بڑی قدر ہوتی اور ان کا دائرہ عمل بھی زیادہ کشادہ ہوتا۔ معلوم ہوا کہ عہدے کی حق تلفی کی وجہ سے پہلی مرتبہ شوف ہر ضلع کے کسی ادارہ مںق درس وتدریس کے لیے انھوں نے سال بھر کے لیے گاوں سے باہر قدم نکالا۔غالباً76۔1975ء کے آس پاس مولانا عاشق الہی سلفی کی جب گورنمنٹ مڈل اسکول، پپرون پرسا، اُمگاوں میں ملازمت ہوگئی تو اپنی جگہ انھوں نے مولانا عبدالعزیز سلفی کو مدرسہ محمدیہ عربیہ دیودھا میں تعینات کیا، اس طرح مولانا وہاں سے وابستہ ہوئے۔ڈیڑھاہ دو سالموضع ’اجرا‘ کےبارسوخ سکریٹری عبدس صاحب کے زمانے میں وہاں کے مدرسہ اسلامہک مںر بھی تدرییں خدمات انجام دیں لیکن اس دریتیم کو بالآخر مدھواپٹی کی مقناطیست نے کہیں اور کا نہ ہونے دیا اور وہ پوری زندگی یہیں گزار کر مورخہ 9/جنوری 2022 کی شام 7بج کر 30 منٹ پریہیں کی خاک میں دفن ہوگئے۔
مولانا عبدالعزیز سلفی مرحوم میرے ابتدائی درجات کے استاد تھے گوکہ میرا تعلق بالعموم مدرسہ اسلامیہ سے رہا لیکن میں نے مرحوم کے سامنے بھی زانوے تلمذ طے کیا ہے۔مولانا ان دنوں مسجد میں پڑھاتے تھے،جوان تھے، سیاہ گھنی داڑھی کے ساتھ سر کے بال بھی بڑے سلیقے سے رکھتے تھے اور اس پر ان کی کشتی نما مستطیل ٹوپی سجی رہتی تھی۔بچوں پر ان کی بڑی کڑی نگاہ رہتی تھی، وہ ایسا دور تھا جہاں اساتذہ بچوں کی تعلیم و تہذیب کی راہ میں پٹائی اور ان کی کٹائی کو تدریس کا جز لاینفک تصور کرتے تھے، آج کے والدین کی طرح اس وقت گارجین کا ہماری دھلائی پررتی برابر بھی اعتراض نہ ہوتا تھا بلکہ بعض گارجین کو یہ کہتے بھی سنا کہ اس راہ سلوک میں بچے کی ہڈی ہماری ہے بقیہ مولوی صاحبان کا۔اس کے خوشگوار نتائج میں یہی کیا کم ہے کہ آج ہم انہی کی بدولت عزت کی زندگی جی رہے ہیں البتہ بعض معاملات میں تہذیب نفس کا یہی عمل بچوں میں تعلیم سے دوری کا سبب بھی بنا۔ مولانا مرحوم کی تادیب بتوسط طمانچہ و چھڑی کی تازگی ہنوز محسوس ہوتی ہے۔مسجد میں ہماری تاخیر سے انٹری پر بڑا شدید مواخذہ ہوتا تھا،مولانابڑی اپنائیت سے تاخیر کا سبب پوچھتے اور پھر قریب لاکرمعصوم چہرے کو طمانچے سے گلنار بنادیتے تھے۔ یہ ایک ایسا نظارہ ہے ، جس کاتحفظ ہمارے عہد کے بچوں کے ذہنوں میں ہنوزپایاجاتا ہے۔

مولانا مرحوم بنیادی طور پر تدریس کے آدمی تھے، ان کی پوری زندگی تعلیم و تعلم میں گزری ، شروعاتی دور میں گاوں کے دونوں مدرسوں نے کچھ قابل اعتنا کارکردگی کا مظاہرہ کیا،اس وقت گاوں کی ابتدائی تعلیم بڑی ٹھوس ہواکرتی تھی، اسی تعلیم کو بنیاد بناکر ہم نے جگہ جگہ کامیابی حاصل کی اور اعلی تعلیم تک جا پہنچے ، تاہم گاوں کی روز افزوں بگڑتی فضا نے بہت دنوں تک تعلیم کے لیے ماحول کو سازگار رہنے نہیں دیا۔بہار مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کے مدارس افتراق کے اڈے ثابت ہوئے ، یہ ایک عمومی بات ہے ، جہاں اور جس گاوں میں اہل ظرف تھے تو وہاں بات بنی ۔ ہمارے یہاں چونکہ زمام کار عام طور جہلا اور شہدوں کے ہاتھوں میں رہی اس لیے یہاں نسل نو کی تعلیم نے راست چوٹ کھائی۔ہمارے بعد کی نسل کا راست نقصان ہوا۔ ایک دور تو ایسا بھی آیا جب گاوں کے دونوں مدارس کا وجود بے معنی سا ہوکر رہ گیا۔ مدرسہ اسلامیہ تو خیر تقریباً تیرہ برسوں تک مقفل رہا، لیکن مدرسہ دارالسلام نے بھی کوئی قابل ذکر کردار نہیں نبھایا، جہاں مولانا ہمہ وقتی ملازم تھے، میں دلی میں تھا تو مدرسہ کے منصرم اعلی حاجی محمد محسن سلفی مرحوم اپنے ننھے بچے کو لے کر مولانا عبدالمید رحمانی کے مدرسہ سنابل میں داخلہ کے لیے پہنچے ، میرے غریب خانہ پر بھی قدم رنجہ فرمایا ۔بڑی تفصیلی باتیں ہوئیں، مجھے اس نتیجے تک پہنچنے میں دیر نہ لگی کہ اب خود اپنے مدرسے میں صدرالمدرسین صاحب کے بالکل ابتدائی درجے کے ان کے اپنے بچے کی تعلیم اور اس کا تعلیمی مستقبل محفوظ نہیں۔یہ وہ دور ہے کہ گاوں کے معصوم بچے مدرسے میں داخل کئے جاتے لیکن وہیں سے کسی غیبی ہاتھ کے سہارے انھیں ممبئی میں موجود ہمارے گاوں کے کاروباری سیٹھ کے یہاں زری کی تعلیم کے لیے داخل جہنم کیا جاتا رہا۔ اب اس کی ذمے داری بھلا کس پر ڈالی جاسکتی ہے؟ مکتب اور سرکاری مدرسوں میں تعنیات ماسٹر اور مولویوں کا انبوہ تو خدائی فوجدارٹھہرے۔ بھلا ان سے مواخذہ کاکیا سوال؟میری ان شکستہ باتوں سے ممکن ہے بہت سے لوگ پہلو بدلیں گے ، لیکن تعلیم سے محرومی کی مار جھیلنے والے گاوں باسیوں کو دیر یا سویر اس حقیقت کا ادراک ضرور ہوگا۔ آقائی مولانا مرحوم کے انتقال سے درد کا یہ سیاق بھی ابھرتا ہے۔ مولانا مرحوم کا کردار اس معنی میں اہم خیال جاسکتا ہے کہ تدریس تا حیات ان کے جیون کا یک نکاتی ایجنڈا رہا، جس پر وہ سختی کے ساتھ کاربند رہے لیکن ان کی شخصیت کا وہ ہیولے تیار نہ ہوسکا ، جس کی توقع کسی باصلاحیت عالم سے رکھی جاسکتی ہے؛ان کی شخصیت ایک مخصوص درباریت کی نذر ہوگئی۔نتیجہ یہ ہوا کہ شخصیت کا اُفق طلوع ہونے سے پہلے ہی پردہء اخفا ہی میں محجوب رہا اور اظہار کی جرات نہ کرسکا۔

مولانا عبدالعزیز سلفی مرحومدارالسلام مںد صدرمدرس کے عہدہ پر فائز رہے۔جامعہ مسجد مدھواپٹی مںی امام و خطبی، جمعہ اور عدکین کی نماز بھی بہ اہتمام تمام پڑھاتے تھے۔ ریٹارمنٹ کے بعدایک آدھ برس رگھے پورہ کی حددر مسجد اورنہر پار والی مسجد، مدھواپٹی مںد بھی امام و خطبا رہے۔مولانا خطابت کے اسرار و رموز سے واقف تھے۔ زور بیان ایسا کہ ایمان سامعین کے سینے میں اترتا چلاجائے، نصوص قرآنی سے استدلال، اسلامی تاریخ و دُول سے ثقہ واقعات، اشخاص و رجال کا بیان ان کی خطابت کے لوازم میں سے تھے۔آیات اور لحن میں اس کا ترجمہ مولانا کی تقریر کا خاصہ ہواکرتا تھا۔نئے گھر بسانے کی خوشگوار تقاریب کی دیین ر وایت بھی ہمارے یہاں بڑی مستحکم رہی ہے۔ایسے مواقع سے علماء اور فضلاء کی تقاریر کا اہتمام ہوتا تھا۔آج کی طرح ہمارے بچپن میں مواصلات کے ذرائع کم تھے، تقریب کی اطلاع ہم بچے پورے گاوں محلے میں ”نعرہء تکبیر، اللہ اکبر” کی صدائیں لگا کر دیتے تھے، اییے تقاریب مںا مولانا کی حتے، سالارِ قافلہ کی ہواکرتی تھی۔ ان کا خطابہت اسلوب بڑا نرالا تھا۔ قرآن و احادیث سے مزین ان کی گفتگو حالات حاضرہ کے تناظرخوب ہوتی تھی، نوواردین بزم کو انہی تقاریب میں مشقی تقاریر کا موقع فراہم کیا جاتا تھا۔ سلفی اور صدیقی برادران میری ان باتوں کی تائید کرسکتے ہیں۔ایسے مواقع پر گاوں میں خوب چہل پہل رہتی تھی بلکہ ماحول بڑا دینی اور نوارنی ہوتا تھا تاہم وہفضا بڑی حد تک اب مکدر ہے۔اسے علماء کی صلابت کرداری نے سہارا دیا ہوتا تو اور بات تھی تاہم ایسا نہ ہوسکا۔ایک ایسی مسلم بستی جو مسلکی نزاع سے پاک تھی، علماء کے ہاتھوں کسی منطقی نتائج تک پہنچنے میں ناکام رہی بلکہ علماء بڑی حد تک متعدد محاذ پر ناکام ثابت ہوئے، جہالت کے سامنے سپرڈالا، کچھ نے ہجرت اور جو وہاں رہے وہ وہ نہ رہے ، جن کے لیے ہمارے اسلاف نے ہند میں مدارس کا جال بچھایا تھا۔

ایک دو زخم نہیں جسم ہے سارا چھلنی
درد بے چارہ پریشاں ہے کہاں سے اٹھے

میری خوش بختی کہ مرحوم مولانا سلفی کے شاگردوں کی طویل فہرست میں مجھ ہیچمداں کا نام بھی آتا ہے۔تعلیم اور پھر معاش کے سلسلے میں گاوں سے بُعد کے باوجود جب بھی گاوں آنا ہوتا تو میں بلاناغہاستاذ کی قدم بوسی کے لیے حاضر ہوتا تھا، وہ خوش ہوتے، باتیں کرتے، تعلیمی صورت حال دریافت کرتے اور ترقی کی دعائیں دیتے تھے۔اس اثنا میں چائے اور پان کا بطورخاص اہتمام ہوتا تھا۔2012 کی ایک ملاقات میں میں نے انھیں اپنی پہلی کتاب’پیروڈی کا فن’ پیش کی تو خوشی کا اظہار فرمایا اور اس سے اگلی ملاقات میں کتاب پر اپنے تاثرات اور کلمات خیر سے نوازا اور حوصلہ بڑھایا۔اس وقت مجھے اندازہ ہوا کہ مولانا کثراالمطالعہ بھی تھے۔

مولانا کی موت سے مدھواپٹی میں تعلیم و تعلم کے ایک سرگرم عہد کا خاتمہ ہواچاہتا ہے۔اب جبکہ مرحوم بزرگ استاد اپنے آخری سفر پر گامزن ہیں توان کی یاد سے کعبہ ء دل روشن اور آنکھیں نم ہیں۔ اللہ کی ودیعت کردہ نعمتیں، جو آج مجھے میسر ہیں، وہ سب میرے اساتذہ کی بدولت ہیں، ان میں میرے مرحوم استاد کا بھی خطیر حصہ ہے۔ اللہ انھیں اس کی جزا دے، ان کی مغفرت فرمائے، ان کی نیکیوں کو قبول فرمائے ، ان کے درجات کو بلند کرے اور انھیں جنت الفردوس میں جگہ دے،آمین

محروم ہوں میں خدمت استاد سے منیر
کلکتہ مجھ کو گور سے بھی تنگ ہوگیا

Previous articleکورونا کی تیسری لہر مگر مرکزی حکومت کی ترجیحات میں عوامی مفاد کا کہیں پتا نہیں
Next articleشوہر پر ہی بیوی پر تیزاب پھینکنے کا الزام !

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here