غالب کا “سلام”

0
173

نسیم اشک

اصناف ادب میں سلام ایک اہم رثائی صنف سخن ہے۔شعرائے لکھنؤ کے یہاں یہ صنف زیادہ پائی جاتی ہے۔فارسی اور عربی میں بھی اس کے خوبصورت نمونے ملتے ہیں۔اردو میں اس صنف کو کم عروج حاصل نہیں ہوا بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ اردو میں اس صنف کو مقبولیت ملی۔رثائی ادب کی یہ صنف اطہار اہل بیت کی مدح میں لکھی جاتی ہے جس میں ممدوحین پر عقیدت و محبت کے پھول نہایت ادب و احترام کے ساتھ پیش کئے جاتے ہیں۔ یہ صنف غزل کے بہت قریب ہے۔غزل کی طرح مقطع،مطلع اور اشعار ہوتے ہیں ہئیتی اعتبار سے بالکل غزل دکھتی ہے پر موضوع رثأئ ہوتا ہے مگر ضروری نہیں کہ اس صنف کو کسی ایک مخصوص ہیئت پر لکھی جائے نظم معراء کے ہئیت میں بھی سلام لکھے جاتے ہیں ۔مصائب اہل بیت، آئمہ اطہار کی فضیلت و مصائب ،واقعات کربلا کو نظم کیا جاتا ہے لہذا اردو کے بڑے شاعروں نے اس صنف سخن میں طبع آزمائ کی.میرانیس،مرزا دبیر،اقبال ،جوش،میر تقی میر،مصحفی جیسے قد آور شعراء نے اس صنف میں اپنا خوبصورت کلام پیش کیا۔ اور عمدہ سلام بھی لکھا۔انیس نے جذبات سے پر سلام لکھا ہے۔شعراء کرام جب ممدوحین کی تعریف کرتے ہیں تو الفاظ کے گوہر لٹاتے ہیں۔سلام کا اردو ادب میں اہم مقام ہے۔اس پسند اور نا پسند نے،بےجا تنقیدات نے کتنے اصناف کو تہہ خاک کردیا۔دوسری زبان کی لیٹریچر پر جان چھڑکنے والے اپنے ادب سے اتنا بیزار کیوں ہوتے ہیں؟ جب کہ دوسری زبان والے اپنا سرمایہ اکٹھا کرنے میں لگے ہوئے ہیں اور ہم جو سرمایہ ہے اسے اپنی ذاتی تجزئے کی بنا پر نظر انداز کر رہے ہیں۔اسد ضرورت ہے تو اس بات کی ہے کہ جو اصناف باقی بچے ہوئے ہیں ان پر کام ہو،لکھنے پڑھنے کی فضا قائم کی جائے۔

مرزا غالب اردو غزل کے سر کا تاج ہیں۔غالب جیسا ظریف شاعر غالباً بعد غالب پیدا نہ ہوا اور پیدا ہوا تو زمانے پر غالب کے جیسا غالب نہ ہوسکا۔غالب کی یہ سب سے نمایاں خصوصیت ہے۔ غالب نے اہل بیت کی محبت میں بہت خوبصورت سلام لکھا ہے۔

سلام کی شروعات صبر و رضا کے پیکر حضرت امام حسین کی خدمت میں سلام کے لفظ سے شروع ہوتا ہے۔شاعر چونکہ مقام اہل بیت سے بخوبی واقف ہے اس لئے وہ سوچتا ہے کہ وہ ان کو کس نام سے،کس لقب سے یاد کریں۔دنیا کے تمام تر مرتبے خاکی اور فانی ہے۔ان بے توقیر القاب اس عظیم الشان شخصیت کی شایان شان نہیں ہے۔وہ بادشاہوں کا بادشاہ ہیں۔اس لئے وہ محسوس کرتے ہیں کہ انہیں خامس آل عبا ہی کہیں۔راہ خدا کا رہبر ہونا بڑے مرتبے کی بات ہے ایسی رہبری پر لاکھوں سلام کہ جس نے راہ خدا کو لہو کے چراغوں سے روشن کیا۔غالب کہتے ہیں کہ وہ خدا کا بندہ ہیں مگر بندوں کے خدا وند ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ جس نے بندوں کی حاجت روائی کی وہ کوئی عام بندہ نہیں ہوسکتا۔حضرت امام حسین نے انسانیت کو جو سبق میدان کربلا میں سکھایا اور خود عمل کرکے دکھایا اس کی دوسری مثال ہے ہی نہیں۔شجاعت اور صبر کے ساتھ صلہ رحمی کی جو مثال پیش کی یہ بس انہیں کا کام تھا گویا خدا نے اپنے عشق کی ایسی آزمائش نہ کسی سے لی اور نہ کوئی دے سکتا تھا۔شاعر نے انہیں فروغ جوہر ایماں،شمع انجمن کبریا کے القاب سے یاد کیا ہے ۔غالب کہتے ہیں کہ جب تک سردار جنت اجازت نہ دیں کوئی جنت میں داخل نہیں ہو سکتا۔ستم ہے کہ اہل ستم نے انکے مقام و مرتبے کو نہ سمجھا غیروں نے ان سے فیض پایا اور محبت و عقیدت کا برملا اظہار کیا۔ وہ تشنہ لب شہید جس کے ماتمیوں کے لئے جنت کی نہر رواں ہے۔حیف کہ جن و انس و ملک جس بات کو بجا سمجھتے ہیں اسے اہل باطل نہ سن سکیں نہ سمجھ سکیں۔شاعر زائرین کے قدموں کی دھول کو بابرکت کہا ہے بیمار انسانیت کی دوا اگر کہیں ہے تو وہ در حسین پر ہے ورنہ دنیا میں ایسی اور کوئی دوا نہیں جو بیمار دل کو شفا عطا کر سکے۔

حضرت حسین نے صبر و رضا کی جو عظیم مثال پیش کی ہے تاریخ کل میں تنہا ہے۔ان کے صبر ورضا کی تعریف کرنے کی جسارت عام انسان نہیں کرسکتا کیونکہ اس صبر کی داد پیش کرنے کے لئے ہمارے منھ میں ویسی زبان بھی ہونی چاہئے ہم عاصیوں کی زبان اس صبر کی داد قطعئ طور پر نہیں دے سکتا جس کی داد نبی اور اسد اللہ دیں وہ ذات انسان سے ممکن نہیں۔
غالب کے مطابق اہل یقیں کے لئے حسین ابن علی راہ حق کا پیشوا ہیں اور طالبان خدا کے لئے رہنما ہیں۔وہ تشنہ لب جو تپتے ریگزاروں میں بھی گام فرسا رہا اور راہ حق میں سارا کنبہ لٹا دیا ایسا سخی اور کہاں؟ایسی شجاعت اور کہاں ؟بس یہ شجاعت آل نبی کے لئے تھی۔بعد سانحہ کربلا کے دشمنان حسین نے اسیر قافلے کو عابد بیمار کے ہمراہ پیدل چلنے پر مجبور کیا اور امام کو بیڑیوں میں قید کرکے،گلے میں طوق ڈالے ننگے پاؤں چلنا پڑا۔
سلام کے آخری حصے میں غالب نے اہل بیت سے اپنی والہانہ محبت کا برملا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جس نے علی سے بغض رکھا اور ابن علی کی دشمنی سینے میں رکھی وہ کیوں کر بھلا ہوسکتا ہے لہذا اہل ستم کو برا کہنے میں انہیں کوئی تامل نہیں ہے۔

غالب جیسا بلند پایہ شاعر جو ناز سخن بھی ہیں اور سخن کی جان بھی ہیں انہوں نے اس سلام میں نہ صرف اپنی عقیدت کا اظہار کیا ہے ۔اس سلام میں لفظوں کی ہنر کاری غالب کی شان اظہار کا پتہ دیتی ہے۔سلام میں شامل فارسی کے الفاظ کلام کی خوبصورتی کو مذید نکھارتے ہیں۔سلآم کے ابتدائی نمونوں میں لفظ” سلام” کو بطور ردیف اکثر و بیشتر استعمال کیا گیا ہے مگر غالب کے اس سلام کی ردیف” کہیں اس کو” موسیقیت کے تار کو چھیڑ دیتا ہے۔اردو شاعری میں سلام بہت ملیں گے ان سب میں غالب کا یہ سلام اپنی الگ شناخت رکھتا ہے۔کلام کے مطالعہ سے دل میں جذبۂ عقیدت موجیں مارنے لگتا ہے اور غالب کے کلام پر ان کی بادشاہت کے اعتراف میں ہاتھ کھڑے ہوجاتے ہیں۔غالب کے اس سلام میں لفظیات کا اہتمام دیکھیں۔
خامس آل عبا،رہبر راہ خدا،فروغ جوہر ایماں،شمع انجمن کبریا،شافع روز جزا،جوہر تیغ قضا کس خوبصورتی سے حضرت حسین کی شخصیت کو پیش کرنے کے لئے کلام میں استعمال کیا گیا ہے۔

غالب کو اظہار کے اسالیب پر قدرت حاصل ہے وہ اشعار میں دلکشی پیدا کرنے کے ہنر سے واقف ہیں،موزوں ترین الفاظ کے ساتھ خوبصورت تراکیب تراشنے کا ہنر بھی رکھتے ہیں۔غالب کے تراکیبوں میں تہداری بھی ملتی ہے اور جمالیاتی احساس بھی۔شعر کی بلاغت اور تاثیر میں اضافے کے سبب کچھ کیفیتوں کے بیان میں تلخیص سے کام لیتے ہیں یا اشارہ کر کے چھوڑ دیتے ہیں۔

اس سلام میں غالب کہیں اپنی بات ،اپنے خیالات و نظریات کو دعوے کےساتھ پیش کرتے ہیں تو کہیں قارئین پر فیصلہ چھوڑ دیتے ہیں۔

خدا کی راہ میں شاہی و خسروی کیسی
کہو کہ رہبر راہ خدا کہیں اس کو

نبی کا ہو نہ جسے اعتقاد کافر ہے
رکھے امام سے جو بغض کیا کہیں اس کو

اس خوبصورت سلام کے چند حسین اشعار ملاحظہ فرمائیں۔

ہمارا منہ ہے کہ دیں اس کے حسن صبر کی داد
مگر نبی و علی مرحبا کہیں اس کو

وہ ریگ تفتۂ وادی پہ گام فرسا ہے
کہ طالبان خدا رہنما کہیں اس کو

بہت ہے پایۂ گردِ رہ حسین بلند
بقدر فہم ہے گر کیمیا کہیں اس کو

یزید کو تو نہ تھا اجتہاد کا پایہ
برا نہ مانئے گر ہم برا کہیں اس کو

امام وقت کی یہ قدر ہے کہ اہل عناد
پیادہ لے چلیں اور نا سزا کہیں اس کو

ہولڈنگ نمبر10/9گلی نمبر3
جگتدل 24 پرگنہ مغربی بنگال
فون۔9339966398

Previous articleمغرب کی وادیوں میں گونجی اذاں ہماری
Next articleبہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کے چیئرمین کے متعلق اہم فیصلہ!

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here