فتنئہ ارتداد..کون ذمہ دار..؟از:مفتی محمد اجوداللہ پھولپوری

0
20

نائب ناظم مدرسہ اسلامیہ عربیہ بیت العلوم سرائمیر اعظم گڈھ

یقینا مالک کائنات کا پسندیدہ دین، مذہب اسلام ہے۔ اور خدائے واحد نے اس کی حفاظت و صیانت اور تاقیامت باقی رکھنےکی ذمہ داری خود اپنے ذمہ لی ہے اور اسکی حفاظت کیلئے وہ کسی فرد یا جماعت کا محتاج نہیں۔۔۔۔ اگر کوئی فرد یا جماعت اسلام سے منحرف ہوکر مذہب اسلام کو چھوڑ بیٹھے تو اس سے اسلام کو کوئی گزند یا نقصان پہنچنے والا نہیں۔

خالق ارض و سماء نہ تو کل کسی کے ایمان کا محتاج تھا اور نہ ھی آج آنے والے کل میں بھی وہ ھر کسی کے ایمان و عبادت سے بے نیاز ھے
فتنئہ ارتداد زمانۂ نبوت سے لیکر آج تک کئی بار معرض وجود میں آیا اور ھمیشہ اس فتنہ کی سرکوبی ھوئی آج ایک بار پھر یہ فتنہ پوری آب و تاب کے ساتھ پھن اٹھائے امت کو ڈسنے کی قوت جمع کرچکا ھے اور اس بار یہ فتنہ جس راستہ سے داخل ھونے کی کوشش کررھا ھے وہ انتہائی حساس اور خطرناک ھے۔

دین شریعت کی آمد سے قبل جہالت کا بول بالا تھا اور اسقدر اندھیر نگری تھی کہ عورتوں کو زندہ درگور کردیا جاتا تھا کوئی انکا پرسان حال تک نہ تھا دین اسلام نے انہیں عزت بخشی اور ایک باوقار روپ اور وجود دیا پردہ کے زریعہ انکی ایک نرالی اور منفرد شان پیدا کی پھر وہ زمانہ بھی آیا کہ ھم ھی میں سے بعض افراد نے جدت پسندی اور آزادئ نسواں کے نام پر عورتوں کو ایک بار پھر جاھلیت کے دور کی طرف ڈھکیل دیا جدت پسندی کے سراب کو ھماری بہنوں نے بھی آب حیات سمجھا اور نتیجہ ایں جاں رسید کہ اسلام اور ایمان سے بھی دور ھونے لگیں ۔

ھمارے بڑوں نے ھرجگہ اور ھر موقعہ پر امت کی رھنمائی کی لیکن چند بے راہرووں نے اپنی نحوست سے امت کا بیڑہ غرق کردیا اور آزادی نسواں کے نام پر عفت و پاکدامنی کے نقاب کو انکے سروں سے نوچ کر اپنی عقلوں کا پردہ بنالیا مخلوط نظام تعلیم نے عورتوں کو مردوں کے شانہ بشانہ کھڑا کردیا نظام شریعت کو فرسودہ کہ کر خود تو اسلام کی سلامتی سے دور ھوئے ھی ھمارے گھروں کی عزتوں کو بھی سلامتی سے کوسوں دور کردیا
نگاہ دور رسی رکھنے والے ھمارے بڑوں نے شاید آج کے پیش آنے والے حالات کے مدنظر ھی مغربی نظام تعلیم کی مخالفت کی تھی اگر اسوقت اس پہ قابو پالیا گیا ھوتا تو آج امت کو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا ۔
عفت و پاکدامنی اور شرم حیا ایک عورت کیلئے خوبصورت ترین زیور ھے اور مخلوط نظام تعلیم اس زیور کیلئے سم قاتل ھے یہ زیور ایک بار ھاتھ سے نکل جائے تو سارے معاوضہ بیکار ھیں دنیا کی کوئی کرنسی عفت و پاکدامنی کا بدل نہیں بن سکتیں۔

آزادئ نسواں اور مخلوط نظام تعلیم و شخصی آزادی کے نام پر شور مچانے والے ٹھیکیداروں کو آگے آکر پیش آنے والے حالات پر زبان کھولنی چاھئے اور اس بات کو واضح کرنا چاھئے کہ کیا آزادئ نسواں یہی ھے…؟ کیا شخصی آزادی اسی کا نام ھیکہ مسلم بہنیں اسلام و ایمان سے دستبردار ھوکر غیروں کے گلے کا ھار بن جائیں…؟ کیا مخلوط نظام تعلیم کا فروغ اسی لئے چاھتے تھے کہ غیر شادی شدہ مردوعورت live in relation کے نام پر فحاشی اور بے حیائی کو عام کریں….؟
کیا اسکول و کالج کے نام پر گھر سے نکلنے والی ھماری بہنوں کا بوائے فرینڈ کے ساتھ ھوٹلوں اور پارکوں کی زینت بننا ھی جدت پسندی ھے…؟
کیا ھائے ھیلو سے شروع ھوکر دوستی کے راستہ بیڈ روم تک پہونچ جانے کانام آزادئ نسواں ھے…؟

کمال تو یہ ھیکہ امت کیلئے ان جان لیوا راستوں کو کھولنے والے سارا ٹھیکرا علماء اور مدارس کے سر یہ کہ کے پھوڑ رھے ھیں کہ علماء نے کچھ کیا ہی نہیں جبکہ حقیقت یہ ھیکہ علماء و مدارس اس مشن کا کبھی حصہ ھی نہیں رھے وہ تو ھمیشہ عملی اور قولی طور پر اسکی مخالفت کرتے رھے اور انہیں فرسودہ خیالات کا حامل کہ کے درکنار کیا جاتا رھا ھمارے بزرگان دین جہاں ایک طرف مدارس کی باگ ڈور سنبھالے انہیں ترقی کے راستے پر دوڑاتے رھے وھیں دوسری طرف دینی مجلسوں اور جلسوں کا انعقاد کر امت کو تباھی کے راستہ پر جانے سے بچنے کی تلقین کرتے رھے حضرت والا تھانوی نوراللہ مرقدہ نے تو صاف لفظوں میں کہ دیا “کالج سے بہتر فالج ھے” اسلئے کہ فالج میں تو جان جانے کا خطرہ ھے پر یہاں تو ایمان جانے کا خطرہ ھے ھمارے بڑے تو قریہ قریہ شہر شہر جاکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغامات اور انکی سنتوں کو عام کرتے رھے پر افسوس صرف یہی نہیں کہ قوم نے علماء سے بے اعتنائی کی بلکہ انہوں نے مغربی تعلیم کے ساتھ ساتھ انکی تہذیب و نظریات کو بھی اپنے گھروں میں راستہ دے دیا پھر نتیجہ تو وھی آنا تھا جو آکر رھا اس سے پہلے بھی یہ بات لکھی جا چکی ھے کہ مغربی تعلیم کبھی بھی اسلامی نتیجہ نہیں دے سکتی ۔
اس سلسلہ میں ایک کوتاھی یقینا ھم سے ھوئی وہ یہ کہ ھم نے مخلوط تعلیم کے مضرات سے لوگوں کو آگاہ تو کیا پر بچیوں کے لئے الگ سے تعلیم کا انتظام نہ کرسکے اب ضرورت اس بات کی آن پڑی ھیکہ طالبات کیلئے ایسی تعلیم گاھوں کو یقینی بنایا جائےجہاں وہ مکمل اسلامی ماحول میں عصری تعلیم حاصل کرسکیں اسکے لئے خود مسلم تنظیموں ملی قائدین و عمائدین اور اھل ثروت حضرات کو آگے آکر اس اھم ضرورت کی تکمیل کرنی ھوگی نسواں کی دینی درسگاھیں کچھ حد تک دینی تعلیم کو فروغ دینے میں کامیاب رھی ھیں عصری تعلیم کو دینی ماحول اور اسلامی تربیت کے ساتھ ھر قسم کے اختلاط سے پاک رکھتے ھوئے قوم کی بچیوں تک پہونچا دینا امت کی بڑی کامیابی ھوگی۔

والد محترم حضرت محسن الامت علیہ الرحمہ بچیوں کی تعلیم کے سلسلہ میں ھمیشہ فکر مند رھے اللہ کا شکر ھے وہ خواب بھی شرمندۂ تعبیر ھوچکا ھے ماضی قریب سے مدرسہ اسلامیہ عربیہ بیت العلوم میں بچیوں کی دینی و عصری تعلیم کا سلسلہ بھی شروع ھوچکا ھے دعاء فرمائیں یہ سلسلہ امت کیلئے مفید اور منتظمین کیلئے آخرت میں ذخیرہ ھو ۔
لیکن یہ مسئلہ ایک دو اسکول اور ایک دو فرد کی کاوشوں سے حل ہونے والا نہیں اسکے لئے بڑے پیمانہ پہ کام کرنے کی ضرورت ہے قوم کے صاحب ثروت اور دانشور طبقہ کو بڑی قربانی دینی ہوگی تبھی اس مسئلہ پے قابو ممکن ہے ساتھ ہی سرپرستان دختران کو اپنی بچیوں کی تربیت پہ خاص دھیان دینا ہوگا ورنہ تو پوری قوم کی عزت سرِدار ہے اللہ تعالی امت مسلمہ کی بہن بیٹیوں کی اس فتنہ سے حفاظت فرمائے اور جملہ مسلمانوں کو عقل سلیم عطاء فرمائے…….آمین
ajwadullahph@gmail.com

Previous articleاردو خاکہ “کچھ شگفتگی کچھ سنجیدگی” – ایک مطالعہ (قسط اول) از: ڈاکٹر محمد سراج اللہ تیمی
Next articleنصراللہ نصر ” اذکارِ ادب ” کے آئینے میں از: عظیم انصاری

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here