جاوید دانش اور جہان آوارگی

0
86

ڈاکٹر احمد علی جوہر
اسسٹنٹ پروفیسر جے، این، کالج، نہرا، دربھنگہ، بہار

جاوید دانش اردو کے ان ادیبوں میں سے ہیں جو وسیع المطالعہ ہونے کے ساتھ ساتھ وسیع المشاہدہ بھی ہیں۔ انھوں نے دنیا کے مختلف ملکوں کا سفر کیا ہے اور اپنے اس سفر کو “آوارگی” کے خوبصورت نام سے تعبیر کیا ہے۔ آوارگی جاوید دانش کا محبوب مشغلہ رہی ہے۔ اپنی اسی آوارگی کی روداد کو انھوں نے سفرنامہ “آوارگی” کی شکل میں پیش کیا ہے۔ جاوید دانش کے اس جہان آوارگی میں یورپ اور امریکہ کی دنیا اپنی تمام تر جلوہ سامانیوں کے ساتھ موجود ہے۔ 145 صفحات پر مشتمل “آوارگی” جاوید دانش کا پہلا اور اردو کا دلچسپ سفرنامہ ہے۔ اس میں بیسویں صدی کی آٹھویں دہائی کے پیرس، فرینکفرٹ، کوپن ہیگن، لندن اور امریکہ کی روداد بیان کی گئی ہے۔ دراصل 1970/80ء کے درمیان جاوید دانش نے مذکورہ شہروں کا جو سفر کیا اور اس سفر کے دوران انھیں جو مشاہدات و تجربات حاصل ہوئے، اسی کو اس سفرنامہ میں پیش کیا ہے۔ جاوید دانش نے اپنے اس سفرنامہ میں مذکورہ شہروں کی خاص خاص چیزوں اور اہم اہم باتوں کو ہی پیش کرنے کا اہتمام کیا ہے۔ اس تعلق سے وہ لکھتے ہیں:
“دوستوں کی دیگر بے جا فرمائشوں کے ساتھ ایک فرمائش تھی کہ خاص خاص چیزیں اور کام کی باتیں نوٹ کرتے جانا۔ بس میں نے جو دیکھا رقم کرلیا اور رفتہ رفتہ یہ روداد آوارگی تیار ہوتی گئی۔ تین مہینوں اور کچھ دنوں کی آوارگی میں میں نے جو کچھ دیکھا اور تجربہ کیا وہ آپ کے سامنے من و عن حاضر ہے”۔ (1)

جاوید دانش نے اپنے اس سفرنامہ میں نہ تو غیر ضروری باتوں کو جگہ دی ہے اور نہ ہی فرضی اور خیالی واقعات کا سہارا لیا ہے، بلکہ حقیقی واقعات و مشاہدات ہی بیان کئے ہیں اور حقیقت نگاری کا کڑا اہتمام کیا ہے۔ اس ضمن میں ان کا درج ذیل بیان ملاحظہ ہو:
“ایک سیٹ پروگرام کے باوجود جہاں مجھے ایک دن رکنا تھا، وہاں چار دن رکا اور جہاں ایک ہفتہ ٹھہرنا تھا، وہاں ایک ماہ پڑا رہا، جو روز لکھتا رہا وہ جمع ہوتا گیا، جو رہ گیا، وہ بھول گیا۔ کچھ مضامین کاہلی اور ڈاک کی نذر ہوئے۔ جتنا گھر والوں کو ملا جمع کرکے “اخبار مشرق” کلکتہ کے حوالے کیا جو 82ء میں ہی تقریبا پچیس تیس قسطوں میں سنڈے ایڈیشن میں شائع ہوتا رہا”۔ (2)

سفرنامہ لکھنا کوئی آسان کام نہیں، بلکہ یہ ایک مشکل فن ہے۔ لکھنے کو تو بہت سے لوگوں نے سفرنامے لکھے لیکن ہر ایک کا سفرنامہ اس فن کے معیار پر پورا اترے، ضروری نہیں۔ ایک اچھے سفرنامہ کے لئے ضروری ہےکہ سفرنامہ نگار کا مشاہدہ وسیع اور گہرا ہو۔ سفرنامہ نگار جب کسی ملک کا سفر کرے تو وہ وہاں کے تاریخی و یادگاری مقامات، عمارتوں، تعلیم گاہوں، مشہور چیزوں، وہاں کے طرز بود و باش، کھان پان، لباس، تہذیب ں تمدن، آب و ہوا، جغرافیہ، غرض ایک ایک اہم چیز کا باریک بینی سے مشاہدہ کرے اور ہوسکے تو دوران مشاہدہ اپنے ملک سے اس کاموازنہ بھی کرے۔ اس ملک کے تعلق سے اپنے مشاہدات و تجربات کو سفرنامہ نگار اس دلچسپ حقیقی انداز میں بیان کرے کہ قاری کے دل میں اس ملک کو دیکھنے کا شدید اشتیاق پیدا ہوجائے۔ سفرنامہ میں مشاہدہ کی جتنی وسعت و گہرائی اور باریک بینی ہوگی، سفرنامہ اتنا کامیاب ہوگا۔ سفرنامہ کی کامیابی کے لئے انداز بیان‌ کا دلکش ہونا بھی اہم مانا گیا ہے۔ یہ انداز بیان ہی ہے جو واقعہ میں جان پیدا کرتا ہے۔ سفرنامہ کا ایک اہم وصف دلچسپ منظرنگاری بھی ہے۔‌ سفرنامہ نگار کسی بھی ملک، اس کے مشہور و دلچسپ مقامات، تاریخی عمارتوں اور اہم‌ جگہوں کی سیر و سیاحت اور اس کا مشاہدہ صرف اپنے لئے نہیں کرتا، بلکہ وہ اپنے مشاہدہ میں قاری کو بھی شریک کرنا چاہتا ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ سفرنامہ نگار جس ملک کا سفر کرے، اس ملک کے مشہور مقامات و عمارات اور اہم ا‌ہم چیزوں اور جگہوں کی منظرکشی اس فنی مہارت کے ساتھ کرے کہ اس ملک کا پورا منظر نگاہوں کے سامنے آجائے۔ سفرنامہ کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ اس کے مطالعہ کے دوران قاری کو متعلقہ ملک کے مشاہدہ اور سیر و سیاحت کی لذت و چاشنی کا احساس ہو۔ یہی وہ خصوصیات ہیں جو سفرنامہ کو سفرنامہ بناتی ہیں اور سفرنامہ نگار اور ایک عام سیاح کے درمیان حد فاصل قائم کرتی ہیں۔ ان‌ خصوصیات کو پیش نظر رکھ کر جب ہم جاوید دانش کے سفرنامہ “آوارگی” کا مطالعہ کرتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ ان کے سفرنامہ “آوارگی” میں حقیقت نگاری، باریک بینی، مشاہدہ کی گہرائی و گیرائی، بیان کی دلکشی اور خوبصورت منظرنگاری یعنی ایک اچھے سفرنامہ کی بیشتر خصوصیات موجود ہیں۔ یہی وجہ ہےکہ اردو کے بیشتر ناقدین نے اس سفرنامہ کو فنی محاسن سے پر ایک کامیاب اور دلچسپ سفرنامہ تسلیم کیا ہے۔ جاوید دانش نے اپنے اس سفرنامہ میں جابجا ڈرامائی انداز بیان سے بھی کام لیا ہے اور طنز و ظرافت کی آمیزش، برمحل اشعار اور محاوروں اور کہاوتوں کے بر محل استعمال سے بھی انداز بیان کو دلکش اور موثر بنانے کی کوشش کی ہے۔

جیسا کہ ماقبل سطور میں یہ ذکر کیا جاچکا ہے کہ جاوید دانش کا سفرنامہ “آوارگی” یوروپی ممالک اور امریکی شہروں کے اسفار پر مشتمل ہے۔ جاوید دانش نے یہ سفر 1970/80ء کے درمیان‌ کیا تھا۔ ہوسکتا ہے کہ تب سے لےکر اب تک یورپ اور امریکہ میں سماجی، سیاسی اور تہذیبی و تمدنی اعتبار سے کچھ تبدیلی بھی آئی ہو، لیکن اس وقت کے امریکہ اور یورپ سے متعلق اپنے مشاہدات و تجربات کو جاوید دانش کو بڑے سلیقہ سے حقیقت پسندانہ انداز میں پیش کیا ہے۔ اس لئے اس سفرنامہ کو اسی عہد کے تناظر میں دیکھنا مناسب ہوگا۔ یہ سفرنامہ پیرس کے سفر سے شروع ہوتا ہے۔ پیرس یورپ، بلکہ دنیا کا حسین ترین تاریخی شہر ہے جو اپنی بے پناہ خوبصورتی کی وجہ سے پوری دنیا کے سیاحوں کے لئے کشش کا مرکز رہا ہے۔ جاوید دا‌ش بھی ہمیشہ سے اس شہر کی کشش اپنے دل میں محسوس کرتے رہے ہیں۔ یہی کشش انہیں وہاں کھینچ کر لے گئی۔ اس دلفریب شہر نے اپنی رعنائی و زیبائی سے جاوید دانش کو اس قدر متحیر و مبہوت کیا کہ وہ جاتے ہی اس میں کھوگئے۔ اس حسین ترین شہر کے بارے میں جاوید دانش کے مشاہدات و تاثرات ملاحظہ ہوں:
“شہر روایتی طرز کا تھا۔‌ قدیم محلات نما عمارتیں، شاندار صاف شفاف سڑکیں جس پر گاڑی پھسل رہی تھی۔ بائیں طرف ایک دریا رواں دواں تھا۔ پتہ چلا یہ دریائے سین ہے اور پیرس اس کے دائیں اور بائیں طرف آباد ہے۔ دور دھند میں لپٹا ہوا ایفل ٹاور نظر آرہا تھا۔ کوئی پندرہ منٹ کے سفر کے بعد ہم ایک عالیشان مکان کے سامنے پہنچے۔ سارا علاقہ ہوٹلوں سے بھرا پڑا تھا۔ ہر شکل و نسل کے سیاح محو خرام تھے….. پیرس اپنے عظیم الشان ماضی اور تابندہ حال کے ساتھ اپنی ثقافت، ادب، قابل دید اور روح پرور مقامات کے لیے دنیا کے تمام شہروں میں عروس البلاد کے نام سے زندہ ہے۔ برسوں سے پیرس مغربی سوسائٹی کو اعلی قسم کی شراب، عمدہ پکوان، نفیس خوشبوجات اور فیشن کی حشرسامانیوں سے مزین کررہا ہے بلکہ زیب و زینت، فریفتگی و تفریح بھی برآمد کرتا آرہا ہے۔ پیرس کو بجا طور پر فرانس کی راجدھانی ہونے کا فخر حاصل ہے جو دسویں صدی سے اب تک اپنی تاریخی، معاشی اور سیاسی روایات پر قائم ہے”۔ (3)

پیرس کی اپنی مخصوص تہذیب ہے جس کی بنا پر وہ دوسرے یورپی شہروں سے قدرے مختلف ہے۔ وہاں کے لوگوں کا رہن سہن اور ذوق دوسرے یورپی ملکوں سے تھوڑا الگ ہے۔ پوری دنیا میں شاید پیرس ہی ایک ایسا شہر ہے جہاں لوگ اجتماعی طور پر نہاتے ہیں اور وہ بھی برہنہ۔ دیکھئے جاوید دانش نے اس واقعہ کو کس پرلطف ظریفانہ انداز میں بیان کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
“(وائی ایم سی اے) YMCAکے پرسکون ماحول میں بس ایک چیز کھٹک رہی تھی، Common Bath‌ یعنی نہانے کا مشترکہ انتظام۔ خیر اس بہانے فرانسیسیوں کے اتحاد کی وجہ معلوم ہوگئی۔ ظالم نہاتے بھی اجتماعی طورپر ہیں۔ جب میں اس جماعت میں شامل ہونے کو پہنچا تو اردو کا ایک مشہور محاورہ یاد آگیا کہ اس حمام میں سب ننگے ہیں۔ اللہ جھوٹ نہ بلوائے حمام اور لوگ اسم بامسمی ہورہے تھے۔ میں تنہا غسل کرنے کا بہانہ اور انتظام تلاش کرنے لگا۔ معلوم ہوا کہ بدذوق لوگ صبح فارغ ہوسکتے ہیں اور اعلی ذوق والے Attached Bath‌ والا کمرہ لیتے ہیں”۔ (4)

پیرس میں مرد و زن کے درمیان‌ میل ملاپ، محبت اور حسن و عشق کی جلوہ نمائی عام ہے۔ وہاں لڑکے، لڑکیوں اور مرد و زن کے ملنے اور بوس و کنار پر وقت اور جگہ کی کوئی قید و پابندی نہیں ہے۔ نازنینان پیرس بھی انتہائی حسین و خوبصورت ہوتی ہیں اور شائستگی کا مرقع نظر آتی ہیں۔ اس ضمن میں جاوید دانش کے دلچسپ تاثرات ملاحظہ فرمائیں:
“میل ملاپ، محبت فرانسیسیوں میں اس قدر ہے کہ اب وقت اور جگہ کی قید نہیں۔ بوس و کنار پر ٹیکس بھی نہیں اس لئے حسن و عشق کی سرمستیاں عام ہیں۔ بقول شخصے: پیرس کی عاشقی بھی سلیقے کی اور فاسقی بھی سلیقے کی….. مجھے اس امر کا اعتراف ہے کہ فرانسیسی زبان جیسی شستہ و شائستہ ہے، نازنینان پیرس بھی ویسی ہی خوبصورت اور شائستہ دکھائی دیتی ہیں۔‌ اب دلوں کا حال خدا جانے یا پھر وہ جو دل لگائے۔ میں فرنچ کنکشن یعنی ان سے رشتہ کا قائل نہیں، اس لئے مزید تفصیل جاننے کی کوشش نہ کی”۔ (5)

پیرس یورپ کا انتہائی صاف و شفاف، خوبصورت اور کشادہ شاہراہوں والا شہر ہے۔ اس کے طرز معاشرت، تہذیب و ثقافت اور اس کی نزاکت و نفاست میں عجیب و غریب دلکشی پائی جاتی ہے۔ پیرس کو اپنی منفرد خصوصیات کی بنیاد پر یورپ کا دل بھی کہا جاتا ہے۔ پیرس کی خوشبو اور شراب پورے یورپ میں مشہور ہے اس کے علاوہ وہاں ایک سے ایک مشہور یادگاری اور تاریخی محلات، پارک، شاہراہیں، پل اور عجائب خانے بھی موجود ہیں۔ اسی لئے پیرس کو خوشبو، شراب، محلوں، پارکوں، شاہراہوں، پلوں اور عجائب خانوں کا شہر بھی کہا جاتا ہے۔
پیرس کے یادگار اور تاریخی عمارات میں سب سے زیادہ مشہور “ایفل ٹاور” ہے۔ اس کےلئے پیرس پوری دنیا میں جانا جاتا ہے۔ اپنے زمانے میں جب یہ ٹاور بنایا گیا تھا، دنیا کا سب سے اونچا ٹاور تھا۔ پوری دنیا سے سیاح اسے دیکھنے جاتے تھے مگر اب امریکہ میں اس سے اونچی اونچی عمارتیں ہیں۔ ایفل ٹاور کو دیکھنے کے بعد جاوید دانش کو اتنا نہیں بھایا، جتنا اس کے بارے میں پڑھ رکھا تھا مگر عجیب و غریب ضرور لگا۔ ایفل ٹاور کی بنیاد اور اس کی تاریخی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے جاوید دانش لکھتے ہیں:
“الگزنڈر ایفل نامی ایک انجینئر نے اسے 1889ء میں پیرس کی ایک عالمی نمائش کے لیے بنایا تھا۔ یہ ٹاور 985 فٹ اونچا ہے اور لفٹ کے ذریعہ پہلی، دوسری، تیسری اور چوتھی منزل تک جایا جاسکتا ہے۔ یہ دنیا کا سب سے اونچا ٹاور سمجھا جاتا تھا مگر اب نیویارک کی فلک بوس عمارتیں اور ٹورانٹو، کناڈا کا سی این ٹاور اسے شرمندہ کرچکا ہے”۔ (6)

“ایفل ٹاور” پر چڑھ کر پیرس اور قرب و جوار کے علاقوں کا مشاہدہ کرنا بڑا دلکش معلوم ہوتا ہے اور نیچے کا منظر بڑا سہانا لگتا ہے۔ وہاں سے پیرس کے پورے شہر کا نظارہ کیا جاسکتا ہے۔
پیرس میں “پیلس ڈی لوور” عجائب خانہ بھی سیر و سیاحت کا ایک اہم مرکز ہے۔ اس کے بارے میں جاوید دانش لکھتے ہیں:
“دی لوور دنیا کا سب سے بڑا عجائب خانہ ہے بلکہ دنیا کے عالیشان محلوں میں سے ایک ہے۔ یہ سولہویں صدی میں تعمیر کیا گیا تھا۔ سب سے پہلے فرانکوائیس اول، اس کے بعد ہنری دوم کی بیوہ کیتھرین میڈیسی، پھر لوئی چہارم اور آخر میں نپولین اول سے لے کر سوم تک کا یہ محل رہ چکا ہے”۔ (7)

یہ عجائب خانہ حیرت انگیز نوادرات سے پر تاریخی عجائب خانہ ہے۔ اس میں بڑے بڑے اور مشہور مصوروں کی مصوری کے دلکش نمونے دیکھنے کو ملتے ہیں۔ اس عجائب گھر میں تاریخ کے نہ جانے کتنے اسرار و رموز پنہاں ہیں۔ پیرس کے عظیم سلاطین، ان کے تاریخی کارنامے اور مونالیسا، یہ سب اس عجائب گھر میں تصویری شکل میں محفوظ ہیں۔
“گلستان وارسائی” کا محل بھی پیرس کا مشہور اور انتہائی تاریخی اہمیت کا حامل محل ہے۔ یہ محل اپنی خوبصورتی و دلکشی اور جدت و ندرت میں پوری دنیا میں یکتا و منفرد ہے۔ جاوید دانش اس کے بارے میں اپنے مشاہدات اور اپنی معلومات کا اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
“یہ دنیا میں اپنے طرز کا واحد ہے….. اسے Galerie Des Glaces کہتے ہیں۔ اس کی لمبائی 235 فٹ ہے۔ جتنا یہ خوبصورت ہے، اتنا ہی تاریخی اہمیت کے پس منظر کا حامل ہے۔ فرینکو پروشین جنگ کے زمانے میں یہ محل جرمن فوج کا ہیڈ کوارٹر تھا اور 1871ء میں پروشیا Prussia کے بادشاہ کو یہاں جرمنی کا شہنشاہ مقرر کیا گیا تھا۔ سب سے خاص بات یہ ہے کہ 1919ء میں جنگ کے بادل چھٹ گئے تو ایک معاہدے پر شکست خوردہ جرمنی نے دستخط کئے اور اسے Treaty of Varsailles ٹریٹی آف وارسائی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے”۔ (8)

“گلستان وارسائی” کا شیش محل اندر اور باہر دونوں طرف بے انتہا خوبصورت ہے۔ اس شیش محل کے باہر کا پرکشش منظر جاوید دانش کی زبانی ملاحظہ ہو:
“نرگسی تختے، عشق پیچاں میں لپٹے ہوئے مجسمے، سرو صنوبر کے درخت، منہ اٹھائے شاہ بلوط، سبز مخملی گھاس کا قالین، قاعدے سے تراشے ہوئے پودے، کیاریاں اور جھاڑیاں، صاف شفاف جھیل اور نالے۔ ان سے بالاتر دنیا کے حسین ترین رنگ برنگے فوارے جن کی تعداد 1400 ہے، پورے علاقے کو تروتازہ کرتے رہتے ہیں اور ساون کی شوخ کم کم پھواروں کا مزہ دیتے ہیں”۔ (9)

ظاہر ہے جب گلستان وارسائی کے شیش محل کے باہر کا منظر اتنا حسین و جمیل ہے تو یہ اندازہ لگانا قطعی دشوار نہیں کہ اس شیش محل کے اندر کا منظر کتنا خوبصورت ہوگا۔ یہاں جاوید دانش کی منظرنگاری بھی انتہائی دلچسپ اور حیرت انگیز ہے۔ انھوں نے اپنی فنی مہارت سے پورے منظر کو اپنی تحریر میں زندہ کردیا ہے۔
“گلستان وارسائی” کے پیچھے “ٹرائنون” نامی چھوٹا گلابی مرمر کا محل بھی انتہائی حسین و دلکش ہے جس میں بذات خود ایک دنیا آباد ہے۔ ان مشہور تاریخی محلات اور یادگاری مقامات کے علاوہ، نوتری ڈیم کا گرجا، مشہور شاہراہ شانزالیزے، اس وقت دنیا کا سب سے بڑا اوپرا Place D Opera، ثقافتی مندر George Pompidou (جارج پومپیڈو) اور مشہور تھیٹر فولیز برزے وغیرہ کی بھی جاوید دانش نے سیاحت کی۔
جاوید دانش کو پیرس کے موسم خزاں نے بڑا متاثر کیا۔ دراصل وہاں کا موسم خزاں مشرق کے موسم بہار سے زیادہ حسین و رنگارنگ اور جشن کا موسم ہوتا ہے۔ وہاں کے پرفریب موسم خزاں نے جاوید دانش کو خاصا متحیر کیا کہ جب خزاں کا یہ عالم ہے تو پھر بہار کا کیا عالم ہوگا۔ پیرس کی دیگر چیزوں کے ساتھ وہاں کی دا‌نش گاہوں، تعلیمی نظام، وہاں کے لوگوں کی تعلیمی دلچسپی اور قابل فخر اساتذہ کی درس و تدریس میں مشغولیت نے بھی جاوید دانش کو بے حد متاثر کیا ہے۔
جاوید دانش نے پیرس کو جی بھر کر دیکھا اور اپنے گہرے مشاہدات اور عمیق تجربات کی روشنی میں کچھ دلچسپ انکشافات کئے ہیں۔ جاوید دانش کے مطابق فرانسیسی لوگ نازک اندام اور لکھنوی کی طرح ناز و نخرے والے ہوتے ہیں۔ وہ انگلش زبان سے نفرت اور اچھوتوں کا سا برتاؤ کرتے ہیں۔ فرانس میں شراب عام ہے اور چائے خاص موقعوں پر ہی پی جاتی ہے، وہ بھی بغیر دودھ اور چینی والی۔ وہاں ویج کھانے کا عام رجحان ہے۔ فرانس کی ایک خاص بات یہ ہے کہ فرانسیسی لوگ دیر رات تک عیش و مستی کرنے کے باوجود صبح آٹھ ہی بجے چاق و چوبند ہوکر کام پر جاتے ہیں۔ پیرس میں عام بلڈنگ کو ہوٹل کہنے کا لطیفہ بھی بڑا دلچسپ ہے۔ فرانس کے حوالے سے جاوید دانش نے اس بات کا بھی انکشاف کیا ہے کہ یورپ میں سب سے زیادہ مسلمان‌ فرانس میں ہیں اور وہاں عرب خاصی تعداد میں دیکھنے کو ملتے ہیں۔
جاوید دانش کو پیرس کے اپنے اس سفر میں فرنچ کے الفاظ نہ سمجھ پانے کی وجہ سے کچھ دشواریاں اور عجیب و غریب واقعات پیش آئے۔ ان واقعات کو بھی انھوں نے دلچسپ ظریفانہ انداز میں بیان کیا ہے جسے پڑھ کر قاری زیر لب مسکرانے لگتا ہے۔
جاوید دانش فرنچ حسن سےتو بے حد متاثر ہوئے مگر فرانس کے ہوٹلوں اور ریستورانوں میں ان کے کھانے کا تجربہ بہت اچھا نہیں رہا۔ فرانس میں کھانا بہت مہنگا ملتا ہے اور وہ بھی عجیب وغریب ذائقہ والا جو مشرقی لوگوں کو پسند نہیں۔ مشرقی لوگوں نے جو ہوٹل کھول رکھے ہیں، وہ بھی برائے نام مشرقی ہیں اور مایوس ہی کرتے نظر آتے ہیں۔ ایک ایسے ہی مشرقی ہوٹل کے بارے میں جاوید دانش نے اپنا تجربہ بھی بیان کیا ہے۔ ایک مرتبہ وہ “ہوٹل فخر ہندوستاں” یہ سمجھ کر گئے کہ وہاں ہندوستانی طرز کا کھانا ملے گا مگر وہاں کھانا کھانے کے بعد انھیں ایسا تلخ تجربہ ہوا اور وہ اتنے بور ہوئے کہ وہ اپنے تاثرات کو یوں قلمبند کرنے پر مجبور ہوئے:
“میں نے گاڑی میں بیٹھتے ہی اپنی ڈائری میں آئندہ نسل کے لیے ایک وصیت ٹھونکی کہ اگر وہ بھی بھول سے پیرس آجائیں تو کم از کم ریستوران فخر ہندوستان میں داخل ہونے کا دھوکہ نہ کھائیں”۔ (10)

جاوید دانش نے پیرس کے مشاہدہ کے دوران کہیں کہیں اس کا موازنہ اپنے ملک ہندوستان سے بھی کیا ہے اور دونوں کے درمیان جو بین فرق ہے، اسے بھی اجاگر کیا ہے۔ جاوید دانش نے پیرس سے رخصت ہوتے ہوئے اپنے تاثرات کو اس طرح قلمبند کیا ہے:
“فرنچ حسن سے متاثر، فرنچ کھانے سے بیزار، فرنچ رقص سے محظوظ، فرنچ مہمان نوازی کا قائل اور فرنچ زبان سے پریشان”۔‌ (11)

پیرس کے اپنے سفر میں جاوید دا‌نش نے پیرس، اس کی طرز زندگی، رہن سہن، کھان پان، تہذیب و ثقافت، وہاں کے مشہور تاریخی و یادگاری مقامات و محلات، شاہراہوں، پارکوں اور اہم اہم چیزوں کا گہرا مشاہدہ کیا اور ان کی ایسی دلچسپ تصویریں پیش کی ہیں کہ ان تصویروں میں پیرس اپنی جلوہ سامانیوں کے ساتھ نظر آتا ہے۔

پیرس کی سیر و سیاحت کے بعد جاوید دانش فرینکفرٹ تشریف لے جاتے ہیں۔ فرینکفرٹ ایئرپورٹ جاوید دانش کو اس قدر متحیر کرتا ہےکہ وہ اس میں کھو سے جاتے ہیں۔ دراصل یہ ایئر پورٹ جدید ٹیکنالوجی سے لیس اور دنیا کا مصروف ترین ایئر پورٹ ہے۔ اس ایئرپورٹ کی خصوصیات و امتیازات جاوید دانش کی زبانی ملاحظہ ہوں:
“فرینکفرٹ ایئرپورٹ ہر جائز (کبھی کبھی ناجائز) پرواز کی خواہش کا احترام‌ اور استقبال کرتا ہے۔ اسے جٹ سٹی بھی کہتے ہیں۔ یہ دنیا کا مصروف ترین ہوائی اڈہ ہے۔ نیویارک کے J.F.K. کے بعد مسافربردار طیارے تقریبا 4900 پروازیں ہر ہفتہ دنیا کے 190 شہروں کے لئے کرتے ہیں۔ یہاں ایسی سرنگیں بنی ہوئی ہیں کہ مسافر طیارہ سے نکل کر سیدھا زمین دوز ریل تک پہنچ سکتا ہے۔ عمارت کے اندر تقریبا سو دکانیں ہرطرح کی اشیاء ضروریات زندگی فروخت کرتی نظر آتی ہیں۔ درجنوں کیفے اور ریستوران جرمن برگر بیچنے میں مصروف ہیں۔ اس عمارت میں تین سنیما گھر اور ایک ڈسکو جدید رقص گاہ اور ایک دندان ساز کی دکان بھی ہے۔ غرض یہ ہوائی اڈہ بذات خود ایک چھوٹا موٹا سجاسجایا شہر ہے….. فرینکفرٹ ایئرپورٹ دنیا کے چند جدیدترین ہوائی اڈوں میں شمار کیا جاتا ہے جہاں صرف 45 منٹ کی قلیل مدت میں مسافر اپنا پروگرام بدل کر دوسری پرواز پکڑسکتا ہے”۔ (12)

فرینکفرٹ جرمنی کا مشہور تاریخی شہر ہے۔ جرمنی کے بارے میں جاوید دانش نے کافی کچھ مطالعہ کررکھا تھا۔ اب بطور سیاح وہ جرمنی کا مشاہدہ بھی کررہے ہیں۔ ان کی نگاہوں میں جرمنی کا ماضی اور حال دونوں ہے۔ دونوں کا موازنہ کرتے ہوئے انھوں نے اپنے تاثرات کو یوں قلمبند کیا ہے:
“آج یہ ملک ظلمت کو چیر کر روشنی کا مرکز بنا ہوا ہے۔ خوش باش، خوش نہاد لوگوں کا ملک ہے۔ اب جنگ کی گھن گرج کی جگہ بیتھوون کی سریلی دھنیں اور تانیں سنائی دیتی ہیں”۔ (13)

فرینکفرٹ یورپ بلکہ دنیا کا ترقی یافتہ اور تاریخی شہر ہے۔ یہ شہر تجارت کا مرکز بھی ہے اور ادب و ثقافت کا گہوارہ بھی۔ اس شہر کے بارے میں جاوید دانش کے مشاہدات و تجربات یوں ہیں:
“فرینکفرٹ خالص تجارتی شہر ہے لیکن یہاں جدید و قدیم کا امتزاج نمایاں ہے….. یہ شہر نہ صرف دنیا کا سب سے مصروف ترین تجارتی مرکز ہے بلکہ علوم و فنون لطیفہ اور ثقافتی قدروں کا حامل ہے….. اٹھارہویں صدی کے نصف سے ہی یہ شہر تجارت کا مرکز ہے۔ تجارتی معاملہ میں ایک بات قابل غور ہے کہ فرینکفرٹ آج کل دنیا کے مال گزاری اور بینکنگ میں سرفہرست ہے۔ یہاں تقریبا چارسو عالمی بینک اور ساتھ میں ملکی بینک سرگرم عمل ہیں”۔ (14)

فرینکفرٹ سائنس و ٹیکنالوجی میں بہت آگے ہے۔ یہاں کا مواصلاتی نظام بھی بہت ایڈوانس اور جدید سہولیات سے آراستہ ہے۔ اس کے بالمقابل اس وقت ہمارے یہاں کے مواصلاتی نظام کی حالت انتہائی خستہ تھی۔ دیکھئے جاوید دانش نے دونوں کا موازنہ کرتے ہوئے اپنے ملک کے اس وقت کے خستہ حال مواصلاتی نظام کا نقشہ کس دلچسپ طنزیہ و مزاحیہ انداز میں کھینچا ہے:
“ایک ہم اور ہماری حکومت ہے۔ پچھلے دس سالوں سے حالت ناگفتہ بہ ہے۔ ان دس برسوں میں منسٹر حضرات نے یہی کہتے گزارا “آپ کا فون تشفی بخش نہیں تو لائن کٹوادیں” ارے تسلی بخش تو منسٹر بھی نہیں مگر انہیں بھی تو فون کی طرح جھیل رہے ہیں”۔ (15)

فرینکفرٹ کی ایک خاص بات یہ ہے کہ سائنس و ٹیکنالوجی اور تمام تر تجارتی مصروفیت کے باوجود وہاں آرٹ، فنون لطیفہ اور ثقافتی قدروں کی خوب خوب سرپرستی کی جاتی ہے۔ فرینکفرٹ دنیا کے عظیم و مقبول شاعر گوئٹے (Goethe) کا شہر ہے جہاں آج بھی گوئٹے کا مکان پرانے طرز پر محفوظ ہے۔‌ جاوید دانش جب اس مکان کو دیکھنے پہنچے تو اس مکان کی سادگی نے انھیں بے حد متاثر کیا۔ جاوید دا‌نش کو جرمن عوام کی سادہ دلی بھی بہت پسند آئی۔
جاوید دانش نے فرینکفرٹ کی سیاحت اور اس کے مشاہدہ کے دوران پیرس سے اس کا موازنہ بھی کیا ہے۔ پیرس کے لوگ نازک اندام ہوتے ہیں۔ اس کی بہ نسبت جرمن کے لوگ صحت مند، ہٹے کٹے ہوتے ہیں اور ان میں فرنچ کی طرح ناز و نخرہ بھی نہیں ہوتا۔ اس تعلق سے جاوید دا‌ش لکھتے ہیں:
“اہل جرمن کی ایک ادا مجھے بھائی کہ صحت مند اور ہٹے کٹے جرمن نازک اندام لکھنوی انداز کے فرنچ کی طرح ناز و نخرے والے اور فیشن زدہ نہ تھے”۔ (16)

جاوید دانش کے موازنہ فرینکفرٹ اور پیرس سے دونوں شہروں کا فرق بھی واضح ہوتا ہے اور کئی باتوں کا انکشاف ہوتا ہے۔ ایک تو یہ کہ فرانس میں خاص موقعوں پر ہی چائے پی جاتی ہے، اس کے بالمقابل جرمن کی روزمرہ زندگی میں چائے ایک خاص کشش رکھتی ہے اور وہاں بہت سی اقسام کی چائے دستیاب ہے۔ دوسری بات یہ کہ فرنچ کی طرح اہل جرمن کو بھی ا‌نگریزی سے بیر ہے مگر وہ دوسری زبان و ادب کی قدر بھی کرنا جانتے ہیں۔ تیسری بات یہ کہ فرانسیسی لوگ ہندوستانی رقص و موسیقی اور دیگر پروگرام کو بہت زیادہ پسند نہیں کرتے اس کے بالمقابل جرمن عوام ہندوستانی رقص و موسیقی، فلم، کلچرل پروگرام اور چائے کے بڑے دلداہ ہیں۔
فرینکفرٹ میں جاوید دا‌نش کو یہ بھی دیکھنے کو ملا کہ وہاں ہندوستانی، پاکستانی اور بنگلہ دیشی بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں اور وہاں ہندوستانی ثقافتی پروگرام بہت ہوتے ہیں۔ اہل جرمن کے تعلق سے جاوید دانش کا تاثر یہ ہے کہ اہل جرمن بہت محنتی، ایماندار، ثقافت پسند اور مذہبی بھی ہوتے ہیں اور وہاں کی مشینی زندگی میں بھی ایک طرح کا سکون اور قناعت پائی جاتی ہے۔
جاوید دانش جرمنی کی سائنس و ٹیکنالوجی اور تعلیمی نظام سے خاصے متاثر ہیں۔ اس کا موازنہ وہ مشرقی ملکوں کی سائنس و ٹیکنالوجی اور تعلیمی نظام سے کرتے ہیں اور مشرق کی فکری و تعلیمی زبوں حالی کا نقشہ دلچسپ طنزیہ و مزاحیہ انداز میں کھینچتے ہیں۔

جاوید دانش نے فرینکفرٹ کے تعلق سے اپنے جو عمیق مشاہدات و تجربات پیش کئے ہیں، اس سے فرینکفرٹ کی بڑی دلچسپ اور موثر تصویر سامنے آتی ہے جس میں فرینکفرٹ اپنی تمام آن بان کے ساتھ جگمگاتا نظر آتا ہے۔

فرینکفرٹ کے بعد جاوید دانش کے سفر کا اگلا پڑاؤ ڈنمارک کی راجدھانی “کوپن ہیگن” ہے۔ یہ شہر بھی جاوید دانش کے لئے بڑی کشش کا مرکز رہا ہے۔‌ اس کشش سے متاثر ہوکر جب وہ کوپن ہیگن ایئرپورٹ پہنچتے ہیں تو پہلی ہی نظر میں انھیں یہ شہر بہت پسند آتا ہے اور وہ حیرت انگیز تجربات و تاثرات سے دوچار ہوتے ہیں۔ ان کے یہ تاثرات ان ہی کی زبانی سنئے:
“اییرپورٹ پر ہی اندازہ ہوا کہ یہ شہر بہت پرسکون ہے۔ لوگ بہت دھیمی آواز میں بڑی ملائمیت سے باتیں کررہے تھے۔ کسٹم افسران سے لے کر بس ڈرائیور تک خوش لباس اور تازہ دم نظر آیا۔ ہرکسی کے چہرے پر مسکراہٹ۔ مجھے پہلی نظر میں یہ شہر دلگیر پسند آیا۔ کیا کہنے ڈنمارک کی راجدھانی کے۔ (میرے خیال میں یورپ کا یہ واحد شہر ہے جو لاجواب اور تعجب خیز کہلانے کا حق رکھتا ہے)”۔‌ (17)

کوپن ہیگن کے لوگ فرنچ اور جرمن سے قدرے الگ ہیں۔ وہ لوگ فرنچ اور جرمن کی طرح انگلش سے بدکتے نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ کوپن ہیگن کے لوگ مخلص، ہنس مکھ اور سوشل نظر آتے ہیں۔ ان کی بولی میٹھی اور ان کا انداز دوستانہ معلوم ہوتا ہے۔ کوپن ہیگن کے لوگوں کے بارے میں جاوید دانش کے دلچسپ تاثرات ملاحظہ ہوں:
“ان کی بولی میٹھی اور انداز دوستانہ….. یہاں کی عمارتوں سے زیادہ مجھے لوگ باگ اچھے لگے۔ باتونی، مخلص، ہنس مکھ، خود کو لیے دیئے رہنے والے نہیں بلکہ ہر دم دوستی کو تیار…. میں نے یہاں لوگوں کو بہت سوشل پایا۔ پیدل چلتے، سائیکل چلاتے، پارکوں میں شطرنج کھیلتے، کیفے اور بازار میں چہکتے، کلبوں میں ناچتے، بازاروں میں خرید و فروخت کرتے، ہرجگہ ان کے مزاج میں نرمی، زندہ دل اور انسانوں سے محبت کرنے والے”۔ (18)

جاوید دانش بطور سفرنامہ نگار کوپن ہیگن کا مشاہدہ کرنے میں معروضی نقطہ نگاہ اپناتے ہیں۔ اگر ان کی نگاہ کوپن ہیگن کی خوبیوں پر پڑتی ہے تو وہاں کی خامیوں پر بھی ان کی نظر جاکر ٹک جاتی ہے۔ کوپن ہیگن کی ایک بڑی خامی یہ ہے کہ یہ شہر جنسی بے راہ روی کے مرض میں مبتلا ہے جس نے اس تاریخی شہر کو اخلاقی انحطاط و تنزلی کی طرف گامزن کیا ہے۔ جاوید دانش اس شہر کے اس تاریک ترین پہلو کا بھی انکشاف کرنے سے نہیں چوکتے۔ جاوید دانش کا یہی وہ معروضی انداز ہے جس سے ان کے سفرنامہ “آوارگی” میں حقیقت نگاری کا رنگ بھی پیدا ہوتا ہے اور جو اسے وہ اعتبار و وقار عطا کرتا ہے جو ایک اچھے سفرنامہ کا امتیازی وصف ہے۔
جاوید دانش نے کوپن ہیگن کی سیر و سیاحت کے دوران اس کا مشاہدہ کرتے ہوئے وہاں کی تاریخی عمارتوں، عجائب خانوں اور اس شہر کی جلوہ سامانیوں کی تصویرکشی بڑے دلچسپ اور موثر انداز میں کی ہے۔

جاوید دانش کے لئے لندن بھی بہت پرکشش مقام رہا ہے۔ وہاں کے موسم خزاں نے اپنی دلکشی سے انھیں بے حد متاثر کیا۔ ویسے تو پورے یورپ کا موسم خزاں مشرق کے موسم بہار سے زیادہ رنگین اور دلفریب ہوتا ہے۔ لندن کے حسین موسم خزاں نے
جاوید دانش کو اس قدر مسحور کیا کہ ان کی زبان پر بے ساختہ یہ شعر آجاتا ہے۔
ابھی خزاں ہے تو ہے یہ عالم بہار آئی تو کیا کریں گے
گلوں کا دامن رفو کریں گے کہ اپنا دامن سیا کریں گے

جاوید دانش کے مطابق لندن کا موسم اور وہاں کی آب و ہوا بہت خوشگوار ہے۔ وہاں کے رہن سہن اور طرز معاشرت کا بھی اپنا الگ انداز ہے۔ کوپن ہیگن کی طرح وہاں بھی سیکس کی بے راہ روی عام ہے۔ اس کے علاوہ وہاں بہت پہلے جو نسلی فساد ہوا تھا، اس کی دبی چنگاری اب بھی محسوس ہوتی ہے۔ اس تعلق سے جاوید دا‌نش کے تاثرات ملاحظہ ہوں:
“نسلی فساد بہت پہلے ہوا تھا۔ اس کی دبی چنگاری اب بھی محسوس ہوتی ہے۔ وہاں نسل پرست پارٹیاں بھی سرگرم عمل ہیں۔ ان کے گروپ، اسکولوں، کلبوں اور یوتھ آرگنائزیشنوں میں پوری طرح پھیل گئے ہیں اور ان میں نسلی تعصب کا زہریلا پروپگنڈہ کررہے ہیں اور انہیں کالوں اور ایشیائی لوگوں کے خلاف تشدد کے لئے اکسا رہے ہیں۔ ان میں اسکن ہیڈ (Skin Head) کچھ زیادہ ہی سرگرم عمل ہیں جو قتل و غارت گری اور تشدد کی پالیسی اپنائے ہوئے ہیں۔ یہ فاشسٹ اپنے آپ کو ہٹلر کا پیروکار کہتے ہیں”۔ (19)

جاوید دانش کو لندن میں تھیٹر کی بڑی مقبولیت نظر آئی۔‌ دراصل لندن بہت پہلے سے تھیٹر کا مرکز رہا ہے۔ اسی لئے لندن کو Theatre Capital of the World بھی کہا گیا ہے۔ لندن میں تھیٹر پہ بےانتہا خرچ کیا جاتا ہے۔ وہاں شو کو زندہ رکھنے کی غرض سے اس کا خاصا اہتمام کیا جاتا ہے۔ وہاں ڈرامے بہت شائستگی کے ساتھ پیش کئے جاتے ہیں اور ان ڈراموں کے ذریعے آزادانہ خیالات کا اظہار کھل کر کیا جاتا ہے۔‌
جاوید دانش کو لندن میں ہندوستانی، پاکستانی اور بنگلہ دیشی بستیاں، ان بستیوں میں اردو کا بول بالا، ان کا شاندار کاروبار، کثیر تعداد میں ہندوستانی، پاکستانی اور بنگلہ دیشی ہوٹل، دیسی کھانا، مغلیہ پکوان، لندن کے ہندوستانی بازار میں پنجاب کا آٹا، دہرہ دون کا باسمتی چاول، پٹنہ کی سرخ مرچ اور علی گڑھ کا مکھن، یہ تمام چیزیں دیکھنے کو ملیں۔
جاوید دانش نے لندن کے تاریخی مقامات و عمارات، مشہور پارکوں، شاہراہوں اور عجائب خانوں کی بھی سیر و سیاحت کی جن میں ولنگٹن میوزیم، نیشنل گیلری، قلوپطرہ نیڈل، رائل ایکسچینج، سینٹ پال کا گرجا، ویسٹ منسٹراییے، لاکورٹ، ہاؤس آف پارلیمنٹ اور ٹاور آف لندن قابل ذکر ہیں۔
جاوید دانش نے لندن کی سیر سیاحت کے بعد اس کے تعلق سے اپنے گہرے مشاہدات اور دلچسپ تجربات کو اس دلکش انداز میں پیش کیا ہے کہ لندن کی تصویر نگاہوں میں گھوم جاتی ہے۔
لندن کی سیر و سیاحت کے بعد جاوید دانش امریکہ بھی تشریف لے گئے جو ایشیائی ممالک کے لوگوں کی سیر و سیاحت کے لئے ہمیشہ سے باعث کشش رہا ہے۔ یہی کشش انہیں امریکہ کھینچ کر لے گئی۔ امریکہ میں جاوید دانش سب سے پہلے نیویارک گئے جو اپنی منفرد خصوصیات کی بنا پر امریکہ کا مشہور اور حیرت انگیز تاریخی پس منظر کا حامل شہر ہے۔ یہ شہر دنیا میں تجارت کا سب سے بڑا مرکز ہے اور Statue of Liberty کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ اس شہر کا مختصر تعارف پیش کرتے ہوئے اس کی تاریخی حیثیت اور اس کی خصوصیات و امتیازات کو جاوید دانش نے اپنے تاثرات کے ذریعے اس طرح بیان کرتے ہیں:
“نیویارک “آزادی کی دیوی” Statue of Liberty کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے۔….. آج کے شہر نیویارک کی بنیاد سترہویں صدی عیسوی کے آغاز میں ولندیزیوں کے ہاتھوں پڑی اور اس کالونی کو نیو امسٹرڈام کہا جاتا تھا۔‌…. نیویارک شہر ٹکروں میں جزیروں پر آباد ہے اور پانچ بڑے حصوں یا علاقوں میں بٹا ہوا ہے۔ بروکلن، کوئنیز، رچمنڈ، برانکس اور مین ہیٹن Manhattan۔ یہ حصے یا علاقے جزیروں کے خوبصورت حصے ہیں۔‌ ان میں سب سے خوبصورت میں ہیٹن Manhattan‌ ہے جو ایک لانبا اور مکمل جزیرہ ہے مگر پلوں اور ٹیوب ریل کے ذریعہ دیگر علاقوں سے ملا ہوا ہے۔…. امریکی اقتصادیات میں نیویارک کو کلیدی پوزیشن حاصل ہے۔ اس کا شمار مصروف ترین بندرگاہوں میں ہوتا ہے۔ یہ صنعت و حرفت کا ہیڈکوارٹر اور نشریات، مطبوعات، فیشن اور اشتہارسازی، بینکنگ ایکسپورٹ و امپورٹ کا مرکز ہے”۔‌ (20)

امریکی شہروں میں نیویارک اس اعتبار سے بھی اہمیت کا حامل رہا ہے کہ دنیا کا مشہور ورلڈ ٹریڈ سینٹر بھی وہیں تھا۔ تاریخی حیثیت کی حامل یہ عمارت اب نہیں ہے۔ دراصل 11/ ستمبر 2001ء کو انتہاپسند دہشت گردانہ حملوں کی زد میں آکر یہ عمارت زمیں بوس ہوگئی مگر تاریخ کے صفحات پر اس کے نقش آج بھی ثبت ہیں۔ جاوید دانش نے بہت باریکی اور گہرائی سے اس تاریخی عمارت کا مشاہدہ کیا تھا اور اس عمارت نے انھیں بے حد متحیر کیا تھا۔ اپنے مشاہدہ کی روشنی میں جاوید دانش نے اس مشہور عمارت سے متعلق تفصیلات کو اپنے دلچسپ تاثرات کے ذریعے اس طرح بیان کیا ہے:
“اس وقت یہ نیویارک کی سب سے اونچی عمارت ہے اور یہ جڑواں عمارتیں 110 منزلہ اونچی ہیں۔ یہ زمین سے 1350 فٹ اونچی ہے۔ اس کی تعمیر کا کام 1966ء میں شروع ہوا۔ 1976ء میں پایہ تکمیل تک پہنچا۔…. یہ فلک شگاف عمارت ایک عجوبے سے کم نہیں۔ اس بلڈنگ میں 1100/ تجارتی دفاتر، سفارت خانے، ورلڈ ٹریڈ انفارمیشن‌ سروس اور متحدہ امریکہ کی کسٹم اور ایکسپورٹ امپورٹ فرم موجود ہیں۔ ان دفاتر میں کام کرنے والوں کی تعداد روزانہ 50,000 ہے اور تقریبا 80,000 سیاح روزانہ یہاں سیر کو آتے ہیں اور تین‌ڈالر کا ٹکٹ لے کر افق تک تفریح کرتے ہیں۔ یہ جڑواں عمارتیں بغیر کھمبے کے سیدھی کھڑی ہیں اور ان کا پورا احاطہ 905 ملین اسکوائر فٹ زمین اپنے دامن میں سمیٹے ہے۔ اس عمارت میں 43600 کھڑکیاں اور پوری عمارت 1600,000/ اسکوائر فٹ شیشہ استعمال ہوا ہے۔ اس کی زمین دوز پارکنگ میں بیک وقت دوہزار گاڑیاں کھڑی ہوسکتی ہیں۔ سب سے زیادہ حیرت انگیز چیز اس عمارت کی لفٹ سروس ہے۔ اوپر جانے کے لئے 72 لوکل ایلی ویٹر ہیں جو یہاں کے کام کرنے والوں کے لئے‌ ہیں۔ چار دیوقامت بوجھ لے جانے والی لفٹ ہیں مگر سیاحوں کے لئے خاص 23 لفٹ جنہیں تیزرفتار ایکسپریس کار کہتے ہیں۔‌ اس کی رفتار 1600/ فٹ ایک منٹ میں طے کرتی ہے یعنی اوپر 110 منزل تک جانے میں ایک منٹ بھی نہیں لگتا”۔ (21)

ورلڈ ٹریڈ سینٹر تو اب نہیں رہا۔ یہ اپنی تمام خصوصیات کے ساتھ تاریخ کا حصہ بن چکا ہے مگر اس مشہور و تاریخی عمارت کے لئے نیویارک کو ہمیشہ یاد کیا جاتا رہے گا۔ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے علاوہ نیویارک میں امپائر اسٹیٹ بلڈنگ، U.N.O.‌ ریڈیو سٹی میوزک ہال اور دیگر مشہور مقامات و عمارات کا بھی جاوید دانش نے مشاہدہ کیا۔
نیویارک میں مہاجرین کی بڑی تعداد آباد ہے۔ اسی لئے نیویارک کو مہاجرین کا شہر بھی کہا گیا ہے۔ وہاں ہر رنگ و نسل کے لوگ دیکھنے کو ملتے ہیں۔ بہت پہلے پوری دنیا کے مختلف خطوں سے بڑی تعداد میں لوگوں نے نیویارک ہجرت کی اور وہاں اپنے اپنے علاقے اور ٹاؤن آباد کئے۔‌اس طرح نیویارک کے اندر ایک نئے شہر کا اضافہ ہوا۔ اس ضمن میں جاوید دانش کے تاثرات ملاحظہ ہوں:
“بھانت بھانت کے لوگ اپنی اپنی بولی، رسم و رواج، تہذیب و ثقافت لئے نیویارک کی آبادی بڑھانے لگے۔ ان میں مزدور، کسان، بڑھئی، معمار، موچی، خانساماں، ساتھ ہی ادیب، شاعر اور صحافی، موسیقار، اداکار اور مصور اپنے فن اور قلم کو سنبھالے اس دھرتی کو سنوارنے سجانے لگے، لہذا دنیا کے شہروں میں ایک وسیع المشرب اور صلح کل جگ باسی شہر کا اضافہ ہوا”۔ (22)

نیویارک میں چائنیز، جاپانیز، اطالوی اور سیاہ فام افریقی وغیرہ، سب کا اپنا اپنا بسایا علاقہ ہے لیکن وہاں کی تجارتی و ثقافتی زندگی میں یہودی پوری طرح حاوی ہیں۔ اس حوالے سے جاوید دانش لکھتے ہیں:
“یہودی، نیویارک کی تجارتی اور ثقافتی زندگی میں ریڑھ کی ہڈی کی طرح ہیں۔ خصوصا بینکنگ اور اسٹاک ایکسچینج پر ان کا قبضہ ہے۔ کاروبار اور تجارتی مرکزوں کے علاوہ بھی یہودی بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہیں۔ عمدہ وکیل بھی بیشتر یہودی ہیں۔ فنون لطیفہ میں خصوصا موسیقی میں بھی ان کا خاصا دخل ہے”۔ (23)

جاوید دانش کے مطابق نیویارک میں ہندوستانیوں نے بھی لٹل انڈیا بنا رکھا ہے جہاں خاصی تعداد میں اردو بولنے والے موجود ہیں اور اردو، ہندی کے رنگارنگ پروگرام ہوتے رہتے ہیں۔ نیویارک کے حوالے سے جاوید دانش نے اس بات کا بھی ذکر کیا ہے کہ وہاں علیگ برادری خاصی تعداد میں موجود ہیں۔ اپنے مختلف علیگ ساتھیوں سے مل کر جاوید دانش کو بے انتہا خوشی ہوئی اور ان کے سفر کا مزہ دوبالا ہوگیا۔ وہاں ان کی ملاقات علی گڑھ کے اپنے استاد نادر صاحب سے بھی ہوئی۔ دیکھئے اس ملاقات کی روداد کو جاوید دانش نے کس پرلطف مزاحیہ پیرائے میں بیان کیا ہے:
“نادر صاحب میرے استاد رہ چکے ہیں۔ بہت پہنچے ہوئے اللہ والے ہیں۔ علی گڑھ کے زمانے میں ہم لوگ ان سے بہت بھاگتے تھے کہ حضرت چلہ پر نہ ساتھ لے جائیں اور حسن اتفاق کہ حضرت میرے پیچھے امریکہ تک آگئے۔ اس کو کہتے ہیں شاگرد کی فکر”۔ (24)

جاوید‌ دانش کو نیویارک شہر انتہائی مصروف ترین لگا اور وہاں انھیں بلڈنگیں ہی بلڈنگیں نظر آئیں وہ بھی اونچی اونچی۔ ان کے مطابق نیویارک فلک بوس عمارتوں کا جنگل ہے جو حیران کن منظر پیش کرتا ہے۔ نیویارک میں جاوید دانش کو ایک دلچسپ بات یہ دیکھنے کو ملی کہ وہاں کے لوگ تمام مشینی بھاگ دوڑ کے باوجود، اپنی صحت کا بھرپور خیال رکھتے ہیں۔ نیویارک جاوید دانش کو یورپ اور امریکہ کے دوسرے شہروں کے مقابلہ میں سستا لگا۔ وہاں انھیں فلک بوس عمارتوں کی طرح فٹ پاتھ پر بھی زندگی رواں دواں اور بڑے اسٹوروں کی طرح فٹ پاتھ پر بھی سامان سجا سجایا نظر آیا۔ اپنی گھنی آبادی اور غلاظت و گندگی کی وجہ سے نیویارک جاوید دانش کو بہت پسند نہیں آیا لیکن انھیں متاثر ضرور کیا۔ نیویارک کی سیر و سیاحت کے بعد جاوید دانش نے اس کے تعلق سے اپنے گہرے مشاہدات و تجربات بڑے دلکش پیرائے میں بیان کئے ہیں اور اس کی بڑی دلچسپ تصویر پیش کی ہے۔
جاوید دانش نے امریکہ میں “فورٹی سیکنڈ اسٹریٹ” کابھی مشاہدہ کیا اور اپنی ایک نظم میں اس مشہور جگہ کی منفرد خصوصیات اور اس کے ماحول و مناظر کا نقشہ کھینچا ہے۔
جاوید دانش امریکہ کے اپنے اس سفر میں واشنگٹن بھی گئے جہاں انھوں نے واشنگٹن یونیورسٹی اور وہائٹ ہاؤس کی سیر و سیاحت کی۔ وہائٹ ہاؤس کے اندر کی پراسرار خاموشی اور باہر کے رنگ برنگی احتجاج نے انھیں بڑا حیران کیا۔ وہائٹ ہاؤس کے متعلق انھیں وہاں عجیب و غریب باتیں سننے کو ملیں‌۔ ایک انتہائی چونکانے والی بات یہ تھی:
“خود وہاں کے ایک بوڑھے مالی نے بتایا کہ وہائٹ ہاؤس آسیب زدہ ہے۔ اس نے خود آنجہانی سربراہوں کی روحوں کو یہاں ٹہلتے دیکھا ہے۔ وہائٹ ہاؤس کی تعمیر 1792ء میں شروع ہوئی اور 1800ء میں صدر حضرات نے یہاں رہنا شروع کیا۔ 190/ سال کے عرصہ میں جو بھی میزبان اور مہمان یہاں رہے، ان کی روحیں آج بھی یہاں حاضری دیتی ہیں”۔ (25)

جاوید دانش کو نیویارک شہر تو بہت زیادہ پسند نہیں آیا لیکن اس کی بہ نسبت واشنگٹن شہر اپنی دلچسپ خصوصیات کی بنا پر انھیں بہت بھایا۔ اس شہر کے بارے میں ان کے تاثرات ملاحظہ ہوں:
“واشنگٹن کی بردباری اور پروقار امیج نے مجھے بہت متاثر کیا۔ لوگ سنجیدہ اور متین، چیری بلاسمز کی طرح دھیرے دھیرے مسکراتی دوشیزائیں، کوپن ہیگن کی طرح دھیمے لہجے میں بات کرنے والے لوگ، نیویارک کی طرح چیخنے اور بھاگ دوڑ والے نہیں، نہ ہی نیویارک کی طرح شوخ رنگ اور بھڑکیلے لباس زیب تن کرنے والے۔ ان کے لباس سے ان کی ذہانت اور مزاج کا اندازہ ہوتا ہے”۔ (26)

جاوید دانش کے مطابق واشنگٹن ایک امن پسند، کشادہ اور روایتی شہر ہے۔ اسے جاسوسوں کا شہر بھی کہا جاتا ہے۔ وہاں انھیں اردو کے لئے بہت زیادہ جوش و خروش نظر آیا۔ ان کے مطابق وہاں اردو کے مشاعرے، نشستیں اور کلچرل پروگرام بہت شاندار اور دلچسپ ہوتے ہیں۔ علاوہ ازیں ریڈیو اور ٹی وی پر بھی مخصوص اردو پروگرام ہوتے ہیں۔ وہاں ہندوستانی فلمیں بڑے شوق سے دیکھی جاتی ہیں اور وہاں کے لوگ ہندوستانی فلموں، اداکار، اداکاراؤں، گانوں اور موسیقی کی جنون کی حد تک دلداہ ہوتے ہیں۔ واشنگٹن میں جاوید دانش کو یہ بھی دیکھنے کو ملا کہ وہاں ہندوستانی اور پاکستانی لوگوں نے بہت اچھے اچھے ہوٹل اور ریستوران کھول کر رکھے ہیں۔‌ اردو کے تہذیبی و ثقافتی پروگرام کو فروغ دینے میں ان ہوٹلوں اور ریستورانوں کا کردار خاصا اہم ہے جس سے جاوید دانش بہت متاثر ہوئے۔
جاوید دانش نے واشنگٹن کی سیاحت کے دوران دریائے پوٹومیک، واشنگٹن مونومنٹ، آرلنگٹن نیشنل قبرستان، عجائب خانوں، نیشنل چڑیا گھڑوں، جدید طرز کی پرتمکنت شاہانہ عمارتوں اور ایک سے ایک یادگاری چیزوں کو دیکھا۔ انھیں نیشنل میوزیم آف امریکن ہسٹری میں الگزانڈر گراہم بیل کا پہلا ٹیلی فون، تھامس ایڈیس کا پہلا بجلی بلب، پہلا بھاپ کا انجن، مختلف امریکی لوک دستکاری کے نمونے، بادبانی کی مہم بجلی کی تیاری، مشینوں کا استعمال، ایک بڑے ہال میں امریکی جانبازوں کے تمغے اور قد آدم تصویریں، امریکی صدور کی بیگمات کے گاؤن، اور نیشنل ایئر اینڈ اسپیس میوزیم میں ہوائی جہازوں کے تاریخی ماڈل اور تصویریں، یہ تمام چیزیں دیکھنے کو ملیں۔
جاوید دانش واشنگٹن کی سیر و سیاحت سے بہت محظوظ ہوئے۔ انھوں نے اپنے گہرے مشاہدات و تجربات کے ذریعے واشنگٹن کی ایسی حقیقی اور دلچسپ تصویر پیش کی ہے کہ قاری بھی اس سے محظوظ ہوئے بغیر نہیں رہتا۔

جاوید دانش کو امریکہ کے اس سفر میں دین اسلام کے بھی جلوے دیکھنے کو ملے۔ واشنگٹن سے ہیوسٹن ٹکساس کے لئے روانگی کے موقع پر اچانک ان کی ملاقات مجاہد نامی شخص سے ہوئی‌ جو نیا نیا اسلام قبول کیا تھا اور دین اسلام کا سراپا پیکر بنا ہوا تھا۔ اس کے ایمانی جذبہ، خلوص و محبت اور اخوت و بھائی چارگی سے پر جذبات نے انھیں بے انتہا متاثر کیا اور اپنا اسیر بنالیا۔ جاوید دانش کو ہیوسٹن کے اسلامک سنٹر میں بھی روح پرور منظر دیکھنے کو ملا۔ اس سنٹر کے سربراہ نسیم صاحب سے مل کر جاوید دانش کی حیرت کی انتہا نہیں رہی کہ نسیم صاحب جیسے صاحب ایمان لوگوں نے درس حدیث، اسلامی تعلیم اور اپنی جدوجہد کے ذریعے امریکہ میں کس طرح اسلام کی شمع روشن کررکھی ہے۔ نسیم صاحب کے وسیلے سے جاوید دانش کو امریکہ میں مسلمانوں کے بارے میں کئی نئی باتیں معلوم ہوئیں۔ ایک تو یہ کہ امریکہ کے ہر شہر میں مسلمانوں کا قبرستان نہیں ہے، اس لئے وہاں میت کو دفنانے کے لئے ایک شہر سے دوسرے شہر لے جانا پڑتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ وہاں مردے کو گھر کا کوئی فرد یا پھر امام صاحب غسل دیتے ہیں۔ ہمارے یہاں کی طرح غسال پر منحصر نہیں ہونا پڑتا ہے۔ نسیم صاحب کے توسط سے جاوید دانش کو جب یہ معلوم ہوا کہ امریکہ میں مرنا بہت مہنگا ہے تو اس پر انھوں نے اپنے تاثرات کا اظہار اپنے دلچسپ ظریفانہ انداز میں کچھ اس طرح کیا ہے:
“راستے میں نسیم صاحب نے بتایا کہ امریکہ میں مرنا بہت مہنگا ہے۔ ایک آدمی کے کفن دفن پر تقریبا پچیس ہزار روپے خرچ ہوتے ہیں۔ (آج کل تقریبا کم سے کم تین لاکھ روپے) …. مین نے فورا توبہ کی اور دعا مانگی کہ خداوند مجھے سولہ آنا قبرستان عزیز ہے۔ میرا کام وہیں تمام کرنا۔ امریکہ میں آوارگی، یا اللہ ہدایت دے دے تو دین کی فکر تک ٹھیک ہے اس سے آگے اللہ رحم کرے”۔ (27)

جاوید دانش کو اپنے اس سفر میں نسیم صاحب کے توسط سے امریکہ کی عیدقرباں کو بھی دیکھنے کا موقع ملا۔ جب جاوید دانش ہیوسٹن نسیم صاحب کے یہاں پہنچے تو اتفاق سے اسی درمیان عید قرباں کی تاریخ آگئی۔‌ وہ نسیم صاحب کے ساتھ عید قرباں منانے ڈلس گئے۔ وہاں کی عید‌ قرباں ہندوستان سے قدرے مختلف ہے۔ وہاں لوگوں کے پاس الگ الگ قربانی دینے کے لئے وقت نہیں ہوتا۔ اس لئے سارے مسلمان اسلامک سنٹر میں ڈالر اور ایک فارم پر کرکے، اس میں پتہ نوٹ کرکے جمع کردیتے ہیں۔ اسلامک سنٹر والے کھلے میدان میں سارے لوگوں کی طرف سے تمام جانوروں کی قربانی دیتے ہیں۔ پھر لوگ اپنی ضرورت کے حساب سے گوشت گھر لے جاتے ہیں۔ امریکہ کے کچھ شہروں میں جانوروں کا ذبح کرنا قانونا جرم ہے۔ ایسے میں لوگ ان شہروں سے دور ان جگہوں میں جانوروں کی قربانی دیتے ہیں جہاں اجازت ہے۔ امریکہ میں عید قرباں کے موقع پر جانوروں کو ذبح کرنے کا طریقہ بھی ہندوستان سے الگ ہے۔ وہاں پہلے جانوروں کو بیہوش کیا جاتا ہے، پھر اسے ذبح کیا جاتا ہے اور مشینوں کے ذریعہ بہت کم وقت میں کھال الگ کرکے گوشت تیار کرلیا جاتا ہے۔‌ امریکہ میں چوں کہ لوگوں کے پاس گوشت بانٹنے کی فرصت نہیں ہوتی، اس لئے اسلامک سنٹر میں ہی گوشت رکھوا دیئے جاتے ہیں جہاں سے ضرورت مند اپنی ضرورت کے مطابق گوشت لے جاتے ہیں۔ امریکہ کی اس دلچسپ عید قرباں سے جاوید دانش اس قدر متاثر ہوئے کہ وہ لکھتے ہیں:
“امریکہ کی یہ دلچسپ مگر عجیب و غریب عیدقرباں میں شاید ہی کبھی بھول پاؤں”۔‌ (28)

جاوید دانش امریکہ کے مختلف شہروں کی سیاحت کے بعد پھر نیویارک واپس آئے۔ یہ شہر اپنی ہنگامی زندگی اور گندگی وجہ سے بھلے ہی انھیں بہت زیادہ پسند نہیں تھا مگر امریکہ کے اس سفر میں ان کا خاص پڑاؤ یہی شہر تھا۔ دراصل اس شہر میں ان کے بہت سے علیگ ساتھی، دوست اور کلکتے، پاکستان وغیرہ کے مختلف فنکار مقیم تھے۔ ان کی کشش جاوید دانش کو نیویارک کھینچتی رہتی تھی۔ ان سے اور اپنے کچھ ادیب دوستوں افتخار سحرپوری، ظفر زیدی اور مظفر شکوہ وغیرہ سے مل کر انھیں حددرجہ خوشی ہوئی۔ اپنے ان دوستوں کے خلوص، مہمان نوازی، سخاوت و فیاضی، اردو کی آبیاری اور اپنے کلچر کی پرورش کے لئے ان کی خدمات اور دیگر اردو شعراء و ادباء کے ادبی کارناموں سے جاوید دانش بے حد متاثر ہوئے۔ وہاں بھی انھیں ادبی انجمنوں کے درمیان آپسی چپقلش نظر آئی۔ ان کے مطابق اردو کی ادبی انجمنیں امریکہ میں بھی آپسی چپقلش سے آزاد نہیں ہیں لیکن اس سے زبان و ادب کو نقصان نہیں بلکہ فائدہ ہی ہے۔
جاوید دانش کو نیویارک شہر کی کشش کھینچتی تو رہی ہے لیکن وہاں کی گندگی انھیں بار بار کھٹکتی رہی ہے۔ وہاں کی گندگی کا موازنہ انھوں نے کلکتہ شہر سے کیا اور اس معاملہ میں انھیں نیویارک اور کلکتہ میں بہت زیادہ فرق نظر نہیں آیا۔ نیویارک کی ایک اور چیز جاوید دانش کو کھٹکتی رہی ہے اور وہ ہے جنسی بے راہ روی جس سے امریکی قوم کی حالت دن بہ دن قابل رحم ہوتی جارہی ہے۔ اس ضمن میں جاوید دانش کے مشاہدات و تجربات ملاحظہ ہوں:
“جنسی بے راہ روی نے اب ہزاروں مسئلے کھڑے کردیئے ہیں۔ جنسی امراض، غیرقانونی اسقاط حمل، ناجائز بچے، شراب، منشیات، جوا اور سب سے بڑھ کر اعصابی مریضوں کی بھرمار، ہرکوئی اندر سے ٹوٹا ہوا، احساس تحفظ کے لئے ڈرا ڈرا، نفسیاتی ڈاکٹروں کے رحم و کرم پر زندہ ہے”۔ (29)

جاوید دانش اپنے اس سفر میں “لاس اینجلز” کی بھی سیاحت کی۔ “لاس اینجلز” کو روشنیوں اور عشرتوں کا شہر کہا جاتا ہے۔ یہ صنعتی شہر ہونے کے باوجود انتہائی صاف ستھرا، پرسکون، کشادہ اور رنگارنگ شہر ہے۔ اس شہر کا مختصر تعارف کراتے ہوئے جاوید دانش لکھتے ہیں:
“کبھی یہ شہر ہسپانوی کالونی تھا مگر 1781ء میں اسے میکسیکو سے خرید لیا گیا۔ 463/ اسکوائر میل پر پھیلے ریگستانی، پہاڑی اور ساحلی علاقے کو قدرت نے بہت زرخیزی عطا کی ہے۔ چمکتے سورج اور معتدل آب و ہوا نے یہاں کے موسم کو بہت خوشگوار کردیا ہے”۔ (30)

“لاس اینجلز” کو امریکی شہروں میں اس اعتبار سے اہمیت حاصل ہے کہ دنیا کا مشہور پارک “ڈزنی لینڈ” وہیں ہے۔ اسے جادو نگری اور تصوراتی بہشت بھی کہا جاتا ہے۔ اس میں انتہائی حیرت انگیز کرشمے دیکھنے کو ملتے ہیں۔ اس جادونگری کی مثال دنیا نہیں ہے۔ اس پرمسرت اور جادوئی جگہ کے بارے میں جاوید دانش اپنے مشاہدات و تاثرات پیش کرتے ہیں رقم طراز ہیں:
“اس تصوراتی بہشت میں 20 ہزار چاق و چوبند کارکن سرگرم عمل ہیں۔ یہاں پریوں کے محلات، گھنے جنگلات جو کئی ہزار رقبے پر اگائے گئے ہیں، اور دوسو ایکڑ زمین پر پھیلی مصنوعی جھیلیں، پہاڑ، بحری جہاز، اصلی سب میرین بیڑہ، اس کے علاوہ مصنوعی ربر اور فائبر کے پرندے، درندے، مچھلیاں، سانپ اور کیا کچھ نہیں ہے۔ اس کے انتظام و اہتمام پر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ …. ڈزنی لینڈ پارک میں سات خاص تفریحی علاقے یا سیکشن بنے ہیں۔ مین اسٹریٹ، ایڈونچرلینڈ، نیو اورلین اسکوائر، بیئر کنٹری، فرنیٹر لینڈ، فنٹاسی لینڈ، ٹومارو لینڈ، انہیں علاقوں میں ڈزنی کی پوری دنیا آباد ہے۔ ساتھ ہی بے شمار ریستوراں، گفٹ شاپ، اسٹوڈیو، سنیما ہاؤس، میوزیم، بازار بینک لاکرز، معذور سیاحوں اور بچوں کے لئے وہیل چیئر رینٹل اور ایک فرسٹ ایڈ کارنر موجود ہے”۔ (31)

“ڈزنی لینڈ” کی خصوصیت یہ ہے کہ وہاں کبھی زندگی کی شام ہوتی ہوئی محسوس نہیں ہوتی، نہ وہاں بوڑھے ہونے کا احساس ہوتا ہے، بلکہ وہاں آدمی اپنے آپ کو ہردم جواں محسوس کرتا ہے۔ وہاں جانے کے بعد آدمی پوری دنیا کو بھول جاتا ہے اور اس میں کھوسا جاتا ہے۔ “ڈزنی لینڈ” کی طرح لاس اینجلز کا ہالی ووڈ بھی کسی جادو نگری سے کم نہیں۔ ہالی ووڈ دنیا کا سب سے بڑا فلمی کارخانہ ہے اور اپنی گوناگوں خصوصیات کی بناپر پوری دنیا میں مشہور ہے۔ اس کے بارے میں جاوید دانش کا تاثر ہے:
“کون ہے جو ہالی ووڈ کے نام سے واقف نہیں ہے۔ یہاں دولت اور شہرت کی چکاچوند، رومان، اسکنڈل، سیاست اور پس پردہ کی آہ اور واہ کی بے شمار داستانیں مشہور ہیں۔ …. 420/ ایکڑ زمین پر پھیلا ہوا یونی ورسل اسٹوڈیوز اپنے اندر ایک شہر بسائے ہوئے ہے اور دنیا کا سب سے بڑا فلمی کارخانہ ہے”۔ (32)

جاوید دانش کو یونیورسل اسٹوڈیوز میں ہالی ووڈ فلموں کی شوٹنگ کے دوران حیرت انگیز کرشمے دیکھنے کو ملے۔ یہاں کمپیوٹر اور مشینوں کی مدد سے تخیلی واقعات کو بھی بالکل حقیقی انداز میں پیش کیا جارہا تھا۔ ان طلسماتی شو کو دیکھ کر جاوید دانش غایت درجہ مسحور و متحیر ہوئے۔
جاوید دانش کو لاس اینجلز میں ایک اور چیز نے بڑا متاثر کیا۔ جب وہ وہاں نیر آپی کے گھر مہمان ہوئے تو ان کے گھر کا مشرقی ماحول دیکھ کر انھیں بڑی حیرت ہوئی کہ کس طرح دیار مغرب میں گھر اور وطن سے دور دیسی لوگ اپنے پکوان اور کلچر کا آموختہ دہراتے رہتے ہیں اور اسے اپنے سینے سے لگائے رہتے ہیں۔ اس کے برعکس اپنے ہی وطن میں لوگ اپنا سبق بھولے بیٹھے ہیں۔ نیر آپی کے گھر جاوید دانش کی ملاقات احمد جعفری اور ظفر عباس سے بھی ہوئی۔
جاوید دانش کو لاس اینجلز میں اردو شعراء و ادباء کی خاصی تعداد نظر آئی اور یہ بھی دیکھنے کو ملا کہ نیویارک کی طرح وہاں بھی مختلف قومیت کے لوگوں نے اپنے اپنے علاقے چن رکھے ہیں اور اپنا اپنا ٹاؤن بسا رکھے ہیں جہاں وہ اپنے کلچر اور ماحول کو زندہ کئے ہوئے ہیں۔

جاوید دانش کو اپنے اس سفر میں یہ بھی تجربہ ہوا کہ امریکہ میں “سن سیٹ بلوارڈ” اور “بیورلی ہل” کے علاقے بہت مہنگے ہیں۔ وہاں انتہائی مالدار لوگ رہتے ہیں۔ وہاں دولت کی اتنی فراوانی ہے کہ لوگ بہانہ ڈھونڈ ڈھونڈ کر خرچ کرتے ہیں اور دنیا کے سب سے مہنگے اسٹور بھی وہیں ہیں۔ “سن سیٹ بلوارڈ” کے بارے میں جاوید دانش اپنے تاثرات یوں قلمبند کرتے ہیں:
“سن سیٹ اسٹرپ کا اپنا مزاج ہے۔ ایل اے (لاس اینجلز) میں عریانیت اور مساج پارلر اور نائٹ کلبوں کی اجازت نہیں مگر سن سیٹ اسٹرپ پر کھلی چھوٹ ہے۔ دنیا کے امراء و شرفاء بڑی معصومیت سے یہاں داد عیش دیتے ہیں۔ ….. سن سیٹ بلوارڈ نہ صرف بہت مہنگا علاقہ ہے بلکہ اپنے سینے میں رومان پرور اسکینڈل کی بہت سی داستان سمیٹے ہوئے ہے”۔ (33)

جاوید دانش کو امریکہ اور یورپی ممالک کے سفر کے دوران وہاں کا کھانا بہت زیادہ پسند نہیں آیا یعنی ان کے کھانے کا تجربہ بہت اچھا نہیں رہا۔ بیشتر جگہوں پر مہنگا اور کہیں کہیں سستا مگر بدمزہ کھانا ملا۔ اس پورے سفر میں انھیں سب سے لذیذ کھانا سن سیٹ بلوارڈ کے دارالمغرب نامی ریستوران میں ملا۔ اس ریستوران اور اس کے عمدہ کھانا نے جاوید دانش کا جی خوش کردیا اور انھیں بے انتہا محظوظ کیا۔ اس کے بارے میں انھوں نے اپنے دلچسپ تاثرات یوں بیان کئے ہیں:
“اب تک کے سفر میں اس سے عمدہ عیاشی یا تفریح میں نے نہیں کی تھی۔ سن سیٹ بلوارڈ کی حشرسامانیوں نے اتنا خوش نہیں کیا تھا جتنا دارالمغرب کے ماحول، کھانے اور رقص نے سرور بخشا تھا۔ اگر آپ ہالی ووڈ جائیں تو لزٹیلر اور صوفیہ لورین کے چکر میں پڑنے کے بجائے دارالمغرب ضرور جائیں۔ سن سیٹ بلوارڈ دولت اور شہرت کا سراب ہے مگر دارالمغرب ایک پرسکون نخلستان ہے”۔ (34)

امریکہ کے مذکورہ مختلف شہروں اور علاقوں کی سیر و سیاحت کے ساتھ ہی جاوید دانش کا یہ سفر اختتام کو پہنچتا ہے اور وہ اپنے ملک لوٹتے ہیں۔ امریکہ اور یورپ سے واپسی پر جاوید دانش اپنے مجموعی تاثرات کو ایجاز و اختصار کے ساتھ یوں پیش کرتے ہیں:
“پیرس باغ و بہار تھا۔ وہاں کی آب و ہوا میں شراب کی سی تاثیر تھی۔ فرانسیسیوں کی انگلش زبان سے بیگانگی اور اس کے بولنے والوں سے سردمہری یاد آئی۔ مگر ساتھ ہی پال اور دیانا کی میزبانی اور محبت تڑپاگئی۔ پٹھان نما جرمن کی ٹیکنیکل ترقی اور جرمن عوام کا ہندوستانی ثقافت سے لگاؤ یاد آیا۔ کوپن ہیگن کی حلیمی اور حشرسامانیاں یاد آئیں۔ لندن کے مضافات، ہمارے شہروں سے بہتر دیہات اور ہماری بہار سے زیادہ دلفریب خزاں نظروں میں گھوم گئی۔ کلکتے کی بستیوں سے گئے گزرے لندن کے محلے یاد آئے اور پنجابی، اردو اور بنگالی کی مقبولیت لندن میں نظر آئی۔ واشنگٹن کی صاف شفاف شاہراہیں اور جدید و قدیم عمارتیں نیز وہائٹ ہاؤس کے اندر کی مقناطیسی خاموشی اور باہر کا رنگ برنگی احتجاج اور “God is dead” کا نعرہ کانوں میں گونجتا محسوس ہوا۔ نیویارک کی فلک بوس عمارتیں اور غلیظ زمین‌ دوز ریل، چرسی سیاہ فام لونڈے اور سرخ رو دوشیزائیں خوش لباس بس ڈرائیور اور پولس والے یاد آئے”۔ (35)

ان تاثرات کے ساتھ ہی جاوید دانش کا یہ سفرنامہ “آوارگی” اختتام کو پہنچتا ہے۔ اس سفرنامہ کے مطالعہ کے بعد یہ کہنے میں کوئی تامل نہیں کہ یہ اردو کا ایک دلچسپ اور کامیاب سفرنامہ ہے۔ اس میں جاوید دانش اپنی فنی مہارت سے خوبیوں اور خامیوں کے ساتھ یورپ اور امریکہ کی تصویر پیش کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ جاوید دانش نے یورپ اور امریکہ کے جن شہروں کی سیر و سیاحت اور ان کا مشاہدہ کیا، وہ تمام شہر اپنی تمام تر جلوہ سامانیوں اور رنگ و آہنگ کےساتھ اس سفرنامہ میں موجود ہیں۔ اس سفرنامہ میں یورپ اور امریکہ کی تہذیب و ثقافت، طرز معاشرت، کھان پان، لباس، وہاں کے مشہور مقامات، محلات، پارکوں، شاہراہوں اور عجائب خانوں کی حسین جھلک بھی ہے اور وہاں کی اہم چیزوں سے متعلق دلچسپ معلومات بھی۔ اس سفرنامہ کی ایک اہم خوبی یہ ہے کہ اس کا مطالعہ کرتے ہوئے قاری یورپ اور امریکہ کا مشاہدہ کرنے لگتا ہے۔ یہ دراصل واقعہ نگاری کا کمال ہے۔ جاوید دانش نے اپنے منفرد انداز بیان اور دلکش اسلوب کے ذریعے ہر ہر واقعہ میں جان پیدا کردی ہے۔ جاوید دانش کے اس سفرنامہ “آوارگی” میں مشاہدہ کی وسعت و گہرائی، حقیقت نگاری، طنز و ظرافت کی دلکشی اور دلچسپ انداز بیان، یہ تمام چیزیں موجود ہیں۔ مختصر یہ کہ جاوید دانش کے اس جہان آوارگی میں اس قدر دلکشی اور رنگینی و رعنائی ہے کہ قاری اس میں داخل ہونے کے بعد اس کا اسیر ہوجاتا ہے۔ جاوید دانش کا یہ سفرنامہ ایک معلوماتی دستاویز بھی ہے اور ادب کا شاہکار نمونہ بھی جو قاری کو نئے جہان کی سیر بھی کراتا ہے اور ادبی لطف و سرور بھی بخشتا ہے۔

حوالے
(1) جاوید دانش، آوارگی، حنفی ٹرسٹ، کلکتہ، 1987ء، ص:335, 336
(2) ایضا، ص:336
(3) ایضا، ص:339تا 344
(4) ایضا، ص:340
(5) ایضا، ص:344
(6) ایضا، ص:346
(7) ایضا، ص:352
(8) ایضا، ص:367
(9) ایضا، ص:368
(10) ایضا، ص:358
(11) ایضا، ص:381
(12) ایضا، ص:385, 386
(13) ایضا، ص:384
(14) ایضا، ص:389تا 392
(15) ایضا، ص:392
(16) ایضا، ص:398
(17) ایضا، ص:401
(18) ایضا، ص:405
(19) ایضا، ص:412, 413
(20) ایضا، ص:423تا425
(21) ایضا، ص:430, 431
(22) ایضا، ص:434
(23) ایضا، ص:437, 438
(24) ایضا، ص:427
(25) ایضا، ص:446
(26) ایضا، ص:447
(27) ایضا، ص:465
(28) ایضا، ص:470
(29) ایضا، ص:480, 481
(30) ایضا، ص:503
(31) ایضا، ص: 486 تا 488
(32) ایضا، ص:494
(33) ایضا، ص:506, 507
(34) ایضا، ص:509
(35) ایضا، ص:512, 513

ڈاکٹر احمد علی جوہر
اسسٹنٹ پروفیسر (گیسٹ فیکلٹی)
شعبہ اردو، جے-این- کالج، نہرا، دربھنگہ، بہار، پن کوڈ: 847233
موبائل: 9968347899
ای میل: ahmad211jnu@gmail.com

Previous article’’ضحاک‘‘ کا ما خذ
Next articleپیروڈی کا فن

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here