” عکس مطالعہ ” میرے مطالعہ کی روشنی میں از: قمر اعظم صدیقی

0
93

بھیروپور ، حاجی پور ، ویشالی ، بہار

” عکس مطالعہ ” ڈاکٹر عارف حسن وسطوی کی تیسری تصنیف ہے۔جوکہ ٢٠٢٠ء میں شائع ہو کر منظرعام پر آئ ۔
یہ کتاب مختلف تنقیدی و تاثراتی مضامین کا مجموعہ ہے۔ اس کا ٹائٹل پیج بھی نام کی مناسبت سے ڈیزائن کیا گیا ہے ۔ کھلی ہوئ کتاب اور اسکے بالکل قریب میں جلتی ہوئ قندیل جو اپنے آخری پڑاؤ پر ہے اور عنقریب بجھنے والی ہے۔ جس سے یہ اخز ہوتا ہے کہ قندیل کے ساتھ مطالعہ بھی آخری پڑاؤ میں ہے۔ یہ کتاب قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے مالی تعاون سے شائع کی گئی ہے۔ 264 صفحات پر مشتمل اس کتاب کی کمپوزنگ کر یٹو کمپیوٹر خزانچی روڈ پٹنہ ، اور طباعت روشان پرنٹرس نئ دہلی سے کرائ گئ ہے۔

مصنف نے اپنے دادا مرحوم کےنام اس کتاب کو منسوب کیا ہے ۔ عارف حسن نے اپنی پہلی کتاب ” داؤد حسن زبان خلق کے آئینے میں ” دادا مرحوم کی یاد میں ہی ترتیب دی تھی ۔صفحہ نمبر 4سے 6تک مضامین کی فہرست ہے ۔ کتاب کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔
پہلے حصہ میں شخصیات پر لکھی گئ مضامین کو یکجا کیا گیا ہے ، جبکہ دوسرے حصہ میں کتابوں پر لکھے گۓ تبصرے ہیں۔ اور اخیر میں
مسائل اردو کے تعلق سے ٢ مضامین ہیں۔
“حرف افسر” میں صفحہ ٩ پر معروف ادیب و محقق جناب ابراہیم افسر لکھتے ہیں ” کئ مرتبہ ایسا دیکھنے میں آتا ہے کہ صاحب مضمون کسی انسان اور اس کے کارناموں کی اتنی تعریف کر دیتا ہے کہ وہ مضمون لفاظی کے سوا کچھ نہیں رہتا ۔ لیکن موصوف نے( عکس مطالعہ) میں اعتدال سے کام لیا ہے ۔ ان کے مضامین صحت مند تنقید کی کسوٹی پر کھرے اترتے ہیں۔ ” پیش لفظ میں صفحہ ١٢ کے آخری پیراگراف میں عارف حسن وسطوی نے خود بھی اس بات کا ذکر کیا ہے کہ ” ان تمام مضامین میں جو بات مشترک ہےوہ یہ کہ کسی بھی فنکار کے فن کا مطالعہ غیر جانب دارای کے ساتھ کیا گیا ہے۔نہ تو مداحی میں آسمان زمین کو ایک کیا گیا ہے اور نہ ہی جانبدار بن کر کسی کے فن کی بے حرمتی کی گئ ہے۔ بلکہ ایک اعتدال کی راہ ہر جگہ روا رکھی گئ ہے۔ یہی اعتدال اس کتاب کی خصوصیت ہے۔ ”

صفحہ ١٣ کے آخیر پیراگراف میں عارف صاحب نے صداقت کے ساتھ اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ” یہ میری خوش بختی ہے کہ والد گرامی انوار الحسن وسطوی کے پیہم اصرار اور تقاضے کی وجہ سے میری ادبی سرگرمیاں جاری ہیں۔ اگر مجھے ان کی معاونت حاصل نہ ہوتی تو شاید مضامین کا یہ مجموعہ منظرعام پر نہ آ پاتا۔ میں اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہوں کہ والد گرامی کا سایہ تا دیر ہمارے سر پر قائم رہے آمین۔ ” عارف حسن نے اپنے والد محترم کے تعلق سے اپنے اظہار خیال میں بہترین پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ کسی بھی قلمکار کو حق گوئ کے ساتھ اس بات کا اعتراف کرنا چاہیے کہ اس کی صلاحیت ، قابلیت اور شہرت میں کس نے اسے رہنمائی فرمائ ۔ عارف حسن کے والد انوار الحسن وسطوی کی شخصیت ادبی دنیا میں محتاج تعارف نہیں ہے۔ اور والد کی سرپرستی نے ہی انہیں اس لائق بنایا ہے کہ موصوف کی ٣ کتابیں منظرعام پر آچکی ہے ۔جس کا اعتراف ڈاکٹر عارف حسن نے حق گوئ کے ساتھ کیا ہے ۔

صفحہ 16 تا 146 میں 18مضامین شامل ہیں۔ جس میں شاد عظیم آباد کی غزل گوئی، مجتبیٰ حسین : تیری یاد شاخ گلاب ہے, پرویز شاہدی کی شاعری، شین مظفر پوری کی انشائیہ نگاری ، کلیم عاجز کی مکتوب نگاری ، مناظر عاشق ہرگانوی کی انشائیہ نگاری ، سید عبد الرافع اور ان کی صحافتی خدمات، پروفیسر عبد المغنی : شخصیت اور جہتیں, مولانا آزاد کا پھول پودوں سے شوق(غبار خاطر کی روشنی میں) , کرشن چندر کا افسانہ “کالو بھنگی” ، مولانا حسرت موہانی اور جنگ آزادی، مولانا رضوان القاسمی : ایک جوہر کمیاب شخصیت ، پروفیسر عبدا لمغنی کی نثر نگاری ، پروفیسر قمر اعظم ہاشمی کی یاد میں ، جدید غزل گوئی کا سلطان : سلطان اختر ، ذکی احمد شخصیت اور شاعری ، احمد اشفاق کی شاعری، بختیار احمد کی انشائیہ نگاری : ہر خواہش پہ دم نکلے ‘ کے حوالے سے”

” شاد عظیم آبادی: بحیثیت غزل گو” میں عارف حسن صاحب شاد عظیم آبادی کو ان کے اس شعر سے مخاطب کرتے ہوۓ لکھتے ہیں۔

” اے شاد کھینچ لیتا ہے بے اختیار دل
کیا پوچھنا کلام ترا عارفانہ ہے۔ ”

شاد عظیم آبادی دبستان عظیم آباد کے سب سے بلند قامت نمائندہ شاعر ہیں۔ شاد نے غزل، مرثیہ، مثنوی ،قصیدہ، رباعی جیسی اصناف میں طبع آزمائی کی ہے ۔ لیکن شاد کی انفرادیت ان کی غزل گوئی میں سب سے نمایاں ہے ۔ ہر چند کہ شاد کے مرثیے بھی اردو مرثیوں کے درمیان انفرادیت رکھتے ہیں ۔ شاد بے حد پر گو شاعر ہیں۔ دبستان دہلی کے رنگ و آہنگ اور دبستان لکھنو کے شوکت الفاظ کا حسین امتزاج شاد کے یہاں پورے آب و تاب کے ساتھ موجود ہے ۔ ایک کامیاب فنکار کی طرح شاد نے دبستان دہلی اور دبستان لکھنو کی خوبیوں اور کمزوریوں کو اچھی طرح پرکھا اور اپنی شاعری میں ایسا توازن قائم کیا جس کے نتیجے میں نہ تو وہ غزل کے بنیادی مزاج سے الگ ہوئے اور نہ ان کے یہاں موضوعات کی کمی واقع ہوئی۔
شاد نے روایتی انداز میں عشق و عاشقی، محبوب کی بے وفائی اور ظلم و جبر کا چرچا نہیں کیا ہے ۔ ان کی شاعری میں یہ استعارے ضرور آئے ہیں لیکن شاد نے ان استعاروں کو ایک اعتدال بخشا ہے۔ (ص-16)
معروف شاعر و ادیب ڈاکٹر کلیم احمد عاجز کے تعلق سے عارف حسن کے تاثرات صفحہ نمبر 49 پر ملاحظہ فرمائیں ۔

“کلیم عاجز کے ظاہر و باطن پر مذہبیت غالب ہے ۔ وہ دین کے داعی ہیں ۔ ان کا داعیانہ مزاج صرف ایک جماعت کی سرگرمیوں تک محدود نہیں ہے بلکہ ان کی تحریروں میں بھی دین کی دعوت جابجا ملتی ہے ۔ غرض کہ جہاں کہیں انہیں گنجائش نظر آتی ہے وہ اسلامی شعار کی وضاحت کر دیتے ہیں ‌۔ جگن ناتھ کوشل کے نام ایک خط میں لکھتے ہیں : کل آپ کا خط ملا جب میں تین روز کے لیے مسجد میں اعتکاف کرنے کو آرہا تھا ۔ اعتکاف کہتے ہیں چند روز کے لیے دنیا سے بالکل علاحدگی اختیار کرنے کو ۔ ہر طرح کے تعلق اور مشغلے سے الگ ہو کر صرف دھیان، تپسیا اور عبادت میں لگانا — دل کو دنیا سے خالی کرنا بہت مشکل ہے اور ہمارے مذہب میں دینداری اس کو کہتے ہیں کہ دنیا میں پوری طرح رہ کر جسم کو دنیا میں مشغول رکھ کر دل کو دنیا سے خالی رکھا جائے ۔ یعنی دنیا کی محبت دل میں نہ آئے ۔ ” (ادیوانے دو ۔ ڈاکٹر کلیم عاجز – ص 66 )

صفحہ 94 پر مصنف نے ” کرشن چندر کے افسانے کالو بھنگی ” سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کچھ اس انداز میں کیا ہے۔
” افسانہ محض کالو بھنگی سے اظہار محبت تک محدود نہیں ہے ، بلکہ انسانیت سے محبت کا پیغام ہے ۔ اس میں دبے کچلے طبقات کی زندگی سنوارنے کے خواب ہیں ۔ ذات پات کی لعنت کے خلاف احتجاج کی آواز ہے ۔ سماجی نابرابری و ناہمواری کو دور کرنے کا عہد ہے ۔ کہانی کا اختتام بھی بہت خوبصورت ہوا ہے ۔ کرشن چند نے اجتماعی شعور کو بیدار کرنے کے لیے پوری انسانیت کو جھنجھوڑا ہے ۔”
صفحہ نمبر107 پر ڈاکٹر عارف حسن پروفیسر عبدالغنی کی نثر نگاری سے متعلق لکھتے ہیں ” پروفیسر عبدالغنی کی نثری تحریروں کا بڑا ذخیرہ اردو ادب کو آج دستیاب ہے ۔ قطعیت ان کے اسلوبِ کا نمایاں وصف ہے ۔ وہ حد درجہ اعتماد م اور یقین کے ساتھ اپنی بات کہتے ہیں۔ ان کے افکار و نظریات بزات خود ان کی حد تک حرف آخر کا درجہ رکھتی ہیں ۔ جس میں کسی ردوبدل یا ترمیم کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی ہے ۔ اس معاملے میں نہ تو وہ کسی سے مرعوب ہوتے ہیں اور نہ مصالحت کے لیے تیار ۔ ان کا فیصلہ اٹل ہوتا ہے ۔ انہیں اپنی باتوں پر ایک عالم سا اعتماد ہے ۔
چند مثالیں ملاحظہ فرمائیں۔

” فن برائے فن کوئی چیز نہیں ۔ یہ فقط مریضانہ زوال پسندوں کا ایک کھیل ہے ۔ عظیم ادب فکر و فلسفہ اور نظریہ وعقیدہ سے خالی نہیں ہوتا ۔ جمالیات بلا اخلاقیات واہیات ہے ۔ ادب نام ہے جمالیات واخلاقیات کے متوازن مرکب یعنی فکر و فن کی ہم آہنگی کا ،جس کا محرک جو بھی ہو مقصود تزئین حیات اور ارتقاء انسانیت ہے۔ یہ دانشوری ہے، جو لطف سے خالی نہیں ۔ ادب لطیف ترین فن ہے اور تہذیب کا بہترین اظہار۔ ”
(اردو ادب میں دانشوری کی روایت ۔ انداز تنقید : ص ۔ 107)

ایک چھوٹی سی تحریر میں تمام مضامین پر اظہار خیال ممکن نہیں اس لیے صرف اقتباس سے کام لیتے ہوۓ آگے کی جانب بڑھتا چلوں اور دوسرا حصہ جو کہ تبصرے پر مشتمل ہے اسی جانب آپ کو لیتا چلوں ۔
دوسرے حصے میں ١٨ تبصرے شامل ہیں جس کی تفصیل قارئین کی نزر کرتا ہوں ۔

” اقبال: شاعر و دانشور” ( ڈاکٹر ممتاز احمد خاں)

“حرف آگہی” ( مفتی محمد ثناء الہدی قاسمی )

” امعان نظر” ( بدر محمدی )

” ڈاکٹر ممتاز احمد خاں ایک شخص ایک کارواں( ڈاکٹر مشتاق احمد مشتاق)

” مناظر عاشق ہرگانوی کی نعت گوئی میں ندرت فن ( ڈاکٹر زہر اسمائیل )

” مولانا ابوالکلام آزاد اور ان کا نظریہ تعلیم ” ( ڈاکٹر احسان عالم )

” سید اجمل فرید : یادیں باتیں” ( ڈاکٹر منصور خوشتر )

” بہار میں اردو صحافت: سمت و رفتار” ( ڈاکٹر منصور خوشتر )

” مناظر عاشق ہرگانوی کا ناول شبنمی لمس کے بعد ” ( پروفیسر مناظر عاشق ہرگانوی )

” متاع لوح و قلم ” ( ڈاکٹر ممتاز احمد خاں )

” بدر محمدی کی شاعری خوشبو کے حوالے سے ” ( بدر محمدی )

” انوار قمر ” ( مولانا سید مظاہر عالم قمر )

” صدبرگ ” ( سید مصباح الدین احمد )

” سخن ہائے گسترانہ ” ( بختیار احمد )

” صدائے گوہر ” ( ڈاکٹر محمد گوہر )

” سہرے کی ادبی معنویت ” ( ڈاکٹر امام اعظم )
” اردو ادب – ترقی پسندی سے جدیدیت تک ” ( پروفیسر ڈاکٹر توقیر عالم )

“خیال خاطر ” ( مولانا رئیس اعظم سلفی)
تو یہ تھی دوسرے حصے کی مختصر سی جھلک
کتاب کا تیسرا اور آخری حصہ جو کہ “مسائل اردو ” کے تعلق سے ہے اس میں مصنف کے نظریات کی چند مثالیں ملاحظہ فرمائیں۔
” عوامی سطح پر اردو زبان کی اس صورتحال کے لئے ہم دو الگ الگ نظریات کو پاتے ہیں ۔ ایک وہ لوگ ہیں جو احساس کمتری کے شکار ہیں ۔ ان کے نزدیک اردو زبان کا استعمال شرم کی بات ہے۔ وہ ایسا سوچتے ہیں کہ اگر میرے ہاتھوں میں اردو کا کوئی اخبار یا رسالہ ہوگا تو دوسرے دیکھنے والے کیا تاثر لیں گے ؟ اگر اسکول و کالج میں اردو پڑھوں گا یا پڑھوں گی تو دوسری زبان کے طلباء یا اساتذہ مجھے کمتر تصور کریں گے۔ ایسے لوگ اردو سے کنارہ کشی اختیار کرنے میں ہی عافیت محسوس کرتے ہیں ۔ دوسرے وہ لوگ ہیں جو احساس برتری کے شکار ہیں ۔ ایسے افراد اردو کو حقارت بھری نگاہ سے دیکھتے ہیں – ان کا مفروضہ ہے کہ اردو تو کمزور لوگوں کی زبان ہے – جو لوگ دوسری زبانوں میں مہارت نہیں پیدا کر سکتے ہیں وہ اردو پڑھیں !!! غرض کے اردو کو بیک وقت ان دو صورتوں کا سامنا ہے اور یہ دونوں صورتیں کس زبان کے فروغ میں دشواریاں پیدا کرتی ہیں۔ ” ( ص – 255/256)
دوسری جگہ مصنف اردو کے مثبت پہلو پر اپنا اظہار خیال کچھ اس انداز میں کرتے ہیں
” اردو صرف ایک زبان نہیں ہے یہ ایک تحریک بھی ہے اور تہذیب بھی ہے – تحریک اس طرح کہ اسی زبان نے ” انقلاب زندہ باد ” کا نعرہ دے کر ملک کی آزادی کی لڑائی میں ایک نیا جوش اور نیا ولولہ پیدا کر دیا تھا – تہزیب اس طرح کہ ایک بڑا مذہبی اور تہذیبی ورثہ اس زبان میں محفوظ ہے ۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اس ورثہ کو امانت سمجھ کر آنے والی نسلوں تک اور بھی خوبصورت انداز میں منتقل کریں ۔ ہمیں اس بات پر فخر ہونی چاہیئے کہ ہم ایک مہزب زبان کے ترجمان ہیں۔ ” (ص – 257 )

ڈاکٹر منصور خوشتر چیف اڈیٹر دربھنگہ ٹائمز نے عارف حسن کے تعلق سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوے لکھتے ہیں نئ پیڑھی کے انہیں پڑھنے لکھنے والے نوجوان قلم کاروں میں ایک نام ڈاکٹر عارف حسن وسطوی کا ہے ۔ عارف حسن وسطوی نے اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اردو زبان و ادب کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا ہے۔ ”
آخری چند جملے میں منصور خوشتر لکھتے ہیں کہ “عارف حسن وسطوی کا قلم جس تیز رفتاری کے ساتھ شاہ راہ ادب پر گامزن ہے ، اس سے امید ہے کہ وہ اردو دنیا میں اپنی شناخت مستحکم اور ویشالی کا نام مزید روشن کریں گے ۔ ” عکس مطالعہ ” کی اشاعت کے لیے میں انہیں صمیم قلب سے مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔ ” ( بیک فلپ کور سے )

اس کتاب کی اشاعت میں بہترین قسم کے کاغز کا استعمال ہوا ہے ۔ دو تین جگہوں پر کمپوزنگ کی غلطیاں در آئ ہیں ۔ فرنٹ ٹایٹل پیج کو دلکش اور خوبصورت بنانے کی ضرورت تھی ، بیک پیج پہ بھی مصنف کی تصویر صاف و شفاف نہیں نظر آتی ہے ۔ بالکل ڈارک دکھتا ہے اسے بھی نمایاں اور خوبصورت کرنے کی ضرورت تھی۔
میں سمجھتا ہوں ڈاکٹر عارف حسن وسطوی کی یہ کتاب تحقیقی میدان میں کام کر رہے طالب علموں ( ریسرچ اسکالر)کے لئے بہت ہی مفید ثابت ہوگی ۔ ان کے علاوہ تمام ادبی حلقوں میں قبول و مقبول ہو کر قاری کے علم میں اضافہ کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔ یہ کتاب حسن منزل آشیانہ کالونی,روڈ نمبر 6 باغملی حاجی پور، بک امپوریم (اردو بازار ) سبزی باغ پٹنہ 4 ، ممتاز اردو لائبریری ساجدہ منزل باغملی،حاجی پور ،ویشالی اور نور اردو لائبریری حسن پور گنگھٹی ، بکساما، ویشالی سے دستیاب کیا جا سکتا ہے۔ کتاب کے سلسلے میں میں مزید معلومات کے لیے مصنف کے موبائل نمبر 7654443036 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے ۔

Previous articleتحقیقی ذوق پر امن معاشرے کا ضامن از: ڈاکٹر ظفر دارک قاسمی
Next articleبھارت کی ہیں شان بنکر اور کسان! از : جاوید اختر بھارتی

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here