عارف اقبال: جس نے ناقدرشناس معاشرے میں قدرشناسی کے ایک نئے سلسلے کا آغاز کیا

0
35

حقانی القاسمی(معروف نقاد)
نئی دہلی

عارف اقبال کا تعلق اس نئی نسل سے ہے جس کے اندرامکانی قوتیں بھی ہیں،ممکنہ توانائیاں بھی اور جس سے معاشرے کو بہت سی توقعات بھی وابستہ ہیں۔اس نسل کے پاس جدید ترین تکنیکی ذرائع اور وسائل بھی ہیں، اس لیے مواقع اور ا مکانات کے بیشتر دروازے کھلے ہوئے ہیں۔علوم وفنون کے ذخائر تک رسائی کے ذریعے کے ساتھ اکتساب کے نئے نئے طریقے بھی دستیاب ہیں، اس لیے یہ نسل تکنیکی وسائل کی سطح پر بہت مستحکم اور مضبوط ہے۔عارف اقبال نے بھی انہی تکنیکی وسائل اور ذرائع کا استعمال کیا اور اپنی فعالیت سے مختصر عرصے میں اپنی شناخت قائم کرنے میں کامیابی حاصل کی جب کہ وہ ایک ایسے پیشے سے جڑے ہوئے ہیں جہاں فرصت کے رات دن تلاش کرنا جوئے شیر لانے جیسا ہے۔مطالعے کے لیے وقت نکالنا آسان نہیں ہوتااور ان کا معاملہ صرف مطالعہ تک محدود نہیں ہے بلکہ انھوں نے مطالعہ سے آگے کا سفر بھی کیا ہے اور اپنے مطالعاتی ثمرات کو بارآور شکل وصورت بھی عطا کی ہے۔

عارف اقبال نوجوان ہیں، جوش اور جذبہ سے بھرپور ہیں اور اپنی توانائیوں کا تعمیری استعمال کرنے کا ہنر بھی انہیں آتا ہے، انھوں نے ایک ایسے دور میں جب ہمارا معاشرہ معاش اور معیشت میں محصور ہے اور انسان کا روحانی اور اخلاقی وجود معدوم ہوتا جارہا ہے اور فرد ایک مادی اور معاشی وجود میں تبدیل ہوگیا ہے، ایسے میں روحانی،اخلاقی اور تہذیبی اقدار سے رشتہ قائم رکھنا یقینا قابل قدر ہے۔ عارف اقبال نے تہذیبی، روحانی روایت سے رشتہ قائم کرتے ہوئے علم اور علما کو اپنے مطالعہ کا محور ومرکز بنایا ہے اور اس علمی اور مذہبی ورثے کے تحفظ کی کوشش کی ہے جس سے آج کی نسل فاصلہ بنائے ہوئے ہے۔ انھوں نے قدرِ مردم بعد مردن کی روش اورروایت کو بھی توڑاہے اور ناقدرشناس معاشرے میں قدرشناسی کے ایک نئے سلسلے کا آغاز کیا ہے۔آج کے فراموش کار عہد میں یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ ہماری اجتماعی یاد داشت اور قومی حافظہ کمزور ہے۔وفات کے بعد پیدائش کی تاریخ تلاش کرنے سے بہتر تو یہی ہے کہ زندگی ہی میں آثار اور کوائف کو قلم وقرطاس کے ذریعے محفوظ کرلیاجائے کہ اس سے زندوں کو تھوڑی زندگی، تھوڑی سی مسرت اورتھوڑی تقویت مل جاتی ہے۔ ساحر لدھیانوی نے کہا تھا:

کل کوئی مجھ کو یاد کرے کیوں کوئی مجھ کو یادکرے
مصروف زمانہ میرے لیے کیوں وقت اپنا برباد کرے
دراصل اسی احساس کی وجہ سے زندہ لوگوں پر لکھنے کا ایک جواز پیدا ہوجاتا ہے۔عارف اقبال نے”باتیں میرکارواں کی“کے عنوان سے امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھارکھنڈ کے امیرشریعت مولانا سید نظام الدینؒ کی زندگی ہی میں کتاب تحریر کی تھی اوراسی تسلسل کو انھوں نے بلبلِ متھلانچل مولانا ابواختر قاسمی کے تعلق سے قائم رکھا ہے کہ ان کی شخصیت کے حوالے سے ان کی زندگی ہی میں ہی یہ کتاب مرتب کی ہے۔

مولاناابو اخترقاسمی ہمارے معاشرے کے لیے ایک قابل تقلید نمونہ ہیں، وہ خوش گفتار بھی ہیں اور نیک شعار بھی۔ متھلانچل جیسی سرزمین سے ان کا رشتہ ہے جو بہت ہی زرخیز اور مردم خیز ہے۔انھوں نے درس وتدریس اور خطابت کے ذریعے اکابر دیوبند کے مشن اور مقاصد جلیلہ کو زندہ رکھا ہوا ہے۔جامعہ رحمانی مونگیر، مدرسہ امدادیہ دربھنگہ جیسے اہم علمی اور دینی اداروں سے ان کا تدریسی رشتہ رہا ہے۔ان کے شاگردوں کی ایک بڑی تعداد ہے جن کے کمالات کا شہرہ دور دور تک ہے۔ان میں امیر شریعت مولانا ولی رحمانی، رضوان قاسمی، ابوالکلام قاسمی وغیرہ کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔مولانا ابو اختر قاسمی کی حیات اور تدریسی زندگی کے احوال وکوائف اور معاشرے پر ان کی خطابت کے اثرات کے حوالے سے بیش قیمت تحریریں انھوں نے اس کتاب میں شامل کی ہیں۔ مولاناابو اختر قاسمی ایسی شخصیت ہیں جنھوں نے اپنی تقریروں کے ذریعے معاشرے کی رہنمائی کی ہے اور مذہبی وشرعی متون کے معلم ومعبر کی حیثیت سے اپنی شناخت بھی قائم کی ہے۔ ایسی شخصیتوں پراگران کی زندگی میں ہی لکھاجائے تویہ زیادہ مفید اور نافع عمل کہلائے گا، خاص طورپر اس صارفی دورمیں جب علم اور علماء کی قدرومنزلت کم ہوتی جارہی ہے اور ان کے مذہبی ڈسکورس پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔علم اور علماء کی موتسے معاشرہ پر ایک بحرانی کیفیت بھی پیدا ہوگئی ہے۔ایسے میں علمائے کرام کی خدمات اور کارناموں سے قوم کو روشناس کرنا بڑا کارنامہ ہے۔

ماضی میں اسلامی علوم ورجال کے حوالے سے بہت سی مستند کتابیں شائع ہوئی ہیں کیونکہ یہی علما تھے جو معاشرے میں ایک افادی کردار کی حیثیت رکھتے تھے اور ان کا ہرایک عمل سماج کے لیے ایک نمونہ تھا۔انہی سے سماجیات کی تشکیل وتعمیر ہوتی تھی اور یہ وہی علما تھے جو اقتدار کی منطق اور محورکو تبدیل کرنے کی قوت بھی رکھتے تھے۔یہی وجہ ہے کہ سلاطین اور شرفا علما کا بے حد احترام کرتے تھے، القاب وخطابات سے نوازتے تھے اور درباروں سے علما وفضلا کی وابستگی کو اپنے لیے باعث فخر سمجھتے تھے۔یہی علما تھے جن کی وجہ سے بہت سے قصبات وقریات بقول قاضی اطہر مبارکپوری معدن علم وعلما بن گئے۔سبحۃ المرجان، ماٰثر الکرام، تحفۃ الفضلاء فی تراجم الکملاء، مظہر العلما فی تراجم العلما والکملاء، اخبار الاخیار، گلزار ابرار، الیاقوت والمرجان فی ذکر علما سہسوان، علماء سلف، تذکرہ علماء فرنگی محل، تذکرہ علما امروہہ، جیسی کتابیں تحریر کی گئیں اور انفرادی طور پر بھی علما کرام کے تذکرے ترتیب دیئے گئے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ معاشرہ علما کے مراتب کمال سے واقف تھا اور علما نے واقعی معاشرتی اور مذہبی کردار کو بخوبی نبھایا اور اپنے علمی آثار و تصنیفات کے ذریعے ذہن کی تاریکیوں کو دور کیا۔ ان کے وجود سے معاشرے کو فیض پہنچا۔ انہی علما نے اسلامی اقدار وروایات کی ترویج وترسیل کے علاوہ امن وآہنگی اور معاشرتی توازن کے قیام میں بھی اہم کردار اداکیاہے۔ان کے مذہبی اور سیاسی ڈسکورس کوبہت اہمیت دی گئی ہے مگر ماڈرنائزیشن کی وجہ سے آج علما کے تئیں ایک تحقیری رجحان عام ہوتا جارہا ہے جس کی بیخ کنی بہت ضروری ہے۔

عارف اقبال نے اس کتاب کے ذریعے علم اور علما کے تئیں معاشرے کے انہی رجحانات کومسماراور منہدم کرنے کی سعی بلیغ کی ہے کیونکہ انہی عباقر ہ دوراں، جہابذہ زماں اور علمائے فحول نے ہمارے معاشرے کو صحیح اور سالم سمت عطا کی ہے اور انھوں نے تعلموا العلم وعلموہ الناس پرعمل کرکے علم کی روشنی سے معاشرے کی تاریکی کو دور کیا ہے۔مولانا ابواختر قاسمی نے بھی اپنی تدریسی زندگی میں یہی فرض منصبی اداکیا ہے اور جہاں جہاں انہیں تاریکی نظر آئی وہاں علم کی ایک شمع جلائی ہے، اس لیے آج کے معاشرے میں ان کی قدرومنزلت اور بڑھ جاتی ہے اور ہمیں یہ بھی احساس دلاتی ہے کہ ایسے علما کی نہ صرف قدر کی جائے بلکہ معاشرے کو ان کی خدمات سے روشناس بھی کرایاجائے۔ عارف اقبال کا یہ قابل تعریف اور لائق تحسین کام ہے، مجھے امید ہے کہ علمی اور دینی حلقے میں اس کتاب کی خاطر خواہ پذیرائی ہوگی اور نئی نسل سے وابستہ اور بھی فعال افراد اس جانب توجہ کریں گے اور ہمارے عہد کی اہم علمی اور مذہبی شخصیات کو اپنے مطالعہ کا محور ومرکز بنائیں گے۔

Previous articleمرکزی حکومت نے دہلی ہائی کورٹ میں داخل کیاحلف نامہ۔
Next articleہندوستان میں فروری میں آئے گی Omicron کے معاملات میں تیزی، US ایکسپرٹ کا Alert ، روزانہ اتنے لاکھ آئیں گے کیسز

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here