گلوبلائزیشن اور اسلام ” از مولانا یاسر ندیم

0
12

از بلاغ18ڈاٹ

“گلوبلائزیشن اور اسلام “مولانا یاسر ندیم کی اپنے موضوع پر ایک اہم تصنیف ہے- مولانا ایک فعال، متحرک، وسیع المطالعہ اور سنجیدہ ذہن کے مالک ہیں۔ اسلام کی بالادستی اور اس کی حقانیت کو مختلف زاویوں سے پیش کرنے میں اپنی انفرادیت رکھتے ہیں۔قلم و قرطاس کے ساتھ ساتھ شیریں بیانی کی نعمت سے اللہ نے انہیں نوازا ہے۔
“گلوبلائزیشن اور اسلام ” میں انہوں نے عالمگیریت کو جس انداز سے واضح کیا ہے وہ یقینا ان کی عصری آگہی کا آئینہ ہے۔ انہوں نے اس کتاب میں یہ وضاحت کی ہے کہ گلوبلائزیشن کے پس منظر میں اسلام اور اس کے آفاقی نظام کو نشانہ بنایا گیا ہے ۔ سیاسیات اور اقتصادیات کی آڑ میں اسلام کے عدل و انصاف اور فلاح انسانیت کی بیخ کنی کی کوشش کی گئی ہے۔اس تناظر میں دیکھا جائے تو یہ کتاب مدلل و مفصل عالمگیریت کے مغربی پروپیگنڈوں کا جواب دیتی ہے ۔اس کتاب کےحوالے سے مولانا نور عالم خلیل امینی نے اچھی رائے دی ہے وہ لکھتے ہیں:
“نوجوان مؤلف کی غالبا یہ پہلی باقاعدہ تالیف ہے لیکن مجھے یہ لکھتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ ان کی کتاب پڑھ کر محسوس ہوا کہ جیسے وہ کہنہ مشق مولف ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ قاری کو” عالمگیریت” کے موضوع پر اس میں اتنا کچھ ملے گا جس کے بعد اسے کسی تشنگی کا احساس نہ ہو گا -ہر چند کہ کسی موضوع پر کوئی کتاب حرف آخر نہیں کہی جا سکتی- کسی بھی موضوع پر خصوصا جب وہ نیا ہو معلومات، انکشافات، خیالات وغیرہ کا اضافہ ہوتا رہتا ہے۔سوچ کے نئے نئے دھارے ابلتے اور اچھلتے رہتے ہیں اور طرز تحریر و انداز تعبیر بھی طرح طرح کی سامنے آتی رہتی ہیں۔ عالمگیریت کی حقیقت، اہداف اور اس کے نقصانات و خطرات کے تعلق سے جو بات اس کتاب میں کہی گئی ہے وہ علماء و مفکرین اور پختہ کار اہل قلم کے خیالات کا نچوڑ ہے ۔توقع ہے کہ اس کتاب کا ہر قاری ان خطرات و خدشات سے واقف ہوکر ان سے اپنے آپ کو اور اپنے معاشرے اور گردوپیش کو بچانے کی کوشش کر ے گا۔”
(“گلوبلائزیشن اور اسلام ” صفحہ 35 36)
یہی وجہ ہے کہ یہ کتاب عام و خاص سب کے لئے مفید ہے –

Previous articleسرسید گلوبل اسکالر ایوارڈ کے لیے اےایم یو کے 28طلبہ منتخب
Next articleعا رضۂ ادب

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here