لاریب مذھبی برادری کے لیے یہ ناقابل تلافی خسارہ ہے از: عبدالمالک بلندشہری

0
13

حضرت مولانا عبدالخالق سنبھلی (١٩٥٠-٢٠٢١) دارالعلوم دیوبند کے قابل قدر استاذ حدیث اور نائب مہتمم تھے _وضع قطع، چال ڈھال، کرادر و گفتار میں اکابر دیوبند کا روشن پرتو تھے_ان کے چہرہ پر ہمیشہ مسکراہٹ پھول کی مانند کھلی رہتی تھی -تصوف و طریقت میں مولانا سید عبدالعزیز ظفر جنکپوری قدس سرہ کے خلیفہ مجاز بیعت تھے _احسان و سلوک میں بھی اونچے مقام پر فائز تھے _نماز باجماعت کی پابندی، اوراد و اشغال پر مواظبت، اخلاق حسنہ کی متابعت قابل رشک حد تک تھی _

اللہ پاک ان کی مغفرت فرمائے، درجات بلند فرمائے اور سیئات کوحسنات سے مبدل فرمائے _

ہم وابستگان دارالعلوم دیوبند کے لیے بلاشبہ یہ دور بڑا صبر آزما ہے _علم و عمل کی وہ جامع ہستیاں جن کی وجہ سے خطہ دیوبند میں رونقیں آباد تھیں بہت ہی کم عرصہ میں یکے بعد دیگرے ہم سے رخصت ہوگئیں ، وہ پر بہار اور خوش رو پھول جو اپنی بھینی بھینی خوشبو سے مشام جاں کو معطر کیا کرتے تھے اور جن کی بدولت گلستان دیوبند میں رعنائی و دلکشی تھی وہ سب بھی ایک ایک کرکے نذر خزاں ہوگئے _

ابھی ہم حضرت مولانا مفتی سعید احمد پالنپوری قدس سرہ (١٩٤٠-٢٠٢٠) ،حضرت مولانا حبیب الرحمن اعظمی قدس سرہ(١٩٤٢-٢٠٢٠) اور حضرت مولانا قاری عثمان منصور پوری قدس سرہ (١٩٤٤-٢٠٢١)کے فراق کے صدموں سے سنبھل بھی نہ پائے تھے کہ آج شیخ سنبھلی کی رحلت جانکاہ کی خبر بھی ہم پر بجلی بن کر گری اور سب کو بے کل کرگئی _

خدائے ذو الجلال سے دعاء ہے کہ وہ اسلام کے اس مضبوط قلعہ کی حفاظت فرمائے، اس کے اساتذہ ذیشان کی عمر دراز فرمائے اور اسے تازہ اور متحرک خون عطا فرمائے ___

٣٠ جولائی ٢٠٢١ء

Previous articleایک مذاکرہ کے بہانے (دوسری قسط )از: اشعر نجمی
Next articleدرس و تدریس کی راہوں میں [حصّہ اوّل]از: صفدر امام قادری

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here