عارفہ عنبر کا قلمی سفر از : محمد اویس سنبھلی

0
149

لاک ڈاؤن کے زمانے میں اردو کے جن نئے قلم کاروں کی تحریروں کو پڑھنے کا موقع ملا ان میں ایک نام عارفہ مسعود عنبر کا ہے۔عارفہ عنبر کا تعلق’شہرجگر‘ مرادآباد سے ہے۔ مرادآباد نے شاعری کے میدان میں بڑے اہم نام پیدا کیے۔ذکی مرادآبادی اورجگر مرادآبادی سے لے کر قمر مرادآبادی تک اردو کے نامور شعراء کی ایک طویل فہرست ہے۔ نثر لکھنے والوں کی بھی یہاں کوئی کمی نہیں رہی۔ صحافت کے میدان میں محترم ہمایوں قدیر اپنی تحریروں اور ’روزنامہ آئینہ عالم‘سے نیک نام ہوئے تو معصوم مرادآبادی نے معتبر صحافی کے طورپر ملک و بیرون ملک مرادآباد کا نام روشن کیا۔ اردو شعر و ادب کیلئے اس شہر کی خدمات آبِ زر سے لکھنے کے قابل ہیں۔
عارفہ عنبر کی پرورش و پرداخت اسی شہر کے ادبی ماحول میں ہوئی۔ وہ شاعری بھی کرتی ہیں اور نثر بھی خوب لکھتی ہیں۔ ان کا کلام نیز ادبی، ملی و سماجی مسائل پر ان کے مضامین پابندی سے اخبارات و رسائل میں شائع ہورہے ہیں۔روزنامہ اودھ نامہ لکھنؤ میں بھی ان کی تحریریں شائع ہوتی رہی ہیں۔ اسی اخبار میں ملک کے موجودہ حالات پر ان کی کئی تحریریں میرے مطالعے میں رہیں نیز ان کے چند ادبی مضامین بھی۔

عارفہ عنبر ایک گھریلو خاتو ن ہیں لیکن لکھنے پڑھنے کا عمدہ ذوق رکھتی ہیں۔امور خانہ داری اور گھر کی دیگر ذمہ داریوں کی ادائیگی کے بعد جو وقت ملتا ہے وہ قرطاس و قلم کے حوالے کردیتی ہیں۔ وہ مرادآباد کے ایک ہفت روزہ ہندی اخبار”گلوبل نیوز“ کے ادبی گوشے کی ادارت کے فرائض بھی انجام دیتی ہیں۔ہندی اور اردو زبان پر انھیں یکساں عبور حاصل ہے، جس کا اندازہ گلوبل نیوز میں شائع ہونے والے ان کے مضامین سے لگایا جاسکتا ہے۔اس کے علاوہ آکاش وانی رامپور سے ان کی غزلیں اردو،ہندی کے مضامین نشر ہوتے رہتے ہیں۔ مرادآباد اور اس کے قرب و جوار میں منعقد ہونے والے ادبی سمینار وں میں وہ نہ صرف شرکت کرتی ہیں بلکہ مقالات بھی پیش کرتی ہیں۔
عارفہ عنبر اچھا شعری ذوق رکھتی ہیں۔غزل کہتی ہیں اور نشستوں میں شرکت بھی کرتی ہیں۔ مجموعی طور پر عارفہ عنبر خوب متحرک ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مرادآباد غزل اکیڈمی نے بھی ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے اعزاز سے نوازا۔شاعری میں عارفہ عنبر نے کیف مرادآبادی کی ادبی وراثتوں کے امین استاد شاعر محترم انورکیفی صاحب کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا۔انور کیفی صاحب کا شمار شہرجگر کے استاد شعراء میں ہوتا ہے۔کیفی صاحب کا کمال یہ ہے کہ انھوں نے کسی بھی رنگ کو اپنی سخنوری پر ہاوی نہیں ہونے دیا، اس طرح ان کی شاعرانہ انفرادیت اور ادبی امتیاز قائم ہے۔ مقام مسرت ہے کہ عارفہ عنبر کا ادبی سفر محترم انور کیفی صاحب کی سرپرستی میں کامیابی کی راہ پر گامزن ہے۔

راقم الحروف اودھ نامہ میں عارفہ عنبر کی تحریروں کو پڑھتا رہا ہے۔ڈاکٹر معروف سنبھلی کی کتاب ساحر لدھیانوی: حیات و خدمات پرروزنامہ اودھ نامہ میں عارفہ عنبر کا سیرحاصل تبصرہ شائع ہوا تھا۔ یہاں میں نے انھیں پہلی بار پڑھا تھا۔ان کے اس تبصرہ پر میری نظر شاید اس وجہ سے بھی ٹھہر گئی کہ ڈاکٹر معروف میرے ہم وطن ہیں اور ان کے نام کے ساتھ”سنبھلی“لگا ہوا ہے۔بعد میں معلوم ہوا کہ عارفہ عنبر کا نانہال بھی سنبھل ہے۔بہرحال سنبھل اور مرادآباد دونوں ہی علمی و ادبی بستیاں ہیں۔ خزاں رسیدہ بہاریِ یادگار سنبھل کا اپنا ایک مقام ہے، ماضی میں یہ علم و ادب کا گہوارہ رہا ہے۔عارفہ عنبر کی پرورش و پرداخت میں ان دونوں شہروں کا اہم کردار رہا ہے۔
عارفہ عنبر کو مطالعہ کا بہت شوق ہے۔ ان کے مضامین کو پڑھ کر ان کے مطالعہ کی وسعت و گیرائی کا کچھ اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ حال ہی میں راقم الحروف کو ان کے ایک مضمون کے مطالعہ کا موقع ملا۔یہ مضمون ذاکر فیضی کی کہانیوں کے تعلق سے لکھا گیا ہے۔ اس مضمون میں عارفہ عنبر نے ذاکر فیضی کی کہانیوں کاتجزیہ بڑے عمدہ انداز میں کیا ہے۔مضمون کی تمہید عارفہ عنبر کے مشق سخن اوروسعت مطالعہ کی غماز ہے۔مسلسل محنت اور ریاضت کے بعد جب قلم و قرطاس سے انسانی رشتہ قائم ہوتا ہے تو کورے کاغذ پر کالی روشنائی سے انتہائی خوبصورت الفاظ سے تیار ہونے والے جملے،چمکدار موتیوں کی طرح ایک لڑی میں پروئے نظر آتے ہیں۔عارفہ عنبر نے اپنی بے پناہ محنت اور لگن سے نہ صرف کتابوں کو پڑھا ہے بلکہ قلم اور کاغذ سے اپنے رشتے کو مضبوطی عطا کی ہے۔ اسی لیے انھیں قلم کی اہمیت اور حرمت کا پاس و لحاظ ہے۔ وہ لکھتی ہیں:

”قلم کاری محض وقت گزاری اور تفریح کے لیے ہوتو کسی قلم کار کی یہ کوئی فنکارانہ صلاحیت نہیں ہوسکتی کیونکہ قلم کاری ایک ایسی امانت ہے جس کا پاس و لحاظ رکھنا اور ادب و احترام کرنا ہر قلم کار کے لیے لازم ہے۔ قلم کا صالح اور بہترین استعمال یہی ہوسکتا ہے کہ قلم کار اپنے قلم کو بامقصد حصول کے لیے بروئے کار لائے۔ بلاشبہ قلم کاری ایک ایسی نعمت ہے اور لافانی خزانہ ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتا جاتا ہے۔ اس دولت کو جتنا بھی استعمال کیا جاتا ہے اس میں اتنا ہی اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔“
اسی طرح ان کا ایک مضمون ”ادب کی بدرمنیر ڈاکٹر منیر زہرہ“پرہے۔ یہ مضمون معروف شاعرہ مینا نقوی کی شاعری کے حوالے سے قلم بند کیا گیا ہے۔مینا نقوی صاحبہ کی جائے پیدائش نگینہ ہے، لیکن ان کا سسرال مرادآباد ہے اور عارفہ عنبر کا تعلق شہرمرادآباد اور سنبھل دونوں سے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اپنے اس مضمون کی تمہید میں عارفہ عنبر نے مرادآباد،، نگینہ اور سنبھل تینوں شہروں کا مختصر تعارف کراتے ہوئے مینا نقوی صاحب کی شاعری پر سیرحاصل گفتگو کی ہے۔اس مضمون کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس مضمون کی تیاری میں عارفہ عنبر نے پروین شاکر اور مینا نقوی کے کلام کا گہرا مطالعہ کیا ہے اور دونوں کے کلام سے  یکسانیت کو پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔عارفہ عنبر نے پروین شاکر کا مجموعہ کلام ”خوشبو“ اور مینا نقوی کے کلام کامطالعہ کرکے دونوں کے کلام کی خوشبو اور مہک کو محسوس کیا اور اپنے انداز میں بہت خوبی کے ساتھ اس مضمون میں پیش کردیا۔ انھوں نے پروین شاکر کا ایک شعر  ؎
درد پھر جاگا پرانا زخم پھر تازہ ہوا
فصل گل کتنے قریب آئی ہے اندازہ ہوا

نقل کرتے ہوئے، اسی مضمون کو مینا نقو ی کے اس شعر میں تلاش کیا  ؎
آپ کیا روح کو دے سکیں گے سکوں
صرف زخموں پر مرحم لگا دیجئے
 عارفہ عنبر نثر و نظم میں یکساں قدرت رکھتی ہیں۔آسان زبان اور چھوٹی چھوٹی بحروں میں ان کے اشعار غور و فکر کی دعوت دیتے ہیں۔چند اشعار پیش خدمت ہیں۔
شہریاروں سے کہو دار بچا کر رکھنا
ہے خطا میری تو پھر مجھ کو سزا دی جائے
٭
قید خوشبو ہو یہ ممکن ہی نہیں ہے عنبرؔ
بات اتنی سی یہ پھولوں کو بتا دی جائے
٭
کتابوں سے ہوئی آباد دنیا
قلم بھی اب چلانا آگیا ہے
٭
صَرف یوں ہم نے زندگی کرلی
بس کتابوں سے دوستی کرلی
٭
جن چراغوں کا خدا محافظ ہو
ان کو طوفاں کا ڈر نہیں ہوتا
وہ تصور میں تھے شبِ ہجراں
کاش وقتِ سحر نہیں ہوتا
٭
پرستارِ الفت سے کہہ دیجئے عنبرؔ
ہمیں دل لگانے کی عادت نہیں ہے
٭
اس نے ترکِ وفا کیا عنبرؔ
ہم نے بھی غم سے دوستی کرلی
٭
خانقاہوں کے امیں کیوں عنبرؔ
شہر خوباں میں صدا دیتے ہیں
ان اشعار کے مطالعہ سے ان کے شعری مزاج کو سمجھا جاسکتاہے۔یہاں غزل کے عام مزاج کو دیکھا جاسکتا ہے کہ انھوں نے ایک طرح کے مضامین کو اختیار نہیں کیا ہے بلکہ جہاں بہت سے اشعار حالات و واقعات کی ترجمانی کرتے ہیں وہیں شب ہجر،وقت سحر،ترک وفا کا بھی ذکر ہے۔یعنی عنبر صاحبہ نے غزل کی روایت اور اس کے مزاج کو اپنے اشعار میں بخوبی نبھایا ہے۔ان اشعار کی سادگی اور سادہ بیانی بھی قابل داد ہے۔

کورونا وائرس اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے زندگی کے معاملات یکسر تبدیل ہوگئے۔ رمضان المبارک بھی اسی وائرس اور لاک ڈاؤن میں انتہائی خاموشی سے نمودار ہوا اور دبے پاؤں چلا گیا۔ مساجد آباد نہ ہوسکیں۔ رمضان کی تمام رونقیں پھیکی پڑ گئیں۔ اسی رمضان میں بھوک اور پیاس کے عالم میں مزدوروں کا قافلہ سڑکوں پر پیدل ایک ریاست سے دوسری ریاست کا سفر کرنے مجبور ہوگیا، کچھ ٹرینوں کی زد میں آکر تو کچھ گرمی کی شدت سے بیمار ہوکر اور کچھ سڑکوں پر حادثات کا شکار بن کر موت کے آغوش میں سوگئے۔ہر حساس طبیعت انسان نے ان حالات کو نہ صرف دیکھا بلکہ ان کے درد کو محسوس بھی کیا۔ تو پھر ایک شاعر ہ کی طبیعت پر بھی اس کا اثر ہونا فطری تھا۔ انہی حالات اور درد و الم کی اسی کیفیت کو بیان کرتے ہوئے عارفہ عنبر نے چند اشعار کہے۔   ؎
وحشت کا عالم ہے کیسے عید منائیں
لاشوں کا ماتم ہے کیسے عید منائیں
سڑکوں پر مزدور بہت مجبور ہوئے ہیں
ہجر کا یہ موسم ہے کیسے عید منائیں
گلے لگا کر ماں کو دل کا درد دکھائیں
آنکھ ہماری نم ہے کیسے عید منائیں
عید کے منظر کا موسم ہے سونا سونا
ویراں سب عالم ہے کیسے عید منائیں
عنبر چہرے پرچھائی ہوئی اداسی
دل میں غم پیہم ہے کیسے عید منائیں
 عارفہ عنبر شعری و ادبی مضامین کے توسط سے ان کے ادبی سفر کا اندازہ کیا جاسکتاہے اور یہ کہا جاسکتاہے کہ ان کی شعری و ادبی کوششیں قابل قدر ہیں اور ان سے بہر صورت ایک اچھے ادیب کے طور پر توقع باندھی جاسکتی ہے۔

 ملک کی موجودہ صورت حال پر عارفہ عنبر کے مضامین سے اندازہ ہوا کہ وہ حالات و واقعات کے تناظر میں نہ صرف دور تک دیکھتی ہیں بلکہ ان کا تجزیہ بھی عمدہ اندازہ سے کرتی ہیں۔ ان مضامین کی سب سے بڑی خوبی جذبہ حق بیانی اور اپنی بات رکھنے کا واضح انداز و اسلوب ہے۔حساس موضوعات پر ان کا قلم مصلحت کا شکار نہیں ہوتا بلکہ ملک میں گذشتہ چند برسوں میں جو تبدیلیاں رونما ہوئیں ہیں، ان پر بھی انھوں دل کھول کر مضامین قلم بند کیے ہیں۔سی اے اے، این آرسی اور این پی آر کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے والی خواتین کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے انھوں نے ”ہیں یادگاریں جتنی دشمن کو یہ سنا دو“ کے عنوان سے ایک اہم مضمون قلم بند کیا۔اس مضمون میں انھوں نے ملک کی آزادی کی خاطر قربانیاں پیش کرنے والی خواتین کے کارنامے پر گفتگو کی ہے۔ اپنے اس مضمون میں انھوں نے بیگم حضرت محل، علی برادران کی والدہ ”بی اماں“، حسرت موہانی کی اہلیہ ”نشاط بیگم“، مولانا ابوالکلام آزادکی زوجہ ”زلیخا بیگم“ کی خدمات کا تذکرہ  نیز کالے قانون کے خلاف احتجاج کرنے والی خواتین کے سامنے ان باہمت خواتین کی طرح ڈٹ کر حالات کا مقابلہ کرنے کا سبق بھی پیش کیا ہے۔

کورونا وبائی مرض کی ہندوستان میں ابتداء کے ساتھ ہی اس کے پھیلاؤ کو لے کر تبلیغی جماعت اور اس کے ذمہ داران پربناکسی تحقیق کے الزامات عائد کیے گئے۔ سیاستدانوں سے تو کیا شکایت ان کا تو کام ہی ”سیاست“ کرنا ہے، وہ تو سرحد پر شہید ہونے والے فوجیوں کی نعشوں پر بھی سیاست کرلیتے ہیں۔ لیکن جمہویت جس کا چوتھا ستون صحافت کو اس لیے کہا جاتا کہ اگر ملک کی جمہوریت یا اس سالمیت پر کوئی خطرہ نظر آنے لگے تو اس کی حفاظت کے لیے یہی چوتھا ستون آہنی دیوار کی طرح سامنے آکر کھڑا ہوجاتا ہے، بدقسمتی سے2014میں اسی’صحافت‘ نے نہ صرف خود کو ایک رنگ میں رنگ لیا بلکہ اقتدارِ اعلیٰ کے ہاتھوں اپنے ضمیر کا سودابھی کردیا۔کورونا کے پھیلاؤ کو لے کر میڈیا نے تبلیغی جماعت اور اس کی کارکردگی کو مورد الزام ٹھہرانے کی ہرممکن کوشش کی۔ اس سلسلہ میں میڈیا کے افراد نے جن الفاظ کا استعمال کیا وہ انتہائی خراب اور مایوس کرنے والے تھے۔عارفہ عنبر نے اپنے مضمون’ناکام حکومت اور فروخت شدہ میڈیا‘ میں، ہندوستان میں میڈیا کی موجودہ صورت حال پر اپنی فکر مندی کا اظہار کیا ہے نیز ایک ریاست سے دوسری ریاست اپنے گھروں کو لوٹ رہے مہاجر مزدوروں، تبلیغی جماعت کے افراد، لفظ ”پھنسے“ اور ”چھپے“ پر بڑی جوشیلی گفتگو کی ہے لیکن تحریر کی خوبی یہ ہے کہ انھوں نے اپنے ”ہوش“ کو بہکنے نہیں دیا۔عارفہ عنبر کا ایک مضمون ”خود کو تلاشیے“ ہے۔ یہ مضمون گذشتہ ۱۲/اپریل ۰۲۰۲ء کو قندیل آن لائن پورٹل پر شائع ہوا تھا۔وہ طاقتیں جنھیں خود پر غرور تھا یا،وہ حکومتیں جن پر کبھی سورج غروب نہیں ہوتا تھا، کورونا وبائی مرض کے آگے سب سے زیادہ مجبور نظر آئی۔ اس کی وجہ صاف ہے ’اللہ تعالیٰ ہر شے پر قادر ہے‘۔ اس کی مرضی کے بغیر ایک پتا بھی نہیں ہل سکتا۔ سپرپاور ہونے کا دعوی کرنے والے یہ بھول گئے کہ ایک طاقت ہے جو واقعی سپر ہے۔عارفہ عنبر نے اپنے اس مضمون میں انھی باتوں کی طرف توجہ مبذول کرانے کی کوشش کی ہے۔ یہ مضمون لاک ڈاؤن کے سبب پوری دنیامیں انسانیت کے لیے درپیش مسائل کی مکمل عکاسی کرتا ہے نیزاپنے اندر جھانکنے اور تلاشنے کا سبق پیش کرتا ہے۔ اس مضمون کا آخری حصہ نثری نمونے کے طور پر پیش کرتا ہوں اوراسی پر اس مضمون کا اختتام بھی، اس امید کے ساتھ کہ عارفہ عنبر قلم و قرطاس سے اپنا رشتہ اسی طرح مضبوط کرتی رہیں گی:۔
قدرت نے ہمیں کئی طریقوں سے احساس دلانے کی کوشش کی لیکن ہم اس کے اشاروں کو نظرانداز کرکے زندگی کی دوڑ میں بھاگتے رہے۔ آج قدرت نے یہ ثابت کردیا ہے کہ تم چاہے جتنی بلند پرواز کیوں نہ کرلو لیکن زندگی میں میرے ہی حکم سے کامیاب ہوسکوگے اور تمہاری تمام تر بلندیوں کو میں پل بھر میں زمیں دوز کرسکتا ہوں۔ آج کل ہم سب صرف اور صرف اپنے اور اپنوں کے ساتھ وقت گزار رہے ہیں، جن فرصت کے لمحات کو ہم ترس رہے تھے اور دنیا بھاگ دوڑ میں خود کو کہیں بھول گئی تھی شاید قدر ت نے وہ فرصت کے لمحات عطاء کیے ہیں اور موقع دیا ہے کہ ہم اپنی شخصیت، اپنے اعمال، اپنی کوتاہیوں کا ادراک کریں، خود کو تلاش کرنے کی کوشش کریں، اپنے اندر جھانکیں اور سوچیں کہ زندگی کی بھاگ دوڑ نے
ہم سے کیا چھین لیا……..“۔
عارفہ عنبر کا قلمی سفر صحیح معنوں میں اب شروع ہوا ہے۔ لیکن ان کی تخلیقات کے مطالعہ کے بعد یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ انشاء اللہ بہت جلد اردو کے اچھے قلم کاروں میں ان کا شمار ہونے لگے گا۔(یہ بھی پڑھیں! اردو مرثیے کی جمالیات از:عارفہ مسعود عنبر)

Previous articleمحرم الحرام اور ہجری کیلنڈر: نئے اسلامی سال کا آغاز مختلف ممالک میں مختلف کیوں؟
Next articleبزرگ شاعر افتخار احمد راز مورسنڈوی کی رحلت! سوگوار سیمانچل

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here