“عبدالودود انصاری” سائنسی ادب کی معتبر شخصیت از: عظیم انصاری

0
114

کچھ شخصیتیں ایسی ہوتی ہیں جن کے کارناموں کو دیکھ کر بے ساختہ دل سے دعائیں نکلتی ہیں ۔ ہمیں یہ دیکھ کر خوشگوار حیرت ہوتی ہے کہ اتنا کم وقت میں اور اپنے فرائضِ منصبی کو نبھاتے ہوئے کوئی اتنی ڈھیر ساری کتابیں کیسے تصنیف کرلیتا ہے ۔ شاید اسی لیے کسی نے کہا ہے
We live in deeds not in years

جو لوگ وقت اور زندگی کی اہمیت کو سمجھتے ہیں ، وہ اپنی چھوٹی سی زندگی میں بھی بہت کچھ کر گزرتے ہیں اور دنیا انھیں عقیدت و احترام کی نظر سے دیکھتی ہے ۔ ایسی ہی ایک شخصیت کا نام ہے عبدالودود انصاری جو 1995سے مسلسل سائنسی مضامین لکھ رہے ہیں اور اب تک تقریباً 400 سے زائد مضامین لکھ چکے ہیں ۔ ان کے مضامین صرف اخباروں میں ہی نہیں بلکہ مقبول و موقر رسالوں میں شائع ہوچکے ہیں جیسے تہذیب الاخلاق، اردو دنیا، اردو سائنس، نرالی دنیا ، اردو ٹائمز، زبان و ادب، مسرت، نرالی دنیا، پیامِ تعلیم ، امنگ ، جل پری، اطفالِ ادب ، گلشنِ اطفال، اچھا ساتھی، ستارے ، فکرِ صحت ، غبارہ ، روحِ ادب، روبوٹ ، بزمِ اطفال، شعاعِ اردو، فردوس ، قرطاس، قرطاس وقلم،حج میگزین ، أوراقِ تعلیم ، اطلاعِ عام اور میڈیا اسٹار نیوز فیچر وغیرہ ۔

سائنسی مضامین لکھنے کی وجہ ان کےاس جملے میں ہے جو انھوں نے اپنی کتاب ” مسلمانوں کی سائنسی پسماندگی : منظر۔پس منظر” میں لکھا ہے

” حیرت ہے جس قوم نے ساتویں صدی عیسوی سے بارہویں صدی تک پوری دنیا پر امامت کی ہو آج اس کا مقام پچھلی صف میں بھی نہیں نظر آتا۔”

عبدالودود انصاری نے 1982سے لے کر 1989 تک حمایت الغرباء ہائر سکنڈری اسکول ، کانکی نارہ ، شمالی 24 پرگنہ میں بحیثیت ریاضی کے استاد ملازمت کی ۔ پھر اس کے بعد اردو میڈیم گورنمنٹ پرائمری ٹیچرز ٹریننگ انسٹیٹیوٹ ، نالی کل ،ہگلی کے لکچرر مقرر ہوئے اور پھر پرنسپل کے عہدۂ جلیلہ تک پہنچ گئے ۔ اتنی ساری ذمہ داریوں کے درمیان قوم کا درد لیے ہوئے وہ مسلسل سائنسی مضامین لکھتے رہے تاکہ بچے سائنس میں زیادہ دلچسپی لیں کیونکہ انھیں اس بات کا ادراک ہے کہ ترقی کا زینہ سائنس کے وسیلے سے ہی طے کیا جاسکتا ہے ۔ قوم کا یہی درد ڈاکٹر سر محمد اقبال کو بھی تھا تبھی تو انھوں نے کہا تھا

میں کہ میری غزل میں ہے آتشِ رفتہ کا سراغ
میری تمام سرگزشت کھوئے ہوؤں کی جستجو

عبدالودود انصاری سائنس سے متعلق اب تک 25 کتابیں لکھ چکے ہیں اور چار پانچ کتابیں عنقریب آنے والی ہیں ۔ ان کی مطبوعات میں مندرجہ ذیل کتابیں بڑی اہمیت کی حامل ہیں

مسلمانوں کی سائنسی پسماندگی ۔ منظر پس منظر

ترقی کے زینے ۔ سائنس اور ٹیکنالوجی

سائنس پڑھو اور آگے بڑھو

مغربی بنگال میں اردو کی سائنسی خدمات ۔ آغاز تا حال

مسلمان سائنسدانوں کی خدمات

باتوں باتوں میں سائنس

آؤ سائنسی خط لکھیں

أوراقِ سائنس

آؤ سائنسی خط پڑھیں

“مسلمانوں کی سائنسی پسماندگی ۔۔۔ منظر پس منظر ” میں عبدالودود انصاری نے مسلمانوں کے سائنسی خدمات کو اجاگر کیا ہے تاکہ آج کی نئی نسل اپنے ادارے کے کارناموں سے واقف ہوسکے اور اداروں کی طریقہ کار کیا ہو تا کہ ہم اپنی گمشدہ منزل کو پا سکیں۔

” ترقی کے زینے؛ سائنس اور ٹیکنالوجی” عبدالودود انصاری کے پچیس مضامین کا مجموعہ ہے جس میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی اہمیت و افادیت کو اجاگر کیا گیا ہے ۔

” سائنس پڑھو اور آگے بڑھو” میں عبدالودود انصاری نے بچوں کو مخاطب کرکے یہ بتایا ہے کہ ایک وقت ایسا تھا کہ پوری دنیا میں مسلمان سائنسی علوم میں آگے تھے اور دوسری قومیں مسلمانوں کے پاس آکر سائنسی علوم حاصل کرتی تھیں اس وقت مسلمان بچے بھی سائنسی علوم میں خوب محنت کرتے تھے ۔ یقین جانیے کہ آج بھی ہم محنت کے لئے تیار ہو جائیں تو آج ہم سبھوں سے آگے بڑھ جائیں ۔ ”

” مغربی بنگال میں اردو کی سائنسی خدمات “( آغاز تا حال) میں عبدالودود نے ارضِ بنگالہ اور اردو ادب کے رشتے کو اجاگر کرتے ہوئے یہ لکھا ہے کہ

” بات صرف اردو ادب کی ہی نہیں بلکہ تاریخ تو یہ بھی بتاتی ہے اسی سرزمین سے اردو میں سائنسی ادب کے بعض شعبوں کی بھی پیدائش ہوئی ۔ تاریخ کی کتابوں کے بوسیدہ اوراق کی تحریریں صاف دکھائی پڑتی ہںں کہ اردو میں میڈیکل کتب کے اول مسلمین ڈاکٹر پیٹر برٹن نے اسی سرزمین سے کم ازکم پچاس طبی کتابیں اردو میں تصنیف کی تھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اردو میں ایلوپیتھی اور ہومیو پیتھی کی اولین کتابیں مغربی بنگال کی سر زمین پر ہی لکھی گئیں”

اس کتاب میں میں مغربی بنگال سے شائع شدہ سات سائنس کی کتابوں کا ذکر ہے جس میں کچھ علمی بھی ہیں اس کے علاوہ مغربی بنگال کے چند اردو رسائل کا بھی ذکر ہے ۔ ان رسالوں میں تین آزادی سے قبل کے ہیں اور دس آزادی کے بعد بعد کے ہیں ۔ سولہ مضامین پر مشتمل یہ کتاب مغربی بنگال میں اردو کی سائنسی خدمات کا اچھا نمونہ ہے ۔ یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ ہندوستان میں کسی ریاست کی طرف سے سائنسی خدمات پر یہ اولین کتاب ہے۔

“مسلمانوں سائنسدانوں کی خدمات” بھی اپنے موضوع کے اعتبار سے اچھی اور بہت اہم کتاب ہے۔ اس میں ماضی اور حال کے مسلمان سائنسدانوں کی سائنسی خدمات کا ذکر ہے ۔ اس میں مصنف نے بڑی عرق ریزی سے مسلمان سائنسدانوں کے مسخ شدہ نام، ان کی سائنسی کتابوں کے ترجمے نیز ان کے ایجاد کردہ سائنسی آلات کا تفصیلی جائزہ پیش کیا ہے ۔

” باتوں باتوں میں سائنس ” بھی عبدالودود انصاری کی اہم تصنیف ہے جس میں موصوف نے سائنس کی مشکل شکل کو آسان بنانے کے لیے “مکالمہ نگاری” کا انتخاب کیا ہے اور نہایت ہی سلیس زبان میں چاند ، سورج ، شبنم، تتلی ، جگنو، بجلی ، سونا، چاندی ، ریڈیم ، چمبک، پارا ،کوہ نور اور قوسِ قزح سے متعلق جانکاری فراہم کی ہے ۔ یہاں اس بات کا قائل ہونا پڑتا ہے کہ عبدالودود انصاری بچوں کی نفسیات کے اچھے پارکھ ہیں ۔

” آؤ سائنسی خط لکھیں ” عبدالودود انصاری کی بہت اہم
کتاب ہے جس میں مکتوب نگاری کے ذریعہ بچوں کو قرآن اور سائنس، مردہ سمندر ،برف ، بادل، کہرا و کہاسا، جوار بھاٹا، لال بیگ کی موت ، زلزلہ ، سائینسی ارکان ، ہمنگ برڈ ، شتر مرغ ، تانبا، حسابی ارکان ، عدد ، تربوز ، چیونٹی ، سشروتا، ہم اور ہماری غذا ، ہمارے جانور کنگارو و چوہا، چھچھندر اور مسلمان سائنسدانوں کی خدمات وغیرہ کے متعلق بتایا گیا ہے ‌۔

” أوراقِ سائنس” چالیس سائنسی مضامین کا مجموعہ ہے جس میں نہایت ہی سلیس زبان میں عبد الودود انصاری نے سائنس کے مختلف گوشوں کو دلچسپ انداز میں گوش گزار کیا ہے ۔

” آؤ سائنسی خط پڑھیں ” میں عبد الودود انصاری نے مکتوب نگاری کے ذریعہ مختلف موضوعات پر سیر حاصل بحث کی ہے ہے اور بچوں کی نفسیات کو دھیان میں رکھتے ہوئے مضامین کو دلچسپ بنایا ہے یہی وصف عبدالودود انصاری کی امتیازی پہچان ہے ۔ علاوہ برایں ہندوستان میں مکتوب نگاری کے ذریعہ سائنسی منظر پیش کرنے کا اولین سہرا عبد الودود انصاری کے سر جاتا ہے ۔

کوئز کے ذریعہ بھی عبدالودود انصاری نے بچوں کو جانوروں ، پرندوں ، کیڑوں اور سانپوں کے بارے میں بڑی اچھی معلومات فراہم کی ہے بلکہ یہ کہنا بھی مبالغہ نہ ہوگا کہ ہندوستان میں پہلی بار یک موضوعی کوئز سائنسی کتابیں لکھنے کا اعزاز موصوف کو ہی حاصل ہے ۔ ” جانور کوئیز “نامی کتاب میں جانوروں پر مشتمل 500 سوالات اور ان کے جوابات ہیں ۔ “پرندہ کوئیز” ” میں پرندوں سے متعلق تقریبات اتنے ہی سوالات اور جوابات ہیں ۔”کیڑا کوئیز ” نامی کتاب میں کیڑوں سے متعلق 383 سوالات و جوابات ہیں ۔ ” سانپ کوئیز ” میں سانپ کے مختلف اقسام اور ان کی خاصیت پر 380 سوالات و جوابات ہیں۔ یہ تمام کتابیں عبدالودود انصاری کی محنت، لگن اور ریاضت کی نتیجہ ہیں ۔ ان کی کوشش یہ رہتی ہے ان کے دلچسپ انداز تحریر سے بچے مانوس ہو جائیں اور سائنس سے ان کی دلچسپی بڑھے اس کے علاوہ ” فلک کوئز ” کے ذریعہ انہوں نے سورج پر 10،چاند پر 61, سیارہ پر 61, بادل پر 35 اور فلک پر 7 سوالات کے علاوہ 35 مختلف سوالات و جوابات پیش کیے ہیں ۔

ان تمام کارناموں کی روشنی میں ہم یقیناً یہ کہہ سکتے ہیں کہ عبدالودود انصاری نے اتنی ڈھیر ساری کتابیں لکھ کر نہ صرف سائنسی ادب کو مالا مال کیا ہے بلکہ بچوں کی نفسیات کو سمجھ کر آسان سلیس اور دلچسپ انداز تحریر سے ان کو سائنس سے قریب لانے کی کامیاب کوششیں کی ہیں تاکہ بچے اپنے آبا و اجداد کے کارناموں سے واقف ہونے کے ساتھ ساتھ اس میدان میں آگے بڑھیں اور گمشدہ عظمت کو لوٹاسکیں ۔ عبدالودود انصاری کی یہ فکری بصیرت قوم کے لیے اثاثہ ہے اور مجھے امید ہے کہ وہ مستقبل قریب میں بھی اپنی قوم اور اردو ادب کی خدمت کرتے رہیں گے ۔ ویسے بھی اردو زبان و ادب میں سائنسی مضامین لکھنے والوں کی سخت ضرورت ہے ۔ عبدالودود انصاری کے لیے یہ سب سے بڑا اعزاز ہے کہ قومی کونسل برائے فروغِ زبانِ اردو، نئی دہلی نے ان کی چار کتابیں شائع کیں ۔ یہ اعزاز مغربی بنگال میں کسی کو نہیں ملا ۔ میری دعا ہے کہ وہ اسی سرگرمی سے سائنسی مضامین لکھ کر اردو ادب کی خدمت کرتے رہیں ۔(یہ بھی پڑھیں!نصراللہ نصر ” اذکارِ ادب ” کے آئینے میں از: عظیم انصاری)

Previous articleاتحادِ ملّت کانفرنس _ چند معروضات از:ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی
Next articleحسن عمل وسادگی کاپیکر حضرت مولاناعبدالخالق سنبھلی. از: ڈاکٹرراحتؔ مظاہری،قاسمی

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here