قاضی عبدالودود اور غالب تحقیق

0
87

– ڈاکٹر محضر رضا

توجہ اور یک سوئی کے ساتھ پڑھا اور جانچا ہے وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اردو ادب کی پوری روایت پر ان کی نظر تھی۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف موضوعات پر ان کے تقریباً تمام مقالے حرف آخر کا درجہ رکھتے ہیں، لیکن جس ایک موضوع پر انھوں نے سب سے زیادہ لکھا اور آخر وقت تک جس پر اضافہ کرتے رہے وہ غالبیات ہے۔ انھوں نے غالب سے متعلق ایک انسائیکلو پیڈیا مرتب کرنے کا منصوبہ بنایا تھا ۔’جہان غالب‘ اسی منصوبے کی جزوی تکمیل ہے۔ اس کے علاوہ ’غالب بہ حیثیت محقق‘’ کچھ غالب کے بارے میں‘اور ’ماثر غالب‘ غالب تحقیق میں مستند حوالے کا درجہ رکھتی ہیں۔غالب کی سیرت، شاعری،مکتوب نگاری، تاریح نگاری اور لغت نگاری سے جس عالمانہ واقفیت کا ثبوت ان کی تحریروں میں ملتا ہے وہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ انھوں نے غالبیات کو ایک وحدت کے طور پر قبول کیا تھا۔ وہ غالب کو بہ حیثیت شاعر جتنا عظیم مانتے تھے محقق غالب کو اتنا ہی معمولی سمجھتے تھے۔ غالب کے تعلق سے ان کا مضمون ’غالب بہ حیثیت محقق‘ پہلی مرتبہ علی گڑھ میگزین غالب نمبر (1948-49)میں شائع ہوا اور اسی کے بعد اردو ادب میں ان کی شناخت مستحکم ہوئی۔ قاضی عبدالودود کی غالب پربے لاگ تنقید کو ایک طبقے نے نہ پسندکیا جن کے پاس اپنی نا پسندیدگی کے جواز بھی تھے۔ اخلاقیات تحقیق کی رو سے ان جواز کی کیا حیثیت ہے یہ الگ موضوع ہے۔ ناپسند کرنے والوں میں مشہور ماہر غالبیات مالک رام بھی شامل ہیں۔

’’جن اصحاب نے یہ مضمون [غالب کی راست گفتاری] دیکھا ہے، انھیں معلوم ہے کہ اس میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ غالب راست گوئی کے زیادہ پابند نہیں تھے اور ضرورت پڑنے پرانھیں دروغ بافی سے بھی دریغ نہیں تھا۔ مجھے یہ مضمون پسند نہ آیا ۔ خطائے بزرگاں گرفتن خطا است کے مقولے سے قطع نظر میری سمجھ میں نہ آیا کہ آخر اس مضمون کی اشاعت سے علم و ادب کی کون سی خدمت ہوئی، یا غالب کی شاعرانہ عظمت کس طرح کم ہو گئی۔ چنانچہ میں نے جب مختار الدین احمد کے خط کا جواب دیا تو…اس مضمون کی اشاعت پر احتجاج بھی کیا۔ ‘‘(1)

غالب بہ حیثیت محقق اشاعت اول کے جواب میں شوکت سبزواری کا مفصل مضمون ’ہم سخن فہم ہیں غالب کے طرف دار نہیں‘ قسط اول جنوری تا مارچ 1952اور قسط دوم جولائی تا دسمبر1952رسالہ اردو میں شائع ہوا۔ قاضی عبدالودود نے شوکت سبزواری کے صرف ایک اعتراض کو درست تسلیم کیا بقیہ کے بارے میں ان کی رائے تھی کہ یا تو فی نفسہ غلط ہیں یا ان کے خیالات کی غلط ترجمانی کا نتیجہ ہیں۔ قاضی عبدالودود کا یہ مقالہ در اصل قاطع برہان کا عالمانہ تجزیہ ہے ، لیکن اس کے ذیل میں قدیم ایران کی تاریخ و ادب اور دوسرے علوم مثلاً نجوم وغیرہ کی بحثوں نے اس میں مستقل کتاب کی شان پیدا کر دی ہے۔ اس مضمون کو لکھنے کے لیے قاضی عبدالودود نے متعلقہ موضوعات سے واقفیت بہم پہنچائی تھی، کئی برس تک وہ معلومات جمع کرتے رہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ پہلی بار جب یہ مقالہ علی گرھ میگزین غالب نمبر میں شائع ہوا تو اس کی ضخامت محض 39صفحات تھی لیکن سات برس بعد 1956 میں جب یہ مقالہ دوبارہ مختار الدین احمد کی کتاب نقد غالب میں شائع ہوا تو اس کی ضخامت تقریباً سوا دو سو صفحات تک پہنچ چکی تھی۔اس کے باوجود قاضی عبدالودود کا خیال تھا کہ ’’موضوع کا حق جب تک کم از کم تین سو صفحے اس کے لیے وقف نہ کیے جائیں ادا نہیں ہو سکتا۔‘‘(2) قاضی عبد الودود نے کسی موضوع پر کوئی مستقل کتاب نہیں لکھی لیکن ان کایہی ایک مضمون ایک مستقل کتاب کا حجم رکھتا ہے۔ دو جلدوں پر مشتمل ان کی کتاب ’کچھ غالب کے بارے میں‘ غالب سے متعلق ان کے متفرق مضامین کا مجموعہ ہیں۔ غالب کے کلام اور ان کی تصانیف کے بار بار مطالعے نے انھیں غالبیات کے باریک گوشوں کی طرف متوجہ کیا۔کلام غالب کے مطالعے کے بارے میں خود کہتے ہیں:

’’ایک زمانے میں مجھے غالب کا پورا دیوان، اپنے الفاظ مجھے واپس لینا چاہیے، پورا دیوان نہیں لیکن یہ کہ غزلیں، شاید ہی کوئی ایسا شعر ہو جو مجھے یاد نہ ہو۔ اور یہ کثرت مزاولت کی وجہ سے، یہ نہیں کہ میرا حافظہ بہت قوی ہے، کہ ایک مرتبہ پڑھا اور یاد رہ گئی بات۔ یہ نہیں تھی، بلکہ اتنی مرتبہ میں نے دیوان غالب پڑھا تھا کہ تقریباً شاید ہی کوئی شعر ہو جو مجھے یاد نہ ہو۔ (3) (یہ بھی پڑھیں علی سردار جعفری – پروفیسر ناصر عباس نیّر )

کسی متن کو بار بار پڑھنا خود کو آزمائش میں ڈالنا نہیں تو اور کیا ہے، لیکن متن بھی آزمائش کے بغیر خود کو کسی کے حوالے کہاں کرتا ہے۔ قاضی عبدالودود تو ایسی آزمائشوں کے خوگر تھے ۔ آزمائشوں سے گھبرانا در اصل سپر انداز ہونا ہے۔ جس کا کوئی شائبہ نہ قاضی عبدالودود کی ذاتی زندگی میں نظر آتا ہے اور نہ علمی زندگی میں۔ ان کی بے باکی اوڑھی ہوئی نہیں تھی بلکہ ان کی شخصیت کا عنصر لازم تھی جوان کی عادت بھی تھی اور شناخت بھی۔ جس شخص نے ایک ایک لفظ کی تلاش میں کلیات ختم کر دیے ہوں ، ایران قدیم سے غالب کی واقفیت دکھانے کے لیے ایرانی تاریخ اور زرتشتی مذہب کے تمام ضروری لٹریچر کا بہ نظر غائر مطالعہ کیا ہو وہ اگر شخصیت کا رعب اور لہجے کی دھونس قبول نہ کرے تو حیرت کا مقام نہیں۔ قاضی عبدالودود کی تحقیق توازن کی بھی بہترین مثال ہے ۔ انھوں نے صرف غالب کو رد نہیں کیا قبول بھی کیا ہے۔ غالب کی تردید کے جوش میں وہ محمد حسین برہان کی کوتاہیوں کی پردہ پوشی نہیں کرتے ، نہ ہی شخصیت سے جذباتی رشتہ قائم کرتے ہیں، کیوں کہ عقیدت مدح کے ما سوا کچھ پسند نہیں کرتی۔ قاضی عبدالودود نے غالب کی حیات اور تصانیف کا باریکی اور سختی کے ساتھ تجزیہ کیا ہے، ظاہر ہے وہ غالب کے معاصر نہیں تھے لہٰذا غالب کی سیرت کا تجزیہ خود ان کی یا ان سے متعلق دوسروں کی تحریر کی روشنی میں ممکن ہو سکتا تھا۔ انھوں نے اردو سے لے کر فارسی خطوط و تقاریظ اور اشتہارات میں منطقی ربط پیدا کرکے مقدمات قائم کیے اور صحیح نتائج حاصل کیے۔ مثلاً وہ غالب کے بیان میں تضاد دکھانے کے لیے قاطع برہان کی تقریظ سے یہ جملہ پیش کرتے ہیں: ’’اگر منشی نول کشور دکان بے رونق کے خریدار نہ ہوتے تو اس کتاب کا مسودہ ضائع ہو جاتااور منطبع نہ ہوتی‘‘اس کے بعد سیاح کے نام خط سے یہ جملہ نقل کرتے ہیں: ’’میرے پاس روپیہ کہاںجو …دوبارہ چھپواؤں؟ پہلے بھی نواب مغفور (یوسف علی خاں والی رام پور) نے 200رپے بھیج دیے تھے تب پہلا مسودہ صاف ہو کر چھپوایا گیا تھا۔‘‘(4)

یہاں ایک جملہ تقریظ کا ہے اور دوسرا خط کا لیکن دونوں کے درمیان ربط قائم کر کے جو استدلال کیا گیا ہے وہ قرأت کا ایسا سلیقہ ہے جس کی مثال کم ہی ملتی ہے اور غالب کی ایسی تصویر بناتی ہے جو حقیقت کے رنگوں سے بنی اور عقیدت و جانب داری کے روغن سے عاری ہے۔وہ صرف تضاد نہیں دکھاتے اس کی وجہ بھی بتاتے ہیں کہ غالب در اصل سیاح کو نہیں بلکہ ان کے مربی غلام بابا خاں کو مطلع کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ نواب کی مثال کی پیروی کریں۔ یہ غالب اور ان کے عہد کو ایک وحدت میں پڑھنے کا نتیجہ ہے کہ واقعات ایک مرتب قطار میں نظر آنے لگتے ہیں اور حقائق بالکل شفاف ہو جاتے ہیں ۔ یہ کہنا کہ غالب شاعر ہیں اگر ان کی سیرت اخلاق کے بہترین معیار کی پابند نہ ہو تو اس میں کچھ مضائقہ نہیں، کیوں کہ بڑا شاعر ہونے کے لیے بلند اخلاق ہونا لازمی شرط نہیں۔ یہ حقیقت بھی ہے اور خود قاضی عبدالودود بھی اس کے قائل ہیں ، لیکن جب سیرت نگار اپنی پسندیدہ خصلتیں کسی شخصیت میں دکھائے خواہ وہ شخصیت ان صفات کی حامل نہ ہو تو ایسا محاکمہ ناگزیر ہو جاتا ہے جو حقیقت واقعہ کا انکشاف کر سکے۔

قاضی عبدالودود کی تحقیق کا امتیازی وصف یہ ہے کہ وہ متعلقہ موضوع کے مضافات پر بھی اسی طرح حاوی نظر آتی ہے جس طرح نفس موضوع پر۔ عہد مغلیہ کی تاریخ پر انھیں پورا عبور تھا۔ غالب پر تحقیق کرتے وقت انھوں نے ان تمام ضروری اشخاص کے متعلق ممکنہ معلومات جمع کر لی تھیں جن سے غالب کا کوئی تعلق تھا۔ان اشخاص کے بارے میں بھی چھوٹی بڑی باتوں کو وہ اتنے ہی وثوق سے بیان کر سکتے تھے۔ مثلاً یہ بات تو اکثر لوگوں کو معلوم ہوگی کہ میاں داد خاں سیاح کے نام سے منسوب کتاب ’لطائف غیبی‘ کو اکثر لوگوں نے غالب کی تصنیف کہاہے۔ لیکن ماہرین غالبیات میں بھی کم ہی لوگوں نے یہ تحقیق کی ہوگی کہ سیاح نے کہاں کہاں کا سفر کس سنہ میں کیااور اس تحقیق کا تعلق غالبیات میں کیوں کر اہم ہو سکتا ہے۔ خلیق انجم نے اپنے مضمون ’’ادبی تحقیق اور حقائق‘‘میں تحقیق کے اسی مسئلے کے تعلق سے لکھا ہے:

محقق کو سب سے پہلے جو دقت پیش آتی ہے وہ مواد کی فراہمی ہے۔ اسے یہ معلوم کرنا ہوتا ہے کہ موضوع سے متعلق کیا مواد ہے؟ کہاں ہے؟ اور کیسے فراہم کیا جا سکتا ہے؟ …اردو کی بد نصیبی ہے کہ ابھی تک کسی موضوع پر ببلیوگرافی تیار نہیں ہوئی۔ کسی نے حوالے کی کتابوں کی طرف توجہ نہیں دی۔ فرض کیجیے میں مرزا مظہر جان جاناں پر کام کر رہا ہوں اور مقالہ لکھتے ہوئے شاہ مبارک آبرو کا ذکر آگیا، مجھے یہ معلوم کرنا ہے کہ آبرو کب پیدا ہوئے اور کب مرے؟ اردو میں کوئی ایسی کتاب نہیں ہے جو فوری طور پر میری مدد کرسکے۔ تحقیق کے دوران قدم قدم پر ایسے ضمنی موضوعات سے سابقہ پڑتا ہے۔ اب اصل موضوع کے علاوہ آپ ضمنی موضوع پر بھی تحقیق کیجیے۔ چونکہ محقق کی توجہ اصل موضوع پر ہوتی ہے، وہ ان چھوٹے موضوعات پر پوری توجہ نہیں کرتا اس لیے عام طور پر اس سے غلطیاں سرزد ہوتی ہیں۔ (5)

خلیق انجم کی بات اپنی جگہ مستحکم ہے تحقیق کے مسائل کو آسان بنانے کی کوشش ہونی چاہیے لیکن قاضی عبد الودود کی تحریر کو پڑتے وقت کبھی ایسا محسوس نہیں ہوتا کہ نفس مضمون کے متعلقات کو وہ شئے دیگر تصور کرتے ہیں۔لطائف غیبی غالب تحقیق کا حصہ ہے لیکن سیاح کی طرف منسوب ہونے کی وجہ سے سیاح سے بھی اس کا تعلق ہو جاتا ہے۔ لہٰذا قاضی عبدالودود نے سیاح کے سوانح سے متعلق نہایت دقیق معلومات اور ان کے سفروں کی تفصیل حتیٰ الوسع جمع کر لی تھیں ۔ لطائف غیبی کے متعلق یہ اقتباس ان کی دقت نظر اور تلاش و جستجو کی مثال میں پیش کیا جا سکتا ہے:

’’اس میں خلاف واقعہ یہ لکھا ہے کہ سیاح نے کشمیر و کابل و قندہار کا سفر کیا ہے، حالانکہ اشاعت لطائف غیبی کے وقت تک سیاح کشمیر نہیں گئے تھے اور کابل و قندہار تو اس کے بعد بھی نہیں گئے۔ (6)

کفایت الفاظ کی بہترین مثال سے قطع نظر ان دو سطروں میں تلاش و تحقیق کا ایسا جذبہ کار فرما ہے جو قاضی عبدالودود کے بعد خال خال ہی نظر آتا ہے۔

قاضی عبدالودود نے غالب کے بیان میں تضاد کو اکثر نشان زد کیا ہے لیکن تضاد کا دکھانا اہم نہیں ہے زیادہ اہم اور قابل تقلید یہ ہے کہ وہ اپنے بیان کے لیے دلائل کہاں سے فراہم کرتے ہیں۔ حالی جیسا صاحب نظر جن باتوں سے سرسری گزر جاتا ہے قاضی عبدلودود وہاں ٹھہر کر کبھی تاریخی مسلمات کبھی منطقی استدلال کے ذریعے استنباط کرتے نظر آتے ہیں۔

غالب نے پہلے خود کو ترک ایبک افراسیابی النسل کہا پھر سلجوقی اور بالاخر سنجر و برکیارق کی اولاد ہونے کے مدعی ہوئے۔ حالی نے نیّر کے قول کو نقل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ’’ ہند فارسی شاعری کا آغاز ایک ترک لاچین امیر خسرو سے ہوا اور خاتمہ ایک ترک ایبک غالب پر ہوا۔‘‘غالب نے بتایا ہے کہ’ ایبک‘ ترکوں کا ایک قبیلہ ہے۔ جیسا کہ اوپر ذکر ہوا قاضی عبدالودود کی تحقیق میں نفس موضوع اور متعلقات کی دوئی مٹ جاتی ہے یہاں بھی بعینہ وہی مسئلہ ہے۔ غالب پر تحقیق کرنے والوں نے غالب کے مندرجہ بیانات کی تردید تو کی ہے لیکن کسی نے قبیلۂ ’ایبک ‘ کے متعلق تحقیق نہیں کی۔وہ لکھتے ہیں کہ ’’غالب و نیّر و حالی یہ سب اس سے بے خبر ہیں کہ اس نام کاکو ئی قبیلہ تھا ہی نہیں۔(7)

قاضی عبدالودود کا مضمون ’’غالب نے اردو میں خط و کتابت کب شروع کی‘‘ حوالوں کی تلاش اور منطقی دلائل کی رو سے ان کے اہم ترین مقالوں میں سے ایک ہے۔ غالب نے اردو میں خط و کتابت کب شروع کی اس بحث کا آغاز حالی کی یادگار غالب سے ہو جاتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

’’معلوم ہوتا ہے کہ مرزا1850تک ہمیشہ فارسی میں خط و کتابت کرتے تھے۔ مگر سنہ مذکور میں جب کہ وہ تاریخ نویسی کی خدمت پر مامور کیے گئے …اس وقت بہ ضرورت ان کو اردو میں خط و کتابت کرنی پڑی ہوگی۔ وہ فارسی نثر اور اکثر فارسی خطوط …نہایت کاوش سے لکھتے تھے۔پس جب ان کی ہمت مہر نیم روز کی ترتیب و انشا میں مصروف تھی، ضرور ہے کہ اس وقت ان کو فارسی زبان میں خط و کتابت کرنی اور وہ بھی اپنی طرز خاص میں شاق ہوئی ہو گی۔ اس لیے قیاس چاہتا ہے کہ انھوں نے غالباً سنہ 50کے بعد سے اردو زبان میں خط لکھنے شروع لیے ہیں۔ چنانچہ وہ اپنے ایک خط میں لکھتے ہیں کہ ’’زبان فارسی میں خط لکھنا پہلے سے متروک ہے۔ پیرانہ سری اور ضعف کے صدموں سے محنت پژوہی اور جگر کاوی کی قوت مجھ میں نہیں رہی۔‘‘ (8)

حالی نے غالب کے جس خط کی عبارت کو بہ طور دلیل پیش کیا ہے اس کے بارے میں قاضی عبدالودود نے بنیادی بات یہ کہی کہ یہ غدر کے بعد کا ہے۔ خط میں تو تاریخ درج نہیں تھی لہٰذا خارجی شہادت یہ فراہم کی کہ خط شہید کے نام ہے جو غدر کے بعد غالب کے شاگرد ہوئے ، نیز اس سے صرف اتنا ظاہر ہوتا ہے کہ غالب نے ضعف پیری کی وجہ سے فارسی میں خط لکھنا بند کیا ہے، اردو میں پہلے پہل کب خط لکھا اس کے متعلق کوئی اشارہ نہیں۔ حالی کا سارا استدلال یا تو اسی خط پر ہے یا قیاس پر۔ (یہ بھی پڑھیں مسعود حسین خاں کے چند بکھرے ہوئے مضامین- ڈاکٹر نوشاد منظر)

یہ بیان جیسا کہ ذکر ہوا قطعی فیصلے تک نہیں پہنچاتا اور نہ ہی حالی نے کوئی بات قطعیت کے ساتھ کہی ہے، ’معلوم ہوتا ہے،غالباً، قیاس چاہتا ہے‘ جیسے لفظوں کاسہارالیا گیا ہے۔ قیاس اسی صورت میں معاون ہو سکتا ہے جب حوالے میسر نہ ہوں۔ اس مقالے میں قاضی عبدالودود نے بھی قیاسی صورت حال بیان کر کے استنباط کیا ہے لیکن ان کی بنیاد منطقی ہے۔ حالی نے 1950تک غالب کے ہمیشہ فارسی میں خط لکھنے کی بات کہی ہے اور اس کے ترک کاسبب مہر نیم روز کی تصنیف میں مصرویت کو بتایا ہے۔ قاضی عبدالودود نے یہ بھی سوال اٹھایا ہے کہ جب بظاہر مہر نیم روز کی تصنیف اواسط1950سے شروع ہوئی تو حالی نے یہ کیوں لکھا کہ ’’غالباً 1950کے بعد سے غالب اردو میں خط لکھنے لگے۔ ‘‘ یہ سوال نہایت اہم اور بنیادی ہے۔ حالی نے قیاساً ایک بات کہی جس کاخاطر خواہ تجزیہ وہ نہ کر سکے۔ قاضی عبدالودودنے حالی کے بیان کا بڑی باریکی سے تجزیہ کیا ہے۔ ان کا یہ سوال بڑا معنی خیز ہے کہ ’ہمیشہ‘سے حالی کی کیا مراد ہے کیوں کہ انھوں نے یادگار غالب میں ہی ایک جگہ ’ہمیشہ‘ کو ’عموماً‘ کے معنی میں استعمال کیا ہے۔ حاشیے میں حالی کی یہ عبارت بھی بتائی ہے۔ ’’ان کے گھر میں کتاب کا کہیں نشان نہ تھا ہمیشہ کرائے کی کتابیں منگوا لیتے تھے‘‘ دوسری جگہ لکھتے ہیں ’’کبھی کوئی کتاب نہیں خریدتے تھے الاّ ماشااللہ۔‘‘ یادگار غالب کو پڑھتے وقت شاید ہی کسی نے اس پر غور کیا ہوکہ ایک لفظ دو جگہ الگ الگ معنوں میں استعمال ہورہا ہے۔ متن کا باریک تجزیہ غائر مطالعے کیے بغیرممکن نہیں ہو سکتا ۔یہ مضمون حوالاجات کی پیشکش سے زیادہ عقلی دلائل کی وجہ سے متاثر کرتا ہے۔ قاضی عبدالودود نے اس گتھی کو سلجھانے کے لیے غالب کی زندگی کو تین ادوار میں تقسیم کیا ہے۔ پہلا دور تقریباً 1805تک۔ اس وقت تک غالب کی عمر آٹھ برس رہی ہوگی ظاہر ہے ان کی مادری زبان فارسی نہیں تھی اسے انھوں نے استاد سے سیکھا ہوگا۔ اس دوران بھی ان کو خط لکھنے کی ضرورت پڑی ہوگی جب وہ اتنی فارسی نہ جانتے ہوں کہ اس میں خط لکھ سکیں ایسی صورت میں یقینااردو میں ہی خط و کتابت کرتے ہوں گے۔ دوسرے دور کو انھوں نے اواسط 1950تک متعین کیا ہے اور بتایا ہے کہ اس دور تک غالب رفتہ رفتہ فارسی پر قادر ہو رہے تھے ، کچھ مدت کی مشق کے بعد صاحب طرز انشا پرداز قرار پائے۔ اس وقت عام رواج کے مطابق فارسی میں ہی خط لکھتے رہے ہوں گے، لیکن غالب کا تعلق ایسے لوگوں سے بھی رہا ہوگا جو فارسی سے کم یا بالکل نا واقف رہے ہوں ۔ ایسی صورت میں بھی انھوں نے مجبوراً ردو میں خط لکھے ہوں گے۔ تیسرا دور بادشاہ کی ملازمت یعنی جولائی 1850سے شروع ہوتا ہے۔مہر نیم روز کی تصنیف کا آغاز اسی سال ہواہوگا اور اس کی تصنیف میں مصروفیت اردو خطوط میں معتد بہ اضافے کا سبب ہوئی ہوگی۔ یہاں قابل غور بات یہ ہے کہ قاضی عبدالودودد نے کسی تحریری حوالے کو مدار نہیں بنایا بلکہ قیاسی بات کہی ہے جو اپنی قبولیت کی خاطر خارجی حوالوں کا مطالبہ نہیں کرتی۔ان کی تحقیق کے بارے میں یہ بات کہی گئی ہے کہ وہ معمولی باتوں کو ضرورت سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں ، یہ بات اس مضمون کے سلسلے میں بھی کہی جا سکتی ہے۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ حالی کا مقصد یہ نہیں تھا کہ 1850کے بعد غالب نے اپنی زندگی کا پہلا اردو خط لکھا بلکہ وہ غالب کے عام رجحان کو نشان زد کرنا چاہتے تھے۔ معترض کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ تحقیق قطعیت چاہتی ہے۔ قاضی عبدالودود نے اردو میں تحقیق کی روایت کو مستحکم کیا ہے۔ تحریر میں احتیاط اور تدبر کی اہمیت کو واضح کیا ہے اور قطعی فیصلے تک رہنمائی کی ہے۔ اگر واقعی حالی کا مقصد یہی ظاہر کرنا تھا تو مافی الضمیر کی ادائگی کے لیے انھیں مناسب الفاظ نہیں مل سکے جس کی اہمیت مسلم ہے۔ قاضی عبدالودود کی ہی تحریر ہے جو سابقہ متن کا صحیح مقام ومرتبہ متعین کرنے ساتھ یہ بھی سکھاتی ہے کہ تصنیف و تالیف کی زبان کیسی ہونی چاہیے اور مطالب کو بغیر تجزیے کے پیش کرنے کی کیا خرابیاں ہو سکتی ہیں۔

Previous articleتحقیق کیا ہے؟ اس کی اقسام
Next articleدرس ہے انسانیت کو واقعہ کربلا

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here