علامہ واقف ؔ عظیم آبادی -ایک طائرانہ نظر از : ڈاکٹر سیّدشاہداقبال(گیا)

0
32

علامہ واقف ؔ آرٹ کوکون نہیں جانتا۔اس بات کی بحث فضول ہے کہ انہیں آروی لکھاجائے یاعظیم آبادی ؟ یاکچھ اور۔ لیکن یہ ضروری ہے کہ ان کاسوانحی خاکہ صحیح لکھاجائے -علامہ واقف آروی کی تاریخ پیدائش میںکوئی اختلاف نہیں ہے جوکہ18؍ مارچ 1914ء ہے لیکن جائے پیدائش کانام غلط لکھ دیاجاتاہے کیونکہ عام طور پر کوئی مذکورہ گاؤں (سوسنہ) کونہیں جانتا ہے ۔ تذکرہ نگاربھی ایک دوسرے سے نقل درنقل کرتے چلے آئے ہیں -سچ تویہ ہے کہ مذکورہ گاؤں کانام سوہسا (SOHSA)ہے جو کلیر(KALER) (پٹنہ اورنگ آباد قومی شاہراہ) سے پانچ کیلو میٹر پچھم سون ندی کے کنارے واقع ہے ۔ بہارمیںاضلاع کی نئی انتظامی تشکیل کے بعد یہ علاقہ ضلع ’’ارول‘‘ ؎ میں شامل کردیاگیاہے ۔

علامہ واقف ؔ کااصل نام سید شاہ فضل امام اوران کے والد کانام سید شاہ منظرامام تھا ۔
علامہ واقف نے مرتبین متاع سخن (تذکرہ شعرائے آرہ ) کوبھیجے گئے اپنی خودنوشت مختصر حالات زندگی میںاس حقیقت کا خوداعتراف کیاہے کہ سید شاہ منظرامام آروی کو سید احمد علی عشرتؔ گیاوی سے شرف تلمذ حاصل تھا ۔وہ لکھتے ہیں :
’’میرے والد حضرت شاہ منظرامام صاحب متوطن ارول ضلع گیا کوحضرت داغ ؔ دہلوی سے عقیدت اورحضرت احمد علی عشرتؔ گیاوی سے شرف تلمذ حاصل تھا ۔‘ ‘
(بحوالہ :صفحہ نمبر ۱۱۶/عشرت گیاوی ،حیات وشاعری )

ڈاکٹرنسیم اخترنے/علامہ واقف ایک نظر میں /احوال /واقف ایک درویش /کاشعری پس منظر /واقف بحیثیت شاعر جیسے الگ الگ عنوانات قائم کیے ہیں۔ان سب کابڑی خوبصورتی سے جائزہ لیاہے۔نیزان میں علامہ واقف کے اشعارکو گل و بوٹے کی طرح سجایاہے جس سے قاری کی دلچسپی بڑھ جاتی ہے۔اس کے بعد ڈاکٹر نسیم اختر نے علامہ واقف بحیثیت نثرنگار جائزہ لیاہے۔
علامہ واقف کوعظیم آباد کی اگرکسی نے پناہ دی تووہ ذات گرامی غلام سرور کی تھی اورعلامہ واقف نے روزنامہ ’’سنگم‘‘ پٹنہ کی بے باکانہ صحافت کااعتراف کرتے ہوئے یوں خراج تحسین پیش کیاہے ؎

’’اگرچہ اردو صحافت ہے انحطاط پذیر
مگرہے شکرکہ ’’سنگم ‘‘ کاہے مقام اب بھی
ہے اس کے ذہن میںاب بھی تمیز باطل وحق
مئے حرام ہے اس کے لیے حرام اب بھی
رواں دواں ہیں مضامین غلام سرورکے
کہیں قلم نہ ہو اسپ بے لگام اب بھی
( بحوالہ : مونوگراف علامہ واقف عظیم آبادی ۔صفحہ نمبر ۹۹)

ڈاکٹر نسیم اختر نے علامہ واقف ؔ کی حیات اورزندگی کی گوناگوں پہلوں کو اجاگر کیا ہے -اس کے باوجود انہیں افسوس ہے ۔ علامہ واقف کی شعری و ادبی خدمات کا اب تک مکمل احاطہ نہیں کیاجاسکتا ہے اس قیمتی اثاثے کی باز یافت اوران کی تدوین و ترتیب بھی وقت کی ایک اہم ترین ضرورت ہے ؟
سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ علامہ واقف کی ہزاروںصفحات پر تحریر کردہ یادداشتیں خدابخش لائبریری(پٹنہ)میںمحفوظ ہیں۔جوخدابخش لائبریری پٹنہ کے اس وقت کے ڈائرکٹر ڈاکٹر عابدرضابیدارکی مرہون منت ہے۔

ڈاکٹر نسیم اخترتحریر کرتے ہیں’’لوگ واقف(علامہ واقف عظیم آبادی)سے بڑی محبت کرتے تھے ۔لیکن اس محبت کے تقاضے کا حق ہاںاسی وقت ادا ہوگا جب کلیات واقف کی تدوین اوران کی بکھری وپھیلی ہوئی نثری تحریروںکی ترتیب کا جوکھم اٹھانے کاکام سرانجام دیاجائے۔مگرسوال ہے یہ کہ یہ کام کرے کون؟
صلائے عام ہے یاران نکتہ داں کے لیے
(بحوالہ صفحہ ۱۱۲،مونوگراف واقف عظیم آبادی)
علامہ واقف پراس مونوگراف کی اشاعت کے لیے ڈائرکٹرراج بھاشابہار عالی جناب احمدمحمودصاحب اورڈاکٹراسلم جاوداں صاحب بھی شکریہ کے مستحق ہیں ———–

DR. S. SHAHID IQBAL Ph.D
At: ASTANA-E-HAQUE, ROAD NO: 10
WEST BLOCK, NEW KARIMGANJ
GAYA-823001 (BIHAR)
Mob: 09430092930/ 09155308710
E-mai:drsshahidiqbal@gmail.com

Previous articleڈاکٹر پرمود بھارتیہ : سیمانچل کا گوہر نایاب از: احسان قاسمی
Next articleکہانی ‘‘مضبوط پودا‘‘ از : آبینازجان علی(موریشس)

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here