غزل

0
57

وہ مری انا کے پرند سب، ترے دل دیار چلے گئے
ترے پاس دل ہی نہیں گیا، سبھی اختیار چلے گئے

کہاں لوگ اب وہ شجر صفت، کہاں اب کسی کو وفا کی لت
وہ وفا کی رسم چلی گئی، وہ وفا شعار چلے گئے

وہی اہلِ لطف و کرم کا غم، وہی قحطِ پرسشِ غم کا غم
مرے غم کے قہر کے خوف سے مرے غم گسار چلے گئے

کبھی جھانک غرفۂ ذات سے، کبھی پوچھ راہِ حیات سے
کئی خوش خرام گزر گئے، کئی شہسوار چلے گئے

کسی زعم کے ہیں اسیر سب، سو عجیب رنگِ سخن ہے اب
جنھیں پاسِ حرمتِ فن رہا، وہ غزل نگار چلے گئے

گئے بت بنے ترے سامنے، ترے نرم ہاتھ کو تھامنے
کبھی فرطِ ضبط سے رک گئے، کبھی بے قرار چلے گئے

کہاں اب وہ راغبِ خستہ جاں، کہیں اور اٹھّے گا اب دھواں
ترے کوئے قریۂ فخر سے ترے افتخار چلے گئے

افتخار راغب
دوحہ قطر

Previous article*غیر مسلموں کی دی ہوئی کھانے پینے کی چیزوں کے استعمال کا حکم
Next articleمرثیہ بر وفات حضرت مولاناولی رحمانی

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here