قمرؔسنبھلی ،کچھ باتیں اور کچھ یادیں از: ڈاکٹر راحت مظاہری،قاسمی،دہلی

0
94

مجھے جس وقت رسالہ رہنمائے تعلیم جدید دہلی کے مینجنگ ایڈیٹرجناب ابونعمان صاحب نے رسالہ کے معاون مدیرکہنہ مشق شاعر جناب قمرسنبھلی صاحبکی وفاکی خبرسنائی تومجھے اس پر کوئی تعجب توبالکل نہیں ہوا۔البتہ قلق اس درجہ رہا کہ جس کی کیفیت سے میں آج چارروز گذررجانے کے بعد بھی خود کو اسی قدر ناتواں، سست، سست اوراعصابی طورپر ڈھیلامحسوس کرتاہوں جتناکہ ان کی وفات کی خبر پر ہواتھا۔ اس لئے اس مضمون کےلکھنےمیں بھی کئی دن دن گذرگئے ورنہ روزنامہ’ خبریں ،دہلی کے ایڈیٹر جناب قاسم سیدصاحب نے تو موصوف کی وفات کی خبرشائع کرنے کے ساتھ ہی کسی مضمون کا مطالبہ کردیاتھا۔

تعجب نہ ہونے کی وجہ ظاہر ہے کہ قمر صاحب اپنی عمر طبعی اور اس کے نتیجہ میں متعدد امراض وعوارض کا شکار ہونے کی وجہ سےنہایت کمزور اورنحیف الجثہ ہوچکے تھے ، حالانکہ ان کے بھتیجے اور داماد جناب مولانا نعمان الدین سنبھلی ، صدرشعبہ الدراسات العلمیہ دارا العلوم ندوۃ العلما لکھنؤ اور قمرصاحب کی بڑی صاحبزادی حفظھما اللہ دونوں ہی موصوف کو اپنی جان سے زیادہ عزیزتر رکھتے ،ان کو اپنا سرمایہ دائمی خیال کرتے تھے ان کے بیان کے مطابق رات گیارہ بجے سے پہلے تکمرحوم کے تمام معمولات اورطبیعت علیٰ حالہٖ تھے مگررات گیارہ بجے عارضۂ قلب کاایسا شید حملہ ہوا کہ ہوا اس سے جانبرنہ ہوسکے۔اناللہ۔۔۔

یادش بخیر:قمرؔصاحب کا وطنی تعلق چونکہ سنبھل کے ایک شریف اورعلمی خاندان سے تھا اس لئے وہ ایک بہت بڑے شاعر اورادیب ہوتے ہوئےعام ادیبوں اورشاعروں کی طبیعتِ ثانیہ کی طرح کسی ٹولہ بازی اورگٹ بندی کاشکارہونے کے بجائے ہمیشہ خلوت پسند رہے، جس کااثرظاہری طورپران کی وفات پر یہ دکھائی دیا کہ دہلی کے ادبی حلقوں میں قمرصاحب کی وفات پر نہ کوئی تعزیتی بیان جاری ہوااورنہ ہی کسی نے ان کی یادمیں کوئی تعزیتی جلسہ یامٹنگ رکھی،گویاکہ ’باداآنچہ باد ۔

مگر میرے خیال میںان کایہی وصف عنداللہ اورعند الرسول ایک بہت بڑاسرمایہ ہوسکتاہے جیساکہ حضرت سیدنا عقبہ بن عامر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے عرض کیا:’’نجات کا ذریعہ کیا ہے؟‘‘ آپ ﷺ نےارشاد فرمایا: ’’اپنی زبان کو قابو میں رکھو اور تم کو تمہارا گھر کافی رہے اور اپنی خطاؤ ں پر روؤ۔‘‘(ترمذی،کتاب الزھد،باب ماجاء فی حفظ اللسان،۴ / ۱۸۲،حدیث:۲۴۱۴۔)
اس حدیث پاک کی تشریح میں علمانے لکھاہے کہ ’’ بلا ضرورت گھر سے باہر نہ جاؤ، لوگوں کے پاس بلاوجہ نہ جاؤ، گھر سے نہ گھبراؤ، اپنے گھر کی خلوت کو غنیمت جانو کہ اس میں صدہا (سینکڑوں)آفتوں سے امان ہے۔ صوفیاکامشہور مقول ہے کہ تین اوصاف میں عافیت ہے’’ (1)سکوت،(2)لزوم بیوت اور (3)قناعت بالقوت اِلٰی اَنْ یَّمُوْت، خاموشی،گھر میں رہنا،ربّ کی عطا پر قناعت،اورموت تک ان سب پر قائم رہنا۔‘‘گویاکہ یہ تینوں اوصاف ا من وامان کی چابیاں ہےہیں۔

یعنی میرے ممدوح گویاکہ مندرجہ ذیل چارمصرعوں کی سراپاتصویر تھے
دل میں ہو یاد تیری گوشۂ تنہائی ہو
پھر تو خلوت میں عجب انجمن آرائی ہو
سارا عالم ہو مگر دیدہ دل دیکھے تمہیں
انجمن گرم ہو اور لذت تنہائی ہو۔
تعلیم وتربیت: قمرصاحب کےوالد محترم حضرت مولاناقاری حافظ حمیدالدین صاحبؒ اپنے وقت کے ہندستان کے جیدعلما اور مشہورقاریوںمیں تھے، چونکہ انھوں نے فن تجوید وقرات کا علم مہبطِ وحی خا نہ کعبہ ، مدرسہ صولتیہ مکۃ المرمہ میں رہ کر حاصل کیاتھاوہاں سے واسپی پراہل محلہ کی سفارش پر شہرکی نئی نسلوںکی آبیاری کے لئے اپنے ہی محلہ میں قرآنی خدمت کے مقصدسے 1385 ہجری ،مطابق1939 میں مدرسہ حمیدیہ تجویدالقرآن کی بنیاد ڈالی، اسی میں اپنے بیٹوں حضرت مولانابرہان الدین سمبھلی ( متوفی:9/جنوری 2020) سابق شیخ التفسیر والفقہ دارا العلوم ندوۃ العلما لکھنؤ اورچھوٹے صاحبزادے سلطان الدین جوآگے چل کر قمرسمبھلی کے نام سے عالمی اردوادب میں اپنی ایک خاص شناخت کے مالک بنے اس کوبھی حفظ قرآن اور فن تجوید سے مشرف فرمایا۔
ظاہرہے کہ مرحوم کی وفات سےاردو زبان وادب کے مایہ ناز ادیب،شاعراوراپنےبےلاگ تبصروں کے لئے معروف ومشہورجناب سلطان الدین قمرسنبھلی صاحب سے دنیائے شعرو ادب میں جوخلاپیداہواہے وہ پُرتوہرگزنہیں ہوسکتا،البتہ صبرہی لازم ہے،۔

قمرصاحب کی پہلی بارزیارت :یادش بخیر شہرسنبھل کے ایک معروف ادارہ مدرسہ مدینۃ العلوم انجمن معاوان الاسلام نخاسہ میں احقر عربی ، فارسی کامدرس تھا،اس وقت میری شعرگوئی ابتدائی مراحل میں تھی، ابھی جلدہی استاذ الشعرا،اورایک بہترین ناظم مشاعرہ کے طورپر معروف شاعر جناب الحاج اعجاز وارثی ؔ سمبھلی کے تلامذہ کے حلقے میں شامل ہواتھاکہ شہر سنبھل کے ایک دوسرے استاذ الشعرا اور وجدانی کیفیت کے حامل جناب معجزؔ سنبھلی صاحب کے جشن کے مشاعرہ میں اسٹیج پر رونق افروز ، سفید سفاری سوٹ میں ملبوس ، چھوٹی سی سیاہ داڑھی میںایک پختہ نوجوان شاعر کو دیکھا، معلوم ہوا کہ یہ قمر سمبھلی ہیں جوکہ دہلی میں مقیم اورایک عمدہ شاعر ہیں۔
پھرجب میں1990,991 میں دہلی آیاتومیری پہلی کتاب سرِ شام(مجموعہ غزلیات) دہلی اردواکادمی کے تعاون سے شائع ہوئی ، ضرورت پڑی اس کے تعارف اورتبصرے کی، قمرصاحب سے وطنی حوالہ سے بات کی توانھوں نے کتاب لے کر کہا: ٹھیک ہےمگرآپ تبصرہ کہاں شائع کرائیں گے؟
چونکہ اس وقت میں نیا،نیاتھا ،صاف کہدیا: آپ ہی رہنمائی فرمائیں تو انھوںنے تبصرہ لکھ کر خود ہی جناب عزیزبگھروی (مرحوم) مدیر ’پیش رفت، سے شائع کرادیا اور اگلی ملاقات پر ’پیش رفت، کے دفتر بھیج دیا۔اورپھریہ تعلق روز بروزمزیدپختگی کی منزل طے کرتارہا ،موصوف بھی پھرتو کئی بار میری کلینک پر جعفرآباد میں تشریف لائے اورمیں بھی چاندنی چوک ان کی دکان اورمسجد جاتارہا، کئی نشستیں اوراردواکادمی کے مشاعرے بھی ساتھ پڑھے، اور مزیدخوش نصیبی کہ میرے سسرالی رشتہ دار جناب مولاناڈاکٹرتسخیراحمد فہمیؔ مرحوم مدیراعلیٰ ماہنامہ’ رہنمائے تعلیم جدید، دہلی (وسابق پرنسپل راجپوتانہ طبیہ کالج ، جے پور )کے حکم پر ماہنامہ کے مینجنگ ایڈیٹرجناب ابونعمان خان صاحب نے’رسالہ رہنمائے تعلیم جدید دہلی، سے مجھے بھی منسلک کرے ایڈوائزرمدیرکاشرف بخشا ، قمر صاحب جس کے کئی برس سے معاون مدیر چلے آرہے تھے۔
آپ کو شعرگوئی میںمشہور شاعرظاہر حیدرآبادی سے شرف تلمذ حاصل تھا۔
تصنیفات: مطبوعہ تصنیفات میں آواز کالمس ، پھول آنگن کے ، جز میرے خواب کے روشن روش حرف ،ادبی شخصیات میری نظر میں ہیں ، اور غیر مطبوعہ دس تصنیفات ہیں ، انہوں نے اپنے پیچھےتین صاحبزادیاں چھوڑی ہیں ، بڑی صاحبزادی مولانا محمد نعمان الدین ندوی ( مدیر معهد الدراسات العلمیہ ندوۃ العلماء سےمنسوب ہیں ۔
تاریخی شہرسنبھل سے تعلق رکھنے کہنہ مشق شاعر جناب قمرسنبھلی ۱۴ اگست ۲۰۲۱ ۰ بعمر80 سال اللہ کوپیارےہوگئے۔ ، ان کی پیدائش ۱۹۴۲ء میں ہوئی تھی۔ اگلے روز۱5 اگست کودفین عمل میں آئی۔
مرحوم کی نماز جناز ہ دار العلوم ندوۃ العلماء کے مہتم مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندوی نے احاطہ دار العلوم میں پڑھائی ، اور ڈالی گنج قبرستان میں تدفین عملمیں آئی۔مولانا نعمان الدین ند وی اور اہل خانہ سے خصوصی تعزیت کی۔ شر کا ئےجنازہ میں ناظم ندوۃ العلماء حضرت مولاناسید محمد رابع ندوی کے علاوہ اہل تعلق کی ایک کثیر تعدادموجوتھی ۔
اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت کرے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین یارب العالمین۔
تنقید و تبصرے جملہ اصناف شاعری
نظم و نثر رباعی، قصیدہ، وغزلیات
اب جائیں گے قمریہ ترے بعد سب کہاں؟
تاریخ،حمدونعت،وطفلی مراثیات-

Previous articleاردو کی عظیم فکشن نگار قرۃالعین حیدر کی فن و شخصیت از: عباس دھالیوال
Next articleاردو ادب کی ورجینا وولف تھیں قرۃ العین حیدر- امان ذخیروی

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here