قمر صدیقی کے شعری مجموعے’’شب آویز ‘‘ کے لیے چند کلمات مضمون نگار: پروفیسر علی احمد فاطمی، الہ آباد

0
160

قمر صدیقی کو میں مدّت سے جانتا ہوں اور یہ بھی جانتا ہوں کہ وہ اچھے شاعر بھی ہیں اور ایک اچھے ر سالہ کے مدیر بھی ۔ لیکن ان کی شاعری کا باالستیعاب مطالعہ ممکن نہیں ہو سکا تھا ۔ اب جبکہ ان کا شعری مجموعہ ’’ شب آویز ‘‘منظرِ عام پر آچکا ہے جو پہلی نظر میں اپنے عنوان اور گٹ اپ و طباعت سے متاثر کرتا ہے ۔ اور سب سے اچھی بات یہ ہے کہ اس میں کسی بزرگ ادیب ، دوست کی تعریفی تحریریں نہیں ہیں جو ان دنوں بیساکھی کے طور پر کثرت سے استعمال کی جاتی ہیں ۔ تخلیق کار کو جب اپنے آپ پر اور اپنے قارئین پر اعتماد نہیں رہتا تو وہ ایسے ہی کمزور ہتھیاروں کو استعمال کر تا ہے ۔ یوں بھی یہ پبلیسٹی کا زمانہ ہے ۔ شاعر کے ساتھ شاعری بھی اشتہار کا حصّہ بن کر رہ گئی ہے ۔ ایسے میں جب کوئی ایسی کتاب ہاتھ لگ جائے جو بازار سے زیادہ آزار ۔ لذّت ِ آزار اورلذّتِ تنہائی پر یقین رکھتی ہو تو صاف لگتا ہے کہ شاعر آزاد بھی ہے اور بیزار بھی اور اس کی یہ بیزاری شعر و ادب کے کا روبار سے بھی ہے ۔ عر ض ِ شاعر کے طور پر قمر صدیقی نے جو کلمات رقم کیے ہیںان میں بھی تشّکر کا اظہار زیادہ ہے، تفکر کا کم ۔ تاہم یہ چند جملے ملاحظہ کیجیے ۔

’’ آج ہم تغیر و تبدل کے سیلاب میں بہے جا رہے ہیں ۔ جنس اور عشق ، حیات اورموت ، انسان اور کائنات ، فرد اور سماج کے بدلتے رشتوں کے درمیان انسان روحانی زندگی سے عاری جدید سماج کا ایسا مہاجر بن گیا ہے جس کی جڑیں نہیں ہیں ۔ اب ہم بھیڑ یا ہجوم سے الگ نہیں رہ سکتے لہٰذا تنہائی کی لذت اور تنہائی کی دہشت میں جی رہے ہیں ۔ ادب خصوصاً شاعری دراصل تنہائی کی لذت اور تنہائی کی دہشت کے درمیان توازن قائم کرتی ہے ۔ میں نے بھی اپنی شاعری کے ذریعہ تنہائی کی اسی لذت اور دہشت کے درمیان توازن قائم کرنے کی مقدر بھر کوشش کی ہے ۔‘‘

شاعری کا یہ مقصد برُا تو نہیں ، لیکن اگر صرف یہی مقصد ہے تو یہ بڑا بھی نہیںہے ۔ شعری نظریہ کا تعلق شعوری یا لا شعوری طور پر نظریۂ حیات سے ہوتا ہے ۔ ممبئی میں رہنے والا شاعر بھیڑ یا ہجوم سے تنگ آکر تنہائی کے قیمتی لمحوں کی روحانی کیفیات کو بیش از بیش قیمتی مانتا ہے ۔ یہ بات غیر مناسب بھی نہیں کہ شاعر ی دراصل شعورِکائنات سے ہی جنم لیتی ہے ۔ لیکن اس شعور کی بھی مختلف پرتیں اور جہتیں ہوا کرتی ہیں جو قمر صدیقی کی شاعری میں بھی جھلکتی ہیں بس ذرا قریب سے محسوس کرنے کی ضرورت ہے ۔ پہلے ان چند اشعار کو ملاحظہ کیجیے ۔
عصرحاضر کے سوا بھی کچھ زمانے اور ہیں
کچھ مناظر اور بھی ہیں ، آسمان منظر کے بیچ

آوارہ ہیں اس آنکھ سے اس آنکھ تلک خواب
جیسے کے مسافر کا کوئی گھر نہیں ہوتا

ہے لفظ لفظ میںبجھتے مکالموں کا دھواں
سکوت ِ عشق ہے یا بے قرار سنّاٹا

کبھی تو چھیڑ کوئی ساز ، کوئی نغمہ جاں
کبھی تو اپنے بدن سے اتار سنّاٹا

روح سے لے کر بدن کا فاصلہ ہے بے کراں
زادِ راہ کچھ بھی نہیں اور راستہ دشوار ہے

اشعار اور بھی ہیں ، غزلیں بھی اور ۔ عین ممکن ہے کہ یہ تنہائی کے لمحات میں خلق ہوئی ہوں ۔ قاری کا مسلۂ خلق نہیں بلکہ تخلیق ہے اس کے آثار و آزار ۔ اور اس کی وہ کیفیات جو آج کی زندگی اور بالخصوص بڑے شہر کی دین ہے ۔ اگر شاعر کی نگاہ کچھ اور زمانوں کی طرف اور نغمٔہ جاں کی طرف ہے تو یہ ابد و نشاط کا مقام ہے کہ شاعر مایوس نہیں ہے اگر چہ راستہ دشوار ہے لیکن یہ سمجھتے ہوئے چلنا چاہیے کہ شاعری انھی مایوسیوں اور تاریکیوں میں روشنی بکھیرنے کا نام ہے۔ روشن لمحے اور روشن اُمید ۔ سچ تو یہ ہے کہ شاعری بندھے ٹکے فارمولے کے تحت نہیں ہوتی اس میں شاعر کے موڈ اور ذہنی کیفیت کا بڑا دخل ہوتا ہے اور اگر سماج میں چہار طرف تضاد و تصادم ہو تو شاعر کے استحکام و دوام پر ایک تذبذب اور کشمکش کا غبار تو آئے گا ہی اس لیے ایسے اشعار کو اس سیاق میں دیکھنے کی ضرورت ہے ۔ شاعری کسی لیبارٹی میں نہیں پیدا ہوتی اور یہ بھی کہ شاعر کا ذہن ہمہ وقت مقصدیت و افادیت کو بھی قبول نہیں کر سکتا کبھی کبھی تو سارے علوم و فنون بھی اس بے قرار ذہن کو سکون و اطمینان نہیں دے پاتے ۔یہ ضروری نہیں کہ زندگی کا ہر تجربہ اضطراب سے احساس اور احساس سے ادراک میں تبدیل ہو جائے ۔ یہ لمحے ایک فنکار کی زندگی میں کبھی کبھی ہی آتے ہیں ورنہ اکثر اضطراب ہی اضطراب ہوتا ہے اور بعض شعرا اسی کو آخری حد تسلیم کرتے ہیں لیکن بڑی شاعری حجاباتِ دو جہاں سے پردے اٹھاتی ہے ۔ ایک نئی تحقیق یا احساسِ حقیقت کو جنم دیتی ہے ۔ فراق گورکپوری کا مصرعہ ہے ۔

’’ اے دوست تیری پلکوں کی طرح اُٹھتے ہیں حجاباتِ دو جہاں ‘‘
اس کے لیے صرف پلکوں کی رسائی اور لذتِ تنہائی کافی نہیں بلکہ دو جہاں کی معرفت اور حجابات کے راز ہائے سر بستہ کا گیان و عرفان ضروری ہوا کرتا ہے ۔ صرف کرب کے اظہار کا نام شاعری نہیں ہو اکر تی بلکہ کرب کے نہاں خانوں سے گوہر ِ نایاب تک پہنچنے سے مصرعے موتی کی طرح ڈھلتے ہیں اس کے لیے نظریا تی وابستگی سے زیادہ والہانہ سپردگی کی ضرورت ہوا کر تی ہے۔ قمر کے یہاں ایسے اشعار یا مصرعے ملتے تو ہیں جن میں ایک والہانہ کیفیت کا اظہار ضرور ہوتا ہے لیکن دور ِ حاضر کا کرب اور کرب کے سایے انھیں ہمہ وقت کچھ اس انداز سے گھیرے رہتے ہیں کہ یہ عناصر ہی ان کے غالب رجحان کا پتہ دیتے ہیں ۔
ہر آہٹ سے خوف زدا ہے
دل میں کیسا چور چھپا ہے
آوازیں خاموش کھڑی ہیں
اور سنّاٹا بول رہا ہے

سبزہ ،صحر،پیاس ،سمندر آتے ہیں
خواب میں کیسے کیسے منظر آتے ہیں
اسی غزل کا ایک شعر یہ بھی ہے
کھل اُٹھتا ہے گھر آنگن کا سنّاٹا
شام کو جب اسکول سے بچّے گھر آتے ہیں
تو خواب ‘ حقیقت میں بدلنے لگتا ہے۔ روحانی کیفیت ‘ سماجی حقیقت میں بدلنے لگتی ہے ۔ یہ سچ ہے کہ شاعری کے لیے جتنا مشاہدہ اور تجربہ کی ضرورت ہوتی ہے اتنی ہی تصور و تخیل کی ۔ اطلاعات کو جذبات میں اور جذبات کو تخیل میںبدلنا ہی پڑتا ہے ۔ لیکن اس تخیل میں بھی گرمئی احساس و شعور ضرور ہو ورنہ وہ بے جان لفظوں کا ڈھیر ہو کر رہ جائے گی ۔ قمر صدیقی کی شاعری کی اچھی بات یہی ہے کہ شاعری رومانی ہو یا حقیقی ، تنہائی کی ہو یا اس سے الگ ان کا جذبہ ہر جگہ کام کرتا دکھائی دیتاہے ۔

بچھڑتے جاتے ہیں احباب خواب کی صورت
گزر تا جاتا ہے یادوں کا کارواں آگے

ہم اگر سوئی ہوئی یادیں جگانے لگ جائیں
نیند کو آنکھ میں آنے تک زمانے لگ جائیں

پھر وہی دل میں اداسی کے امڈتے بادل
پھر وہی سلسلٔہ خاک و خذف کھینچتا ہے

جو شخص تصوّر میں ہے آخر وہ کہاں ہے
تجدید ِ تمنا کا ہر اک خواب گراں ہے

ہماری نیند میں کوئی سرابِ خواب بھی نہیں
یہ کیسا ریگزار ہے فریبِ آب بھی نہیں
معاملہ خواب کا ہو یا جذبہ کا ‘ اداسی ہو یا سرابِ خواب ۔ ان سب کا تعلق شاعر کے احساسات سے ہے جو بڑے سلیقہ و تازگی کے ساتھ قمر کی خارجی دنیا اپنا مواد حاصل کرتی ہے اور پھر اسی جذبہ کے ساتھ پیمانہ تخلیق میں ڈھل جاتی ہے ۔

میں اس بحث میں نہیں پڑوں گا کہ یہ شاعری جدید ہے یا مابعد جدید۔ تخلیق پر اس طرح کا کوئی لیبل لگانا مناسب بھی نہیں ہو ا کرتا۔ شاعری خود مختار ہوتی ہے اور خود کفیل بھی اگر وہ فیشن کا شکار نہیں ہے ۔ اور قمر کی شاعری ہر گز فیشن زدگی کا شکار نہیں ہے ۔ وہ دل کی شاعری ہے ۔ جذبہ و تخیل کی شاعری ہے ۔ عہد ِ حاضر کی شاعری ہے ۔ یہ ایک بڑے شہر کی ہنگامیت سے جنم لینے والی روح پرور شاعری ہے جہاں تنہائی اور سکون کی للک ہے ۔ رشتوں کی پیاس ہے اور یادوں کا سیلاب ۔ یہ ہے شاعری کا نیارنگ اور نیا احساس جو تازگی کا رنگ لیے ہوئے ہے ۔ ایک غزل کے چند اشعار دیکھئے ۔
تہذیب کی راہوں میں دشت آئے جبل آئے
پھر ٹھنڈی ہوا آئی صحرا میں کنول آئے
اب خوف نہیں آتا دنیا کے رویے سے
آنکھوں سے شرر برسیں یا ماتھے پہ بل آئے
پھر صبح کے نکلے تھے دنیا کو بدل دیں گے
پھر شام کوخود سورج کے ساتھ بدل آئے
پھر راہِ محبت میں یہ دیکھا قمر ؔ ہم نے
جذبات کی حد آئی احساس کے پل آئے
کیا سجی ہوئی غزل ہے ۔ دشتِ جبل ، صحرا میں کنول اور احساس کے پل نے غزل کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا ۔ اس مجموعہ میں چند نظمیں بھی ہیں اور متوجہ کر تی ہیں لیکن قمر کی غزلیہ شاعری میں جو احساس کے پل ہیںوہ صحرا میں کنول کھلاتے ہیں یہیں سے شاعری ، شاعری کا روپ لیتی ہے ۔ ایک مدت کے بعد شاعری کا ایسا مجموعہ ہاتھ لگا جس میں نمائش ، پیمائش اور تصنع سے بہت دور سب کچھ شاعر کا اپنا ایکدم اوریجنل اور سچا اظہار ہے ۔ وہ شب آویز ہے یا روزِ روشن یہ آنے والا وقت طے کرے گا ۔ فی الحال ایسے عمدہ ، با معنی اور خوبصورت شاعری کے لیے قمر صدیقی کو مبارک باد ۔ یقین ہے کہ یہ سفر جاری رہے گا ، اور ہم جیسے قارئین لطف اندوز ہوتے رہیں گے ۔

Previous articleقواعد تذکیر و تانیث پر شرؔر کے تبصرہ سے مقتبس
Next articleاردو خاکہ “کچھ شگفتگی کچھ سنجیدگی” – ایک مطالعہ (قسط اول) از: ڈاکٹر محمد سراج اللہ تیمی

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here