علماء کی مضبوط تنظیم از:ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

0
108

بھائی نصیر اصلاحی ناظم اعلیٰ مجلس العلماء مہاراشٹر سے فیملی کونسلنگ ورک شاپ اورنگ آباد (25 و 26 ستمبر) میں ملاقات ہوئی تو انھوں نے کہا : ” معلوم ہوا ہے کہ آپ یکم و 2 اکتوبر کو اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن (SIO) کے پروگرام میں شرکت کے لیے ممبرا آرہے ہیں _ ہماری خواہش ہے کہ آپ ایک دن اور رک جائیں اور 3 اکتوبر کو ممبئی میں منعقد ہونے والے مجلس العلماء کے اجلاس میں شرکت کریں _” میں نے وعدہ کرلیا اور واپسی کا ٹکٹ ایک دن کے بعد کا بنوانے کی ہدایت کردی _

جماعت اسلامی ہند کے شعبۂ اسلامی معاشرہ کی سرگرمیوں کا ایک اہم جز یہ ہے کہ مختلف مکاتبِ فکر کے علماء سے قریبی روابط استوار کیے جائیں ، ان کے ساتھ مل کر اصلاحِ معاشرہ کے کام انجام دیے جائیں اور باہم اشتراک و تعاون کے میدان تلاش کیے جائیں _ اس کے لیے تمام ریاستوں میں مجلس العلماء ، وفاق العلماء ، اتحاد العلماء ، علماء فورم جیسے ناموں سے تنظیمیں قائم کی گئی ہیں _ الحمد للہ ملک کی تقریباً تمام ہی ریاستوں میں یہ کام ہورہا ہے اور مختلف مکاتبِ فکر سے وابستہ علماء جماعت کی سرپرستی میں مل جل کر سرگرمیاں انجام دے رہے ہیں _ اس سلسلے میں مہاراشٹر کی مجلس العلماء تحریک اسلامی کی خدمات ماشاء اللہ اہم اور قابلِ قدر ہیں _

3 اکتوبر کی صبح ہم مولانا ایوب خاں نوری کے ساتھ ممبرا سے نکلے اور ایک گھنٹے میں ممبئی پہنچ گئے _ مجلس العلماء کا اجلاس جماعت اسلامی ہند مہاراشٹر کے ریاستی دفتر میں صبح 10 بجے سے شام 5 بجے تک چلا _ دو سیشن ہوئے _ پہلے سیشن کا آغاز ڈاکٹر محمد یونس فلاحی کی تذکیر (الشوریٰ :13) سے ہوا _ اس کے بعد مولانا نصیر اصلاحی نے افتتاحی کلمات پیش کیے _ انھوں نے بتایا کہ حلقۂ مہاراشٹر میں مجلس العلماء کا قیام 2014 ء میں عمل میں آیا تھا ۔ یہاں 31 مقامات پر مجلس کی شاخیں قائم ہیں اور 430 علماء اس سے وابستہ ہیں _ دعوت ، اسلامی معاشرہ ، تربیت اور تنظیم کے شعبوں میں سرگرمیاں انجام دی جارہی ہیں _ کووِڈ کی وجہ سے ریاستی سطح پر کئی اجلاس آن لائن ہوئے ہیں _ اس میقات میں آف لائن یہ پہلا پروگرام منعقد ہورہا ہے _ انھوں نے فرمایا کہ اس عرصے میں مجلس کی طرف سے خدمتِ خلق کے بہت سے کام انجام دیے گئے ہیں ، گزشتہ دنوں علاقہ کوکن میں آئے تباہ کن سیلاب کے موقع پر بھی مجلس کی طرف سے بڑے پیمانے پر ریلیف کا کام انجام دیا گیا ہے _

تمام شرکاء کا باہم تعارف ہوا _ پھر مجھ سے ‘ ملت اسلامیہ ہند : موجودہ حالات ، قیادت اور تقاضے’ کے عنوان پر اظہارِ خیال کی خواہش کی گئی _ میں نے عرض کیا کہ ہندوستانی مسلمان ان دنوں بہت نازک حالات سے گزر رہے ہیں _ انہیں ان کے بنیادی حقوق سے محروم کیا جارہا ہے ، ان کے عائلی قوانین پر عمل کرنے کی آزادی نہیں دی جارہی ہے ، ان کے دینی و مِلّی تشخص پر حملے کیے جا رہے ہیں اور انھیں ان کے مذہب پر عمل اور تبلیغ کے بنیادی حق کو ، جس کی ضمانت دستور میں دی گئی ہے ، چھینا جارہا ہے _ لیکن ان حالات سے گھبرانے اور دل برداشتہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے _ امت پر گزشتہ ادوار میں اس سے سخت اور نازک حالات گزرے ہیں ، لیکن اس نے کام یابی کے ساتھ ان پر قابو پایا ہے _ آخر میں میں نے توجہ دلائی کہ علماء پر بڑی ذمے داریاں عائد ہوتی ہیں _ انہیں رہ نمائی کا مقام حاصل ہے _ وہ خطباتِ جمعہ ، خطباتِ نکاح ، مختلف مناسبتوں میں دیے جانے والے خطبات اور وعظ و ارشاد کہ محفلوں کے ذریعے امت کی اصلاح و تربیت کرسکتے ہیں _ میں نے اس جانب بھی توجہ دلائی کہ ہر مسجد میں مکتب کا نظام قائم ہونا چاہیے ، جس کے ذریعے چھوٹے بچوں کی دینی تعلیم و تربیت کا نظم کیا جائے _

اس کے بعد مجلس کی منتخب مقامی شاخوں کی رپورٹیں ان کے نظماء نے پیش کیں اور ناظمِ اعلیٰ نے ان پر تبصرہ کیا اور آئندہ کے لیے اہم باتوں کی طرف رہ نمائی کی _

دوسرے سیشن کا آغاز مولانا برکت اللہ ندوی کی تذکیر سے ہوا _ اس کے بعد ‘سماجی مسائل کے حل میں علماء کا کردار’ کے عنوان سے ایک مذاکرہ ہوا _ شرکائے مذاکرہ نے اس ضمن میں اپنے تجربات بیان کیے اور ان کی جانب سے بہت مفید تجاویز سامنے آئیں _

مولانا اختر سلطان اصلاحی نے ‘مثالی مقامی ناظم’ کے عنوان پر خطاب کیا _ انھوں نے تفصیل سے بتایا کہ مجلس العلماء کے مقامی ناظم میں کیا خوبیاں ہونی چاہییں؟ اور اسے کن میدان میں سرگرم ہونا چاہیے؟

پروگرام کے آخری دو اجزاء اہم تھے : ایک ‘اوپن سیشن’ ، جس میں شرکاء کو تحریکِ اسلامی ، مجلس العلماء اور دیگر موضوعات پر سوال کرنے کی آزادی تھی ، دوسرے ‘تاثرات اور عزائم’ ، جس کے تحت مجلس سے وابستہ ہونے والے نئے علماء کو اظہارِ خیال کرنے کا موقع دیا گیا _ انھوں نے مجلس سے وابستگی پر مسرت کا اظہار کیا اور اس کے تحت دینی اور سماجی خدمات انجام دینے کا عزم ظاہر کیا _

آخر میں امیر جماعت اسلامی ہند حلقۂ مہاراشٹر جناب رضوان الرحمٰن خاں نے ‘زادِ راہ’ عنایت فرمایا _ انھوں نے یقین دلایا کہ جماعت مجلس العلماء کو سرگرمیاں انجام دینے میں حتیٰ الامکان تعاون کرے گی اور ہر ممکن سہولیات فراہم کرے گی _

مجلس العلماء کے اس پروگرام میں مہاراشٹر کے مختلف علاقوں سے پچاس سے زائد علماء ، جو اپنے اپنے علاقوں میں مجلس کے ذمے دار ہیں ، شریک ہوئے _ یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ ان میں خاصی تعداد دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے فضلاء کی تھی _ دیگر مدارس کے فارغین بھی تھے _ بیش تر مساجد میں امامت و خطابت کے فرائض انجام دے رہے ہیں ، کچھ دار القضاء میں خدمت انجام دے رہے ہیں _ یہ جان کر خوشی ہوئی کہ تقریباً تمام علماء میرے حلقۂ تعارف میں تھے _ یوں تو شرکاء میں ہر عمر کے لوگ تھے ، لیکن زیادہ تعداد نوجوان علماء کی تھی ، اس سے اندازہ ہوا کہ نوجوان علماء میں جماعت کا اچھا اور مثبت تعارف ہورہا ہے اور وہ اس کے کاموں کو تحسین و ستائش کی نظر سے دیکھ رہے ہیں اور ان میں اپنا تعاون پیش کررہے ہیں _ فالحمد للہ علی ذلک _

Previous articleکہنہ مشق شاعر اشرف یعقوبی کا شعری مجموعہ ’’پاگل ہوا پردے میں ہے‘‘پر ایک نظر از: مظفرنازنیں
Next articleاترپردیش پولیس نے مرکزی وزیر مملکت کے گھر پر چسپاں کیا نوٹس، بیٹے کو 8 اکتوبر کو پیش ہونے کا حکم، لکھیم پور کھیری واقعہ کے دو ملزم گرفتار

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here