فنگر پرنٹس ۔ ابن صفی کی تحریروں کا حسین مرقع از: مالک اشتر

0
55

جاسوسی ناول نگاری کے بے تاج بادشاہ، المعروف جاسوس گر، طنز ومزاح نگار،خاکہ نگار، انشائیہ نگار، شاعر، اردو کے بالواسطہ استاد، سماجی وسیاسی مبصر ابن صفی کی شخصیت کے ہمہ جہت پہلووؤں کا احاطہ بہت سے تجزیہ نگاروں نے کیا ہے۔ ان کی حیات وخدمات، تخلیقات، کردار نگاری، منظر نگاری، شیرینی زبان وغیرہ پر لاتعداد تنقیدی اور متفرق مضامین بھی تحریر کیے جاچکے ہیں نیزان پر سیمناراورسمپوزیم بھی منعقد کیے جاچکے ہیں۔ لیکن زیرنظر کتاب مروجہ ڈگر سے ہٹ کر ہے۔بلکہ اس کتاب کو ابن صفی کے قلمی سفر کا انسائیکلوپیڈیا یا مجموعہ کہاجائےتوکچھ مبالغہ نہ ہوگا جو ابن صفی سے ادریس شاہجہانپوری کے عشق بلکہ ان کے ناولوں کے جنون کا آئینہ ہے۔

کتاب میں ماہنامہ جاسوسی دنیا اور ماہنامہ نکہت کے تحت شائع شدہ ابن صفی کے چند ناولوں کو چھوڑ کر تقریباٌ تمام سر اوراق عمدہ رنگین کاغذ پر جمع کیے گئے ہیں۔ اندازہ کیجیے کہ اس قدر پرانی اشاعتوں کے سر اوراق ڈھونڈنا اور ان کو قابل اشاعت بنانا بجائے خود کتنا چیلنج بھرا کام رہا ہوگا۔ اس کا ذکر خود ادریس شاہجہانپوری نے کتاب کے مقدمہ ’’پیش تحریر‘‘ میں بھی کیا ہے۔ اس دور میں جبکہ انٹرنیٹ پر میسر مواد کو ہی ٹھوک پیٹ کر ہر تحقیقی کام انجام دے دیا جاتا ہو وہاں ایک محقق کے ذریعے شہروں اور بستیوں میں جاکر مواد اکٹھا کرنے کی لگن اور تگ و دو اسی وقت ہو سکتی ہے جب ویسا عشق وسیلہ بن جائے جیسا ادریس شاہجہانپوری کو ابن صفی سے رہا ہے۔

مصنف نے کتاب کے آئندہ ابواب میں جاسوسی دنیا اور نکہت میں شائع شدہ ابن صفی کے ایک ایک ناول کی تفصیلات جمع کر دی ہیں۔ اس ذیل میں جو معلومات کتاب میں درج کی گئی ہیں ان کو دیکھ کر یہ بات اعتماد سے کہی جا سکتی ہے کہ ادریس شاہجہانپوری نے دراصل ابن صفی کے ناولوں کا انسائیکلوپیڈیا ترتیب دیا ہے۔ ان تفصیلات میں ناول کا نام، اس کے پہلے ایڈیشن کا ماہ و سالِ اشاعت، ناول کی قیمت ،صفحات کی تعداد، ابواب کے عنوانات، جرم کی نوعیت، مرکزی ومعاون کرداروں کے نام، مقامات وغیرہ شامل ہیں۔ ایک دلچسپ بات یہ کہ ابن صفی نے ناولوں کے عنوانات کو کسی ڈائیلاگ یا منظر کے ذریعے ابھارا ہے۔ اس کو بھی مصنف نے ہر ناول کی تفصیل میں شامل کیا ہے۔ سر اوراق سمیت یہ ساری تفصیلات کتاب میں موجود ہیں۔ یہ حیرت زدہ کر دینے والی بات ہے کہ ادریس شاہجہانپوری نے ماہنامہ جاسوسی دنیا کے ابن صفی کے تمام 214 اور ماہنامہ نکہت کے تمام 37 ناولوں کے بارے میں مذکورہ بالا معلومات کو سلسلہ وار درج کیا ہے۔ ہر تعارف کے آخر میں اس ناول کا سرورق کیسے اور کہاں سے حاصل ہوا اس کو بھی درج کر دیا گیا ہے۔

یہ کام کتنی عرق ریزی سے کیا گیا ہے اس کو جاننے کے لیے بس اتنا ہی کہنا کافی ہے کہ ناولوں کا یہ تعارفی مواد ساڑھے چھ سو سے زیادہ صفحات پر محیط ہے۔ ان کے علاوہ ہر ناول کے متن کا باریکی سے مطالعہ کرکے اس کا نچوڑ بھی تعارف میں شامل کر دیا گیا ہے۔ اس طرح ابن صفی کے فلسفیانہ خیالات کو فکر پارے، زبان کی شیرینی کے نمونوں کو شکر پارے اور طنز ومزاح سے بھرپور حوالوں کو نمک پارے کے عنوانات کے تحت اس کتاب میں جمع کر دیا گیا ہے۔یوں دیکھا جائے تو یہ کتاب ابن صفی کے ناولوں کی ایسی کھڑکی بن گئی جس میں ان کی قلمی استعداد کو ہر پہلو سے دیکھا اور سمجھا جا سکتا ہے۔جاسوسی ناولوں کے علاوہ ابن صفی نے جاسوسی کہانیاں، اساطیری فکشن اور طنز ومزاح کے ناول ،افسانے ،مضامین بھی لکھے تھے۔ ادریس شاہجہاں پوری نے اپنی کتاب میں ان سب کے حوالے بھی شامل کئے ہیں۔

شایدکچھ لوگوں کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ ابن صفی کی تخلیقیت کا سفر شاعری سے ہوتا ہوا جاسوسی ناول نگاری کی طرف آیا ہے۔ انہوں نے خود بھی لکھا ہے کہ وہ ساتویں آٹھویں جماعت میں ہی شعر کہنے لگے تھے۔ادریس شاہجہانپوری نے اپنی کتاب میں ابن صفی کے شعری آثار بھی جمع کر دیے ہیں۔ کتاب ایک اور مقدمہ کو بھی حل کرنے کی کوشش کرتی ہے جس کا تعلق ابن صفی کی ادبی حیثیت کے تعین سے ہے۔ ہوا یوں ہے کہ آج تک ایک جہت سے ان کی نوعیت متفقہ طور پر طے نہیں ہو سکی کہ وہ کس قسم کا ادب لکھنے والے فنکار تھے؟ مقبول عام ادب اور ادبِ عالیہ کی تقسیم پر قربان جائیے کہ جس کے صدقے میں ابن صفی جیسا لکھنے والا مخصوص عینک سے دیکھا گیا۔ ہر چند کہ کچھ بڑے لوگوں نے اس مسلک سے اختلاف کیا اور بہت شدید اختلاف کیا۔ اس سلسلے میں ہمارے عہد کے معتبر فکشن نگار پروفیسر خالد جاوید کا زمرد مغل کو دیا گیا ایک انٹرویو ادریس شاہجہانپوری نے اس کتاب میں شامل کیا ہے۔

Previous articleخاکہ کی صنفی خصوصیات : آغاز و ارتقاء از: ڈاکٹر احمد علی جوہر
Next articleکھرے لہجے کا شاعر ہمدم نعمانی ہواخاموش !از: علی شاہد دلکش

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here