فضا ئلِ حضرت امام حسینؓ اور واقعہ کربلا از: رازدان شاہد

0
87

شاہ است حُسینؓ بادشاہ است حُسینؓ
دِین است حُسینؓ دِین پناہ است حُسینؓ

سر داد نداد د ست دَردَستِ یزید
حقّا کہ بنا ئے لا الہٰ است حُسینؓ

سیدنا امام حسینؓنبی اکرم ﷺکے محبوب نواسے اورحضرت علیؓوفاطمتہ الزہراؓکے چھوٹے صاحبزادے تھے،روایت کے مطابق آپ ۵شعبان۴ھ/۶۲۶ء میںمدینہ منورہ میںپیدا ہوئے ۔حضورﷺنے آپ کا نام حسینؓاور شبیرؓرکھا۔حضرت عبدالرحمن بن ابی غنم سے روایت ہے کہ رسول اکرمﷺنے فرمایا:حضرت حسن ؓاور حضر ت حسین ؓمیری دنیا کی خشبوئیں ہیں۔آپ ؓکو بھی آپ کے بڑے بھائی اما م حسن کی طرح جنتی نوجوانوں کا سردار بنایا گیا ہے۔

حدیث مبارکہ میں ارشاد ہوا ” جس نے ان دونوںسے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے ان سے عداوت کی اس نے مجھ سے عداوت کی” آپؓ کی شہادت کی خبر رسول اﷲﷺکوآپ ؓکی ولادت کے ساتھ ہی مل چکی تھی۔آپﷺ کو یہ بھی خبر تھی کہ حضرت حسینؓ کو عراق کے علاقے کربلا میں شہید کیا جائے گا۔
ایک مرتبہ حضورﷺنے حضرت حسین ؓ کے رونے کی آواز سنی توآپﷺنے ان کی والدہ حضرت فاطمہ ؓ سے فرمایا: کیا تمہیں یہ علم نہیں کہ اس کے رونے سے مجھے کتنی تکلیف ہوتی ہے۔

حضرت امام حسین ؓ بڑے ہوتے گئے ،جزبہ جانثاری میںروزافزوںاضافہ ہوتا گیا۔اور آپ فضل و کمال، زہدو تقویٰ، شجاعت و بہادری،سخاوت،رحم دلیاور اعلیٰ اخلاق اور دیگر محاسن وخوبیوں کے بلند درجہ پر فائزتھے، صحابہ کرام آپؓ کابہت احترام کیا کرتے تھے ایک بار کا واقعیہ ہے کہ ایک جنازے میں آپؓ بھی شریک تھے آپ ؓکے قدم مبارک خاک آلود ہوگئے تو حضرت ابو ہریرہؓ نے آپؓ کے پائوں سے مٹی خود آپنے ہاتھوں سے صاف کی ۔امام حسین ؓکو نیک کاموں کا بڑارغبت اور شوق تھا ،آپ ؓ نے بھی اپ کے بڑے بھائی حضرت حسن ؓکی طرح ۲۵مرتبہ پیدل حج کیے۔

چنانچہ امیر معادیہؓکی وفات پر انہوں نے اپنے بیٹے “یزید”کو تخت حکومت پر اپنا جانشین بنایا ۔اس نے خلافت کو امارت وسلطنت میں تبدیل کرنا شروع کیا۔اس نے تخت پر بیٹھتے ہی اطراف کے ممالک میں اپنی بیعت کے لئے مکتوب روانہ کئے۔مدینہ منورہ کا عامل جب بیعت کے لئے آپؓکی خدمت میںحاضرہوا تو آپ ؓنے اپنی جان کو خطرے میںڈال کرظلم کی بنا پر بیعت سے انکارکر دیا اور اس کے خلاف آواز بلند کی تو اسی شب ہی آپؓ کومدینہ سے مکہ منتقل ہونا پڑا،مدینہ طیبہ سے ہجرت کرنا آپ ؓ کے لئے نہایت ہی غم واندوہ کا باعث تھا۔اہل کوفہ حضرت امام حسینؓ کو اپنے ہاںآنے کے لئے درخواستیں بھیج رہے تھے مگر آپؓ نے صاف انکار کر دیا،آخر کار آپؓ نے اپنے چچا زاد بھائی مسلم بن عقیل ؓ کو کوفہ کے حالات جاننے کے لئے روانہ کیا،وہاں جاکر کوفہ والوں کا جوش وجزبہ اور محبت دیکھ کر حضرت مسلم بن عقیل ؓ نے حضرت امام حسین کو یہاں کے حالات کی اطلاع دی کہ آپؓجلد تشریف لائیں تاکہ حق کی تائیدہو۔تب امام حسین ؓ کوفہ کی طرف روانہ ہوئے،صحابہ کرام اس سفر کو ملتوی کرنے کے لئے اصرار کرتے رہے مگر کو فیوں کی درخواست کو ردکرنا اور ان کی دل شکنی کرنا آپؓ کو گوارہ نہ ہوا اور آپؓ نے کل بہتر نفوسکے ہمراہ عراق کا سفر اختیار کیا۔
۷۲آدمی جن میںبیبیاں،بچے ،بمار سبھی شامل ہیں جن کے پاس نہ توسامان حرب ہے نہ ارادہ جنگ ہے ان کے سامنے ۲۲ہزار کی جرار فوج مقابلے کے لئے موجود ہے۔

۷ محرم کو فرات کا بے حساب پانی ان سیاہ باطنوں نے خاندان رسالت پر بند کر دیا ،بھوک وپیاس سے سب سے تاب و ناتواں ہو گئے ،تین دن گزر گئے ،مگر مصائب مگر مصائب کا ہجوم ان کی عظمت کو متزلزل نہ کر سکا۔ ۱۰ محرم تک یہی حجت رہی کہ امام حسینؓبیعت کر لیں گئے مگر آپؓ نے مسلمانوں کی تباہی وبربادی کوگوارہ نہ کیااپنا گھر لٹانا اور خون بہانا منظور کر لیامگر اسلام کی عضمت میں فرق آئے یہ آپ ؓ کو برداشت نہ تھا ۔اب امام حسینؓیقین ہو گیا کے مصالحت کی کوئی صورت باقی نہیں رہی نہ یہ لوگ شہر میںداخل ہونے دیتے ہیں نہ واپس جانے دیتے ہیںنہ ملک چھوڑنے دیتے ہیں۔اس لئے اب جنگ کو روکنے کا کوئی طریقہ باقی نہیں رہا۔اس وقت حضرت امام حسین ؓاپنے خیموں کے گردایک خندق کھودنے کا حکم دیا،خندق کھودی گئی اور اس کی صرف ایک راہ رکھی گئی جہاں سے نکل کردشمن سے مقابلہ کیا جائے۔خندق میں آگ لگادی گئی تا کہ اہل خیمہ دشمنوں کی ایذا سے محفوظ رہ سکیں۔
۱۰محرم کا قیامت خیز دن طلوع ہوا جمعہ کا دن تھا حضرت امام عالی مقام ؓنے اہل بیعت اور تمام رفقاء کے ساتھ فجر کی نماز ادا کی ،نماز کے بعد اپنے خیمے میں تشریف لائے اہل بعیت تین دن سے بھوک سے نڈھال ،ایک قطرہ آب میسر نہیں پھر بے وطنی، تیز دھوپ ، گرم ریت ،صحرا کی ہوا جو روجفا کے پہاڑتوڑنے کیلئے سامنے با ئیس ہزار کا لشکرمگر عزم و ہمت اور پائے استقال میں لرزش نہیں ۔ جنگ کا نقارہ بجا دیا گیا۔امام حسین ؓ نے اس وقت ایک خطبہ بھی ارشاد فرمایا تاکہ حجت تمام رہے ۔پھر جنگ کا آغاز ہو گیا۔علی المرتضیؓکے خاندان کے بہادروں نے کربلا کی تشنہ لب زمیں کو دشمنوںکے خون سے لالہ زار کر دیا اس طرح خاندان امام حسینؓ کے نوجوان اپنی بہادری کے جوہر دکھا دکھا کر امامؓ پرقربان ہو تے چلے گئے۔تمام شہزادے شہید ہوتے چلے گئے۔اب امام ؓکے سامنے علی اکبر ؓ دشمنوں پر حملہ آور ہو گئے،شہزادہ اہل بیعت کا حملہ نہین عذاب الہیٰ تھا ایک ہی وار میں کئی کئی دیوپیکر گرادیئے،پیاس کی شدت ،دھوپ کی تمازت اور لشکرجرار نے یکبارہی چاروں طرف سے گھیر لیا ،تیر کے زخموںنے تن بدن کو چور کر دیا ،حضرت امام حسین ؓ میدان میں جاپہنچے اور ان کو خیمہ میں لے آئے،اہل بیعت کے قافلے میں سناٹا چھا گیا۔پھر امام حسینؓ جنگ کے لئے تیار ہو ئے عمامہ رسول خد ا ﷺ سر پر باندھا ،مصری قبا پہنی ،امیر حمزہؓکی سپر پشت پر رکھی ،حیدر کرار ؓکی تلوار حمائل کی اور گھوڑے پر سوار ہوئے۔رضا ئے الٰہی پر صابر وشاکرسب کو سپردخدا کر کے میدان کی طرف رخ کیا ایک بار پھر اتمام حجت کیامگر بے سود ایک ایک مقابل آیا،امام ؓنے تیغ خون آشام نے سب کا کام تمام کر دیا زمین کربلا خون سے سیراب ہو گئی لاشوں کے امبار لگ گئے،لشکر میں شور مچ گیا ،اپ ؓ کو گھیر کر تیر برسانا شروع کر دیا۔نورانی جسم لہو لہان ہو گیا ،خولی ابن یزید نے بڑھ کر سر اقدس کو تن مبارک سے جدا کر دیا۔آپ ؓکا سر مبارک ابن زیاد کے پاس اور پھر یزید بن معادیہ کے پاس دمشق میں بھیج دیا گیا۔
قتلِ حسین اصل میں مرگِ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
حضرت حسین ؓ کی شہادت سے جہاں حضرت علی ؓ کے اس چشم وچراغ کے فیضان سے دنیا محروم ہوئی ،وہاں اختلاف وانتشار کی ایک ایسی آندھی اٹھی کہ جس نے بنوامیہ کی مستحکم حکومت کو چند ہی برسوں میں الٹا کر رکھ دیا اور پھراس واقعے کی تاریکیوں نے پورے عالم اسلام کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور اس کے اثرات اب تک محسوس کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے شہادت اور قربانی کا راستہ اختیار کیا ،اسلام کی راہ میں اپنا سرکٹوا کر ایثار و قربانی اور شجاعت و شہادت کی ایک نئی داستان رقم کی-

آبگلہ، گیا ،بہار
Email id-sarim.jamil@gmail.com

Previous articleاردو مرثیے کی جمالیات از:عارفہ مسعود عنبر
Next articleپندرہ روزہ ’’صدائے بسمل‘‘ حق کا جاندار، بے باک صحافت کا علمبردار از: مظفر نازنین، کولکاتا

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here