غزل از: افتخار راغبؔ

1
156

کس قدَر دیوار اٹھا دی آپ نے
گھر کی کیا حالت بنا دی آپ نے

جسم سے سب کے دھواں اٹھنے لگا
آگ یہ کیسی لگا دی آپ نے

کیا تھا امرِ واقعہ عالی جناب
اور کیا پھیری مُنادی آپ نے

جو بھڑکتے ہیں مکان پہچان کر
ایسے شعلوں کو ہَوا دی آپ نے

جن چراغوں میں تھا سچّائی کا نور
اُن کی لو کتنی گھٹا دی آپ نے

کب سنیں گے عاشقوں کے من کی بات
اپنے من کی تو سنا دی آپ نے

کچھ عمل کے پُل بھی تو اب باندھیے
قول کی گنگا بہا دی آپ نے

آپ بھی اپنی جگہ پر ہیں جناب
کس طرح دوری بڑھا دی آپ نے

کھولیے آنکھوں کی پٹّی کھولیے
دیکھیے کس کو سزا دی آپ نے

جانے کیا راغبؔ ہو اب ان کے بغیر
کر لیا ہے خود کو عادی آپ نے

Previous article“بزم اردو پورنیہ” کی اشاعت ایک خوش آئند قدم از: عبدالمنان، دہلی
Next articleبابائے اردو ” مولوی عبدالحق صاحب “ ایک تعارف: از:سید نوید جعفری حیدرآباد دکن

1 COMMENT

  1. کچھ عمل کے پل بھی تو اب باندھیے
    قول کی گنگا بہا دی آپ نے۔
    کیا کہنے
    بہت عمدہ

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here