جاوید دانش کا ڈاکٹر ظفر کمالی سے ادبی مکالمہ از “بلاغ 18 ڈاٹ کام “

0
468

جاوید دانش کو دنیا ایک ڈراما نویس کے طور پر جانتی ہے لیکن انھوں نے معیاری سفرنامے بھی تحریر کیے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ناقدوں کی طرف سے ان کا سچا اعتراف کیا جاتا رہا ہے۔مہجری ادب ان کا خاص میدان ہے لیکن وہ اسی میں محصور نہیں ہیں۔ان دنوں”Awargi with Danish” کے نام سے ایک ڈیجیٹل پروگرام بھی ان کی شخصیت کا حصہ بن چکا ہے۔
“آوارگی وتھ دانش”اپنی نوعیت کا نہ صرف منفرد بلکہ اہم پروگرام ہے۔خاص طور پر ادب کے طالب علموں کے لیے یہ پلیٹ فارم ایک قیمتی تحفہ کی حیثیت رکھتا ہے۔جاوید دانش کی دانشمندی سے یہاں گھنٹے ڈیڑھ گھنٹے میں ناظرین ذہنی آوارگی کی کئی منزلیں طے کر لیتا ہے۔ فنون لطیفہ کے مختلف میدانوں کے ماہرین کو جس منصوبہ بند طریقے سے یہاں دعوت دی جاتی ہے وہ اپنے آپ میں ایک نئے زاویے کی تلاش ہے۔ادب۔ثقافت ،موسیقی۔تعلیم اور سماج سے مربوط نمایاں کرداروں سے یہ پروگرام مزین ہوتا ہے۔ان کے تجربات،مشاہدات،خیالات اور پیغامات فکر انگیز ہونے کے ساتھ ساتھ ترغیب و تحریک کے بھی غماز ہوتے ہیں۔جاوید دانش کے سوالات میں ایک انفرادیت نظر آتی ہے۔ وہ اپنے ابتدائیے میں آنے والے مہمان کا تعارف کراتے ہوئے دلچسپی کو برقرار رکھتے ہیں۔ اس پروگرام کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ شروع سے آخر تک بشاشت کی فضا قائم رہتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ناظرین اکتاہٹ محسوس نہیں کرتے۔دنیا بھر کے لوگ اس پروگرام سے جڑ کر نہ صرف مصروف بھری زندگی کے بوجھ کو ہلکا کرتے ہیں بلکہ بہت سے علمی جواہرات بھی اپنے دامن میں بھر لے جاتے ہیں۔۔ آئیے جاوید دانش کے ساتھ ڈاکٹر ظفر کمالی سے روبرو ہوتے ہیں

Previous articleسید محمد اشرف کا افسانہ ”دوسرا کنارہ”:ایک تجزیہ از : امتیاز سرمد
Next articleفراق گورکھ پور ی کے شہر میں نصرت عتیق کا شعری مجموعہ ’’ احساس کی امربیل‘‘ کی رسم رونمائی

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here