فکشن سے پرے

0
98

ڈاکٹر محمد سراج اللہ تیمی
پرسا، پریہار، سیتامڑھی، بہار
رابطہ نمبر:9199726661

” فکشن سے پرے ” ڈاکٹر ہمایوں اشرف کی نئی تصنیف ہے جو ان کی دیگر تمام تالیفات و تصنیفات کی طرح بہت اہمیت کی حامل اور کتب اردو کے ذخیروں میں بیش قیمتی اضافہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ مزید برآں یہ کہ یہ کتاب بھی کافی بھاری بھرکم و ضخیم ہے۔ ساڑھے چار سو صفحات کسی بھی کتاب کی ضخامت کی منہ بولتی علامت ہیں۔اس کتاب میں 451 صفحات ہیں جو ببانگ دہل، چیخ چیخ کر اس کی ضخامت کی شہادت دے رہے ہیں۔ میری معلومات کے مطابق ڈاکٹر ہمایوں اشرف کی تقریباً ڈھائی درجن یعنی کم و بیش 30 کتابیں اب تک شائع ہوکر کتب اردو کے ذخیروں میں بیش قیمتی اضافہ کی حیثیت رکھتی ہیں، جن میں ” منظر نامہ “، غیاث احمد گدی: فرد اور فنکار “، ” زکی انور: جائزے اور افسانے” ، ” رضانقوی واہی : آئینہ در آئینہ “، ” نکتہ نکتہ تعارف”،”متن اور مفہوم”، ” کلیات منٹو”، “فکشن کی بازیافت “، ” معنی نما “، ” اردو صحافت : مسائل اور امکانات “، پروفیسر وہاب اشرفی : منفرد نقاد اور دانشور “، ” کافر بھی ہوئے سجدہ بھی کیا “، ” شناخت اور ادراک معنی اور “درپس آئینہ” شامل ہیں جو سینکڑوں صفحات پر مشتمل و محیط ہیں۔دراصل ڈاکٹر ہمایوں اشرف تخلیقی، تحریری اور قلمی صلاحیتوں سے مالا مال ہیں۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ ان کا مطالعہ بھی بہت وسیع ہے، اس لیے جب کسی موضوع پر لکھنے بیٹھتے ہیں تو خوب لکھتے اور صفحات کے صفحات سیاہ کر ڈالتے ہیں۔ انہیں اس بات کی قطعاً پرواہ نہیں ہوتی کہ اتنی ضخیم کتابوں کی اشاعت کے لیے ان کی جیب پر کیا اثر پڑے گا۔ میں بہت سارے ایسے قلمکاروں کو جانتا ہوں جو اپنے چند صفحات پر مشتمل مسودہ کو سرد بستے میں لپیٹ کر کہیں رکھ دیتے ہیں اور وہ یہ سوچ کر اپنا قدم پیچھے کھینچ لیتے ہیں کہ کمر توڑتی و آسمان چھوتی مہنگائی کے اس عہد نامساعد میں وہ اشاعت کا بارگراں نہیں جھیل سکیں گے۔ بعد میں بمشکل تمام اگر وہ اس کی اشاعت کا جگاڑ لگا بھی لیتے ہیں تو اس وقت تک بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے۔ دیمک ان کے مسودہ کو چاٹ چاٹ کر ان کھیل بگاڑ چکا ہوتا ہے، مگر ڈاکٹر ہمایوں اشرف پر اللہ کا خاص فضل ہے جنہیں اس طرح کے حالات کا سامنا نہیں کرنا پڑتا ہے۔ وہ جس موضوع پر لکھتے ہیں اس پر جم کر لکھتے ہیں اور الحمد للہ اور سیاہ کے اپنے سینکڑوں صفحات کو آسانی کے ساتھ شائع کرنے میں کامیاب و ظفر یاب بھی ہوتے جاتے ہیں۔ ان کی کتابیں عام طور پر اتنے صفحات پر مشتمل ہوتی ہیں جتنے صفحات لکھ لینے کے بعد دوسرے مؤلفین و مصنفین علحیدہ عنوانات قائم کرکے دوتین کتابیں شائع کروالیا کرتے ہیں۔ ایک موضوع پر ہونے کی صورت میں دو تین جلدوں میں منقسم کر دیتے ہیں، مگر تین ساڑھے تین سو صفحات سے کم پر ڈاکٹر ہمایوں اشرف کے قلب کو اطمینان حاصل ہوتا ہے اور ناہی ان کے قلم کو تسکین حاصل ہوتی ہے۔ ان کی کتابوں کی ضخامت کے حوالے سے ایک بہت خوشگوار یاد وابستہ ہے جو ابھی میرے پردہ ذہن پر رقص کناں ہے اور نوک قلم پر آکر حوالہ قرطاس ہونے کے لیے بے تاب و بے کراں ہے۔ لگے ہاتھوں ملا حظہ فرمائیں۔

یادش بخیر! 21 جولائی 2021 کو میں اپنے سبھی ساتھیوں و کلیگوں کے ساتھ اپنے معمل روزنامہ قومی تنظیم، سبزی باغ، پٹنہ میں اپنے صحافتی امور کی انجام دہی میں مصروف تھا۔ میرے سامنے والی کرسی پر حسب معمول بزرگ سینئر صحافی محمد رضوان دربھنگوی خبریں لکھنے میں مشغول تھے اور میری بائیں جانب والی کرسی پر براجمان معروف صحافی راشد احمد، ملقب بہ ” صحافت کا یو سف ” روزانہ کی طرح روزنامہ قومی تنظیم کے صفحہ سات کے لیے بین الاقوامی اہم خبروں کو نشان زد کررہے تھے کہ اسی اثنا ڈاکٹر ہمایوں اشرف نے مجھے فون کر خبر دی کہ ” جناب ! میں نے بک امپوریم میں اپنی تازہ کتاب ” فکشن سے پرے ” کی دو کاپیاں رکھ آیا ہوں۔ ایک آپ کے لیے اور دوسری بھائی راشد کے لیے”۔ میں نے اس کے لیے ان کا شکریہ ادا کیا اور بک امپوریم سے دونوں کتابیں جلد حاصل کرلینے کا وعدہ کرکے بتایا کہ” آپ کے رفیق و ہمدم راشد احمد یہاں دفتر میں تشریف فرماں ہیں”۔ ابھی دل کی پوری باتیں زبان سے ادا بھی نہیں ہوسکی تھیں کہ جھٹ سے انہوں نے حکم دیا ” بھائی ان سے میری بات کروائیے”۔ میں نے لگے ہاتھوں حکم کی تعمیل کی۔ علیک سلیک کے معا بعد دونوں محبان میں ہنسی مذاق کا لامتناہی سلسلہ شروع ہوگیا۔ پھر طول کلامی کے باعث دونوں کا جوش و خروش ٹھنڈا پڑنے لگا، جیساکہ عام طور پر ہوتا ہے تو ڈاکٹر ہمایوں اشرف نے یہ کہتے ہوئے وداعی و جدائی چاہی کہ ” بھائی! میں نے سراج اللہ صاحب کے ساتھ ساتھ آپ کے لئے بھی اپنی نئی کتاب بک امپوریم میں رکھ دی ہے، آپ لے کر پڑھنے کی زحمت کیجیے گا”۔ اس کے بعد راشد بھائی ایک بار پھر مذاق کے موڈ میں آگئے اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے دونوں کا مذاق سر چڑھ کر بولنے لگا۔ راشد بھائی نے فرمایا ” یار ! آپ کی کوئی بھی کتاب ڈھائی کیلو سے کم کی تو ہوتی نہیں ہے۔ ایک کتاب کو پڑھنے کے لیے مہینوں لگ جائیں گے”۔ پھر انہوں نے پوچھا کہ” اب تک آپ کی کتنی کتابیں چھپ چکی ہیں”؟ اس پر انہوں نے جواباً فرمایا : ” بہت زیادہ نہیں، بس وہی کوئی 30 کتابیں ہوں گی “۔ راشد بھائی نے پطرس بخاری کے انداز میں طنز و مزاح کا تیر و نشتر چلاتے ہوئے زوردار قہقہے لگایا اور فرمایا کہ ” آپ کی ہر ایک کتاب ڈھائی کیلو سے زیادہ وزن کی ہے تو تمام کتابوں کا وزن کتنا ہوگا ؟ یہ سوچ کر میں پریشان ہوں”۔ اس پر ڈاکٹر ہمایوں اشرف بھی قہقہے زرار ہوگئے اور کنہیا لال کپور کے اسلوب میں جوابی تیر و تفنگ سے اپنا دفاع کیا۔ دونوں کی طنز و مزاح سے پر گفتگو سے میں (راقم السطور) خوب محظوظ ہوا کہ مزاجاً و طبعاً بہت حد تک میں بھی پرمزاح واقع ہوا ہوں۔ سونے پر سوہاگہ یہ کہ قومی تنظیم کے دفتر میں 2016 سے ہی “صحافت کا یوسف ” یعنی راشد احمد اور بزرگوار صحافی رضوان دربھنگوی کے درمیان روزانہ چشمک، نوک جھونک، ہنسی و مذاق اور طنز و مزاح کے تیر و نشتر بازی کا پھٹی آنکھوں سے مشاہدہ اور دل کے کانوں سے سماعت کرتا آرہا ہوں جس کی وجہ سے میرا مزاج بھی سراپا پرمزاح ہو چکا ہے۔ کہاجاتا ہے “خربوزہ کو دیکھ کر خربوزہ رنگ بدلتا ہے “۔ انگریزی میں یہ جملہ بھی بہت مشہور ہے کہ Society makes a man perfect
اور اردو و فارسی زبان میں یہ شعر بھی کثرت سے استعمال کیا جاتا ہے :

صحبت صالح ترا صالح کند
صحبت طالح ترا طالح کند

بہر حال! قطع کلام کے معا بعد میں بک امپوریم، اردو بازار، سبزی باغ، پٹنہ خرامہ خرامہ جاپہنچا اور” فکشن سے پرے ” کی دونوں کاپیاں حاصل کرلیں۔

فاضل مصنف نے اپنی اس کتاب میں اپنی صاحبزادی نازاں اشرف اور صاحب زادے سید ذیجاہ اشرف کے نام معنون کیا ہے اور ان کے لیے نیک خواہشات پیش کرتے نیز انہیں دعا دیتے ہوئے یہ شعر قلمبند کیا ہے :

ستارے توڑنے کی میری خواہش تم سے پوری ہو
دعا ہے میرے قد سے تم بہت اونچے نکل جاؤ

ہر والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کی اولاد کامیابی سے ہمکنار ہوں، ترقی کے منازل طے کریں، رفتار زمانہ کے ساتھ ہمدوش و ہمگوش ہوں، ان کے اقبال مندی کا ستارہ بام عروج پر چمکے دمکے اور خوشحال و خوشگوار زندگی بسر کریں۔نیز وہ اپنے والدین کے ارمانوں کو پورا کرنے میں حصہ لیں اور قدم قدم پر ان کا معاون و ممد بنیں۔ ڈاکٹر ہمایوں اشرف نے مذکورہ بالا شعر میں انہیں باتوں کو پیش کیا ہے اور ایک مثالی والد ہونے کا حق و فرض ادا کیا ہے۔

اس کتاب میں ساہتیہ اکادمی سے ایوارڈ یافتہ معروف فکشن نگار پروفیسر حسین الحق گیا، پروفیسر مولا بخش، علی گڑھ ، حقانی القاسمی نئی دہلی، پروفیسر علی احمد فاطمی الہ آباد اور شمیم طارق ممبئی کی گراں قدر تحریریں شامل ہیں، جن میں ان مشاہیر زبان و ادب اور ماہرین بیان و قلم نے ڈاکٹر ہمایوں اشرف کی علمیت، صلاحیت، قابلیت، شش جہت شخصیت اور اردو زبان و ادب کے فروغ میں ان کی ناقابلِ فراموش خدمات نیز تنقید کے میدان میں ان کے بلند قد و قامت نیز ان کی اس کتاب” فکشن سے پرے” کی اہمیت و افادیت اور معنویت پر سیر حاصل گفتگو کی ہے۔
پروفیسر حسین الحق نے ان الفاظ میں اعتراف کیا ہے:

” ہمایوں اشرف بحیثیت ناقد اپنی پہچان بنا چکے ہیں۔ گذشتہ تیس پینتیس برسوں میں جن اہلِ قلم نے اپنی تحریروں سے اردو دنیا کو متوجہ کیا ہے ان میں ہمایوں اشرف خصوصی طور پر قابلِ ذکر ہیں۔۔۔۔ اب یہ نئی کتاب ” فکشن سے پرے” پیش نظر ہو ہے۔ اس کتاب کے ضمن میں خصوصی طور پر اس بات کی جانب اشارہ ضروری ہے کہ یہاں ہمایوں نے فکشن کے علاوہ دیگر اصناف کے حوالے سے گفتگو کی ہے اور یہ خوبصورت بات ہے کیونکہ اس اکیسویں صدی میں جب چاروں طرف فکشن کا ہمہمہ اور زمزمہ ہے تب ایک ادیب یہ ہمت کررہا ہے کہ نہ صرف فکشن کے علاوہ دیگر اصناف پر گفتگو کررہا ہے، بلکہ اپنی کتاب کانام بھی ” فکشن سے پرے” قرار دے رہا ہے۔ اس جرأت رندانہ کے لیے ہمایوں اشرف کو ایک مبارکباد تو دی جاسکتی ہے۔ اس کتاب میں ہمایوں اشرف کی ایک خوبی نے خاص طور پر متوجہ کیا ہے کہ وہ زبان سادہ اور سلیس لکھتے ہیں لیکن بیان کی دلکشی برقرار رہتی ہے”۔ (ماخوذ از فیلپ)

پروفیسر مولا بخش، استاد، شعبہ اردو، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ کی ” غیر افسانوی نثر کی تنقید اور ہمایوں اشرف ” کے عنوان سے ایک بیش قیمتی تحریر اس کتاب میں شامل ہے جس میں انہوں نے ” پیش رس”، “منٹو کی خاکہ نگاری “، “ناک کی قسمیں”، “منٹو کے مضامین”، “لکشمن ریکھا کے پار-ایک مطالعہ” ، ” عصری معاشرے کا محتسب:احمد جمال پاشا “سجاد ظہیر کی تنقید نگاری ، “حالی کے بعد تھیوری کا نیا موڑ: گوپی چند نارنگ” اور، “خورشید جہاں کی انشائیہ نگاری ” سے متعدد اقتباسات نقل کیا ہے اور ان کی روشنی میں ڈاکٹر ہمایوں اشرف کو ایک 1980 کے بعد کا ایک اہم نقاد قرار دیا ہے۔ وہ رقمطراز ہیں:

” ہمایوں اشرف 1980 کے بعد کی نسل میں ایک ایسے نقاد ہیں جو ادب کے ساتھ گہری وابستگی رکھتے ہیں۔ ان کی تنقید کا جوہر معروضیت ہے۔ وہ متن کی تفہیم پر زور دیتے ہیں۔ ان کی قرأت میں خواہ مخواہ کی آئیڈیولوجی بھگارنے کا شوق نظر نہیں آتا۔ موصوف کسی بھی موضوع پر اس وقت تک قلم نہیں اٹھاتے جب تک ان کا ذہن اس پر آمادہ نہ ہوجائے۔ ان کی نثر صاف اور رواں ہوتی ہے۔ وہ بڑی حدتک اپنی تنقید میں معروضی رہنے کی کوشش کرتے ہیں۔ “فکشن سے پرے”کتاب کے عنوان میں ایک پیغام پوشیدہ ہے جسے ہم غیر افسانوی نثر کی دنیا کہتے ہیں۔ اس دنیا میں بہت اہم انسانی مسائل اور جذبات و احساسات اور خیالات کی دنیائیں آباد ہیں”۔ (ص20)

حقانی القاسمی نے اپنی تحریر “حرف محبت” میں کتاب ” فکشن سے پرے ” کی خصوصیات پر گفتگو کی ہے۔ اس میں شامل مضامین کو دو شقوں میں تقسیم کیا ہے۔ پہلی شق میں مشاہیر اردو سے متعلق تحریروں کو شمار کیا ہے اور بتایا ہے کہ ان پر کثرت سے کتابیں اور مقالے دستیاب ہیں۔ دوسری شق میں گمنام اور فراموش کردہ فن کاروں سے متعلق تحریروں کو شامل کیا ہے اور بتایا ہے کہ ان فنکاروں کو عمداً یا نادانستہ نظر انداز کیا گیا ہے یا پھر ان پر بہت کم لکھا گیا ہے۔ انہوں نے دوسری شق کو اہمیت کا حامل بتایا ہے اور اس طرح کی تحریروں کو خود بہت انہماک و ارتکاز کے پڑھنے کی بات کہی ہے۔ ساتھ ہی سبھی مضامین کا اجمالی جائزہ بھی لیا ہے۔ مصنف کے یہاں موضوعاتی تنوع اور ان کی فکری گہرائی کا اعتراف بھی کیا ہے۔
پروفیسر علی احمد فاطمی نے بڑی کشادہ قلبی و کشادہ قلمی کے ساتھ یہ اعتراف کیا ہے کہ ڈاکٹر ہمایوں اشرف میرے خرد ضرور ہیں لیکن پڑھنے لکھنے میں مجھ سے تیز اور اپنی نسل میں سب سے آگے ہیں۔ فکشن اور تنقید ان کے خاص میدان ہیں۔ ادبی صحافت سے بھی رشتہ رہا ہے۔ ہمایوں اشرف کے ان مضامین میں صرف تعارف یا تلاش نہیں، بلکہ تجزیہ بھی ہے۔ ہمایوں کی تحریر و تنقید کی سب سے بڑی خوبی اس کی شفافیت ہے۔ شمیم طارق نے بھی کھلے دل سے ڈاکٹر ہمایوں اشرف کی تحقیقی و تنقیدی صلاحیتوں خدمات کو سراہا ہے، ان کے مضامین اور کتابوں کے موضوعات میں تنوع پائے جانے کی بات پر مہر حقیقت و صداقت ثبت کی ہے۔
اس کتاب میں پچیس مضامین ہیں جن میں گذشتہ صدی کے سفر ناموں میں ثقافتی اور تمدنی پہلو، اردو کی خواتین افسانہ نگار: ایک تحقیقی و تنقیدی مطالعہ،فن خطوط نگاری اور اس کا ارتقائی سفر، سرسید احمد خان کا فکری محور، قومی یکجہتی اور مولانا ابو الکلام آزاد،منٹو کی خاکہ نگاری، منٹو کے مضامین، پطرس بخاری کی مزاح نگاری: تجزیاتی مطالعہ،آسمان ظرافت کا درخشندہ ستارہ : انجم مانپوری،اختر الایمان:اس آباد خرابے میں،لکشمن ریکھا کے پار” ایک مطالعہ،عصری معاشرے کا محتسب:احمد جمال پاشا، پتیوں پر چھڑکاؤ: ایک مطالعہ،سجاد ظہیر کی تنقید نگاری،مجنوں گورکھپوری کی تنقید نگاری،حالی کے بعد کا ایک نیا موڑ: گوپی چند نارنگ، وہاب اشرفی کی “تاریخ ادب اردو “ایک اہم دستاویز،ظہیر غازی پوری کا تنقیدی رویہ، کلیم عاجز کی نثری رعنائیاں، سیاسی شعور اور ادبی بصیرت کا امتیازی پیکر ڈاکٹر سید احمد،بہار میں اردو خودنوشت نگاری،بہار میں اردو انشائیہ نگاری،خورشید جہاں کی انشائیہ نگاری،متین عمادی کی انشائیہ نگاری، اور خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا:ایک جائزہ شامل ہیں، جن کا مطالعہ قارئین کی معلومات میں اضافہ کا باعث ہیں۔ ان مضامین میں بیشتر غیر افسانوی ادب سے تعلق رکھتے ہیں اور اہمیت کے حامل ہیں۔ ان سے قارئین میں غیر افسانوی نثری وادبی اصناف کے حوالے سے مطالعہ کا ایک پاکیزہ ذوق پیدا ہوا ہے۔

یہ سچ ہے کہ ادب صرف شاعری یا فکشن سے عبارت نہیں، بلکہ اس کی وسیع تر کائنات ہے اور ادب کے تنوع میں ان اصناف کا بھی اہم کردار ہے جنہیں ذیلی اصناف کے زمرے میں رکھ کر بے اعتنائی برتی جاتی ہے جیسا کہ حقانی القاسمی نے اس سلسلے میں نہایت بے باکی کے ساتھ حقیقت سے پردہ اٹھا یا ہے۔ مجھے بھی شدت سے احساس ہے کہ صرف شاعری اور فکشن کو ہم لوگوں نے ادب سمجھ رکھا ہے اور انہیں پر اپنی اپنی توانائیاں صرف کر رکھی ہیں۔ غیر شاعری نیز فکشن سے پرے بہت ساری نثری اصناف کو نظر انداز کر رکھا ہے۔ انہیں جو اہمیت دی جانی چاہیے تھی وہ نہیں دی جاسکی ہے ۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ ادھر چند برسوں کے دوران بعض قلمکاروں و فنکاروں نے ان اصناف کی طرف بھی نظر التفات کیا ہے جن میں ایک اہم نام ڈاکٹر ڈاکٹر ہمایوں اشرف کا ہے۔ انہوں نے اس طرف بہت حد تک توجہ دی ہے اور” فکشن سے پرے” کتاب2021 میں منظر عام پر لاکر اس روایت کو فروغ دینے کی سعئی مسعود کی ہے،جسے میں ان اصناف کے لیے نیک فال سمجھتا ہوں ںے۔ اللہ کرے میرا یہ گمان صد فی صد سچ ثابت ہو۔ !!!

Previous article“کس کس کا ذکر کیجیئے کس کس کو روئیے”
Next articleنئے سال میں وزیر اعلی نے دیابڑا تحفہ !

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here