مبلغ اسلام مولانا محمد کلیم صدیقی کی گرفتاری کو لے کر مسلم طبقوں کی بڑھی بے چینی!

0
106

دیوبند،22؍ ستمبر(رضوان سلمانی) مشہور مبلغ اسلام مولانا محمد کلیم صدیقی کو اے ٹی ایس کے ذریعہ گرفتا رکئے جانے سے مسلم طبقہ میں سخت افسوس اور مایوسی کا ماحول دیکھارہاہے۔مولانا کلیم صدیقی کو گزشتہ شب یوپی اے ٹی ایس نے ان کے ڈرائیور اور دیگر تین افراد کے ساتھ اس وقت گرفتار کرلیا تھا جب وہ میرٹھ میں واقع ایک مذہبی تقریب کے بعد اپنے آبائی وطن مظفرنگر کے پھلت لوٹ رہے تھے۔یہ خبر عام ہونے کے بعد ملی حلقوں میں رنج و غم کی لہر دوڑ گئی ۔ سوشل میڈیا پر مولانا کلیم صدیقی کی گرفتار کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی ہے۔اس سلسلہ میں لکھنؤ سے جاری پریس ریلیز میں اے ٹی ایس نے مولانا کلیم صدیقی پر زبردستی مذہب تبدیل کرانے اور غیر ملکی فنڈلینے جیسے کئی سنگین الزامات عائد کئے۔ 21ستمبر کی رات کو یو پی اے ٹی ایس نے مولانا کلیم صدیقی کو مزید چار لوگوں کے ساتھ میرٹھ سے اٹھالیاتھا ،جنہیں لکھنؤ لے جایاگیا اور آج دن میں اے ڈی جی لاء اینڈ آڈر پرشانت کمار نے ان کی گرفتار ی کی تصدیق کی۔ اے ٹی ایس نے مولانا کلیم صدیقی کو ملک میں زبردستی تبدیلیٔ مذہب کرانے کا سرغنہ بتایا ہے اتنا ہی نہیں بلکہ ان پر غیر قانونی طریقوںس ے غیر ملکی چندہ لینے کا بھی الزام عائد کیاگیاہے ۔

بدھ کے روز مولانا کلیم صدیقی کورٹ میں پیش کرکے یو پی اے ٹی ایس نے ریمانڈ کی مانگ کی جسے عدالت نے سختی خارج کرتے ہوئے انہیں14دنوں کی عدالتی تحویل میں بھیج دیاگیا ہے۔ایڈووکیٹ ابو بکر سباق کے مطابق عدالت نے یو پی اے ٹی ایس کے رویہ اور طریق کار پر سخت ناراضگی ظاہر کی ،یہی نہیں عدالت نے مولانا کے ریمانڈ سے انکار کردیا اور چودہ دن کی عدالتی حراست میں جیل بھیج دیا۔ وکلا کی ٹیم کے مضبوط دلائل کو عدالت نے غور سے سنا۔ جمعیۃ علماء ہند نے ٹوئٹر پر اعلان کیا ہے کہ مولانا محمود مدنی(صدر جمعیۃ علماء ہند) کے حکم پرجمعیۃ مہاراشٹرا مولانا کلیم صدیقی کی قیادت میں مولانا کلیم صدیقی کا یہ مقدمہ لڑے گی۔مبلغ اسلام مولانا کلیم صدیقی پر دو سنگین الزامات سمیت دیگر کئی الزامات عائد کیے گئے۔ الزامات میںمولانا صدیقی کو ملک میں تبدیلی ٔمذہب معاملہ میں سب سے بڑے سرغنہ کے طورپر پیش کیاہے۔ مولانا پر دوسرا الزام ہے کہ وہ جامعہ امام ولی اللہ ٹرسٹ چلاتے ہیں اس ٹرسٹ سے کئی مدرسوں کو فنڈ دیا جاتا ہے جس کے لیے انہیں بھاری غیر ملکی فنڈنگ حاصل ہوتی ہے۔

اترپردیش اے ڈی جی (لاء اینڈ آرڈر) پرشانت کمار نے کہا کہ تفتیش سے پتہ چلا ہے کہ مولانا کلیم صدیقی کے ٹرسٹ نے بحرین سے 1.5کروڑ روپے بشمول غیر ملکی فنڈنگ میں 3 کروڑ روپے وصول کیے۔ اس معاملے کی تحقیقات کے لیے اے ٹی ایس کی چھ ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔مولاناکی گرفتار ی کی خبر علی الصبح عام ہوتے ہی ملی،سماجی اور علمی حلقوں میں تشویش کی لہردوڑ گئی اور مسلم طبقہ میں بھی سخت افسوس اورمایوسی ما حول دیکھاجارہاہے۔

واضح ہو کہ مولانا کلیم صدیقی میرٹھ کے لساڑی گیٹ ہمایوں نگر کی ماشاء اللہ مسجد کے ایک پروگرام میں شرکت کرکے اپنے گاؤں پھلت مظفر نگر واپس ہو رہے تھے، نماز عشاء کے لیے میرٹھ میں رکے، نماز سے فارغ ہو کر جب پھلت کے لیے روانہ ہوئے تو سیکورٹی ایجنسیوں نے مولانا اور ان کے دیگر رفقاء کو اپنی حراست میں لیکر نا معلوم مقام لے گئی، جس کے بعد متعلقین اور عقیدتمندوں میں غم کی لہر دوڑ اور میرٹھ میں پولیس تھانہ کے سامنے ہنگامہ بھی کیا، صبح ہونے پر مولانا کے حراست میں لئے جانے کی تصدیق کی گئی ہے۔ میرٹھ سے مولانا کا گاؤں پھلت (مظفر نگر) تقریباً پینتالیس منٹ پر واقع ہے، جب چار پانچ گھنٹے گزر گئے تو رشتہ دار اور محبین نے فون سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تو پتہ چلا کہ تمام ساتھیوں کا فون بند ہے، جس سے پریشانی میں مزید اضافہ ہوگیا، پھر لساڈی گیٹ پولیس اسٹیشن پر رشتہ دار و عوام کا جم غفیر امنڈ آیا۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ایجنسی مولانا کے چاروں ساتھیوں کو جلد ہی رہا کردیا جائیگا جبکہ مولانا کو عدالتی تحویل میں 14؍ دنوں کے لئے جیل بھیج دیاگیاہے۔

Previous articleاردو اکادمی کی ایگزیکٹیو کمیٹی کی تشکیل: جانیں کون کس عہدے پر!
Next articleاثبات کا نیا شمارہ (نمبر 32 ) از: خالد جاوید

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here