محرم الحرام اور ہجری کیلنڈر: نئے اسلامی سال کا آغاز مختلف ممالک میں مختلف کیوں؟

0
70
محرم الحرام اور ہجری کیلنڈر: نئے اسلامی سال کا آغاز مختلف ممالک میں مختلف کیوں؟

نئی دہلی:( بی بی سی) دنیا بھر میں نئے سال کے آغاز کی بات کی جائے تو جو تاریخ ذہن میں فوراً آتی ہے وہ یکم جنوری ہے جو گریگورین یا شمسی کیلنڈر کے مطابق نئے سال کا پہلا دن ہے لیکن اسلامی کیلنڈر میں نئے سال کا آغاز یکم محرم سے ہوتا ہے اور دنیا کے مختلف ممالک میں اس سال کا آغاز ایک دن کے فرق سے ہی ہوتا ہے۔مثال کے طور پر رواں برس بھی متعدد عرب ممالک میں نئے ہجری سال کا آغاز گریگورین کیلنڈر کے مطابق پیر نواگست سے ہوا جبکہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت کئی ممالک میں یہ سال منگل دس اگست سے شروع ہوا ہے۔اسلامی کیلنڈر کا آغاز پیغمبر اسلام کی مکّہ سے مدینہ ہجرت کے برس سے کیا گیا ہے اور یہ ہجری کیلنڈر کا 1443 واں سال ہے لیکن ہجری کیلنڈر کے بارے میں اور بھی حقائق ہیں جن کا ہم یہاں جائزہ لے رہے ہیں۔ ہجری کیلنڈر زمین کے گرد چاند کے چکر پر مبنی ہے اور قمری مہینہ چاند کے ایک چکر کی تکمیل کے ساتھ مکمل ہو جاتا ہے۔ یہ گریگورین یا شمسی کیلنڈر کے برعکس ہے جو کہ سورج کے گرد زمین کی گردش پر مبنی ہے۔آپ میں سے زیادہ تر لوگ اس سے واقف ہیں کہ ہجری مہینے کا اختتام اور آغاز نئے چاند کے دیکھنے کی بنیاد پر طے کیا جاتا ہے جو شمسی طریقے کے برعکس ہجری مہینوں کے دنوں کوغیرمعینہ بنا دیتا ہے۔اس کے مطابق ہجری مہینے کے دنوں کی تعداد 29 اور 30 دنوں کے درمیان ہوتی ہے۔اس بنا پر ہجری سال شمسی کیلنڈر کے مقابلے میں ہر سال 11 دن آگے بڑھ جاتا ہے جس کی وجہسے اسلامی تہوار اور مواقع ہر سال مختلف موسموں اور اوقات میں آتے ہیں۔قمری گردش کی تکمیل بھی جغرافیائی محل وقوع کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہے جس کا مطلب ہے کہ ہجری مہینے کا آغاز ایک جگہ الگ ہو سکتا ہے اور دوسری جگہ مختلف۔

عالمی ہجری کیلنڈر
یہ ایک طریقہ ہے جسے ماہرین فلکیات کے ایک گروپ نے 2001 میں متعارف کرایا تاکہ مختلف ممالک میں نئے چاند کے رویت میں موجود تضاد کو کم کیا جا سکے۔اس طریقے کو دوسری اسلامی فلکیاتی کانفرنس میں اختیار کیا گیا جو اکتوبر 2001 میں اردن کے دارالحکومت عمان میں منعقد ہوئی تھی۔عرب یونین کی فلکیات اور خلائی سائنسز کمیٹی برائے ہلال، کیلنڈر اور اوقات نے کیلنڈر کا نیا خیال پیش کیا۔ یہ دنیا کو دو حصوں میں تقسیم کرنے پر مبنی ہے۔مشرقی نصف کرہ: 180 ڈگری مشرقی طول البلد اور 20 ڈگری مغربی طول البلد کے درمیان کا علاقہ۔مغربی نصف کرہ: یہ طول بلد 20 ڈگری مغرب کے درمیان امریکہ کے مغرب میں ہے۔کیلنڈر کا خیال ہجری مہینے کی 29 تاریخ کو ہر علاقے میں زمین کے کسی ایک حصے پر ہلال کا مشاہدہ کرنے پر مبنی ہے۔اگر ہلال نظر آنے کی تصدیق ہو جاتی ہے (چاہے انسانی آنکھ سے ہو یا فلکیاتی آلات کی مدد سے) پورے علاقے میں اگلے دن نئے مہینے کے آغاز کا اعلان کیا جائے گا۔اس کیلنڈر کا یہ مطلب نہیں ہے کہ دنیا کےتمام حصوں میں ایک ہی دن ہجری مہینے شروع ہوتے ہیں، بلکہ یہ ممالک میں مہینوں کے آغاز میں فرق کو محدود کرتا ہے تاکہ یہ عالمی سطح پر ایک دن سے زیادہ نہ ہو۔

اسلام سے دو صدیاں پہلے
قمری تقویم پر اتفاق کرنے کے لیے سنہ 412 عیسوی میں مکہ میں عرب سرداروں کی ایک میٹنگ ہوئی، کیونکہ قمری مہینوں کے تعین میں عرب قبائل کے درمیان تضاد نے حج کے موسم اور تجارت کی نقل وحرکت کے حوالے سے انتشار پیدا کیا ہوا تھا۔اس اجلاس میں ہر مہینے سے منسلک سرگرمیوں پر بھی اتفاق کیا گیا جن میں سے کچھ جنگ کے لیے کچھ تجارت کے لیے اور کچھ زیارت کے لیے مخصوص کیےگئے تھے۔اس اجلاس میں مقدس مہینوں پر بھی اتفاق کیا گیا تھا جس کے دوران لڑائی حرام تھی اور یہ اسلام کی آمد کے بعد بھی جاری رہا۔ یہ مقدس مہینے ذوالقعدہ، ذی الحجہ، محرم اور رجب ہیں۔17 سال بعداگرچہ ہجری کیلنڈر مکہ سے مدینہ ہجرت کے ساتھ شروع ہوتا ہے لیکن اس کا اہتمام 17 سال بعد شروع ہوا۔اور یہ مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ عمر ابن الخطاب تھے جنھوں نے اسلامی ریاست میں ہجری کیلنڈر کو اپنایا جو پہلے عرب کیلنڈر کے نام سے جانا جاتا تھا اور پیغمبر اسلام کی ہجرت سے منسوب کرتے ہوئےاس سے لفظ ‘ہجری’ اخذ کیا۔جن مہینوں کے نام آج ہم جانتے ہیں ان کا انتخاب کیا گیا جبکہ اس سے قبل قبائل نے مہینوں کے لیے مختلف نام استعمال کیے تھے۔ اور اس میں زیادہ تر وہ نام ہیں جن پر عربوں نے 412 عیسوی میں مکہ کے اجلاس میں اتفاق کیا تھا۔

نسی ایام
یہ پانچ دن ہیں جو عرب قمری سال میں شامل یا خارج کیے جاتے تھے۔ان دنوں کی شمولیت یا اخراج کی وجہ مختلف تھی، جیسا کہ کچھ کا خیال ہے کہ وہ زمین کے گرد چاند کے چکر کے حساب میں اضافے یاکمی کے تابع تھے۔ دوسروں کا کہنا ہے کہ یہ مقدس مہینوں کے دنوں کی تعداد کو روکنے کا ایک طریقہ تھا۔اسلام نے ان نسی ایام کو بعد میں اس حد تک ممنوع قرار دے دیا کہ وہ اسلامی تضادات اور مواقع کےاوقات کا حساب لگانے میں انتہائی تضاد کی وجہ ہو سکتے تھے۔

مہینوں کے نام
عرب قبائل صدیوں سے قمری تقویم کی پیروی کر رہے تھے اور ان کی زندگی کے ایک بڑے حصے پر اس کی عملداری تھی اور مہینوں کے نام یا تو ان موسموں سے وابستہ تھے جو ان کے موافق ہوتے ہیں یا انمیں سے ہر ایک میں عربوں کی سرگرمیوں یا ان میں لڑائی کی تقدیس سے متعلق تھے۔مثال کے طور پر ربیع الاول اور ربیع الآخر کے مہینے موسم بہار کے موسم سے تعلق رکھتے تھے۔ جبکہ جمادی الاول اورجمادی الآخر سردیوں کے موسم سے ہم آہنگ تھے۔ رمضان کا مہینہ رمود سے ماخوذ ہے جو کہ اس وقت شدید گرمی کا زمانہ تھا اور اس نام سے اسی کا احساس ہوتا تھا۔جہاں تک مقدس مہینوں کی بات ہے توذوالقعدہ عربوں کی جنگ سے غیر فعال ہونے کی علامت ہے۔ ذوالحجہ حج کا مہینہ تھا۔ جہاں تک محرم کی بات ہے تو یہ لڑائی کی ممانعت سے ماخوذ ہے۔ رجب ‘رجب النسل تیر’ سے ماخوذ ہے یعنی ان کو لڑائیکی ممانعت کے وقت ہٹانا ہے۔جہاں تک صفر کی بات ہے، یہ عربوں کے ساتھ جنگ میں جانے سے متعلق ہے یہاں تک کہ گھر پیلے ہو جائیں یعنی وہ اپنے لوگوں سے خالی ہوجائیں۔ اور شعبان رجب میں بیٹھنے کے بعد
عربوں کی جنگ اور تجارت کے درمیان تقسیم کے آغاز کی علامت ہے۔

کعبہ
اسلامی سال: یہ مختلف اوقات میں کیوں شروع ہوتا ہے؟آج دنیا اسلامی نیا سال محرم کے مہینے سے شروع کرتی ہے اور یہ اسلام کے دوسرے خلیفہ کا اسلامی کیلنڈر کے آغاز کے طور پر اپنایا ہوا مہینہ ہے۔عام عقیدے کے برعکس ہجری سال کے آغاز کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ 14 ویں سال میں پیغمبر اسلام کی مکہ سے مدینہ ہجرت کی صحیح تاریخ کے طور پر منایا جائے۔ یہ اسلامی حوالوں کے مطابق محرمنہیں بلکہ ربیع الاول کا مہینہ تھا۔پیغمبر اسلام کی وفات کے بعد اور صحابہ سے مشورہ کرنے کے بعد عمر ابن الخطاب نے ایک اسلامی کیلنڈر اختیار کیا جسے ہجری کیلنڈر کہا گیا۔اس طرح محرم کا نام اس مہینےکو دیا گیا جس میں عربوں نے جنگ سے منع کیا تھا اور صفر کا نام اس مہینے کو دیا گیا جس میں لوگوں کے گھر حملوں کے لیے ہجرت کی وجہ سے خالی ہوتے تھے۔واضح رہے کہ مہینوں کے نام سال کےموسموں کے مطابق ہوتے تھے لیکن اس کے لیے ان کے حساب کے طریقہ کار میں تبدیلیاں کی جاتی تھیں۔ اب ان تبدیلیوں کے بغیر ہر سال یہ مہینے مختلف موسم میں ظاہر ہوتے ہیں۔ہجری کیلنڈر نے چاند کی حرکت کو معیار کے طور پر قائم کیا اور رویت ہلال مسلمانوں کے رسم و رواج کا ایک لازمی حصہ بن گیا، جسے وہ مہینوں کی تاریخوں اور سالانہ تعطیلات کے تعین کے لیے اپناتے ہیں۔یہ تاریخیں دنیا بھر کے ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں مختلف ہوتی ہیں ، کیونکہ ملائیشیا یا برازیل میں مسلمان ایک ہی وقت میں نئے ماہ کا چاند نہیں دیکھ سکتے کیونکہ چاند کی حرکت کی نوعیت زمین کے گرداس کی گردش اور وقت کے باعث اس کے نکلنے اور ڈوبنے میں وقت لیتے ہیں۔شمسی سال کی طرح قمری سال بھی دنیا کے مختلف حصوں میں مختلف اوقات میں شروع ہوتا ہے اور یہ ہر ملک کے جغرافیائی محلوقوع اور چاند کے دیکھنے کے زاویے پر منحصر ہے۔ہجری سال کے معاملے میں یہ پریشانی ہے کہ نئے چاند کو اس کی پیدائش کے فورا بعد دیکھنے میں دشواری ہوتی ہے کیونکہ وہ سورج کی روشنی سے چمکتا ہے۔متحدہ عرب امارات میں قائم بین الاقوامی فلکیات کامرکز نماز کے اوقات کا تعین کرنے اور ‘نئے چاندوں کے مشاہدہ کے اسلامی منصوبے’ کی نگرانی سے متعلق ہے جو 21 سال قبل شروع کیا گیا تھا۔ اس پروجیکٹ میں 800 سے زیادہ سائنسدان اور ماہرین شامل ہیں، جو ہلال کا مشاہدہ کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں اور یہ مرکز ہلال کا شوقیہ نظارہ کرنے والے لوگوں کو بھی اجازت دیتا ہے کہ وہ ہلال کا مشاہدہ کرنے کی اپنی تصاویر بھیجیں جسے وہ چیک کرنے کے بعد اپنی ویب سائٹ پر شائع کرتے ہیں۔مرکز کے ڈائریکٹر محمد شوکت عودہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ‘ہلال کو دیکھنے کے معیار نے ہزاروں سالوں سے اس میدان میں دلچسپی رکھنے والوں کو اپنی جانب متوجہ کیا ہواہے۔’عودہ نے وضاحت کی کہ نظر آنے کے معیارات بعد میں تیار ہوئے ‘ہمارے آباؤ اجداد، عرب اور مسلمان فلکیات دانوں جیسے الخوارزمی اور الطانی کے ساتھ ساتھ آج جدید معیار بھی ہیں جن میں سے سب سے مشہور شیفر معیار، الیاس معیار، ایک ملائیشین مسلمان فلکیات دان، برطانوی برنارڈ یالوپ معیار اور جنوبی افریقہ کے فلکیاتی رصدگاہ کا معیار وغیرہ شامل ہیں۔’اس کے نتیجے میں عودہ نے مشاہدے کے لیے ایک معیارشروع کیا جو سنہ 2005 میں ایک امریکی سائنسی جریدے میں شائع ہوا تھا، آج اسے بہت سے لوگوں نے منظور کیا ہے اور بین الاقوامی فلکیات مرکز نئے چاند کی نگرانی اور نماز کے اوقات کا تعین کرنے کےلیے اس پر انحصار کرتا ہے، اردن اور متحدہ عرب امارات کے سرکاری حکام اسی کی پیروی کرتے ہیں۔

چاند
آج تک بہت سے لوگ ہجری مہینوں اور تعطیلات کا تعین کرنے کے لیے انسانی آنکھوں سے ہلال دیکھنے پر انحصار کرتے ہیں۔عودہ نے نشاندہی کی کہ ‘ہلال کو انسانی آنکھ سے دیکھنے میں غلطی کا امکان بہت زیادہہے، اور یہ ایک اسلامی ملک سے دوسرے ملک میں مختلف ہوتا ہے، ان میں سے کچھ سائنس پر توجہ نہیں دیتے، لہذا وہ لوگوں کو تحقیقات کے لیے کہتے ہیں۔ انسانی آنکھ سے رویت ہلال کی تصدیق دو گواہوں پرمنحصر ہوتی ہے۔وہ مزید کہتے ہیں: ‘یہ ایک قانونی مسئلہ ہے جس میں ہم مداخلت نہیں کرتے۔ ہر ملک قانونی اور فقہی مسئلے میں آزاد ہے۔ لیکن یہ بات ذہن نشین کرنی چاہیے کہ چاند کی سائنسی معیار کے مطابقتحقیقات کرنے اور شواہد قبول نہ کرنے والے بہترین ممالک اس وقت عمان اور مراکش ہیں۔’انسانی آنکھ اور دوربین سے دیکھنے کے علاوہ ایسے جدید طریقے بھی ہیں جنھوں نے اس عمل کو بہت آسان بنا دیا ہے انمیں کمپیوٹرائزڈ یا ڈیجیٹل دوربینیں ہیں۔ ان دوربینوں کو یہاں وہاں منتقل کرنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اس کے تحت زاویہ کا تعین کرنے کے لیے کمپیوٹر پر انحصار کیا جاتا ہے۔مانیٹرنگ کے جدید ترین طریقوںمیں فلکیاتی کیمرے بھی ہیں جو جرمنی میں 2005 میں ایجاد ہوئے اور دوربین پر رکھے گئے۔

(بشکریہ:روز نامہ راشٹریہ سہارا)

Previous articleاسلامی سال کی ابتدا اور یوم عاشورہ کی فضیلت از: رازداںشاہد
Next articleعارفہ عنبر کا قلمی سفر از : محمد اویس سنبھلی

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here