مرزا غالب ؔ کا ایک نادر خط ،الہ آباد میوزیم میں محفوظ از: پروفیسر صالحہ رشید

0
104

صدر شعبہ عربی و فارسی
الہ آباد یونیورسٹی

مرزا غالب کا ایک نادر خط مرقومہ ۲۹/جون ۱۸۵۶ء؁ الہ آباد میوزیم کے مخطوطوں کے نوادرات میں محفوظ ہے۔یوں تو اس میں مکتوب الیہ کا ذکر نہیں ہے مگر خلیق احمد نظامی کے مجموعہ خطوط غالب سے اس جانب نشاندہی ہوتی ہے اور اس کے مکتوب الیہ کا نام نواب انور الدولہ سعد الدین خان بہادر شفقؔ قرار پاتا ہے۔

الہ آباد میوزیم ہندوستان کے چار نیشنل میوزیم میں سے ایک ہے۔ یہ منسٹری آف کلچر،انڈیا کے مالی تعاون سے اپنی ثقافتی و ادبی سرگرمیاں انجام دیتا ہے۔صوبے کی گورنر اس کی نگران ہیں۔الہ آباد میں سر ولیم میور نے ۱۸۶۳ء؁ میں ہی ایک میوزیم قائم کیا تھا مگر کسی وجہ سے ۱۸۸۱ء؁ میں اسے بند کرنا پڑا۔پنڈت برج موہن ویاس کو ۱۹۲۳ء؁ میں شہر میں ایک میوزیم کی شدت سے ضرورت محسوس ہوئی اور انھوں نے اس جانب اپنی کوششیں شروع کر دیں ۔ ۱۹۳۱ء؁ میں پنڈت نہرو اور پنڈت مدن موہن مالویہ کے ایماء پر میونسپل بورڈ کی عمارت میں میوزیم کی بناء ڈالی گئی۔ پنڈت برج موہن ویاس کی کاوش سے یہاں بنگال اسکول آف پینٹنگ کے نادر فن پارے جمع ہو گئے ۔۱۹۴۲ء؁ میں یہاں ماڈرن پیٹنگ کی بھی ایک گیلری قائم کی گئی ۔وقت گذرنے کے ساتھ جگہ کی قلت ہونے لگی اس لئے ۱۴/دسمبر ۱۹۴۷ء؁ کو کمپنی باغ میں اس کے لئے ایک مخصوص عمارت کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔ عمارت بن کر تیار ہوئی تو ۱۹۵۴ء؁ میں میوزیم کو عوام کے لئے کھول دیا گیا۔۱۹۸۵ء؁ میں اسے نیشنل میوزیم کے زمرے میں شامل کر لیاگیا۔ تب سے آج تک اس کی ادبی و ثقافتی سرگرمیاں اہل ذوق کو اپنی جانب متوجہ کرتی رہی ہیں۔فی الوقت میوزیم کے ذخیرۂ گراں بہا کی راک آرٹ گیلری میں ما قبل تاریخ کی پینٹنگ کے نمونے موجود ہیں جنھیں ۱۴۰۰۰ ق م سے ۲۰۰۰ ق م تک کا بتایا جاتا ہے۔اس کے علاوہ مجسمے، سکے، فرمان، مخطوطے، مختلف پوشاکیں، فوٹو، ڈائریاں اور مشاہیر عالم کے ذاتی استعمال کی چیزیں یہاں موجود ہیں۔ یہ بیش قیمت فن پارے ۱۶ مختلف گیلریوں میں نمائش کے لئے پورے حفاظتی بندو بست کے ساتھ سجائے گئے ہیں۔ انھیں نوادرات میں مرزا غالب کا مذکورہ خط بھی شامل ہے۔ جس کی شروعات میں وہ اپنے مخاطب کو پیر و مرشد لکھتے ہیں۔ ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ القاب و آداب سے صرف نظر کرتے ہوئے تحریر نہیں بلکہ باتیں کرنا چاہ رہے ہیں۔اس مکتوب میں پکھراج کی قسم اور نگین کا ذکر کیا ہے۔اسی ضمن میں بدر الدین علی خان منشی نادر حسین خان اور امجد علی قلقؔکا ذکر بھی کر دیا ہے۔یہ مرقومہ یکشنبہ، ۲۹ /جون ۱۸۵۶ء؁ کا ہے۔مرزا غالب ؔ جیسے نابغۂ روزگار کی نشانی کا الہ آباد میوزیم میں محفوظ ہونا اس کی وقعیت میں اضافہ کرتا ہے اور اہل ذوق کو اس کے دیدار کی دعوت دیتا ہے۔

Previous articleافسانہ ‘‘بے ربط سانسوں کا سلسلہ‘‘ از : ڈاکٹر عظیم اللہ ہاشمی
Next articleمنٹو، میرا دوست میرا دشمن : ایک مطالعہ از: اسفند جاوید مہر

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here