علامہ راشد برہان پوری حیات و خدمات آن لائن توسیعی خطبہ

0
106

علامہ راشد برہان پوری حیات و خدمات آن لائن توسیعی خطبہ
باضابطہ ہماری یونیورسٹیوں میں علامہ پر ریسرچ ورک ہونا چاہیے۔ ڈاکٹر خالد مبشر
علاامہ راشد نے اپنے علم و فضل کے لعل و جواہر سے اردو ادب کو مالا مال کیا ہے۔ طاہر نقاش

پریس ریلیز 19 اپریل 2022
علامہ راشد برہان پوری ہمہ جہت شخصیت کے مالک ہیں، وہ بیک وقت عالم، صوفی، مؤرخ، مترجم شاعروادیب ہیں۔ علامہ کو بطور شاعر اگر ہم دیکھتے ہیں تو ہمیں اس بات کا علم ہوتا ہے کہ انہوں نے شاعری میں بہت سے تجربات کیے ہیں، صرف ایک بنیاد اگر صنفی اور ہیئتی اعتبار سے بنایا جائے تو پتہ چلے گا کہ ہماری تنقید اور تحقیق نے ان کے ساتھ انصاف نہیں کیا۔ باضابطہ ہماری یونیورسٹیوں میں علامہ پر ریسرچ ورک ہونا چاہیے۔ اس طرح کا اظہار خیال 16 اپریل 2022 بروز سنیچر رات 11 بجے علامہ راشد برہان پوری کی ٦٢ ویں برسی کے موقع پر آن لائن توسیعی خطبہ “علامہ راشد حیات و خدمات” کے موقع پر ڈاکٹر خالد مبشر صاحب(اسسٹنٹ پروفیسر شعبۂ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی) نے صدارتی خطبہ پیش کرتے ہوئے کہا۔

دارالسرور ایجوکیشن اینڈ ویلفیئر سوسائٹی برہان پور (رجسڑڈ) کے زیر اہتمام اس آن لائن توسیعی خطبہ کا انعقاد عمل میں آیا اور سوسائٹی کے آفیشل فیس بک پیج پر اس کو براہ راست (لائیو) نشر کیا گیا۔
خصوصی خطیب کی حیثیت سے شریک برہان پور کے معروف ناقدوشاعر محترم طاہر نقاش نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا: سرزمین برہان پور جہاں زبردست طور سے نظر انداز کی گئی وہیں پر اس نے اپنے وجود کا لوہا بھی منوایا۔ جہاں ناقدین ادب نے اس کے شعراء و ادبا کو نظر انداز کیا وہیں پر اس کے فن پاروں نے اپنی حیثیت کے مطابق خود اپنے قارئین و سامعین سے دادوتحسین طلب کرلی۔ ان ہی میں ایک نام علامہ سید مطیع اللہ راشد برہان پوری کا ہے۔ علامہ راشد نے سخن کی مختلف اصناف پر طبع آزمائی کی ہے اور خوب کی ہے۔ حمدومناجات، نعت ومناقب، منظومات و تضامین، مراثی و سلام، قطعات و رباعیات میں اپنی فکر کے موتی لٹائیں ہیں۔ یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ علامہ راشد نے اپنے علم و فضل کے لعل و جواہر سے اردو ادب کو مالا مال کیا ہے۔

مہمان خصوصی کے طور پر پاکستان سے علامہ راشد کے پرنواسے محترم سید زاہد قادری سلطانی (نبیرہ حضرتِ راشد) اور برہان پور کے خوش فکر شاعر محترم نعیم راشد صاحب نے شرکت کیں۔ نظامت کے فرائض معروف ناظم مشاعرہ اور افسانہ نگار محترم شعور آشنا نے انجام دیئے۔ سوسائٹی کے چیئرمین تنویر رضا برکاتی نے اظہارِ تشکر پیش کرتے ہوئے کہا: علامہ راشد کی کتابوں کی ازسرنو اشاعت کا ہمارا عزم ہے۔ آئندہ سالوں میں علامہ پر عالمی سیمینار کے انعقاد کا ارادہ ہے۔ موصوف نے مزید تمام مہمان اور لائیو دیکھنے والوں کا شکریہ ادا کیا۔

رپورٹ: محسن شیخ

Previous article30 دن کے روزے کا فدیہ
Next articleمغرب کی وادیوں میں گونجی اذاں ہماری

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here