مایہ ناز مترجم اور مشہور مورخ پروفیسر سلیم قدوائی کے انتقال پر غالب انسٹی ٹیوٹ کا اظہار تعزیت

0
72

نئی دہلی:ممتاز مورخ اور مترجم پروفیسر سلیم قدوائی کا 30 اگست 2021 کو لکھنؤ میں انتقال ہو گیا۔ پروفیسر سلیم قدوائی نے دہلی کے رام جَس کالج میں طویل مدت تک تدریس کے فرائض انجام دیے، بعد میں آزادانہ طور پر انھوں نے خود کو علمی کاموں کے لیے وقف کر دیا تھا۔ غالب انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹری پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سلیم قدوائی سے میرا قریبی تعلق تھا وہ میری اہلیہ کے حقیقی بھائی تھے۔ دنیا اور زندگی کے بارے میں ان کا نقطۂ نظر بہت مختلف تھا

جسے وہ بے باکی سے پیش کرتے تھے۔ عہد وسطیٰ کی تاریخ اور انگریزی زبان پر ان کی غیر معمولی گرفت تھی۔ اردو کی کئی اہم کتابوں مثلاً ملکہ پکھراج کی خود نوشت، رفیق حسین کے افسانوی مجموعے ’آئینہ حیرت‘ اور قرۃالعین حیدر کے ’چاندنی بیگم‘ اور ’سفینۂ غم دل‘ کا انگریزی میں ترجمہ کیا۔ ان کا جانا ذاتی طور پر بھی اور علمی حوالے سے بھی سخت افسوس کا مقام ہے خدا سے دعا ہے کہ ان کے درجات بلند فرمائے غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ادریس احمد نے کہا کہ سلیم قدوائی کا جانا علمی ادبی دنیا کے لیے بڑا خسارہ ہے غالب انسٹی ٹیوٹ کے پروگراموں میں وہ اکثر تشریف لاتے تھے ان کی معلومات کا دائرہ اور انسان دوستی ہر شخص کو متاثر کرتی تھی اردو کی کئی اہم کتابیں ان کی وجہ سے انگریزی دنیا میں متعارف ہوسکیں۔ جن میں بطور خاص رفیق حسین کے افسانے شامل ہیں۔ رفیق حسین اردو کے پہلے افسانہ نگار ہیں جنھوں نے جانوروں پر افسانے لکھے

لیکن ان کی شہرت اردو حلقے میں بھی کم ہے سلیم قدوائی عالمی ادب میں رفیق حسین کے افسانوں کے تعارف کا وسیلہ بنے۔ ان کے انتقال سے تاریخ، تہذیب اور ادب کا بڑا نقصان ہوا ہے خدا سے دعا ہے کہ ان کے درجات بلند فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا کرے۔ میں اپنی جانب سے اور غالب انسٹی ٹیوٹ کے تمام اراکین کی جانب سے سلیم قدوائی کے پسماندگان خصوصاً پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی کی خدمت میں تعزیت پیش کرتا ہوں۔

Previous articleپروفیسر فضل امام ایک تعارف از: “انسان گروپ”مغربی بنگال
Next articleاختلاف اور ہمارا طرز عمل از: کامران غنی صبا

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here