تذکرہ عرب کے چاند کا: ازولادت تانبوت

0
198
تذکرہ عرب کے چاند کا:          ازولادت تانبوت

عبدالوہاب قاسمی

سید الانبیاء محمد ﷺ آخری نبی ہیں۔ آپ ﷺ کے آتے ہی نبوت ورسالت کا درورازہ بند ہو چکا ہے۔ آپ ﷺ خاتم الانبیاء ہیں۔ آپ ﷺ فخر رسل ہیں۔آپ ﷺ کی زندگی کا ہر پہلو روشن ہے۔ ہر ادا تا بندہ ہے اور ہر گوشہ منور ہے۔ آپ ﷺ کو رحمت للعالمین کا حسین لقب عطا کیا گیا،آیت:
’’وماارسلکنک الارحمۃ للعلمین‘‘آپ ﷺ ہی کی شان اقدس میں نازل ہوئی۔’’ورفعنالک ذکرک‘‘سے آپ ﷺ کے مر تبے کی تعیین کی گئی۔’’وانک لعلی خلق عظیم‘‘کے ذریعے آپﷺ کے اخلاق کو آشکار کیا گیا۔’’لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ‘‘کے خوبصورت پیرائے میں آپﷺ کو ائیڈیل اور پوری انسانیت کے لیے نمونہ قرار دیا گیا۔
آپﷺ آئے، دنیا میں بہار آگئی۔ کلیوں کو ہنسی اور غنچوں کو شگفتگی مل گئی۔ گلشن کو اس کا حسن و جمال عطاہوا۔تن مر دہ میں نئی روح دوڑ گئی۔ دم توڑ تی انسانیت نے زندگی پائی۔ جاں بلب دنیا کو آپ ﷺ کی شکل میں مسیحاملا۔ان کے درد کا درماں ہوا،ظلم مٹ گیا۔ نا انصافی کی پھیلتی سر حدوں پر روک لگ گئی۔ دنیا کو امن و آشتی کا پیغام ملا۔ عدل و مساوات کا عملی درس ملا۔ جو حقوق دنیا چھین چکی تھی، اس کی ادائے گی کی طرف دوڑنے لگی۔ یتیموں کو سہارا ملا۔ بے کسوں کی آنکھوں میں امیدنو کے چراغ روشن ہوئے۔ زندہ دفن ہوتی بچیوں کو حیات نو کی نشارت ملی۔ بیوائوں کی فر یاد رسی ہوئی۔ کفر کے ریگزاروں کے طرف آندھی بڑھی ،ایمان کی آندھی،ہدایت کی آندھی اور سعادت و فیروز مندی کی آندھی۔… جس سے کفر ستان کی ساری زمیں دہل گئی۔ اس کا ئنات کی قسمت جاگی۔ اس کی مصیبتیںدور ہوئیں۔ اس کی زندگی کا حسین دور شروع ہوا۔ خالق اور مخلوق کے درمیان مستحکم رشتے کا آغاز ہوا۔ جس معبود حقیقی کو دنیا فر اموش کر چکی تھی، اس سے عرفان و آگہی کا نیاسلسلہ شروع ہوااور آفتاب ہدایت کی کر نیں ہر طرف پھیلتی گئیں۔
آمنہ کے گھر آپﷺ کی ولادت باسعادت ہوئی۔ ۱۲؍ریبع الاول عام الفیل مطابق ۵۷۱؁ ء کی تاریخ تھی۔ آپ ﷺ کی آمد کے سنہرے سماں کی تصویر قاضی زین العابدین سجاد میرٹھی نے یوں کھینچی ہے:
’’ربیع الاول کا بہار آفریں مہینہ تھا،دوشنبہ کا مبارک دن تھا، صبح صادق کا سہانا سما ں تھا،کہ ہمارے تمھارے آقا محبوب خدا ،احمد مجتبی محمد ﷺ پیدا ہوئے۔ ستا روں نے جھک کر انوار رخ کا بوسہ لیا، نسیم سحر مچل کر حسم اطہر پر قربان ہو گئی۔ کلیوں نے چٹک کر صدائے مر حبا بلند کی۔ پھولوں نے مہک کر ولادت باسعادت کی خبر اطرف عالم میں پھیلائی‘‘
اس مسعود موقع پر بہت سی خارق عادت علا متوں کا ظہور ہوا۔ جو اس بات کا اعلان تھیں کہ اب انسا نیت کا لٹا ہوا قافلہ زندگی کی نئی سر حدوں میں داخل ہو نے والاہے۔ ان خارق عادت علامتوں کا تذکرہ کر تے ہوئے علامہ شبلی نعمانی رقم طراز ہیں:
’’آج کی رات ایوان کسری کے چودہ کنگرے گرگئے۔ آتش کدۂ فارس بجھ گیا، دریاے ساوہ خشک ہوگیا۔ لیکن سچ یہ ہے کہ ایوان کسری نہیں بلکہ شان عجم ، شوکت روم، اوج چین کے قصر ہاے فلک بوس گرپڑے۔ آتش فارس نہیں بلکہ جحیم شر، آتش کدہ ٔ کفر آذر کدۂ گمراہی سرد ہو کر رہ گئے۔ صنم خانوں میں خاک اڑنے لگی ،بت کدے خاک میں مل گئے، سیرازۂ مجوسیت بکھر گیا،نصرانیت کے اوراق خزاں دیدہ ایک ایک کر کے جھڑ گئے‘‘ (سرت النبی ج اول ص ۱۲۵ پی ڈی ایف)
آپ ﷺ کے والد ماجد عبد اللہ تھے، جو آپﷺ کی ولادت سے چند ماہ قبل ہی اس دنیا کو الوداع کہہ چکے تھے۔ دادنے آپﷺ کا نام محمد رکھااور بعض روایت کے مطابق والدہ نے احمد، جب آپ بڑے ہو ئے توصاحبزادے کی نسبت سے ’ابوالقاسم‘کنیت اختیار فر مایا۔ آپ ﷺ کا سلسلہ نسب اس طرح ہے:
محمد عبد اللہ عبدالمطلب ہاشم عبد مناف قصی کلاب مرۃ کعب لؤوی غالب فہربن مالک(قریش)
والدہ کی طرف سے آپﷺکا خاندان کلاب پر جا کر مل جاتا ہے:
آمنہ وہب عبد مناف زہرہ کلاب
آپ ﷺ کی دادی کا نام فاطمہ اورنانی کا نام برہ ہے۔آپﷺ کے والد دس بھائی تھے:
(۱)عباس (۲)حمزہ (۳)ابولہت (۴)ابو طالب (۵)زبیر (۶)حارث (۷)مقدم (۸)حجل (۹)ضرار (۱۰) قثم
آپ ﷺ کی چھ پھوپھیاں تھیں:
(۱)ام حکیم (۲)عاتکہ (۳)برہ (۴)امیمہ (۵)اروی (۶)صفیہ (پیام سیرت ص ۴۳ پی ڈی ایف)
آپ ﷺ نے پہلے اپنی والدہ آمنہ کا دودھ پیا۔ چند دن بعد آپ ﷺ کے چچا ابو لہب کی باندی ثویبہ نے دودھ پلایا، پھر اس دولت عظمی سے حضرت حلیمہ سعدیہ کی قسمت جاگی۔ جیسے ہی ان کی نظر انتخاب آپﷺ پر گئی، ان کی ہر چیز بر کتوں اور رحمتوں کی آغوش میں سماگئی۔دودھ میں، جانور وں میں اور رزق میں بر کتوں کو انھون نے کھلی آنکھوں دیکھا۔ جب آپﷺ کاسن چھ سال کا ہوا تو والدہ نے داغ مفارقت دے دیا۔ پھر یہ خدائی امانت دادا عبدالمطلب کے سپرد ہوئی۔ انھوں نے دل و جان سے زیادہ آپ ﷺ کو چاہا۔ کسی وقت بھی وہ آپﷺ غافل نہیں رہتے۔ کبھی کعبہ کے سایے میں اپنے ساتھ فرش پر بیٹھاتے، کبھی شفقت و الفت کے پھول بر ساتے۔ مگر جب آپﷺ کی عمر آٹھ سال کی ہوئی تو دادا بھی اس جہاں کو الوداع کہہ گئے۔ پھر آپ ﷺ کی پرورش چچا ابو طالب کے ہاتھوں ہوئی۔ انھوں نے عبد المطلب کی وصیت کو ذہن میں رکھا اور اپنے صا حبزادے حضرت علی، جعفر اور عقیل ؓ سے بڑھ کر محبت، الفت اور شفقت سے آپﷺ کی نگہداشت کی۔ نوسال کی عمر میں آپﷺ اپنے چچا کی معیت میں بغرض تجارت ملک شام روانہ ہوئے۔ ’’بصری ‘‘کے مقام پر بحیری راہب سے آپﷺ کی ملاقات ہوئی۔ اس نے اپنی بصیرت سے آپ ﷺ کے اندر شان نبوت کے جلوے دیکھے اور ابو طالب سے کہا :
’’اپنے بھتیجے کو یہودیوں کی نظروں سے محفوظ رکھیے کیو ں کہ اس کا مستقبل بڑی شان کا عکا س ہے‘‘
مستشرقین نے اس واقعہ کورائی کا پر بت بنادیا اور اپنی ساری توانائی اس بات پر صرف کی کہ عقیدۂ توحید کی روشن تعلیمات آپﷺ نے ایک عیسائی عالم سے حاصل کی ہے۔ ایک فرانسیسی مستشرق (Carradeveaux) نے ’’مصنف قرآن‘‘ کے نام سے ایک مستقل کتاب بھی تحریر کی ہے اور اس میں یہ آشکار کر نے کی جان توڑ کوشش کی ہے کہ ’’بحیری‘‘نے پورا قرآن آپﷺکو املا کرایا، مگر جسے تعصب نے اندھا نہ کردیا ہووہ اس پروپیگنڈے کا جواب انصاف کے تقاضے کے ساتھ یوں دے سکتا ہے کہ ایک نوسال کا بچہ وہ بھی صرف ایک وقت کے کھانے کی مجلس میں اتنے دقیق اور اہم مسائل پر بالتفصیل تبادلۂ خیال کیو ں کر کر سکتاہے؟
(تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو نبی ٔ رحمت ص ۱۳۸کا حاشیہ)
آپ ﷺ کی تر بیت آسمانی ہدایتوں پر ہوتی تھی۔ آپﷺ جاہلیت کی غلاظتوں سے بہت دور تھے۔ آپﷺ بچپن سے ہی ستودہ صفات کے مالک تھے۔ حیا، پاکدامنی،شرافت، حلم وبردباری،راست بازی، امانت داری اور عفو در گذر آپﷺ کا شعارتھا۔ جب آپﷺ کی عمر چودہ پندرہ سال تو قریش اور قیس کے درمیان ’’فجار ‘‘کی جنگ چھڑ گئی۔ یہاں آپﷺ کو جنگ کا عملی تجربہ ہوا۔ سپہ گری اور شہسواری سے روشناس ہوئے۔ ذریعہ معاش کے لیے آپﷺ نے بکریاں چرائی اور نبوت کے بعد اس امر کا اظہار بھی فر مایا:
’’کوئی نبی ایسا نہیں گذرا جس نے بکریاں نہ چرائی ہوںپوچھا گیا آپ نے بھی اے رسو ل اللہ ﷺ ، فر مایا ’’ہاں‘‘!
پچیسویں سال میں حضرت خدیجۃ الکبری سے آپﷺ کا نکاح ہوا، جن کی عمر چالیس سا ل تھی۔ وہ فہم و فراست میں ممتاز تھیں، لو گوں میں ان کا اثر و رسوخ تھا۔ دولت ثروت میں نا مور تھیں۔ شام کے سفر میں حضور اکرم ﷺ کے انو کھے واقعات سے وہ کافی متأ ثر ہو چکی تھیں۔ انھوں نے نکاح کا پیغام بھیجا، سید نا حضرت حمزہ ؓ کے توسط سے یہ پیغام آپﷺ تک پہنچا۔ حضرت ابوطالب نے نکاح کا خطبہ دیا۔اس زمانے میں دونوں جانب سے خطبہ پڑھا جا تھا۔ اس لیے حضرت خدیجہ کی طرف سے ورقہ بن نوفل نے بھی خطبہ دیا۔ یہاںسے آپ ﷺ کی خواشگوارازدواجی زندگی کا آغاز ہوا۔
جب آپ ﷺ کی عمر مبارک پینتس سال کو پہنچی تو کعبہ کی تعمیر نو نے ایک خونریز فتنے کی شکل اختیار کر لی ۔ یہ فتنہ ’’حجر اسود‘‘کو نصب کرنے کے تعلق سے ابھرا ،ہرقبیلہ اس بر کت کو اپنی جھولی میں ڈالنے کے لیے بے تا ب تھا۔ مگر آپﷺ نے اپنی تدبیر، اپنی حکمت و بصیرت اورصلح جوئی کی تر جمانی کرتے ہوئے اس کا سد باب فر مایا۔
رسول خدا ﷺ جب چالیس سال کے ہوئے تو اس وقت دنیا خرافات، اوہام، بت پرستی اور شر ک و کفر کی آگ میں جھلس رہی تھی۔ یہ منظر آپﷺ کو مضطرب کر رہا تھا۔ آپﷺ خالق کائنات کی ہدایتوں کے منتظر تھے۔ دنیا کے اس ہیجان انگیز ماحول سے آپﷺ اکثر گوشہ نشیں ہوجاتے۔ غار حرا آپﷺ کی خوشبوئوں سے معمور رہتا۔ تواتر کیساتھ کئی کئی راتیں یہاں قیام فرماتے۔ آپﷺ مکہ کی گھاٹیوں اور شاداب وادیوں سے گذر تے تو حجروشجر’’السلام علیک یا رسول اللہ‘‘کی صدائوں سے آپﷺ کا استقبال کرتے۔ آپﷺ چاروں نظر دوڑاتے مگر کوئی نظر نہ آتا۔ یہی وہ غار تھا جہاں سے نبوت کی کر ن پھوٹی اور اطراف عالم میں پھیلتی چلی گئی۔
۱۷؍رمضان المبارک ،مطابق چھ اگست ۶۱۰ ؁ء کا مبارک دن تھا اور آپﷺ عمر اکتا لیس سال کی تھی۔ آپﷺ غار حرا میں تشریف فر ما تھے کہ اچانک ایک فرشتہ اندر داخل ہوا، اس نے کہا پڑھیے ! آپﷺ نے فر مایا : میں پڑھاہوا نہیںہوں ۔ آپﷺ فر ماتے ہیں کہ اس نے مجھے پکڑ کر دبادیا جس کی تکلیف میں نے محسوس کی۔ پھر چھوڑ کر کہا پڑھیے! میں نے جواب دیا میں پڑھا ہوا نہیں ہوں ۔یہ سلسلہ تین بار چلا ۔ پھر آخری بار مجھے چھوڑ کر کہا:
’’اقراباسم ربک الذی خلق خلق الانسان من علق اقراوربک الاکرم الذی علم بالقلم علم الانسنان مالم یعلم‘‘
ترجمہ :پڑھ اپنے رب کے نام سے ،جو سب کا بنانے والا ہے۔بنایا آدمی کو جمے ہوئے لہوسے، پڑھ اور تیرا رب بڑا کریم ہے، جس نے علم سکھا یا قلم سے،سکھلایا آدمی کو جو وہ نہ جانتا تھا‘‘(سورہ علق پ ۳۰)
یہ نبوت کا پہلا دن اور اسلام کی پہلی وحی تھی۔ اس واقعہ سے آپﷺ خوفزدہ ہوگئے۔ آپﷺ کے شانۂ مبارک پر کپکپی طاری ہو گئی۔ گھر پہنچے اور حضرت خدیجہ سے کہا :مجھے جلد اوڑھا دو!مجھے جلد اوڑھادو! مجھے خطرہ محسوس ہورہاہے۔ انھوں نے وجہ دریافت کی اور ان الفاظ میں آپﷺ کی تلسی فر مائی:
’’ہر گز نہیں خدا کی قسم اللہ آپﷺ کو کبھی ذلیل و رسوا نہ کر ے گا۔ آپﷺ صلہ رحمی اور رشتہ داری کا پاس و لحاظ رکھتے ہیں، دوسروں کا بوجھ ہلکاکر تے ہیں، محتا جوں کی دستگیری فر ماتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں، خاطر ومدارات آپﷺ کا شیوہ ہے اور راہ حق میں مصائب وآلام میں امداد فرمانا آپﷺ کا وتیرہ ہے‘‘
وہ آپ ﷺ کوورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں جو عیسائیت قبول کر چکے تھے۔ انھوںنے صحف سماویہ کا مطالعہ بھی کیا تھااوراہل توریت اور اہل اجیل کی معیت بھی حاصل تھی۔ اس نے اس واقعہ کو سنتے ہی کہا:
’’قسم اس رب کی جس کے قبضے میں جان ہے ،آپ اس امت کے نبی ہیں، آپ کے پاس اسی فر شتہ کی آمد ہو ئی ہے جو حضرت مو سی ؑ کے پاس آتے تھے۔ ایک زمانہ آئے گا آپ کی قوم آپ کو جھٹلا ئے گی، آ پ کو تکلیف پہنچا ئے گی، آپ کو نکا لے گی اور آپ سے جنگ و جدا ل کر ے گی‘‘
یہ جملہ سن کر …’’آپ کی قوم آپ کو نکا لے گی‘‘ آپﷺ حیرت و استعجاب کے در یا میں ڈوب گئے ۔ کیو ں کہ اہل مکہ آپ کی تعریف و تحمید میں رطب اللسان تھے۔ صادق و امین کے لقب سے پکار تے تھے۔ آپ نے تعجب خیز لہجے میں پوچھا ’’مجھے وہ لوگ نکال دیں گے‘‘ورقہ نے کہا کہ:
’’یہی وہ پیغام ہے ،جس کا لانیوالا ہر نبی اپنی قوم کی دشمنی و عداوت سے دوچار ہوا ہے۔ اگر وہ دن مجھے نصیب ہوگا اور میری حیات وفا کرے گی تو میں آپﷺ کی پو ری قوت کے ساتھ مدد کروںگا‘‘
مگر ورقہ بن نوفل کی زندگی وفا نہ کر سکی اور وہ چند روز بعد موت کی آغوش میں سو گیا۔
’’یارب صل وسلم دائماابدا علی حبیبک خیر الخلق کلہم‘‘

Previous articleوحدت کا بیاں ہو جا،فطرت کی زباں ہوجا
Next articleیوسف ناظم کا تصنیفی سرمایہ

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here