قیصر صدیقی کی شاعری میں عرفان ذات از: منصور خوشتر

0
67


افتخار احمد تخلص قیصر صدیقی کی پیدائش 19 مارچ 1937 کو سمستی پور (بہار ) کے ایک گاو¿ں گوھر نوادہ میں ہوئی۔ قیصر صدیقی ایک کہنہ مشق، زود گو اور قادرالکلام شاعر تھے ۔ انہوں نے اس عرصے میں شاعری کی مختلف اصناف بلکہ بعض نہایت ہی مشکل اصناف میں بھی کامیابی کے ساتھ طبع آزمائی کی ہے تاہم وہ بنیادی طور پر غزل ہی کے شاعر مانے جاتے ہیں اور اب تک ان کے شعری کارنامے جو بصورت کتاب منظر عام پر آئے ہیں وہ غزل ہی سے متعلق ہیں۔ آج سے تقریباً 37 سال قبل اولین مجموعہ غزل” صحیفہ ” شائع ہوا تھا۔ دوسرا اور قدرے ضخیم مجموعہ غزل ”دوبتے سورج کا منظر“ ،”اجنبی خواب کا چہرہ“ ، ”بے چراغ آنکھیں“ ،” درد کا چہرہ“ ، ”غزل چہرہ (ہندی )“ نظموں پر مشتمل مجموعہ ”سجدہ گاہ فلق “نعت پر مشتمل ”روشنی کی بات “ زمبیلِ سحر تاب( ترانہ¿ سحر) شائع ہو چکا ہے۔
قیصر صدیقی نثری تحریری معاملے میں کم سخن، مگر شعر گوئی کے معاملات میں زود گو تھے۔ ان کی شخصیت کا تضاد ان کی تحریر اور تقریر دونوں میں نظر آتا ہے۔ اسی طرح وہ باتیں تو لہک لہک کر کرتے تھے ۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ انہیں وہ پذیرائی حاصل نہیں ہوسکی جس کے وہ حق دار تھے۔ ان کی شاعری کا آغاز الہامی طور سے چودہ پندرہ سال کی عمر میں ہوا ۔ اگر ۰۵۹۱ءکو ان کی شاعری کا سن آغاز مان لیا جائے تو ان کی شاعری کی عمر پینسٹھ سال رہی۔ اس دوران انہوں نے اپنے تجربات و مشاہدات کے خزانہ میں کافی اضافہ کیا۔ سفر و سیاحت نے ان کے علوم سے عاری ہونے کی کمی کی بھرپائی کر دی اور بہزاد لکھنوی اور جمیل مظہری کی مصاحبت نے ان کی لسانی کسر پوری کردی۔ ان کے اساتذہ بالخصوص اور ان کے احباب بالعموم شعری لوازمات اور فنی رموز و نکات سے انہیں واقف کرانے میں بڑے معاون ثابت ہوئے۔ قیصر صدیقی نے اپنی پوری زندگی اور زندگی کا ایک ایک لمحہ شاعری کے لئے وقف کردیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے نہ کبھی نوکری کی اور نہ کوئی تجارت اختیار کی بلکہ صرف اور صرف شاعری کو ہی پیشہ بنالیا۔

قیصر صدیقی کے ابتدائی دو شعری مجموعے ”صحیفہ “ اور ”درد کا چہرہ“ کے مرتب پروفیسر منظر اعجاز (صدر شعبہ¿ اردو ، اے ۔این۔ کالج ، پٹنہ ) لکھتے ہیں :
”قیصر صدیقی کے ساتھ سمستی پوری کا لاحقہ بھی استعمال ہوتا رہا ہے جب کہ ان کا نام افتخار احمد ہے۔ وہ 19مارچ 1937ءمیں گوہر نوادہ ، سمستی پور میں پیدا ہوئے۔ والدین کی اولین اولاد اور زمین دارانہ پس منظر کی وجہ سے بچپن کسی حد تک لاابالی پن میں گزرا اور جوانی آئی تو آفت اور قیامت ساتھ لائی، نوبت شہر بدی تک پہنچی ۔ اس دوران وہ اجمیر پہنچے اور خواجہ معین الدین چشتی اجمیری کی درگاہ میں حاضری دی۔ خاک شفا سے پاک ہوئے اور خواجہ کی عنایت و نوازش ہوئی۔ شاعری کا ملکہ ساتھ لائے۔ “

معروف ناقد اور مقالہ نگار انوارالحسن وسطوی قیصر صدیقی صاحب کے حوالے سے لکھتے ہیں:
”مرحوم قیصرصدیقی صرف ایک بڑے شاعر ہی نہیں بلکہ ایک اچھے انسان بھی تھے۔ وہ اپنے ہم عمروں بلکہ خُردوں سے بھی نہایت خنداں پیشانی سے ملتے تھے۔ہرشخص ان سے مل کریک گونا خوشی محسوس کرتا تھا اوران کا گروید ہ ہوجاتا تھا۔مرحوم راقم السطورسے بھی بے حد محبت رکھتے تھے اوربڑی محبت سے ”انواربھائی“کہہ کر مخاطب کرتے ،ٹوٹ کرملتے،گلے لگا لیتے اورنہایت اپنائیت سے پیش آتے۔قیصر صاحب سے میری آخری ملاقات ۸جولائی ۸۱۰۲ءکو پھلواری شریف میں جناب قوس صدیقی کے مکان پر ہوئی تھی۔میرے ہمراہ برادرم سیّد مصباح الدین احمد بھی تھے۔اس ملاقات میں میں نے موصوف سے کہا تھا کہ ”کبھی ناچیز کو بھی میزبانی کا شرف عطاکیجئے تاکہ میں حاجی پورمیں آپ کے اعزاز میںایک شام کا انعقاد کرسکوں۔“موصوف بہت خوش ہوئے اوروعدہ کیا کہ انشاءاللہ ضرور آپ کی خواہش پوری کروںگا۔مجھے بے حد افسوس ہے کہ میں نے اپنی اس خواہش کا اظہار ایسے وقت میں کیا جب قیصرصاحب کی زندگی کی شام ہونے والی تھی،جس کا اندازہ نہ خود انھیں تھا نہ مجھے۔ ۰۳اگست ۸۱۰۲ءکو اچانک ان کی علالت کی خبر بذریعہ اخبارات معلوم ہوئی۔وہ پہلے مظفرپور اور پھر سمستی پورکے نرسنگ ہوم میں زیرعلاج رہے۔پھر جلد ہی اپنے اہلِ خانہ ،اپنے قرابت داروں اوراپنے بے شمار چاہنے والوں اورقدردانوں کو روتا بلکتا چھوڑ کر دارالفنا سے دارالبقاکو کوچ کرگئے۔قیصرصاحب کے انتقال کے بعد ان کے برادرِ خُرد جناب آشکار احمد نے یہ انکشاف کیا ہے کہ بھیّا محترم قصص الانبیاءکا منظوم ترجمہ کررہے تھے ۔تقریباً سولہ سو (۰۰۶۱) اشعار مکمل کرچکے تھے،مگرافسوس کہ یہ کام پایہ¿ تکمیل کو نہیں پہنچ سکا اوروہ چل بسے۔“

ڈاکٹر مشتاق احمد (رجسٹرار ، ایل ۔ این۔ ایم۔ یو ۔ دربھنگہ) قیصر صدیقی سے متعلق اپنے ایک مضمون میں تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
”عالمی شہرت یافتہ امریکن دانشور وفلاسفرنیپولین ہِل نے لکھاہے کہ” نہ کوئی کل تھا ، نہ کوئی کل ہوگا، جو ہے وہ یہ حال ہے “۔غرض کہ حال اگرانصاف پسند نہیں ہے ،تو پھر ماضی اور مستقبل میں کیا ہوگا یہ طے کرنا مشکل ہے۔ اس نے یہ بھی لکھا ہے کہ ایک مصنف کے ساتھ اگر حال میں یعنی اس کی زندگی میں انصاف نہیں ہوا، تو پھر اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ مستقبل میں اسے عظمت بخش دی جائے۔ بلا شبہ فنکار کی عظمت کا اعتراف اس کی زندگی میں ہی ہونا چاہئے، جیسا کہ یورپ میں اس کی مستحکم روایت ہے؛ لیکن مشرق میں مردہ پرستی کی روایت عام رہی ہے، ہاں حالیہ دنوں میں اس کی طرف قدرے رجحان بڑھا ہے، اگر چہ اس کا ایک نقصان یہ بھی ہورہا ہے کہ بونوں کو قد آوری بخشی جا رہی ہے؛لیکن اس چلن نے بہت سے گمشدہ فنکاروں کو افقِ ادب پر نمایاں بھی کیا ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ ظفر انصاری ظفر نے قیصر صدیقی جیسے ایک فراموش شدہ تخلیقی فنکار کو نہ صرف دنیائے ادب سے متعارف کرانے کی کامیاب کوشش کی ہے؛ بلکہ ان کے فنّی جہات اور فکری امکانات کے دروازے کھول دیے ہیں۔راقم الحروف ذاتی طورپر قیصر صدیقی مرحوم کو چار دہائیو ں سے جانتا ہے، مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ 1981ئ میں مدھوبنی کے ایک مشاعرے میں ان سے پہلی ملاقات ہوئی تھی ، ا ن دنو ں اردو معاشرے میں مشاعرے کو غیر معمولی ادبی اہمیت حاصل تھی ، اچھے شعر پرشعراکو خوب واہ واہی ملتی تھی اور سطحی شاعری کو ہوٹ کیا جاتا تھا، اس مشاعرہ میں مرحوم شہود عالم آفاقی ، وسیم بریلوی، ریحانہ نواب اور دیگر علاقائی شعراکی ایک لمبی قطار تھی؛ لیکن جب قیصر صدیقی اپنا کلام پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے ،تو چہار طرف سے آواز آنے لگی کہ وہ قوالی والی نظم”اپنے ماں باپ کا تو دل نہ د±کھا“ پڑھئے ؛لیکن جناب صدیقی نے معذرت کرلی اور صرف غزل سنانے کو تیار ہوئے اور جب شعر پڑھنے لگے ،توایک عجیب سا سماں بندھ گیا۔ واضح ہو کہ ان دنوں مشاعرے میں تالیاں بجانے کی روایت پروان نہیں چڑھی تھی اور نہ حالیہ مشاعروں کی طرح شعراقلا بازیاں کھاتے تھے،ہر ایک شاعر کی یہ کوشش ہوتی تھی کہ وہ اپنا تازہ کلام پڑھے اور سامعین کو محظوظ کرے،سامعین میں بھی اکثریت سنجیدہ ، باشعور لوگوں کی ہوتی تھی اورلوگ باگ بھی مشاعرے کی روایت کے پاسدار ہوا کرتے تھے۔“

معروف نقاد پروفیسر وہاب اشرفی اپنے مضمون ”کلاسیکی سج دھج کے شاعر :قیصر صدیقی“ میں لکھتے ہیں:
”یوں تو تقریباً بس سال سے میں قیصر صدیقی کے بعض غزلوں کو ادھر ادھر پڑھتا رہا ہوں لیکن ایک بار ایسا ہوا کہ ایک صاحب نے مجھے ان کا مجموعہ کلام ”صحیفہ“ میرے ہاتھ میں تھما دیا۔ میں نے اس پر ایک سرسری نظر بھی نہیں ڈالی لیکن وہ مجموعہ کچھ دنوں میرے سرہانے پڑا رہا۔ ایک دن فرصت کے اوقات میں ، میں نے اسے جہاں تہاں سے دیکھنے کی کوشش کی ۔ جلد ہی مجھے احساس ہوا کہ ایک ذہن شاعر کا کلام میری لاتعلقی کا شکار ہے۔ تب میں نے بالاستیعاب اس کا مطالعہ کرنا چاہا اور ایک دو دن میں یہ کام تمام ہوا۔ مجھے احساس ہوا کہ قیصر صدیقی اردو شاعری کی روایات سے آگاہ ہیں۔ انہیں بلاغت کے نظام سے واقفیت ہے۔ عروض پر ان کی اچھی نگاہ ہے۔ روانی اور برجستگی کے ساتھ ساتھ معنی آفرینی کسے کہتے ہیں، اس گر سے وہ واقف ہیں اور کلام میں کس طرح موسیقی کا پٹ پیدا کیا جاسکتا ہے ، اس رمز سے آگاہ ہیں۔ “

معروف قلمکار اور استاذ ڈاکٹر مولانا بخش اپنے مضمون بعنوان ”زوال کے منظر سے الجھی ہوئی غزلیں“میں لکھتے ہیں کہ سمستی پور، بہار سے تعلق رکھنے والے قیصر صدیقی کے ذہن میں اپنے گاﺅں، وہاں کے پیپل کے درخت ، بندی اور ایک شوخ صنف نازک کا نقش کچھ اس طرح ثبت ہے کہ ان کی غزلیں تو سٹلجیا بن کر ہمارے سامنے آتی ہیں ۔ ان غزلوں میں ایک ایسا راوی نظر آتا ہے جسے شہر نے توڑ کر رکھ دیا ہے۔ وہ پیٹ کی خاطر ایک عام انسان (فن کار) کی اونچائی سے اتر کر فن کو پیٹ پالنے کا ذریعہ بنا لیتا ہے۔ یہ دیکھ کیسا ہوتاہے کسی اور سے نہیں قیصر صدیقی سے پوچھئے ۔ تاہم انہیں ہر لمحہ یاد رہتا ہے کہ وہ غزل لکھ رہے ہیں اور غزل اردو شاعری کی ایسی ظالم صنف سخن ہے کہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ اس میں انفرادیت کا رنگ حاصل کرنا گل بکاولی کی تلاش میں کسی شہزادے کا گھر سے نکلنا ہے۔ انہوں نے بہت سے اشعار غزل کی Metamorphosisکے حوالے سے کہے ہیں۔
قیصر صدیقی غزل کے نقیب تھے۔ ان کا لہو بھی سرخی شام و سحر میں شامل تھا۔ ایک بات اور لازمی طور پر کہنا ضروری ہے کہ جن شعرا کا رنگ منفرد ہے وہ اپنے طرز اظہار ہی کی وجہ سے ہیں پہچانے جاتے بلہ طرز احساس کی وجہ سے بھی پہچانے جاتے ہیں لیکن اس کا مفہوم یہ نہیں کہ طرز اظہار اہم نہیں کہ یہ بھی احساس جمال اور اندازِ فکر کا ایک پہلو ہے اور منطقی ، علامتی ، تمثیلی یا بیانیہ ہوسکتا ہے۔ قیصر صدیقی نئی شاعری کے مزاج سے بخوبی واقف تھے اور ان کی شاعری بہت حد تک احساس کی شاعری تھی۔ نئے انسان کے حسی تجربوں کا اظہار ہوا کرتا تھا۔ یہ شعر ملاحظہ کریں:
سجے ہوئے ہیں اتنے چہرے ، اک اک چہرے پر
آج کا ہر انسان مجھے بے چہرہ لگتا ہے
روایت کو برقرار رکھتے ہوئے ، نئے عہد کے شعری ذوق کو اشعار میں ڈھال دینا بہت آسان کام نہیں ہوتا مگر حیات نو بھی جنہیں محترم سمجھتی ہے وہ کون سی روایات ہیں۔ کم از کم قیصر صدیقی اس بات کو سمجھتے تھے۔ تمثیل طور پر یہ اشعار ملاحظہ کریں:
ممنونِ چارہ گر نہ ہوا، جذبہ¿ خودی
میں نے خود اپنے درد کو درماں بنا لیا
ہمیں منظور ہے اپنی تمنا کا لہو ہونا
مگر ممکن نہیں، اب عشق کا بے آبرو ہونا
چلو اچھا ہوا ، بیمار کا دکھ دور ہوا
تم نہ آئے تو قضا آئے سحر سے پہلے
ہوگئی ہے مری دنیائے محبت روشن
روشنی اتنی کہاں تھی ترے غم سے پہلے
قیصر صدیقی کی شاعری میں جدید بندش الفاظ مثلاً درد کی خوشبو، زخم کا دریچہ، دھوپ کا لشکر، شہر تمنا، آگ کا دریا، بدن کا شجر، پتھریلی ہوا، بھیگا ہوا لہو ، پیراہن صدا، آواز کا پتھر ، احساس کی نبض وغیرہ سینکڑوں کی تعداد میں نظر آتے ہیں جو شاعری کی جدید ذہنیت کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ان کی شاعری میں جدیدیت کا نشہ ضرور ہے لیکن اس میں اعتدال و توازن، سنجیدگی و متانت اور سنبھلی ہوئی کیفیت پائی جاتی ہے۔ بطور نمونہ ان کی چند خوبصورت غزلیں ملاحظہ کریں:
انا کو اپنے ہی ہاتھوں سے قتل کر جاتا
اگر میں ٹوٹ نہ جاتا بکھر بکھر جاتا
مری تلاش میں نکلی تھی آفتاب کی فوج
جو میں گپھا سے نکلتا تو آج مر جاتا
میں جان کر نظر انداز کر گیا ورنہ
ترا لباس سر انجمن اتر جاتا
کہیں سے کوئی کرن ہی نہ آ سکی ورنہ
یہ تیرگی کا کھنڈر روشنی سے بھر جاتا
زمین ہی مرا رستہ زمین ہی منزل
زمین چھوڑ کے جاتا تو میں کدھر جاتا
وہاں تو خود ہی چٹخنے لگی ہیں دیواریں
اگر وہ آئنہ بنتے تو میں سنور جاتا
کچھ اتنے زور کا آیا تھا زلزلہ کل رات
اگر میں جاگ نہ جاتا تو خواب مر جاتا
کسی کا قرض ہے مجھ پر یہ جانتا ہوں مگر
کوئی گواہ نہ ہوتا تو میں مکر جاتا
٭٭٭
یوں دل دیوانہ کو اکثر سزا دیتا ہوں میں
اپنی بربادی پہ خود ہی مسکرا دیتا ہوں میں
اپنے دل کے خون سے وہ گل کھلا دیتا ہوں میں
ریگزاروں کو گلستاں کی ادا دیتا ہوں میں
ایسی منزل پر مجھے پہنچا دیا ہے عشق نے
میرا جو قاتل ہے اس کو بھی دعا دیتا ہوں میں
کیوں کسی کا نام لے کر عشق کو رسوا کروں
اپنے دل کی آگ کو خود ہی ہوا دیتا ہوں میں
ذکر یوں کرتا ہوں اپنے غم کا اپنے درد کا
ہوش والوں کو بھی دیوانہ بنا دیتا ہوں میں
کیا گزرتی ہے مرے دل پر خدارا کچھ نہ پوچھ
دشمنوں کو جب تلک گھر کا پتا دیتا ہوں میں
اپنی ہی آواز خود لگتی ہے مجھ کو اجنبی
جب اکیلے میں کبھی تجھ کو صدا دیتا ہوں میں
نشتر یاد غم جاناں سے قیصر ان دنوں
زخم جو سوتے ہیں ان کو پھر جگا دیتا ہوں میں
٭٭٭
تم خواب میں آو¿ گے یہ معلوم نہیں تھا
پھر خواب دکھاو¿ گے یہ معلوم نہیں تھا
تم کعبے کو ڈھاو¿ گے یہ معلوم نہیں تھا
دل توڑ کے جاو¿ گے یہ معلوم نہیں تھا
جس خط میں ٹنکے تھے مرے اشکوں کے ستارے
وہ خط بھی جلاو¿ گے یہ معلوم نہیں تھا
کچھ عکس مرے آئینہ خانے سے چرا کر
مجھ کو ہی دکھاو¿ گے یہ معلوم نہیں تھا
قد میرا گھٹاو¿ گے مجھے اس کی خبر تھی
سائے کو بڑھاو¿ گے یہ معلوم نہیں تھا
یہ تو مجھے معلوم تھا تم جاو¿ گے لیکن
اس طرح سے جاو¿ گے یہ معلوم نہیں تھا
اک لمحہ کی آوارہ نگاہی کے سہارے
دل میں اتر آو¿ گے یہ معلوم نہیں تھا
تم ہولی بھی کھیلو گے مرے دل کے لہو سے
دامن بھی بچاو¿ گے یہ معلوم نہیں تھا
حیرت میں ہیں احباب کہ اس عمر میں قیصر
یوں دھوم مچاو¿ گے یہ معلوم نہیں تھا
٭٭٭
رہ حیات کو آساں بنا سکو تو چلو
ہمارا ساتھ اگر تم نبھا سکو تو چلو
نگاہ ناز کا جادو جگا سکو تو چلو
قدم قدم پہ نئے گل کھلا سکو تو چلو
رہ وفا میں غموں کے بہت اندھیرے ہیں
ہر ایک حال میں تم مسکرا سکو تو چلو
مرے خیال کی دنیا ہے مجھ پہ چھائی ہوئی
مرے خیال کی دنیا پہ چھا سکو تو چلو
بڑے خلوص سے چہرے فریب دیتے ہیں
نگاہ بن کے دلوں میں سما سکو تو چلو
سجا کے رات کے ماتھے پہ چاند کا جھومر
مجھے اندھیرے میں رستہ دکھا سکو تو چلو
نئی ہے راہ تو قیصر نئی نگاہ بھی ہو
نئی حیات کے نغمے سنا سکو تو چلو
٭٭٭
قیصر صدیقی نے ہمیشہ بے نیازانہ زندگی بسر کی ۔ یہی بے نیازی انہوں نے اپنے فن کے ساتھ بھی برتی اور علمائے ادبیات و انتقادیات کے آگے بھی کبھی سرنیاز خم نہیں کیا۔ ان کا دوسری مجموعہ غزل ”درد کا چہرہ“ بھی ان کی بے نیازی کی نذر ہوگیا۔ دہلی قیام کے دوران ان کی ملاقات جواں سال شاعر وادیب اورجواہر لعل یونیورسیٹی کے ریسرچ اسکالر ظفر انصاری ظفر سے ہوئی۔ ظفر انصاری ظفری نے قیصر صدیقی کا نہایت ہی ضخیم غزل کا مجموعہ ”ڈوبتے سورج کا منظر“ ترتیب دے کر اپنے مقدمے کے ساتھ شائع کیا۔ اس مجموعے میں ”درد کا چہرہ“ اور ”صحیفہ“کی غزلوں کو شامل کیا گیا۔ اس طرح قیصر صدیقی کی بہت سی غزلیں محفوظ ہوگئیں۔
ظفر انصاری ظفر کی کاوشوں سے قیصر صدیقی کی نظموں کا ایک مجموعہ ”سجدہ گاہ فلک“ کے عنوان سے شائع ہوا۔ ویسے تو قیصر صدیقی بنیادی طور پر غزلوں کے شاعر ہی رہے لیکن انہوں نے بہت سی نظمیں اور آزاد نظمیں بھی لکھیں۔ ان کی آزاد نظموں میں بھی پابند نظموں جیسی روانی پائی جاتی ہے۔ آزاد اور نثری نظموں کے اس دور میں پابند نظموں کا یہ مجموعہ کلاسیکی اور جدید آہنگ و اسلوب کے امتزاج سے مزین و مرتب ہیں اور شوق شاعری اور ذوق مطالعہ کی آبیاری اور آسودگی میں معاون معلوم ہوتی ہیں۔ یہ نظمیں رومانی، انقلابی اور وطنی شاعری کے تناظر میں مطالعے کا خصوصی جواز رکھتی ہیں۔ قیصر صدیقی کی ایک آزاد نظم ”نیا سورج“ ملاحظہ کریں:
صبح کی پو پھٹی
رات رخصت ہوئی
ایک سورج اگا
لیکن اے دوستو
یہ حسین صبح تو
شب گزیدہ سی ہے
اس کی کرنوںمیں کوئی نیاپن نہیں
اور ہو بھی تو کیوں؟
روشنی کے حجابوں میں لپٹی ہوئی تیرگی
اور کتنے دنوں دے سکے کا فریب
اورکتنے دنوں خواب دیکھیں گے ہم
خواب کو کوئی تعبیر کیسے کہے
ظلم کب تک سہے
اپنے ہی گھر میں کب تک کوئی بے سہارا رہے
یہ جو سورج ہے
یہ اپنا سورج نہیں
ہم کو وعدوں کا سورج نہیں چاہئے
ہم کو خوابوں کی کرنیں نہیں چاہئیں
چاند سورج جو ہیں بند گودام میں
کیوں مقفل ہیں ، وہ کس لئے بند ہیں؟
کاش ان کو بھی آزاد کردے کوئی!
قیصر صاحب کی زندگی عام آدمیوں کے ساتھ گزری ہے۔ سادہ اور ہر قسم کے چھل کپٹ سے دور آدمی کا جو چہرہ انہوں نے دیکھا تھا اس کے جو مسائل انہوں نے دیکھے وہ صرف دیکھی ہوئی چیزیں نہیں تھیں بلکہ انہیں کود بھی جھیلتے رہے۔ لہٰذا ان کا دل ایسے کربناک مناظر کو دیکھ کر لرز اٹھتا تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے کلام میں ایک کسک ہے اور ایک ایسا احساس بھی پایا جاتا ہے جس کا اندازہ وہی کر سکتا ہے جو عام آدمیوں کے مصائب و مسائل سن کر ترپ اٹھتے ہیں۔ چند اشعار ملاحظہ کریں:
ان پاﺅں کے چھالوں سے پوچھو، یہ بتائیں گے
طے کیسے کیا ہم نے شعلوں کا سفر تنہا
کیا جانئے کیوںمجھ پر یہ خاص عنایت ہے
کیا جانئے جلتا ہے کیوں میرا ہی گھر تنہا
اک شور قیامت ہے اور بھیڑ ہے چہروں کی
اس دور میں رہتا ہے ہر شخص مگر تنہا
تنہائی کا غم تم کو اس وقت مزا دے گا
میری ہی طرح تو بھی ہوجاﺅ اگر تنہا
قیصر سمستی پوری اوریجنل شاعر تھے۔ انہوں نے جو کچھ دیکھا اورجو کچھ جھیلا اسے ہی غزل کے پیرائے میں ڈھال دیا۔ ان کی غزلوں میں بچپن، جوانی اور جوانی سے آگے کے تجربات بھی منعکس ہوئے ہیں۔ ان میں خوشیوں اور غموں کی دنیا آباد ہے۔ اپنے اور اپنے ہمسایے سے لے کر انسانوں کی بیکراں دنیا کے بے پناہ معاملات و مسائل پر انہوں نےا شعار کہے ہیں ۔ ان کے تجربات خالص ان کے اپنے تجربات ہیں۔ یہ خوشگوار اور ناخوشگوار دونوں ہیں۔ وہ وصال یار کے خیالات سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور کبھی یہ خیال انہیں خوفزدہ بھی کردیتا ہے۔ چند اشعار دیکھیں:
میں نے راستہ دیکھا آپ کا زمانے تک
آپ ہی نہیں آئے میری جان جانے تک
آپ ہی نہیں تو پھر روٹھنے سے کیا حاصل
لطف روٹھنے کا ہے آپ کے منانے تک
قیصر کے کلام میں موضوعات کی کثرت اور گونا گونی کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ انہوں نے حیات انسانی کے تقریباً ہر پہلو کو موضوع سخن بنایا ہے۔ انسانی اقدار کی شکست و ریخت کے پس منظر میں وہ کہتے ہیں:
نفرت کی دیوار گرادے یا اللہ
انساں کو انسان بنا دے یا اللہ
کردے ایک اشارہ اپنی رحمت کا
دنیا سے دکھ درد مٹادے یا اللہ
یہاں ایک بات عرض کردینا مناسب سمجھتا ہوں کہ ان کے ساتھ راقم الحروف (منصور خوشتر) بہار اردو اکیڈمی اور سمستی پور احمد اشفاق (قطر) کی رہائش گاہ پر ہونے والے مشاعرے میں قیصر صدیقی صاحب کے ساتھ شامل رہا۔ میرے اشعار سننے کے بعد انہوں نے داد و تحسین سے نوازا ساتھ ہی بہت ساری دعائیں دیں۔
مختصر طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ قیصر صدیقی کی شاعری میں آج کے سماجی و سیاسی حالات و مسائل کی صورت گری نمایاں طور سے دکھائی دیتی ہے اور ان کی شاعری میں ہمہ گیریت کا حسن پیدا ہوجاتا ہے۔

Previous articleڈاکٹر سروپلی رادھا کرشنن اور یوم اساتذہ ​از: داؤد احمد
Next articleیوم اساتذہ : تحفے کا اصلی حقدار از: دانش حماد جاذب، اسسٹنٹ پروفیسر، ٹاٹا کالج چائباسہ

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here