عصمت کے افسانوں میں نسوانی کردار از: رضوان بن علاء الدین

0
360

عصمت چغتائی کا طرز احساس اور طرز تحریر دونوں ہی ان کے ہم عصر فکشن نگاروں سے مختلف ہیں۔ احساس اور تحریر کی یہ انفرادیت بہت کم نقادوں کو نصیب ہوتی ہے۔ عصمت چغتائی کی مقبولیت اور شہرت کی وجہ وہ انفرادی صفت (Indivisual Treat) بھی ہے جو ان کے احساس اور اظہار میں نمایاں ہے۔ عصمت نے موضوعی اور اسلوبی دونوں سطحوں پر نارمس سے انحراف کیا ہے اور اسی انحراف میں ان کا انفراد مضمر ہے۔ عورتوں کے مسائل ان کے افسانوں کا بنیادی محور ہے اور یہاں بھی ان کا تانیثی نظریہ دوسروں سے مختلف ہے انہوں نے اپنی تانیثی فکر کی بنیاد اپنے مشاہدوں اور تجربوں پر رکھی ہے اس لیے ان کے یہاں عورتوں کے وہ مسائل بھی ملتے ہیں جن کو بیان کرنے میں مرد ندامت محسوس کرتے ہیں۔ انہوں نے واشگاف انداز میں عورتوں کے داخلی اور خارجی مسائل اور متعلقات کو اپنے افسانوں میں پیش کیا ہے۔خاص کر انہوں نے متوسط طبقے کے مسلم گھرانوں کی ہر عمر کی عورتوں کے بارے میں لکھا ہے۔ ان میں نانی ، دادی، پھوپھی، خالہ، ساس اور ادھیڑ عمر کی عورتیں بھی شامل ہیں اور اس کے علاوہ کنواری کمسن چھوٹی نابالغ بچیوں اور پردہ نشین عورتوں کو بھی عصمت نے اپنے افسانے کا موضوع بنایا ہے۔ نوجوانی کی دہلیز سے گزرتی ہوئی لڑکیوں کی نفسیات اور جنسی پیچیدگیوں کو بڑی چابکدستی کے ساتھ فکشن کے قالب میں ڈھالا ہے۔

منٹو کی طرح عصمت چغتائی کے افسانے پر بھی سفاکانہ حقیقت نگاری کی وجہ سے فحاشی کے فتوے لگائے گئے جبکہ فنکارانہ خلوص، رشتوں کاا حترام، حقیقت کے اظہار کی جرأت اور انسان دوستی کے جذبے ان پر غالب رہے ہیں۔ اور اسی جذبے کے تحت ان کی حقیقت سفاکیت میں بدل گئی ہے۔
عصمت کے بیشتر نمائندہ افسانے کردار پر مبنی ہیں۔ ان میں دونوں صنف کے کردار موجود ہیں۔ عصمت کے افسانوں کی دنیا گھر کی چہار دیواری کے اندر کی دنیا ہے۔ عصمت چغتائی ایک عورت تھیں اس لیے ان کی نظر انتخاب نسوانی کرداروں کے جنسی مسائل، ان کی طرز رہائش اور معاشرتی حیثیت پر ہی پڑتی ہے۔ ان کے افسانوں میں کوئی غیر معمولی اور ناقابل فراموش مردانہ کردار سامنے نہیں آتا ہے۔ عصمت چغتائی کے افسانوں میں چوتھی کا جوڑا، چھوٹی آپا، پنکچر، گیندا، گھر والی، بہو، بیٹیاں، لحاف، دو ہاتھ، سونے کا انڈا، ساس، ننھی کی نانی، ڈائن ، پتھر دل، کافر، پیشہ اور جھوٹی تھالی خاص طور سے قابل ذکر ہیں۔ جن میں نسوانی کرداروں کی مختلف سماجی حیثیتوں کو اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔’’چوتھی کا جوڑا‘‘ میں کبری کی کردار نگاری ایسی خوبصورتی سے کی کہ کبری کی پوری شخصیت اور داخلی کشمکش سامنے آ جاتی ہے۔

’’کبری متوسط طبقے کی ہندوستانی مسلم لڑکی ہے۔ وہ چہار دیواری کے اندر رہنے والی ایک پردہ نشین لڑکی ہے جس کی فطرت میں شرافت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ جہیز کی لعنت اور دوسری سماجی برائیوں کی وجہ سے اس کی شادی میں کوئی نہ کوئی اڑنگا لگ جاتا ہے۔ کبریٰ کی ماں جو بیوہ ہے اپنی غربت، جوان بیٹیوں کی شادیاں اور سماج کے جبر کی وجہ سے پریشان حال رہتی ہے۔ کبری کے ماموں کا بیٹا راحت پولیس کی ٹریننگ کے سلسلے میں آکر ٹھہرتا ہے تو کبری کی ماں دل ہی دل میں اسے کبری کا منگیتر اور ہونے والا داماد تصور کر لیتی ہے۔ یہ تینوں ماں بیٹیاں روکھا سوکھا کھاکر راحت کے خاطر تواضع میں کوئی کمی نہیں رکھتی ہے۔ کبری منگیتروں جیسی شرم وحیا سے مچھروں بھری اندھیری کوٹھری میں بند دن رات رہ کر اس کے لیے محنت اور مشقت کرتی رہتی ہے اور اس کے لیے عمدہ لذیذ کھانے کا انتظام کرتی ہے۔ کبری ایک ایسی لڑکی ہے کہ اس پر جوانی کب آئی کب اس نے ساجن کے سپنے دیکھے پتہ نہیں چلتا وہ اپنے امنگوں اور ارمانوں کا گلا کھونٹ دیتی ہے۔ لیکن راحت ان باتوں سے بے خبر ونیاز انتہائی بے حسی سے کبری کی چھوٹی بہن حمیدہ کو کئی بار اپنی ہوس کا شکار بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ آخر کار ٹریننگ ختم کرکے اپنے گھر واپس چلا جاتا ہے۔ اس واقعے سے کبریٰ کے کنوارے ارمانوں کو بے حد صدمہ پہونچتا ہے۔ وہ دم کی مریضہ ہوچکی ہے۔ آخر ایک دن چپکے سے بغیر کسی سے کوئی شکایت کیے دم توڑ دیتی ہے۔‘‘

(چوتھی کاجوڑا)
منٹو کی طرح عصمت کے یہاں بھی جنس کو مرکزیت حاصل ہے۔ جنسی تعلقات کے جتنے پہلو ہوسکتے ہیں ان پر عصمت کے افسانے موجود ہیں۔ شادی بیاہ سے پہلے کی جنسی بے راہ روی کی بد نما تصویریں ’’گیندا‘‘ اور ’’تاریکی‘‘ میں دیکھی جاسکتی ہیں۔ ان میں اونچے اور اشرافیہ طبقے کے صاحبزادوں کی بے راہ روی اور عیش پسندی کھل کر سامنے آتی ہے۔ عصمت نے اونچے گھرانوں کی فیشن زدہ عورتوں کی جنسی بے راہ روی کو ’’خدمت گار‘‘ میں بیان کیا ہے۔ عصمت کے نسوانی کردار جنسی اور معاشی طور پر استحصال زدہ ہیں، جن کی وجہ سے ان کی سماجی حیثیت بھی اثر انداز ہوتی ہے۔
عصمت چغتائی کے کردار بھی اپنی الگ شناخت رکھتے ہیں۔ ان کے زیادہ تر کردار گھروں میں رہنے والی اور خصوصاً پردہ نشین عورتیں اور نوجوان لڑکیاں ہوتی ہیں۔ ڈاکٹرابو اللیث صدیقی لکھتے ہیں:۔
’’عصمت چغتائی کے افسانوں کا خاص موضوع نوجوان لڑکیوں کے کردار ہیں۔ اس عمر کی لڑکیوں کے ذہنی اور نفسیاتی مسائل ان کے ارمان اور الجھن، ان کے جنسی جذبات سب ہی کچھ ان افسانوں میں بڑی بے باکی سے بیان ہوئے ہیں۔ ان میں ہر طرح کی لڑکیاں ہیں۔ شوخ وشریر اور تیز طرار بھی، جنسی اور ذہنی طور پر بیمار بھی، اس گھر کی چہار دیواری میں بعض بڑی عمر کی بیگمات بھی ہیں جن کی اپنی نفسیات اور اپنے جنسی مسائل ہیں۔‘‘
( آج کا اردو ادب)
عصمت کے ہاں عورت اپنی تمام تر نرمی،نزاکت، لطافت شوخی اور بانکپن کے ساتھ جلوہ گر ہے۔ لیکن ان کے نسائی کردارووں کا اصل وصف ضد اور بغاوت ہے۔ ان کے بیشتر کرداروں کا تعلق متوسط طبقے کی گھریلو مسلم خواتین سے ہے جو خاتون خانہ ہیں۔ عصمت کو ہر عمر کی پردہ نشین خواتین کی اندرونی زندگی کی پیش کش میں ید طولیٰ حاصل ہے۔اور اس کی وجہ یہ ہے کہ عصمت کا تعلق نہ صرف طبقہ نسواں سے ہے مگر ان کے اندر بھی تمام تر بغاوتوں کے باوجود نسائی جبلت موجود ہے۔ اسی لیے منٹو نے عصمت چغتائی پر لکھے خاکے میں اسی جہت کی طرف اشارہ کیا ہے۔

’’عصمت اگر عورت نہ ہوتی تو اس کے مجموعوں میں ’’بھول بھلیاں‘‘، ’’تل ‘‘، ’’لحاف‘‘،’’گیندا‘‘ جیسے نازک اور ملائم افسانے کبھی نظر نہیں آتے۔ یہ افسانے عورت کی مختلف ادائیں ہیں، صاف شفاف، ہر قسم کے تصنع سے پاک یہ ادائیں وہ عشوے اور غمزے نہیں ہیں۔ جن کے تیر بناکر مردوں کے دل اور کلیجے چھلنی کیے جاتے ہیں۔ جسم کی بھونڈی حرکتوں سے ان اداؤں کا کوئی تعلق نہیں۔ ان روحانی امتیازوں کی منزل مقصود انسان کا ضمیر ہے۔ جس کے ساتھ وہ عورت ہی کی انجانی، ان بوجھی مگر مخملیں فطرت سے بغل گیر ہوئے ہیں۔
عصمت نے نہ صرف کالج اور یونیورسٹی میں پڑھنے والی اونچی ذات کی طالبات اور اعلیٰ تعلیم یافتہ کنواریوں کے ارمانوں اور آرزؤں کا اپنے افسانوں میں تذکرہ کیا ہے بلکہ ان پڑھ اور گنوار لڑکیوں کی بھی جوانی کے مسائل کو اپنے افسانوں کا موضوع بنایا ہے۔ نسوانی کردار میں وہ عورتیں بھی شامل ہیں سماج میں جن کی حیثیت کال گرلز کی ہے۔ لیکن عصمت نے ان پر بہت کم لکھا ہے۔ ’’پتھر دل‘‘ کی ہیروئن اور ’’پیشہ‘‘ کی سیٹھانی کو اس کے زمرے میں رکھا جاسکتا ہے۔ عصمت کے یہاں عام طور پر زمیندار گھرانے میں صاحب زادوں کے لیے کوئی نہ کوئی غریب یا نچلی ذات کی لڑکی ضرور موجود ہوتی ہے۔ جوان کے جذبات کی تسکین کا سامان فراہم کرنے پر مجبور ہوتی ہے۔ اس طرح کے افسانوں کی مثال ’’دو ہاتھ‘‘، ’’گیندا‘‘، ’’ننھی کی نانی‘‘ او’’ر تاریکی‘‘ ہیں۔

عصمت کے یہاں عورت محبت کی ازلی بھوکی ہوتی ہے۔ اس کے اندر چاہے جانے کا احساس بدرجۂ اتم موجود ہوتاہے لیکن اکثر وبیشتر اس کا اظہار انکار اور نفرت سے شروع ہوتاہے۔’’ پنکچر‘‘ کی ہیروئن ایک ایسی کنواری جوان لڑکی ہے جو شادی کے بغیر ایک پل نہیں رہ سکتی ۔
’’میں نے اپنے اوپر ایک قسم کی ڈھٹائی سی لاد لی تھی جلدی تیاریاں کرنا شروع کیں ارادہ ہوا کہ فوراً ہی کشمیر چل دیں گے۔ منظور کی غیر موجودگی میں مجھ پر جنونی کیفیت طاری ہوجاتی ہے دل بغاوت پر تُل جاتا۔ اور یہ محسوس ہوتا کہ اگر فوراً شادی نہ ہوئی تو ضرور پاگل ہوجاؤں گی۔ مجھے خود پر ذرا بھی بھروسہ نہ رہا تھا۔ بعض وقت تو ان باغیانہ خیالات پر خود کو سزا دینے کے لیے منظور پر ضرورت سے زیادہ عنایات کی بارش کی جاتی۔ پر کون جانے وہ سارا اظہار اور لگاوٹ دل میں کسی کا خیال لے کر کہا ںجاتا۔ خدا ستار العیوب ہے منظور کو کیا معلوم کہ اس کی حیثیت ایک ڈمی کی سی تھی۔ جب کہ دل کہیں اور ہوتا تھا۔ نہ جانے ہندوستان میں کتنی عورتیں اپنے شوہر کے گلے میں بانہیں ڈالتے وقت کس کے خیال میں کھوئی ہوئی ہیں۔ کہتے ہیں سچی محبت بھلائے نہیں بھولتی زخم بھر جاتا ہے پر جہاں پوربیہ ہوا چلی اور ٹیسیں اٹھنا شروع ہوئیں پر آج کل تعجب ہے مصنوعی ناک اور کان مل جاتے ہیں تو سکون قلب کیوں نہیں مل سکتا۔ یہ ممکن ہے ضرور ملتا ہے تلاش کرنے والا چاہیے۔‘‘

(پنکچر)
مجموعی طور پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ عصمت ایسی فنکارہ ہیں جنہوں نے سماج کے گرے ہوئے لوگوں کے اندرون میں نہ صرف جھانکنے کی کوشش کی بلکہ ان کے سینے اور دل کی کراہ کو محسوس کر کے اسے افسانوی قالب میں ڈھالا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ کردار صدیوں سے ہندوستانی سماج کی نفرت اور حقارت کے عتاب سہتے آئے تھے۔ عصمت نے سماجی، سیاسی اور معاشی استحصال کی طرح جنسی استحصال کے خلاف خاص طور پر صدائیں بلندکی ہیں۔ ان کی انسانی درد مندی کی باتوں کے مد نظر یہی کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے مذہب اور اخلاق کی فرسودہ دیواروں کو منہدم کیا اور زندگی کی نئی سرحدیں دریافت کی ہیں۔اس اعتبار سے عصمت چغتائی کی افسانوی کائنات کا مطالعہ کیا جائے تو یہ احساس ہوگا کہ عصمت نے نہ صرف اردو فکشن کو مالا مال کیا ہے بلکہ بشری صداقتوں اور انسانی جذبات و احساسات کو کائنات سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش بھی کی ہے۔(یہ بھی پڑھیں!سعادت حسن منٹو کے افسانوں میں نسوانی کردار از : رضوان بن علاء الدین)

Mob.: 9868425314

Previous articleتشدد کی تمام شکلوں سے بچنا ضروری ہے از: مدثر احمد قاسمی
Next articleبہار میں اردو: نئی نسل کو نظر انداز کرنے کا رویہ افسوس ناک از:کامران غنی صبا

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here