’’تحقیقی تبصرے‘‘:ایک مطالعہ

0
302

’’تحقیقی تبصرے‘‘:ایک مطالعہ

از عبدالوہاب قاسمی

ڈاکٹر ظفرؔکمالی کی مختلف الجہات ادبی شخصیت کا سب سے توانا پہلو نثرنگاری ہے لیکن یہ حیرت کی بات ہے کہ جہاں ان کی شاعری کے آٹھ آٹھ مجموعے جن میں رباعیوںکاایک دیوان بھی شامل ہے ان کے مقابل نثرمیں اب تک دومجموعے ایک’’متعلّقاتِ احمد جمال پاشا‘‘ اور دوسرا’’تحقیقی تبصرے‘‘ ہی اس پہلو کے عکاس ہیں۔
اس کا جواب اگر ایک لفظ میں دیا جائے تو وہ یہ ہوگا کہ وہ ’’عجلت پسند‘‘نہیں ہیں۔ جیساکہ انھوں نے پیش گفتار میں لکھا بھی ہے کہ ’’عجلت پسندی میرے مزاج کا حصہ نہیں‘‘(تحقیقی تبصرے ص ۹)اب تحقیق کے ساتھ اس لفظ کا انسلاک کیجیے تو ان کی نثر نگاری خصوصاً تحقیق نگاری کے حوالے سے ان کے فکری نظریے سامنے آتے ہیں کہ محقق کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ مواد کی جستجو میں صبروشکیب اورتحمل کا پیکر بن جائے۔ اس طرح یہ کتاب ان کے نظریے کے مطابق ان میں محقق کی ایک بڑی خوبی کا اشاریہ بن جاتی ہے۔ دوسرا جواب یہ دیا جاسکتاہے کہ وہ تن آسانی کی جگہ مشکل پسندی کو محبوب رکھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ انھوں نے تحقیق کے خارزار کو گلے لگایا جہاں کبھی کبھی ایک ہی کتاب زندگی بھر کی محنت کابدل قرارپاتی ہے۔
’’تحقیقی تبصرے‘‘ ان کی تیس سالہ محنتِ شاقّہ پر مبنی گیارہ تحقیقی مضامین کا انتخاب ہے۔ پیشِ گفتار کے دوصفحات الگ کردیے جائیں تو ۲۳۸؍صفحات پر پھیلے ہوئے گیارہ مضامین کی ضخامت کا اندازہ لگایا جاسکتاہے۔ ایک ایک موضوع کو جس طرح یہاں بحث و تمحیص کا مرکز بنایاگیااور اس کے تمام پہلوئوں کو سمیٹنے کی جو شعوری کوشش کی گئی ہے آج کے دورمیں اس کی مثالیں کم ملتی ہیں۔ اب تو زیادہ تر ادیبوں کی سانسیں اخبار کے لیے چند صفحات لکھنے میں پھولنے لگتی ہیں اور رہے آج کے تحقیقی مضامین یا مقالے تو اس کی سچائی اہلِ نظر سے پوشیدہ نہیں ۔
اس قسم کے تبصرے ماضی میں لکھنے والے محققین کی یاد تازہ کرتے ہیں۔ قاضی عبدالودود، رشید حسن خاں اور حنیف نقوی جیسی شخصیات محققین کے سلسلے کی وہ کڑیاں ہیں جن کے تحقیقی تبصرے محقق کی علمی لیاقت، ذہنی وسعت، تحقیقی جانکاہی اور ادبی مکاشفے کا گہرا نقش رکھتے ہیں جنھیں گزرتے وقت کے ساتھ زمانہ تسلیم کرنے اور ان سے استفادہ کرنے پر مجبور ہے۔ ڈاکٹر ظفر کمالی کی اس کتاب کے تبصروں پر ان بزرگان محققین کے اثرات صاف نمایاں ہیں جن سے پیشِ گفتار میں ان کے اس اعتراف کاوزن بڑھ جاتاہے کہ:
’’ حافظ محمودشیرانی ،قاضی عبدالودود، سید حسن عسکری، رشید حسن خاں اور حنیف نقوی کی تحریریں پڑھ کر تحقیقی آداب سے آگاہی ہوئی۔ قاضی صاحب اور رشید حسن خاں نے صداقت اور جرأتِ اظہارکی طاقت بخشی۔ پیشِ نظر تبصرے انھیں بزرگوں کی تحریروں کا فیضان ہیں‘‘(ایضاًص ۹)
اس کتاب کے تمام تبصرے علمی اور تحقیقی اعتبار سے کسی نہ کسی زاویے کو متحرک کرتے ہیں اور تحقیق کا کوئی نہ کوئی پہلو مدلل انداز میں قاری کو نئی توانائی اور نئی روشنی سے ہم کنار کرتا ہے۔ ڈاکٹر ظفرؔکمالی جرأتِ اظہار اور بے باکی سے کام لینے میں کسی جھجک یا مرعوبیت کو حائل نہیں ہونے دیتے اسی لیے وہ اپنی راے دینے یااختلاف کرنے میں تحقیقی اصول کی پاسداری پر کھرے اترتے ہیں ۔
قابلِ توجہ امر یہ ہے کہ انھوں نے اپنے تبصروں کا مرکز بالعموم ان کتابوں یا مضامین کو بنایا جن کے مصنف یا مؤلف کی علمی اور تحقیقی دنیا میں ایک انفرادیت اور اپنی شناخت ہے۔ ایسی شخصیات کے علمی کارناموں پر دیگر محققین یا مبصرین کے مضامین پڑھ جائیے تو ایک قسم کی مرعوبیت کی جھلک نظر آجاتی ہے۔ مگر ڈاکٹرظفرکمالی نے ان کے تسامحات کی نشاندہی ہر جگہ ایک محقق کی نظر سے کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں تک دیگر لوگوں کی رسائی نہ ہوسکی یا جن لغزشوں کو لوگوں نے مصلحت اندیشی کی نذرکردیا ڈاکٹر ظفر کمالی نے ایسے مواقع پر ادبی اور علمی دیانت داری کا ثبوت فراہم کیا ہے جس کے بغیر کوئی محقق تحقیق کا حق ادا نہیں کرسکتا۔
اس کتاب کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ ڈاکٹر ظفر کمالی نے اپنے تحقیقی نظریات و خیالات کو پیش کرتے ہوئے منضبط اور مر کوز ذہن سے کام لیا ہے۔ خیالات کی ترسیل میں کوئی انتشار، ٹکراو، دہراو، ایک ہی چیز کے اثبات یا اس کی نفی اور کسی ذہنی الجھاو سے یہاں تفہیم دشوار نہیں ہوتی۔ ایک ایک جز اپنے سیاق وسباق سے کڑی کی طرح جڑا ہوا آگے بڑھتا ہے اور ایک ایک پرت کھلتی چلی جاتی ہے۔ تسلسل کی ایک رَوقاری کو شروع سے آخر تک اپنا شریک بنائے رکھتی ہے، جہاں قاری کو ہر لمحہ نئے نئے انکشافات کی تجلیاں نصیب ہوتی ہیں۔ اس مقام پر سب سے زیادہ مبصر کی محنت، ژرف بینی، ذہنی ارتکاز، متن اور متعلقہ موضوع سے جھوجھنے ، غوطہ لگانے اور یکسوئی کے ساتھ ان کی باطنی لہروں پر گرفت کا عمل متاثر کرتاہے۔
کسی فن پارے پر تبصرہ کرتے ہوئے فن کارکے نظریات کا عرفان اس کے فنی رویے اور فکری سوچ سے آشنا کراتاہے۔ خصوصاً تحقیق میں ایک محقق کے نظریات کیاہیں؟ اس نے تحقیق کی مبادیات اور اصول پر خودکو کہاں تک کاربند رکھاہے اور بنیادی لوازم کو اس نے کس طرح برتا ہے؟ دلچسپی، تحقیقی ذوق، محنت، تحمل، معتدل مزاجی، منصفیانہ نقطۂ نظر، وسعتِ مطالعہ، تنقیدی لیاقت، قوتِ استدلال، اختلافی نظر، حق گوئی، حقائق کی تلاش، مواد سے واقفیت، زبان کا شعور، اہم مصادرومراجع کا سراغ اور عملی زندگی میں تحقیقی ذہن کا ہونا… یہ وہ اوصاف ہیں جن کا اظہار کسی محقق کے تحقیقی مضامین میں اشارتاً موجودہوتاہے۔ اشارتاً اس لیے کہ و ہ بظاہر دوسروں کے متعلق جو کچھ کہہ رہا ہوتاہے اس سے اس کی تحقیقی ذہنیت سامنے آتی چلی جاتی ہے۔ اگر قاری اس کے نقطۂ تحقیق سے آشنا ہوجائے تو اختلاف کبھی نزاعی یا قطعِ تعلق کی صورت اختیارنہیں کریں گے۔
’’تحقیقی تبصرے‘‘ کے پیشِ گفتار میں ڈاکٹر ظفرکمالی نے چند لفظوں میں اپنا جو تحقیقی نقطۂ نظر پیش کیا ہے، اس سے قطعِ نظر مضامین میں مختلف باتوں کے ضمن میں ان کے جو نظریات سامنے آتے چلے گئے ہیں انھیں پڑھتے ہوئے تحقیق میں ان کے احساسِ ذمے داری اور بلند نگاہی کاعرفان ہوتاہے۔ یہ اقتباسات ملاحظہ کریں:
’’تحقیق کا بنیادی مقصد سچ کی تلاش ہے۔اگر اس عمل میں ہم سے غلطیاں سرزد ہوں اور کوئی اس سے آگاہ فرمادے تو یہ اس کا احسان ہوگا۔بزرگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ہمارا سچّا دوست وہ ہے جو ہماری غلطیوں پر ٹوک دیا کرے۔فروگزاشتوں پر متنبّہ کیے جانے پر برا ماننا تنگ دلی کی علامت ہے۔غلطی کی بروقت اصلاح ضروری ہے ورنہ گمراہیوں کا دائرہ وسیع ہونے کا امکان باقی رہے گا۔غلطیوں کی نشاندہی اور اس کی اصلاح پر وہی اصحاب چیں بہ جبیں نظر آتے ہیں جن کی تحریروں میں حزم و احتیاط کی کمی ہے اور جو جذباتیت یا تن آسانی کے مرتکب رہے ہیں۔جب ان کی کمزوریوں کو آشکار کیا جاتا ہے تو اس سے ان کی شہرت پر ضرب پڑتی ہے جسے وہ بہ آسانی ہضم نہیں کرپاتے۔یہی نفسیاتی الجھن ’’تعمیری اور مثبت تحقیق‘‘کا بہروپ بھر کر بھی سامنے آتی رہی ہے‘‘ (ایضاًص ۱۲)
’’تحقیق در اصل پتّھرنچوڑ کر پانی نکالنے کا نام ہے۔اس کے لیے جس جگرکاوی کی ضرورت ہوتی ہے وہ سب کے بس کا روگ نہیں۔یہاں سہل پسندی اور عقیدت مندی کا بھی گزر نہیں۔دقّت پسند طبیعتیں ہی اس میدان میں سرخ رو ہوتی ہیں‘‘ (۳۰)
’’تصوّف کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ سکون کے ساتھ گھاٹیوں کو طے کرنے اور چپکے چپکے قلعے پر قبضہ کرنے کا نام ہے،اردو تحقیق میں یہی کارنامہ نقوی صاحب نے انجام دیا‘‘ (۵۵)
’’یہاں یہ کہنے کو جی چاہتا ہے کہ تحقیق کی دنیا میں محسن کشی اور احسان فراموشی کوئی قدرِ مشترک کا درجہ نہیں رکھتیں بلکہ محقق کا براہِ راست تعلق حقائق سے ہوتا ہے خواہ اس کی زد میں اس کا محسن ہی کیوں نہ آتا ہو‘‘(۲۷)
ان چاروں اقتباسات سے جوباتیں سامنے آتی ہیں ان کی تلخیص یہ ہے کہ تحقیق سچ کی تلاش کا نام ہے۔ غلطیوں کی نشاندہی گمراہیوں پر بند باندھ دیتی ہے۔ کمزور لکھنے والے ہی اپنی خامیوں پرچیں بہ جبیں نظرآتے ہیں۔ یہ پتھر نچوڑ کر پانی نکالنے کا نام ہے۔ یہ چپکے چپکے اور سکون کے ساتھ حقائق تک پہنچنے کا ذریعہ ہے اور یہاں عقیدت مندی اور محسن شناسی کی کوئی حیثیت نہیں بلکہ سچا محسن اور ہمدردوہی ہے جو غلطیوں سے آگاہ کرے۔
ڈاکٹر ظفرؔکمالی کے ان نظریات کو ذہن میںرکھے بغیر کتاب کے بعض دھماکہ خیز مضامین کے پس منظر کا صحیح اندازہ نہیں ہوسکے گا۔ کتاب میں شامل مضامین کی نوعیت یا تو دومحققوں کے درمیان آپسی رنجش اور ذاتی اختلاف کی گمراہیوں کے ازالے کی ہے۔ کچھ کا تعلق کسی محقق کی تحقیقی کتاب پر تبصرے سے ہے اور کچھ ذاتی نقطۂ نظر سے چھان بین پر مبنی ہے۔ ان شقوں پر غور کیجیے تو ڈاکٹر ظفرؔکمالی کی اس کتاب پر تیس سالہ محنت کارازافشا ہوتاہے۔ ہر شق اپنی جگہ محقق کی جگرکاوی، پتھر سے پانی نچوڑنے کے حوصلے اور تعمیری تحقیق کے فروغ کے جذبے کو سامنے لاتی ہے۔
پہلی شق میں ’’غلطیہاے مضامین: ایک تبصرے پر تبصرہ‘‘’’قاضی عبدالودود اور گیان چند جین‘‘’’قاضی عبدالودود کا خودنوشت سوانحی خاکہ اورسید محمدمحسن ‘‘اور ’’گلستاں کا باب پنجم اور پروفیسر کبیر احمد جائسی‘‘جیسے مضامین قابلِ ذکر ہیں۔
یہ وہ معرکہ آرا مضامین ہیں جن میںبطورِ خاص اس بات پر توجہ دی گئی ہے کہ اگر ان میں شعوری طورپر پھیلائی گئی گمراہیوں کو بروقت آشکارنہ کیا گیا تو اس کی تاریکی وسیع پیمانے پر محیط ہوجائے گی اور آیندہ نسل تسلسل کے ساتھ غلطیوں کو نقل درنقل کرتی چلی جائے گی۔
’’غلطیہاے مضامین:ایک تبصرے پر تبصرہ‘‘سید شاہ عطاء الرحمن عطاکاکوی کی کتاب پر گیان چند جین کے ایک تبصرے کا جائزہ ہے۔ انیس صفحات پر مشتمل یہ جائزہ بھر پور اور علمی ضیافت سے معمورہے۔ ’’غلطیہاے مضامین‘‘عطاکاکوی کے ان مضامین کا مجموعہ ہے جن میں انھوں نے دورانِ مطالعہ مختلف کتابوں میں نظر آنے والے تسامحات کو نشان زد کرنے کا ایک سلسلہ قائم کیا تھا جو قسط وارطبع ہوتے رہے تھے۔ گیان چند جین صاحب نے ان پر ایک تبصرہ لکھا جس میں انھوں نے اپنے تحفظات و تعصبات کواجاگرکرتے ہوئے اپنی فکری سطحیت اور تحقیقی اصولوں سے انحراف کا مظاہرہ کیاہے۔ ڈاکٹر ظفرؔکمالی نے اپنے تبصرے میں ان کے اسی رویے کو مرکزی حیثیت دیتے ہوئے مدلل گفتگو کی ہے جس کا سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ خود گیان چند جین صاحب کے اقوال سے ان کے ذہنی تحفظات کو باطل کردیا۔ شاید یہی وہ وقت ہوتاہے جب حریف مد مقابل کے دلائل کے سامنے بے بسی کا پیکر بن جاتاہے۔ گیان چند جین صاحب کی یہ بے بسی اس مضمون سے متأثر کن انداز میں سامنے آتی ہے۔
گیان چند جین صاحب کی شخصیت تحقیق کی دنیا میں محتاجِ تعارف نہیں ، لوگوں نے ان کی تحقیقی خدمات کو سراہا اور بہت حد تک ان کی باتوں کو سند کا درجہ دیا ہے جن میں خود عطاکاکوی بھی شامل ہیں لیکن اس کے باوجود ان کے متعلق گیان چند جین کے ذہنی تحفظات قابلِ حیرت ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انھیں عطاکاکوی صاحب کے اس قسم کے مطالعے سے اپنی تحقیقی عمارت کے کھوکھلے ہوجانے کا احساس ہونے لگا تھا ۔ انھوں نے عطاکاکوی کے تعلق سے جوالزامات عائد کیے ،ڈاکٹر ظفر کمالی کے اس تبصرے کے ذریعے وہی چیز ان کے گلے کی پھانس بن گئی۔ ہم اگر پیچھے نقل شدہ اقتباسات میں پہلے اقتباس کو بغور پڑھیں تو مبصر نے وہاں جو باتیں کہی ہیں ان سے اس پہلو کا صحیح اندازہ ہوجاتا ہے۔ ظاہر ہے ایک محقق کا یہ رویہ خود اس کے حق میں سمِّ قاتل ہے۔ اپنی غلطیوں پر کسی محسن کے ذریعے نشاندہی کو بسروچشم قبول کرنے کے بجاے اس کی ہر زہ سرائی پر اتر آنا اخلاقیاتِ تحقیق کے منافی ہے۔
دراصل گیان چند جین صاحب نے اپنا تبصرہ رقم کرتے ہو ئے عطاکاکوی کے نقطۂ نظر کو سرے سے نظرانداز کردیا تھا ورنہ نظریات کا یہ ٹکراو سامنے نہ آتا۔ اس پہلو سے مبصر کا یہ خیال معنیٰ خیز بن گیا ہے کہ:
’’انھوں نے(گیان چند جین) اپنے تبصرے کے لیے جب اصول مقرّر کیے تو ایمان داری کا تقاضا یہ تھا کہ وہ عطا صاحب کے نقطۂ نظر پر بھی روشنی ڈالتے جو ’’پیش گفتار‘‘ کے تحت انھوں نے بیان کیا ہے لیکن یہ عجیب بات ہے کہ اتنے اہم مسئلے کو جین صاحب نے سرے سے نظر انداز کردیا ہے۔ اگر وہ ایسا کرتے تو نظریات کا یہ ٹکراو ان کے اصول کی دھار کند کردیتا‘‘ (ص۱۳)
اس کے آگے مبصر نے عطاکاکوی کے ’’پیش گفتار‘‘ سے اقتباس نقل کرکے صحیح صورتِ حال قاری کے سامنے پیش کی ہے۔ مذکورہ اقتباس کا آخری جملہ محض جملہ نہیں بلکہ گیان چند جین کے ذہنی تحفظات کی اصل وجہ کو سامنے لاتا ہے۔
اس تبصرے میں مبصر نے گیان چند جین کی ایسی کئی غلط فہمیوں کو اجاگرکیا ہے جن کی توقع ان سے نہیں کی جاسکتی تھی۔
۱۔ گیان چند جین نے عطا کاکوی کی کتاب کوتبصروں کامجموعہ سمجھا اسی لیے انھوں نے تحقیقی نقطۂ نظر سے اس پر احتسابی نظرڈالی جب کہ مبصر نے اسے اردو میں اس قسم کی پہلی تحقیقی نوٹ بک کہا ہے۔
۲۔ عطاکاکوی نے جس غلطی کا انتساب مولاناعبدالحی کی طرف کیا اسے جین صاحب نے اعجاز حسین کی طرف منسوب سمجھا۔
۳۔ عطا صاحب نے محمد محسن تجلّی کو کہیں کلیم کا بیٹا نہیں لکھا مگر جین صاحب نے ان پر یہ الزام بھی عائد کردیا۔ مبصر نے جہاں صحیح اقتباس سے اس کی وضاحت کی وہیں دوسری دلیل اس طرح دی:
’’گیان چند جین اگر اپنی تصنیف’’اردومثنوی شمالی ہند میں (جلد اول ۱۹۸۷ء )کا ص ۳۹۲ ملاحظہ فرمالیتے تو ایسا نہ لکھتے‘‘ (ص ۱۶)
۴۔ ’’عارف ، مومن اور تسکین ‘‘والے مصرعے کے متعلق جین صاحب نے دوفاش غلطیاں کیں ایک تو انھوں نے عطا صاحب کی عبارت کو سمجھنے میں بھول کی جس کا نتیجہ یہ ہواکہ اس مصرعے کی ’’تفصیلات کو‘‘آبِ حیات‘‘ میں ڈھونڈنا شروع کیا جو وہاں نہیں ملی۔ مبصر نے اس کی وضاحت کی کہ اس کی تفصیل شیرانی نے اپنے مقالے ’’تنقیدبر آبِ حیات‘‘میں لکھی ہے اور جلد کے ساتھ صفحات کا حوالہ بھی دیا ہے۔
دوسری غلطی یہ کی کہ انھوں نے اس مصرعے سے غلط تاریخِ وفات برآمد کی جس کی تصحیح مبصر نے جدول میں پیش کی ہے۔
اس تبصرے سے یہ محض چند نمونے بطورمثال پیش کیے گئے ہیں، ورنہ پورے مضمون میں آپ دیکھیں گے کہ جین صاحب نے اپنی تحقیقی کائنات میں کتنے غچے کھائے ہیں اور خود اپنے مقررکردہ تحقیقی اصول کو کس طرح نظر انداز کیاہے۔ جرأت کی تاریخِ وفات، غزالاں تم تو واقف ہو…والے شعر کے غلط انتساب اور ناسخ کے تیسرے دیوان سے متعلق ظفرکمالی کی تحقیق بطورِ خاص قابلِ توجہ ہے۔ انھوں نے جس دقت نظری اور تفصیل کے ساتھ ان تمام پہلوئوں پر تمام تر جزئیات کے ساتھ اظہارِ خیال کیا ہے اس سے ان کی ژرف نگاہی کا اندازہ ہوتاہے۔ دراصل یہ پوراتبصرہ ہی ڈاکٹر ظفر کمالی کی تحقیقی بلند نگاہی، علمی توسّع، مطالعے کی وسعت اور صحیح صورتِ حال کو مدلل پیش کرنے کی جستجو سے معمورہے۔ تحقیق کی کتنی غلط فہمیاں یہاں دور ہو ئی ہیں اس تبصرے کو پڑھ کر ہی ان کا صحیح اندازہ لگا یا جاسکتاہے۔
اس قسم کا دوسرادھماکہ خیز مضمون ’’قاضی عبدالودوداور گیان چند جین ‘‘ہے ۔ چالیس صفحات پر محیط یہ مضمون تحقیقی جانکاہی کا عنوان ہے۔ اس مضمون میں بھی ڈاکٹر ظفر کمالی نے گیان چند جین کے ان سطحی اعتراضات کا مدلل او راطمینان بخش جواب پیش کیاہے جو انھوں نے اپنے مضمون’’قاضی عبدالودود اور میں‘‘میں قاضی عبدالودود پر کیے ہیں۔ تمہید کے دو پیراگراف میں مبصر نے اس مضمون کے پس منظر کو واضح کیا ہے جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ گیان چند جین نے عمداً قاضی صاحب کے متعلق قاری کو گمراہ کیاہے۔ ان کے اس رویے پر جب ہر جانب سے سکوت اختیار کیا گیا تو مبصر نے مستقبل میں اس گمراہی کے برے نتائج کے پیش نظر اس مضمون کو ترتیب دیا۔ چنانچہ اس مضمون میںگیان چند جین کے ایک ایک اعتراض کا جواب بالترتیب درج کیا گیا ہے۔
جس قسم کے اعتراضات اس تبصرے میں سامنے آتے ہیں وہ یقینا گیان چند جین کے اخلاقی دیوالیہ پن کا ثبوت فراہم کرتے ہیں۔ ذاتی رنجش، دلی عناد، ذہنی پراگندگی او ر سب سے بڑھ کر سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے کسی علمی شخصیت پر ذاتی حملے کس طرح جھوٹ، قیاس اور من گڑھت کہانیوں کا سہارا لیتے ہیں اس ڈرامائی سین کو اس تبصرے میں ملا حظہ کیا جاسکتاہے۔
اس تبصرے کا اخلاقی پہلو اس سین کے پس پردہ یہ ہے کہ صداقت ہمیشہ فتحیاب ہوتی ہے۔ کسی بھی ادبی یا علمی شخصیت کو یہ زیب نہیں دیتاکہ وہ محض ذاتی عناد کو نمک مرچ لگاکر معصوم لہجے میں قاری کو گمراہ کرے۔ ظاہر ہے یہ وقتی گمراہی ہے جسے صداقت کی تجلّی ایک ہی لمحے میں فنا کردے گی۔ وقتی خوش فہمی سے اجتناب انسان کے وقار میں اضافے کا باعث ہوتاہے۔ ایسا لگتا ہے کہ تحقیق کی حسّاس راہوں پر چلتے ہوئے گیان چند جین نے لمحے بھر کے لیے بھی اس نکتے کو یاد نہیں رکھا۔
ڈاکٹرظفر کمالی نے اس تبصرے میں جین صاحب کے تیر سے خود انھیں پر نشانے سادھ کر تبصرے میں ڈرامائی کیفیت کا بھرپور سامان مہیا کیاہے۔ خصوصاً جہا ں جہاں ان کی تضادبیانی پر گرفت کی ہے وہاں وہاں قاری جین صاحب کی بے بسی پر زیرِ لب مسکراتا بھی ہے اور ان کی ذہنی پستی پرمحوِحیرت بھی ہوتاہے۔ دومثالیں ملاحظہ کریں۔ ایک جگہ گیان چند جین قاضی عبدالودود کے متعلق کہتے ہیںکہ:
’’جائزے میں محض خردہ گیری سے سروکار رکھّا۔ہر ایک کی شکایت کی۔افسوس ہے کہ انھوں نے جس غیرعلمی لہجے سے کام لیا وہ ان کی علمی حیثیت پر ایک داغ ہے‘‘۔ (ص ۸۲)
پھر دوسری جگہ بیان کرتے ہیں کہ :
’’…انھوں نے معاصرین کے تحقیقی کاموں پر جو تبصرے کیے ہیں ان میں غالباً سب سے پہلا سید مسعود حسن رضوی کے مرتّبہ دیوانِ فائز کا جائزہ ہے۔یہ جو خیال کیا جاتا ہے کہ قاضی صاحب ہمیشہ خامیوں ہی پر نظر رکھتے ہیں،اس جائزے کو دیکھ کر غلط ہوجاتا ہے‘‘۔ (ص ۸۵)
ایک جگہ لکھا کہ:
’’وہ اردو تحقیق کے عناصرِ خمسہ میں سے تھے۔ بقیہ چار ہیں حافظ محمود شیرانی، مسعود حسن رضوی، امتیاز علی عرشی اور مالک رام۔‘‘ (۹۳)
تودوسرے مقام پر یہ کہہ دیا کہ:
’’اغلاط گیری کے لیے دو علماء قاضی عبدالودود اور رشید حسن خاں بہت مشہور یا بدنام ہیں۔ ادب میں ان کا مقام دوسروں کی غلطیوں کی نشاندہی کے سبب ہی بناہے‘‘ (۹۴)
اس تضاد بیانی پر مبصر نے جو گرفت کی ہے وہ بہت دلچسپ ہے وہ کہتے ہیں:
’’ جب قاضی صاحب کا مقام دوسرو ں کی غلطیوں کی نشاندہی کے سبب ہی متعین ہوا ہے اور غلطیاں گنانے پر شہرت کا انحصار شرف کی بات نہیں، جب قاضی صاحب نے اپنی طرف سے کچھ کرکے نہ دیا اور جو کیا اس کی چنداں اہمیت نہیں تو خدارا کوئی مجھے بتائے کہ پھر وہ اردو تحقیق کے عناصرِ خمسہ میں شمار کیے جانے کے لائق کیوں قرار پائے؟ میرے خیال میں اس کی دو وجہیں ہوسکتی ہیں۔ پہلی تو یہ کہ جین صاحب کو اپنی تضاد بیانی کا پتہ نہیں چلتا یا دوسری یہ کہ وہ زبان سے ’نہیں رے نہیں‘ کہنے کے باوجود دل سے قاضی صاحب کی عظمت کے قائل ہیں۔‘‘ (۹۴)
جین صاحب کی جانب داری کا ایک اہم پہلو تبصرے میں وہاں سامنے آتا ہے جہاں انھوں نے تحقیق کے عناصرِخمسہ کو متعین کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس میں وہ مالک رام کا بھی شمارکرتے ہیں۔ اس پر مبصر کا یہ علمی اختلاف ملاحظہ کریں:
’’جہاں تک مالک رام کا سوال ہے یہ جین صاحب کی سیر چشمی ہے کہ وہ انھیں تحقیق کے عناصرِ خمسہ میں شمار کرتے ہیں۔ مالک رام صاحب نے غالبؔ اور آزادؔ کے سلسلے میں جو تحقیقی کام کیے ہیں ان میں سے بیش تر کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا وہ ہمارے اہم محققین میں سے ایک ہیں لیکن ان کی تحقیق میں جیسی اور جتنی کمزوریاں ہیں وہ انھیں مذکورہ تینوں محققین سے کافی دور کردیتی ہیں۔ اندھیرے اجالے کا فرق جاننے کے لیے زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں۔ آپ دیوانِ غالب نسخۂ عرشی اور دیوانِ غالب مرتبہ مالک رام کا مطالعہ کرلیجیے اصلیت کا سراغ مل جائے گا۔ حافظ محمود شیرانی، امتیاز علی عرشی اور قاضی عبدالودود ، یہ اردو تحقیق کے عناصرِ ثلاثہ ہیں‘‘ (ص ۹۴تا۹۵)
جین صاحب نے اپنے مـضمون میں قاضی صاحب پرکئی اعتراضات کیے ہیں۔ کہیں انھیں بخیل ثابت کیا تو کہیں ان کی خفگی پر وارکیا۔ کہیں متعصب ٹھہرایا تو کہیں ان کے مذہبی امورپر نشانہ سادھا، کہیں بغیر مقدمے اور حواشی کے محض متن کو چھاپنے کا الزام لگایا تو کہیں تنقیدی نظر پر حملے کیے۔ کہیں غیر اہم موضوعات پر کام کرنے کی بات کہی تو کہیں ان کے غیر مرتب ذہن پر دل کے پھپھولے پھوڑے۔ کہیں ان کے اسلوب کو بے رس قرار دیا تو کہیں ان کے نسیان کو زیرِبحث لایا، اس قسم کے اعتراضات اور ان کے جوابات سے پورے چالیس صفحات مزین ہیں جو آئینے کی طرح سامنے آتے چلے جاتے ہیں۔ جس انداز میں جوابات دیے گئے ہیں ان کی تردیدبہت مشکل ہے۔ جوابات زیادہ تر الزامی ہیں۔ مبصر نے الزامی جواب کی جو شعوری کوشش کی ہے و ہ بہت معنیٰ خیز اور مدمقابل کو لاجواب کرنے کا کامیاب حربہ ہے جو اس تبصرے میں دیکھنے کو ملتاہے۔
مبصرنے آخرمیں گیان چند جین کے مضمون ’’قاضی عبدالودود اور میں‘‘کے محرکات سے بھی پردہ اٹھایاہے۔ ظاہر ہے قاری کے ذہن میں اس سوال کا اٹھنا لازمی ہے کہ آخر وہ کون سی وجوہات تھیں جن کے پیشِ نظر گیان چند جین نے ایسی واشگافی کا ثبوت پیش کیا ہے ۔ یہ اقتباس ملاحظہ کریں :
’’اب اس سوال کو لیجیے کہ ’’قاضی عبدالودود اور میں‘‘ کے ذہنی محرکات کیا ہیں۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جین صاحب کو شہرت کی بے جا آرزو ہے۔ اس سے کوئی یہ نہ سمجھے کہ موصوف گمنام ہیں۔ وہ نقاد، ماہرِ لسانیات اور عروض داں کے علاوہ محقق کی حیثیت سے بھی خاصی شہرت رکھتے ہیں لیکن تحقیق کے میدان میں قاضی صاحب کے مقابلے ان کی حیثیت فروتر ہے، یہ چیز انھیں بری طرح کھٹکتی ہے۔ ان کے دل میں یہ چور ہے کہ وہ قاضی عبدالودود سے بڑے محقق ہیں لیکن قاضی صاحب کے دبدبے کی وجہ سے وہ براہِ راست ایسا کہنے سے ڈرتے ہیں۔ یہ خیال شاید اپنی کتابوں کی ضخامت سے مرعوب ہوکر ان کے دل میں پیدا ہوا ہے۔ ان کی خواہش ہے کہ لوگ انھیں قاضی صاحب سے بڑا محقق سمجھیں۔ نہ صرف بڑا محقق بلکہ ان سے برتر انسان بھی‘‘ (ص ۱۰۶)
گیان چند جین کے اعتراـضات کو دیکھتے ہوئے کوئی بھی یہی نتیجہ اخذ کرے گا جو مذکورہ اقتباس سے سامنے آتاہے۔
اس تبصرے میں مبصر کی یہ کوشش رہی ہے کہ گیان چند جین کے تمام اعتراضات کے مسکت اور مدلّل جوابات پیش کیے جائیں جس میں وہ کامیاب ہیں۔ یہاں انھوں نے اپنے موضوع کو جس طرح نبھایا اور جس عمدگی سے چالیس صفحات میں پیش کیاہے وہ ان کے ترسیلی نظام کی پختگی کا احساس دلاتاہے۔ پورے تبصرے میں کہیں بھی غیر ضروری باتیں، بے مقصد اقتباسات او ر بے جا طوالت کا احساس نہیں ہوتا۔ متعلقہ موضوع پر ذہن کو مرکوزرکھ کر طویل تبصرے کیسے لکھے جاتے ہیںیہ تبصرہ اس کی بہترین مثال ہے۔
اس تبصرے کا ایک بڑافائدہ یہ ہواکہ یہاں دوشخصیتیں منطقی قضیے کے نتائج کی طرح آئینہ ہوگئی ہیں۔ جو مبصر کی کامیابی کی ضمانت ہے۔ ساتھ ہی ساتھ انھوں نے اندھیرے اور اجالے کے فرق کو بڑے سلیس انداز میں جذباتیت کے بغیر قاری تک پہنچایا ہے۔ ورنہ برسوں اندھرے اور اجالے کی مبہم تصویریں کتنوں کو گمراہ کرتیں۔ قاری کو اس تبصرے سے دونوں شخصیتوں کے تحقیقی رویے کے فرق کا بخوبی اندازہ ہوجاتاہے۔
قاضی عبدالودود کوئی معمولی شخصیت کا نام نہیں۔ تحقیق میں ان کادبدبہ کتنوں کے لیے ذاتی خلش کی حیثیت اختیارکرگیااور ان کی ہمسری کی خواہش کتنوں نے دل میں پالی اس کا ایک نمونہ ابھی پیش ہوا۔ دوسرا نمونہ ’’قاضی عبدالودودکا خودنوشت سوانحی خاکہ او رڈاکٹرمحمد محسن‘‘کے عنوان سے لکھے گئے مضمون میں دیکھنے کو ملتاہے۔
یہ تبصرہ محمد محسن کے اس دھماکے دار مضمون کا تحقیقی جائزہ ہے جو انھوںنے قاضی عبدالودودکے سوانحی خاکہ پر رقم کیا تھا۔ اس تبصرے میں بھی گیان چند جین والے تبصرے کی خصوصیت مو جود ہے۔ تمام اعتراض کے ترکی بہ ترکی ، مدلل، مسکت اور معنیٰ خیز نتائج کے ساتھ جوابات دیے گئے ہیں۔ یہاں بھی مبصر کے مطالعے کی وسعت، معاملے کی سہل تفہیم اور مو ضوع پر ذہن مرکوز رکھنے کی خوسامنے آتی ہے۔
تبصرے کی ابتدا میں مبصر نے جس طرح سید محمد محسن کی شخصیت ، تخلیقی رویے اور علمی دائرے کو قاری کے روبروکیاہے اس سے تبصرے کی تشکیلی فضا پر اچھی خاصی روشنی پڑتی ہے۔ یہاں یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ سید محمد محسن اپنے دائرہ کار سے باہر نکلنے کے عادی رہے ہیں۔ گیان چند جین کی طرح ان کے دل میں بھی شہرت کی بے جا آرزو سرابھارتی رہی جسے انجام تک پہنچانے کے لیے قاضی عبدالودود جیسی معتبر ادبی شخصیت کو راستے سے ہٹاناضروری تھا۔ لہذا انھوں نے اپنی دانست میں بھرپورزورلگایا جسے مبصر نے ’’چونچ مارکر پہاڑ ڈھانے‘‘جیسی معنیٰ خیز تشبیہ سے یادکیاہے۔
اپنے معاصرین کے بڑھتے ادبی اورعلمی قد کو پست کرنے کی ایک منفی روایت رہی ہے۔ معاصرپڑوسی قاضی عبدالودود کے کارناموں کی مقبولیت شایدسید محمد محسن کو پسندنہیں آئی۔ لہٰذا انھوں نے اس روایت کی پاسداری کرتے ہوئے ان کی محققانہ شان کو فروتر کرنے کے لیے جو اعتراضات کیے ہیں وہ ان کی شعوری کوشش کا شاخسانہ ہیں۔ ظاہرہے کہ کسی محقق کا راست گونہ ہونا اس کی تحقیق کی بنیاد ہلادینے کے لیے کافی ہے۔ اس تبصرے میں اسی پہلو کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے۔ مبصر رقم طراز ہے:
’’ انھوں نے جتنے الزامات عائد کیے ہیں ان میں سب سے سنگین الزام یہ ہے کہ قاضی صاحب راست گفتار نہ تھے۔ محسن صاحب جیسے بزرگ نے جو انگشت نمائی کی ہے اسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ عام قارئین کسی غلط فہمی میں نہ مبتلا ہوجائیں اس کے لیے محسن صاحب کے بیانات کا تجزیہ اور تصویر کا دوسرا رخ پیش کرنا ضروری ہوگیا ہے۔‘‘ (۱۱۱)
یہی وجہ ہے کہ تبصرے میں تصویر کا دوسرا رخ کچھ اس انداز سے دکھا یا گیاہے کہ خود محسن صاحب کی راست گفتاری زد میں آگئی ہے ۔ تبصرے میں مبصر نے محمد محسن صاحب کے نظریات سے سخت اختلاف کرتے ہوئے تشفی بخش جواب دینے کی سعی کی ہے۔
اس تبصرے کے دوسرے پیراگراف میں مبصر نے محسن صاحب کی علمی شخصیت کو سامنے لاتے ہوئے یہ بات کہی ہے کہ وہ علم نفسیات میں اہم مقام رکھتے ہیں۔ انھوں نے اس موضوع پر جو کتابیں رقم کی ہیں وہ قدر کی نگاہ سے دیکھی گئی ہیں۔ وہ اپنے ایک افسانے ’’انوکھی مسکراہٹ‘‘ سے آج بھی اپنی پہچان رکھتے ہیں۔ ان کے افسانوں اورشعری مجموعے کے علاوہ خودنوشت سوانح حیات اور چند تنقیدی کتابیں بھی موجودہیں…ان باتوں سے اندازہ ہوتاہے کہ مبصر محسن صاحب کی علمی شخصیت کے معترف ہیں۔ مذکورہ اقتباس کے اس جملے پر غورکیجیے کہ’’ محسن صاحب جیسے بزرگ نے جو انگشت نمائی کی ہے اسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا‘‘ تو اس تبصرے کی اہمیت واضح ہوجاتی ہے۔ کیونکہ اس طرح کے اعتراضات کوئی غیراہم شخص کرتا تو اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔
مبصر نے یہاں جو طریقۂ کاراپنایا ہے وہ یہ ہے کہ سید محمد محسن کے اعتراضات کے پہلو بہ پہلو قاضی صاحب کے ان اقوال کو بھی درج کیا ہے جن پر محسن صاحب معترض ہیں۔ اس سے فائدہ یہ ہوا کہ قاری بنظرِخود اصل معاملے کی تہہ تک پہنچ سکے۔ یہیںسید محمد محسن کی راست گفتاری کا بھرم پورے طورپر کھلتاہوا نظرآتاہے۔
مبصر نے جس طرح قاضی صاحب کی راست گفتاری کی وکالت کی اس میں انھیں پوری کامیابی ملی ہے۔ محسن صاحب کو قاضی صاحب کی سیاسی زندگی کے جس پہلو سے ان کی راست گفتاری پر انگشت نمائی کا موقع ملاتھا اس کی وضاحت ڈاکٹر ظفرکمالی نے بڑے عالمانہ اور محققانہ اندازمیں کی ہے اور انھوں نے جن پہلوئوں سے اپنے دلائل اخذ کیے ہیں انھیں پڑھ کر قاری محوِحیرت ہوجاتا ہے۔
مولانا آزادکے قیامِ رانچی کے تعلق سے قاضی صاحب نے جو کچھ لکھا اسی کے پیشِ نظر محسن صاحب نے ان پر تاریخ کو گڈمڈ کرنے ، حقیقت پر پردہ ڈالنے او رمولانا آزادکا قاضی صاحب کے ہاتھوں کانگریس کے ممبر بنائے جانے کو جھوٹ کہنے کا الزام عائد کرتے ہوئے ان کی راست گفتاری کو چیلنج کیا ہے۔مبصرنے ان تمام اعتراضات کو رد کیا ہے۔ ۱۹۲۰ ؁ء والی تاریخ کو مبصر نے قاضی صاحب کے حافظے کا دھوکا قراردیاہے۔ قاضی صاحب کے اس قول کہ ’’ابوالکلام آزادرانچی میں رہتے تھے‘‘کو محسن صاحب نے ’’نظربندتھے‘‘لکھ کر حقیقت پرپر دہ ڈالنے کا الزام لگایا یہاں مبصر کی دقت نظری دیکھیے:
’’جہاں تک اس حقیقت پر پردا ڈالنے کی بات ہے کہ مولانا آزاد رانچی میں نظر بند تھے، اس کی بھی کوئی حقیقت نہیں قاضی صاحب نے فقط یہ لکھا ہے کہ ’’ابوالکلام آزاد ان دنوں رانچی میں رہتے تھے۔‘‘ مولانا چاہے جس وجہ سے بھی ہو اپریل ۱۹۱۶ء سے ۱۹۱۹ء تک ، رہتے تو رانچی ہی میں تھے۔ محسن صاحب اگر ’رہنے‘ اور ’نظر بند ہونے ‘ کے فرق کو اس قدر اہمیت دیتے ہیں تو وہ یہ بتائیں کہ قاضی صاحب نے واضح طور پر یہ کہاں لکھا ہے کہ مولانا اپنی مرضی سے وہاں رہتے تھے‘‘ (ص ۱۱۶)
قاضی صاحب نے محض رہنے کی بات کہی تھی۔ جس میں اپنی مرضی سے رہنا اور بدرجۂ مجبوری رہنا دونوں شامل ہے۔ مگرمحمد محسن نے اپنی طرف سے نظربندی کی تخصیص کرتے ہوئے قاضی صاحب کو موردِ الزام ٹھہرادیا۔
اسی طرح ان کے ممبر بنائے جانے والی بات کو مبصر نے سید انیس الرحمن کے مـضمون کے ایک اقتباس کے ذریعے ثابت کردیا ہے۔سید محمدمحسن نے قاضی کے عدیم المثال حافظے پربھی طنز کیا ہے۔ اس کی جانب اشارہ کرتے ہوئے مبصر نے لکھا کہ :
’’یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ قاضی صاحب کا حافظہ قوی تھا لیکن ایسا بھی نہیں ہے کہ اس نے انھیں کبھی دھوکا نہ دیا ہو۔ انھوں نے اپنے مضمون ’’اصولِ تحقیق‘‘ میں اپنے حافظے کے سہو کی مثالیں درج کی ہیں‘‘ (ص۱۱۸)
پھر اس دھوکے کی مثال ایسے اقتباسات سے دی ہے جن میں قاضی صاحب خود اس کے معترف ہیںایسی صورت میں ان پر الزام کیا معنی رکھتاہے۔
ظفرکمالی نے محمد محسن صاحب کے کئی اوراعتراضات کے جواب بحسن وخوبی دیے ہیںجن میں قاضی صاحب کی وضع احتیاط سے روگردانی، خاندان کی نامناسب تفصیلات ، ان کی غلط بیانی کو ثابت کرنے کے لیے ان کے ناولوں کے مطالعے کے حوالے اور’’معاصر‘‘ قاضی عبدالودود نمبر کے دیگر مقالہ نگاروں کی مصلحت اندیشانہ معذوری کی چغلی کھاتے مضامین پر اعتراضات شامل ہیں۔
محسن صاحب نے اپنے علم نفسیات کے سہارے یہ ثابت کرنے کی بھی کوشش کی ہے کہ قاضی صاحب ’’نہایت جانگسل احساسِ کمتری کا شکار‘‘رہے ہیں۔ اس کا جواب ڈاکٹرظفرکمالی نے دلچسپ انداز میں دیا ہے۔ محسن صاحب نے اپنے شعری مجموعے’’زخموں کے پھول‘‘میں اپنی بابت جس احساسِ کمتری کو اپنی عاجزی کے پسِ پردہ اپنی تحسین کا اظہار بنایا تھا، مبصر کی نظروہاں پہنچی اور اس نے اس اقتباس کو نقل کرتے ہوئے کسی الزامی جواب کے بغیر جو نتیجہ اخذ کیا ہے اس میں دلچسپی کے سامان مہیا ہوگئے ہیں وہ لکھتے ہیں:
’’احساسِ کمتری جس کی شخصیت کا طرۂ امتیاز ہو، جس کی وجہ سے اس کی ذات طرفہ تماشا بن گئی ہو، اس کی نفسیات کا اندازہ لگانا دشوار نہیں۔ دراصل قاضی صاحب کے آئینے میں محسن صاحب کو اپنا عکس نظر آتا ہے‘‘
(ص ۱۲۳)
غورکیجیے مذکورہ اقتباس میںمبصر نے کس درجہ ہنرمندی سے اپنی بات کی تائید خود انھیں کی زبانی پیش کردی ہے اور ایک ماہرِ نفسیات کے مضمون کا جائزہ لیتے ہوئے نہ صرف مضمون نگارکی ذہنی اور نفسیاتی پیچیدگیوں کوسامنے لادیا ہے بلکہ اپنے طرزِ استدلال کوبھی مکمل نفسیاتی رنگ دینے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کلیم الدین احمدپر ان کے لکھے ہوئے مضمون کوبھی اس حوالے سے مبصر نے اپنی گفتگو کا محوربناکر قاری کو محمد محسن کی نفسیاتی احساس کمتری تک پہنچادیا ہے۔
اس تبصرے میں مبصر نے اپنے جواب کو مدبرانہ اسلوب دیتے ہوئے ایک کام یہ کیا ہے کہ انھوں نے ان لوگوں کے اقتباسات بھی نوٹ کیے ہیں جن کے تئیں محمد محسن نہ صرف اپنا واـضح نظریہ رکھتے ہیں بلکہ ان کی علمی قابلیت کے مداح رہے ہیں۔ امتیاز علی عرشی اور ڈاکٹر یوسف حسین خاں ایسے ہی لوگوں میں شامل ہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ دونوں حضرات قاضی صاحب کومنفرد محقق، صداقت شعار، صاف گو اور تحقیقی کام کرنے والوں کا رہنما تسلیم کرتے ہیں۔ ظاہر ہے یہ لوگ تحقیقی اعتبار سے محمد محسن سے زیادہ پختہ ذہن کے مالک تھے اور ان کی باتوں میں زیادہ وزن تھا جب ہی تو محمد محسن ان کی تعریف کرتے ہیں۔ اب منطقی قـضیے کے طور پر دیکھیں تو محمد محسن جن کی تعریف کررہے ہیں وہی لوگ قاضی صاحب کو تحقیق کا رہنما مانتے ہیں تو نتیجہ برآمد ہوا کہ معنوی طورپر محمد محسن بھی قاضی صاحب کے مداح ہیں۔ مبصر کی زیرکی اور دانائی نے اسی نتیجے تک فلسفیانہ رخ لیتے ہوئے رسائی حاصل کی ہے۔ ورنہ وہ دیگر لوگوں کے درجنوں حوالے دے کر اپنی بات کو مستحکم کر سکتے تھے جن میں صرف ایک پہلو روشن ہوپاتا کہ انھوں نے قاضی صاحب کے کارنامے کو سراہا ہے مگران درجنوں لوگوں کے متعلق محمد محسن کا کیا نظریہ ہے وہ سامنے نہ آپاتا۔ ذیل کا اقتباس اسی پس منظر میں سامنے آتا ہے:
’’مذکورہ حضرات نے قاضی صاحب کو جس طرح اردو زبان کے تمام تحقیقی کام کرنے والوں کا راہنما ، صداقت پسند، صاف گو، تنقید میں لگی لپٹی نہیں رکھنے والا اور یورپ و امریکا کے نقادوں کے معیار کی تنقید لکھنے والا کہا ہے ان کے بارے میں محسن صاحب کیا فرمائیں گے؟‘‘ (ص ۱۲۹)
ہم سمجھتے ہیں کہ تحقیق میں اپنے دلائل کو اس قسم کی منصوبہ سازی کے تحت پیش کر نے کا یہ انداز بہت کم ملے گا ڈاکٹرظفرکمالی کی یہ مخصوص ذہانت قابلِ تحسین ہے۔
محمد محسن نے قاضی صاحب کے تعلق سے یہ بھی لکھا کہ :
’’قاضی صاحب پیش کردہ مآخذ کو غلط ثابت کرنے سے پہلے اس کے غلط ہونے کا مفروضہ بنالیتے ہیں اور تب ان دوسرے مآخذوں کی تلاش میں لگ جاتے ہیں جن سے وہ غلط ثابت ہوسکے۔‘‘ (ص ۱۳۰)
اس اعتراض پر مبصر کی یہ فاـضلانہ گفتگو ملاحظہ کیجیے:
’’قاضی صاحب کسی ماخذ یا دعوے کے غلط ہونے کا مفروضہ نہیں بناتے بلکہ شک کرتے ہیں۔ یہ تحقیق کا بنیادی اصول ہے کہ اس کی ابتدا شک سے ہوتی ہے۔ اس میدان میں خوش عقیدگی کی کوئی جگہ نہیں۔ قاضی صاحب اگر شک کرتے ہیں تو یہ تحقیق کے اصول پر ان کا عمل ہے۔ ان کے متعلق مفروضے کی بات قطعی درست نہیں البتہ محسن صاحب کے پیشِ نظر مضمون کے بارے میں یہ دعوا ضرور کیا جاسکتا ہے کہ انھوں نے مضمون لکھنے سے پہلے ہی قاضی صاحب کو غلط ثابت کرنے کا مفروضہ بنالیا تھا مگر یہ کوشش چونچ مارکر پہاڑ ڈھانے کے سوا اور کچھ نہیں۔‘‘ (ص ۱۳۰)
پورے تبصرے کے مطالعے کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ واقعی محسن صاحب کے مضمون کی تشکیلی فضا اسی مفروضے پرقائم ہے جس کو ابھارنے میں ڈاکٹرظفرکمالی نے پوری تندہی کا ثبوت دیا ہے۔
ان دونوں مضامین کے پس منظر میں کچھ باتیں ایسی ہیں جن کی نشاندہی ضروری ہے۔ سرسید سے چلی تحقیقی روایت قاضی صاحب تک آتے آتے کئی نامور محقق سے آشنا ہوچکی تھی۔ قاضی صاحب نے بھی اپنے تحقیقی مضامین اور تبصروں سے ادبی دنیا کو تحقیق کے نئے منطقے عطاکرنے میں پوری تندہی کا ثبوت دیا ۔ کتنے مسلمات کو رد کیا اور کتنے نئے حقائق پیش کیے جن کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگوں نے ان کے تحقیقی فتوحات کو سرآنکھوں سے لگایا۔ اسی فضا میں کچھ لوگوں کے لیے قاضی صاحب ذہنی انتشار کا سامان بھی بنتے چلے گئے اور انھیںقاضی صاحب کی مقبولیت اور محبوبیت گوارا نہ ہوسکی۔ لہٰذا انھوں نے اپنے ذہنی انتشار کو قرطاس و قلم کے حوالے کرنا شروع کیا اور اس نکتے سے بے خبر رہے کہ وقت بڑا منصف ہے وہ کسی جیالے کو انصاف کی لکیر کھینچنے کے لیے بھیج ہی دیتاہے۔ مذکورہ دونوں مضمون میں ڈاکٹر ظفر کمالی کی یہی حیثیت ابھرکر سامنے آتی ہے۔
اس شق کا آخری تبصرہ ’’گلستاں کا باب پنجم اور پروفیسر کبیر احمد جائسی ‘‘ہے۔ یہ بھی بقیہ تبصروں کی طرح صحیح صورتِ حال کوسمجھنے میں ہماری رہنمائی کرتاہے۔ پروفیسر کبیر احمد جائسی نے ’’گلستاں کا باب پنجم‘‘کے ذریعے شیخ سعد ی پر اپنی حکایتوں میں ایسے مطالب تحریر کرنے کا الزام عائد کیا ہے جنھیں ہمارے عہد میں ننگوں کا کلب قائم کرنے والے بھی تحریر نہیں کرسکتے۔ ظفر کمالی نے اپنے تبصرے میں ان کے عائد کردہ الزامات سے پردہ اٹھانے کی جستجو کی ہے۔
بڑی ذہانتوں کے تخلیقی آفاق تک رسائی یقیناذہانت کی تیزی کا تقاضا کرتی ہے۔ اگر ہمارے پاس و ہ ذہانت نہیں جس سے ہم کسی کی تخلیقی نگاہ کی باریک بینی کا مشاہدہ کرسکیں تو یہ ہماری ذہانت کا قصور ہے نہ کہ بڑی ذہانت کے تخلیقی آفاق کا ۔ شیخ سعدی اپنی جہاں دیدنی کے لیے خاصی شہرت رکھتے ہیں۔ انھوں نے زندگی اور اپنے عہد کی ننگی سچائیوں کا جس مصلحانہ اور دانشمندانہ بصیرت کے ساتھ مطالعہ کیاتھا اس کا تخلیقی اظہار بھی اس بات کا متقاضی تھا کہ وہ عام ادبی ڈگر سے مختلف ہو۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے اپنے مشاہدات و تجربات کی پیش کش کے لیے جو طریقہ اپنا یا ہے اس میں اشعارکا موزوں استعمال اورحکایات کا دلنشیں انتخاب اہمیت کے حامل ہیں۔ جس کا ایک سرا مذہب سے جڑتا ہے تو دوسرا سرا عوامی مشاہدات و روایات سے جاملتاہے۔ اس پہلو کو نظر اندازکرکے سعدی کی تفہیم بسااوقات مغالطے میں ڈال دیتی ہے۔
ا س تبصرے میں ڈاکٹر ظفر کمالی نے کبیر احمد جائسی کی سعد ی کی تفہیم میں کچھ اسی قسم کے مغالطے کو اجاگرکیاہے اورکچھ ایسے نکات پرودیے ہیں جن سے دیگر لوگوں کے لیے بھی سعدی کی تفہیم آسان ہوجاتی ہے۔انھیں نکتوں کی روشنی میں ڈاکٹرظفرکمالی نے سعدی کے ان اکیسوں حکایات کا جائزہ لیا ہے جن پر جائسی صاحب کے الزامات ہیں۔ انھوں نے پہلے حکایات کے خلاصے قاری کے سامنے پیش کیے ہیں ، جن کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ جائسی صاحب کی رسائی سعدی کی جہاں دیدہ نظر اور تخلیقی رویے تک نہیں ہوسکی ۔ خصوصاً انھوںنے سعدی کی ’’کہی ‘‘ میں چھپی’’ان کہی‘‘ کو نظراندازکردیاہے۔
حکایت نمبرایک، چھے، گیارہ اورچودہ پر جائسی کے خصوصی تحفظات تھے اسی لیے ڈاکٹر ظفرکمالی نے بقیہ حکایات سے زیادہ انھیں اپنا محور بنایا اور تفصیلی بحث کی ہے تاکہ ان میں پوشیدہ اخلاقی نکتے نمایاں ہوسکیں۔ذیل کے اقتباس سے جو نکات سامنے آتے ہیں ان میں بحیثیتِ مجموعی تمام اعتراضات کے جواب مل جاتے ہیں:
’’یہ سچ ہے کہ سعدیؔ نے گلستاں اور بوستاں کی بنیاد اخلاق اور پند و موعظت پر رکھی ہے لیکن ان کتابوں کی ہر حکایت اور اس کے ایک ایک جملے کو اخلاقی نقطۂ نظر سے جانچنا ان کے ساتھ بڑی ناانصافی ہے شیخ سعدیؔ کو ’’رحمۃ اللہ علیہ‘‘ سمجھنے والے حضرات یہ سمجھنے کی زحمت کیوں گوارا نہیں کرتے کہ سعدیؔ پہلے ایک ادیب اور شاعر ہیں بعد میں وہ معلم اخلاق ہیں یا کچھ اور۔ ادیب اپنی تخلیقات میں جہاں اپنے ذاتی جذبات و احساسات اور تجربے کا نچوڑ بیان کرتا ہے وہاں وہ سماج اور معاشرے میں رونما ہونے والے واقعات و حادثات سے بھی بے نیاز نہیں رہتا۔اس کی تخلیقی نگاہ باریک بینی سے اس کا جائزہ لیتی رہتی ہے کہ وہ کون سے عوامل ہیں جو معاشرتی زوال کا سبب ہیں۔ اس کی عکاسی کے لیے وہ کبھی براہِ راست اپنی باتیں کہتا ہے اور کبھی بالواسطہ طریقۂ کار اختیار کرتا ہے۔ وہ معاشرے کو تخلیقی آئینہ دکھا کر متوجہ کرتا ہے اہلِ معاشرہ اس میں اپنے بگڑے اخلاق اور مسخ شدہ چہروں کا جائزہ لیں۔ اگر چہرے مسخ شدہ ہیں تو اس میں قصور ان چہروں کا ہے نہ کہ آئینے کا‘‘ (ص ۲۳۶)
اس اقتباس کا سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ ’’سعدی پہلے ایک ادیب اور شاعر ہیں بعد میں معلم اخلاق ہیں یا کچھ اور‘‘اور ادیب کی ذمے داری معاشرتی سچائیوں کوآئینہ دکھانابھی ہے۔ گویا وہ حقائق کا نقیب ہوتاہے۔ یہیں سے ایک اور اہم نکتہ تبصرے میں وہاں سامنے آتا ہے جب مبصر سعدی کو ترقی پسندوں کا امام کہنے کی بات کہتے ہیں۔ یہ بات انھوں نے ۱۹۳۲ ؁ء میں ’’انگارے‘‘ کی اشاعت ، اس میں افسانہ نگاروں کے مروجہ اسلوب سے انحراف پر مبنی افسانہ نگاری اور پھر عوامی ردِّعمل کے ساتھ بعد کے زمانے میں اس کے اثرات کی قبولیت کے پس منظر میں کہی ہے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں:
’’’’انگارے‘‘ نے اردو فکشن کو ایک نئی حقیقت نگاری سے آشنا کیا جس کے اردو ادب پر گہرے اثرات پڑے۔ اس پہلو سے جب ہم گلستاں کے بابِ پنجم اور ششم کا مطالعہ کرتے ہیں تو یہ احساس ہوتا ہے کہ شیخ سعدی اردو کے ترقی پسندوں سے کئی سو سال پہلے اپنے عہد کے سب سے بڑے ترقی پسند ادیب و شاعر تھے۔ آج ہم انھیں ترقی پسندوں کا امام بھی کہہ سکتے ہیں۔ اس جہت سے اگر شیخ سعدی کا جائزہ لیا جائے تو تفہیم کی نئی راہیں روشن ہوں گی۔‘‘ (ص ۲۳۹)
ڈاکٹرظفر کمالی نے شیخ سعدی کوترقی پسندوںکا امام کہتے ہوئے یقینا جرأت سے کام لیاہے۔ شاید آج تک کسی نے اس نظریے سے سعدی کا مطالعہ نہیں کیا ہوگا۔ مبصر نے یہ بالکل نیا نظریہ پیش کیا ہے۔ جس کو ہم نظرانداز نہیںکرسکتے۔ کیونکہ کہ سعدی نے باب پنجم میں جس طرزِاظہار کو اپنایا ہے اس سے اس نظریے کی تائید ہوجاتی ہے۔
حکایت نمبر چھے اورگیارہ پر مبصر نے سعدی کی بے مثال شستہ ظرافت کی نشاندہی کرتے ہوئے ایک اور نئے نکتے کی طرف ہماری توجہ مبذول کرائی ہے۔ جس کی توثیق کے لیے انھوں نے گلستاں کے اختتام سے سعدی کی ہی عبارت پیش کی ہے۔ جہاں سعدی نے کہا ہے کہ’’نصیحت کی کڑوی دواکو ظرافت کے شہد میں ملا یاہے‘‘ چنانچہ ڈاکٹرظفر کمالی رقم طراز ہیں:
’’ بابِ پنجم کی حکایت چھے میں آستین سے چراغ گل ہونے پر ایک دوست کا خفا ہونا اور اس خفگی کے جواب میں سعدیؔ کا قول محض ان کی فطری اور شائستہ ظرافت ہے اور اس ظریفانہ پیراے میں انھوں نے دوست کے سامنے خوش گوار دوستانہ بلکہ بے تکلفانہ فضا پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ حکایت گیارہ میں بھی اس ظریفانہ پہلو کی کارفرمائی زیادہ شستگی کے ساتھ ہے۔ ظرافت طبیعت کی درّاکی اور ذہانت کی طالب ہوتی ہے۔جو لوگ باوضو ہوکر بابِ پنجم کو پڑھیں اور اس میں صرف خشک اخلاقی پہلو کی تلاش کریں گے اس میں قصور ان کی تلاش کا ہوگا نہ کہ شیخ سعدی کا‘‘ (ص ۲۳۹)
مذکورہ اقتباس کی روشنی میں خود مبصر کی ظرافت نگاری کاپرتو دکھائی دیتا ہے۔ ان کی فطری ظرافت اور اس کے نکات سے آشنائی نے یہاں سعدی کے ظریفانہ پیرایے تک ان کی رسائی کو آسان بنادیا ہے۔ جن چیزوں میں جائسی صاحب نے ذم کا پہلو تلاش کرتے ہوئے اخلاقی نکتے کے فقدان کی بات کہی ہے انھیں میں ڈاکٹرظفر کمالی نے یہ کہہ کر کہ ’’اس ظریفانہ پیرایے میں انھوں نے دوست کے سامنے خوش گواردوستانہ بلکہ بے تکلفانہ فضاپیداکرنے کی کوشش کی ہے‘‘ظرافت کے وہ پہلو تلاش کر لیے ہیں جو سعدی کے مقاصدِ ترسیل میں شامل ہیں۔ اسی لیے سعدی کے ناقدین سے اس پہلو پرتوجہ دینے کی وکالت کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں:
’’گلستاں‘‘ کے بابِ پنجم یا دیگر پہلوئوں پر تنقید کرنے والے حضرات اگر ایک خاص پہلو پر نظر رکھیں تو انھیں سعدیؔ سے کم شکایت ہوگی۔وہ پہلو شیخ سعدی کی بے مثال شستہ ظرافت ہے۔’’گلستاں‘‘کی حکایتوں میں یہ ظرافت موجِ تہہ نشیں کی طرح موجود ہے اور شیخ کے اسلوبِ بیان کو دو آتشہ بناتی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ یہی لطیف ظرافت اس کتاب کو مقبولِ خواص و عوام بنانے میں ریڑھ کی ہڈّی کی حیثیت رکھتی ہے۔ اسی کا سہارالے کر سعدیؔ نے بہت سے تخلیقی پل صراط کو پار کیا ہے‘(ص ۲۳۸)
اس شق کے چاروں مضامین بڑے وقیع اور اپنے موضوع پرسیر حاصل گفتگو لیے سامنے آتے ہیں۔ دومحققوں کے درمیان تیسرے کا وجود کس قدر چیلنج بھراہواتاہے اس کا اندازہ کیا جاسکتاہے۔ ’’عطاکاکوی، گیان چند جین‘‘قاضی عبدالودود، گیان چند جین‘‘’’قاضی عبدالودود اور محمد محسن‘‘…کے درمیان ڈاکٹرظفر کمالی کا وجود ہرآن خطرے میں رہتا ہے۔ یہ خطرہ کبھی جانب داری کا ہے، کبھی جذباتیت کا ہے، کبھی دونظریات کے مابین سچائی کی تلاش میں ناکامی کا ہے، کبھی کسی پہلو پر دلائل کے کمزورہونے کا ہے، کبھی اصل ماخذ تک نارسائی کا ہے، کبھی نتائج کے استنباط میں غلطی کا ہے، کبھی موضوع کا حق ادانہ کرنے کا ہے اورکبھی پیش کش میں ژولیدگی اور ابہام کاہے لیکن حیرت ہوتی ہے کہ ڈاکٹرظفر کمالی نے ان تمام خطرات کو نہ صرف قبول کیا بلکہ بآسانی اس راہ کو طے بھی کیا ہے۔ تحقیق میں ایسے تبصرے کم لکھے گئے ہیں۔ کسی ایک محقق کی تحقیق پر یا پھر کسی موضوع کی ازسرِنو تلاش پر تو خاصہ مواد موجود ہے مگر دومحققوں کے درمیان ذاتی رنجش کی گل افشانیوں سے لے کر تحقیقی کاموں کی نوعیت پر محدوددائرے میں ہی قلم اٹھایا گیاہے۔ ایسے مو ضوعات پر قلم اٹھانے کے لیے کسی قدرعلمی وسعت اورمحنت و باریک بینی کی ضرورت ہے اس کا اندازہ مذکورہ تبصروں کو پڑھ کر ہی لگا یا جاسکتا ہے۔
یہ تمام تبصرے مختلف تبصروں پر ہی لکھے گئے ہیں اور اتنی شرح وبسط کے ساتھ سامنے آتے ہیں کہ کسی کتاب پر بھی عام طور پر ایسے تبصرے کم ہی دیکھنے کو ملتے ہیں۔ ایک ایک جزکو جس طرح مبصر نے نگاہوں میں رکھ کر ان کی وضاحتیں کی ہیں وہ سنجیدگی اور تحقیقی تڑپ کے بغیر ممکن نہیں۔
دوسری شق میں ’’ادبی تحقیق ، مسائل اور تجزیہ:ازرشید حسن خاں‘‘’’تحقیق وتدوین ، مسائل و مباحث:ایک تبصرہ‘‘اور ’’قطب مشتری کاتنقیدی مطالعہ ازابوالبرکات کربلائی‘‘جیسے عنوانات سے تبصرے شامل ہیں۔
مذکورہ تینوں تبصرے دراصل ایک ایک کتاب پر لکھے گئے ہیں ، لیکن رشید حسن خاں والا تبصرہ ان کی کتاب کے صرف پہلے حصے کے مندرجات کا تفصیلی جائزہ ہے۔ ان تبصروں میں سے پہلے دو کا تعلق تحقیق سے زیادہ تأثراتی کیفیت سے ہے۔ مگر یہ تاثر اسی حد تک قائم رہتا ہے جہاں تک مصنف نے مبصر کو اپنا ہمنوا بنالیاہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان تبصروں میں نظریاتی اختلافات کا گہرا نقش ابھر تاہے جس میں مبصر کی ذہنی دراکی اور وسعتِ نظر قابلِ داد ہے۔ شخصیت کے رعب سے ہر بات کو آمنّاوصدّقنا کہہ کر قبو ل نہیں کیا گیا ہے بلکہ ایک ایک اختلاف میں ڈاکٹرظفر کمالی کی سوچ کی گہری سطح کا تحرک بھی شامل ہے جس سے مبصر کے پیش کردہ نظریات حقیقت سے زیادہ قریب ہوگئے ہیں۔ یہاں یہ محسوس ہوتاہے کہ ادب میں نظریاتی اختلاف کی جو گنجایش رکھی گئی ہے مبصر نے اس سے کام لیاہے۔ نظریاتی اختلاف میں شخصیت سے زیادہ علمی مشاہدے اور موضوع کے مختلف جہات پر دوربیں نگاہوں کا عکس نمایاں ہوتاہے کہ آپ نے متعلقہ موضوع کے کن کن جہتوں پر کتنا غوروخوض سے کام لیا ہے۔
’’ادبی تحقیق :مسائل اور تجزیہ ‘‘کے پہلے باب کے تمام مضامین پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے۔ رشید حسن خاں نے تحقیقی اصول کے حوالے سے ان ابواب میں جن جن پہلوئوں پر بحث کی ہے ڈاکٹر ظفر کمالی نے اپنے تبصرے میں ان کی عمدہ تلخیص کی ہے جسے پڑھ کر کتاب کے مندرجات سے کماحقہٗ آگاہی ہوجاتی ہے۔ جہاں جہاں مبصر نے اختلاف کیا ہے اس کی پوری وضاحت مع دلائل پیش کی ہے، جن کی روشنی میں مبصر حق بجانب دکھائی دیتا ہے۔ مثلاً رشید حسن خاں نے زندہ شخصیات پر تحقیق کی مخالفت کی مگر مبصر کا یہ کہنابجا ہے کہ ’’جن لوگوں کی عمر ساٹھ ستّر کی ہوچکی ہے اوران کی ادبی خدمات واقعی وقیع ہیں تو ان پر تحقیق کرنے میں کوئی قباحت نہیں‘‘(ص ۳۲)کیونکہ فکری تغیر کی نشاندہی بعد کے لکھنے والوں کے ذریعے بآسانی ہوسکتی ہے۔ یہ کوئی ضروری نہیں کہ ایک ہی کتاب میں کسی شخص کے ساتھ مکمل انصاف کیا جائے۔ ظفر کمالی نے اپنی بات کومستحکم کرنے کے لیے قاضی عبدالودود کی پہلی اہلیہ کے نام کی لاعلمی کی جو مثال پیش کی ہے اس سے بھی یہ اندازہ ہوتا ہے کہ زندہ شخصیات پر کام کرنے سے تحقیق کے بڑے مراحل بآسانی حل کیے جاسکتے ہیں۔ اسی طرح ایک اختلاف وہاں سامنے آتا ہے جب رشید حسن خاں تذکروں کے اردو تراجم کوفضول کام قراردیتے ہیں۔ یہاں بھی ظفر کمالی کی راے زیادہ وقیع معلوم ہوتی ہے۔یونیورسٹی میں ارد وتحقیق کے مسائل پر رشید حسن خاں کی راے سے اتفاق کرتے ہوئے مبصر نے اپنے تجربے کو بھی سمیٹنے کی کوشش کی ہے۔ رشید حسن خاں نے تحقیق کی صورتِ حال کے تئیں اربابِ بصیرت پر ناروافیاضی اور آسان پسندی کا جو الزام عائد کیا وہ مبصر کی نظر میںکسی ڈرائونے خواب کی تعبیر بن گیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر ظفرکمالی نے یہاں اپنی بات بے لاگ انداز میں کہی ہے اورباتوں باتوں میں اپنے دلی زخم بھی پروئے ہیں۔ ان کی نظر میں نوے فیصد طلبہ تحقیق کے اہل نہیں ہونے کے باوجود بھی اس میں داخلہ لیتے ہیں ۔ دوسروں سے مقالہ لکھوانے کی وبا عام ہوچکی ہے۔ پیسے کا کاروبارسرگرم ہے۔ متعلقہ موضوع پردوسروں کی کتابوں سے سرقہ عام ہے۔اس حمام میں بڑے بڑے ننگے ہیں۔ یہ صرف اردوکا المیہ نہیں بلکہ دیگر زبانوں کا حال بھی لائقِ افسوس ہے اور تحقیق کے نام پر ہر بے اصولی اصول بن گئی ہے جیسے خیالات سے آج کی تحقیق کے پسِ پردہ تخریبی کارروائی کو بے نقاب کیا ہے۔
رشید حسن خاں کی راے سے ایک اور اختلاف وہاں دیکھنے کو ملتا ہے جہاں رشید حسن خاں نے حوالوں کو تین درجوں میں تقسیم کیا ہے۔ یہاں ڈاکٹر ظفر کمالی کی یہ بحث قابلِ توجہ ہے:
’’وہ یہ بات تو تسلیم کرتے ہیں کہ مشکوک حوالہ وہ ہے جس کے متعلق کوئی بات قطعیت کے ساتھ نہیں کہی جاسکتی لیکن استدلال کی حد تک وہ مشکوک اور غیر مستندحوالوںکو ایک ہی درجے میں رکھتے ہیں۔احقر کے خیال میں بے شک مشکوک حوالے پر استدلال کی عمارت کھڑی نہیں کی جاسکتی لیکن ایسا بھی نہیں ہے کہ اسے ہم غیر معتبر کے درجے میں رکھ دیں۔مشکوک حوالے قبول کرنے کے لیے یہ لازمی ہے کہ کسی دوسرے ذرائع سے اس کی تصدیق ہوجائے۔تصدیق نہیں ہونے کی صورت میں بھی اسے سرے سے مسترد نہیں کیا جاسکتا اور جب مسترد نہیں کیا جاسکتا تو اسے غیر مستند کے درجے میں بھی نہیں رکھا جاناچاہیے۔یقین اور عدم یقین کی درمیانی صورت قیاس کی ہے ،قیاس کی بنیاد معقول ہو تو اس پر بہت حد تک بھروسا کیا جاسکتا ہے۔‘‘ (ص ۴۲)
اس تبصرے میں ایک اور دلچسپ پہلو وہاں سامنے آتا ہے جب تحقیق و تدوین پر رشیدحسن خاں اور گیان چند جین کے خیالات و نظریات پر مبصر فیصل کی حیثیت سے سامنے آتے ہیں۔ رشید حسن خاں تحقیق اور تدوین کو دوعلاحدہ فن تسلیم کرتے ہوئے مدون کے لیے آدابِ تحقیق کو ضروری قراردیتے ہیں مگر یہ بات گیان چند جین کو تسلیم نہیں وہ تدوین کو تحقیق کا حصہ تسلیم کرتے ہیںاور اس بات پر مصر ہیں کہ اچھا مدوّن محقق کے سوا کوئی دوسرا نہیں ہوسکتا۔ مبصر نے ان نظریاتی بحث پر اپنا جو فیصلہ سنایا ہے وہ رشید حسن خاں کے حق میں جاتا ہے، جس کا اندازہ ان جملوں سے ہوتا ہے:
’’یہاں یہ صاف محسوس ہوتا ہے کہ گیان چند جین نے رشید حسن خاں کی باتوں پر ٹھیک سے غور ہی نہیں کیا۔‘‘ (ص۴۸)
’’گیان چند جین کا یہ کہنا کہ اچھے مدوّن محققوں کے سوا کوئی دوسرے نہیں،یہ دراصل رشید حسن خاں کے ہی قول کی تائید ہے۔‘‘(ایضاً)
’’رشید حسن خاں کی باتوں کی تردید اس وقت ہوتی ہے جب وہ ایسے معیاری مرتب شدہ متون کا تذکرہ کرتے جنھیں کسی محقق نے ترتیب نہیں دیا ہو۔‘‘ (ایضاً)
’’جین صاحب کا یہ کہنا کہ ایک موضوع پر تحقیق کرنے والے کے لیے یہ کہاں لازم ہے کہ وہ ہر موضوع یا ادب کے ہر شعبے کا اچھا محقق ہو،یہ انمل بے جوڑ والی بات ہے۔ رشیدحسن خاں نے جب ایسا دعوا ہی نہیں کیا اور کوئی کربھی نہیں سکتا تو یہاں اس بات کا تذکرہ ہی فضول ہے۔‘‘ (ص۴۹)
ظفرکمالی کے مذکورہ نقطۂ نظر کا انحصاران اقتباسات پر ہے جن میں گیان چند جین نے رشید حسن خاں کی مخالفت کی ہے۔ تعجب خیز امر یہ ہے کہ گیان چند جین نے اپنے جن اقتباسات کے ذریعے مخالفت کا اظہار کیا وہی اقتباسات رشید حسن خاں کے نظریات کی تائید بن گئے جنھیں رقم کرتے ہوئے انھیں اس کا احساس بھی نہیں ہوا کہ وہ مخالفت نہیں دراصل تائید کررہے ہیں۔ یہاں مخالفت کی عبارت میں تائید کے پہلو تلاش کرلینا مبصر کی ایک بڑی کامیابی ہے جو فکرو نظر کا تیل ٹپکائے بغیر نہیں مل سکتی۔
ظفر کمالی نے اپنے اس تبصرے میں خاں صاحب کے اسلوب پر بھی نظر ڈالی ہے۔ تحقیق کی زبان کیسی ہو؟ یہ متنازعہ فیہ مسئلہ رہاہے اسی لیے رشید حسن خاں کے اسلوب پر بھی یہ تنازعہ دیکھنے کوملتاہے۔ ظفرکمالی نے خاں صاحب کے اسلوب کو دلکش، توانا اورجاندارقراردیا ہے اور اس کی شگفتگی کو معنوی اعتبار سے بھی سراہاہے۔ وہ اس بات کا بھی اعتراف کرتے ہیں کہ رشیدحسن خاں جب تحقیق کے نام پر ہونے والی خفیف الحرکاتیوں کا تذکرہ کرتے ہیں تو ان کے لہجے میںشدت آجاتی ہے۔ یہیں انھوں نے خاں صاحب کے لب ولہجے پر معترض اصحاب کے اعتراضات کا جواب بھی پیش کیا ہے۔ بطورِمثال انھوں نے ڈاکٹر تنویر احمدعلوی کے اقتباس کو پیش کیاہے جس میں انھوں نے خاں صاحب کے اسلوب پراعتراض کرتے ہوئے لکھاہے کہ دل چسپ فقرے اور چبھتے ہوئے جملے تحقیقی طنزیات ومضحکات کا حصہ تو بن سکتے ہیں لیکن انھیں تحقیق کی زبان اور اندازِ بیان کا حصہ نہیں قراردیا جاسکتا۔ ڈاکٹر ظفر کمالی اس کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’محقق کو بے شک لہجے کی تندی اور طعن و تعریض کی نشتر زنی سے بچنا چاہیے لیکن کم معیاری جب عام رجحان بن جائے ،لوگ مادّی فوائد کی خاطر جان بوجھ کر تحقیق کا خون کرنے پر آمادہ ہوں،محنت سے جی چرانا،عجلت پسندی سے کام لینا،تحقیقی بل ہوسی کا شکار ہوجانا،علمی جوابدہی کے احساس سے بے نیاز ہوجانا جیسے رویے فروغ پانے لگیں تو ضرورت سخت تبصروں کی ہی ہوتی ہے۔جب چور گھر میں گھس آئیں یا گھر میں آگ لگ جائے تو شور مچانا ضروری ہوتا ہے۔رشید حسن خاں اگر تحقیق کی دنیا میں ایسا خلفشار دیکھتے ہیں تو ان کے لہجے کا تند ہونا بے جا نہیں ہے۔کوئی ایماندار شخص اگر ’’گمراہ رجحانات اور علمی جرائم‘‘پر قلم اٹھائے گا تو فطری طورپر اس کے فقرے چبھتے ہوئے ہی ہوں گے۔طنز و تعریض بھی برائیوں اور کمزوریوں کے خلاف لڑنے کا ایک موثر ہتھیار ہے۔اس کا استعمال اعتدال کے ساتھ کہیں بھی کیا جاسکتا ہے اور اچھے اچھے تنقید نگاروں اور محققوں نے اس سے کام لیا ہے‘‘ (۵۲)
اس اقتباس پر غور کیجیے تو ڈاکٹر ظفر کمالی نے جن وجوہات پر رشید حسن خاں کے تحقیقی جملوں کی نشتر زنی کی حمایت کی ہے وہ قابلِ توجہ ہے۔آگ لگنے ، چورگھسنے اور علمی جرائم کی لفظی تہہ داریاں صورتِ حال کی پوری عکاسی کررہی ہیں۔لفظی پرکاری کی یہ بہترین مثال ہے۔
پروفیسر حنیف نقوی کی کتاب’’تحقیق وتدوین ، مسائل ومباحث‘‘پر بھی تبصرے کا وہی اندازہے جو رشید حسن خاں کی کتاب پر ہے۔ یہاں بھی کتاب کے مندرجات سے تحقیقی موتی چننے والا عمل دکھا ئی دیتاہے۔ ایک ایک مضمون پر تفصیلی نظرڈال کر اس کے اہم پہلوئوں کی نشاندہی کی گئی ہے اوریہ بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ ان مضامین کی اہمیت کیاہے۔ اس ضمن میں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ یہاں نقوی صاحب کے کچھ ایسے نکات کی طرف قاری کی توجہ مبذول کرائی گئی ہے جن کا تذکرہ نقوی صاحب کے ذریعے پہلی بار ہوا ہے۔ اس جگہ مبصر کے مطالعے کی وسعت کا خوشگواراحساس ہوتا ہے کہ ان کی نگاہ میں ایسے نکات روشن ہوگئے۔ حنیف نقوی نے محقق کے حوالے سے یہ بات کہی ہے کہ جب کوئی نیاخیال یا پہلو محقق پر روشن ہوتاہے تووقتی خوشی اس کے منفی پہلوئوں کو ٹٹو لنے کی صلاحیت سلب کرلیتی ہے۔ اس خیال کی صراحت کو مبصرنے سراہتے ہو ئے یہ لکھا ہے کہ :
’’میرے خیال میں نقوی صاحب سے پہلے کسی اور نے اس اہم نکتے کی وضاحت یوں نہیں کی تھی۔اس کے لیے انھوں نے عظیم فیروزآبادی اور ڈاکٹر محمد شفیع کی جو مثالیں پیش کی ہیں وہ آنکھیں کھول دینے والی ہیں‘‘ (ص۵۷)
اس تبصرے کا سب سے اہم حصہ وہ ہے جہاں ’’ڈاکٹر گیان چند جین اور قاضی عبدالودود ‘‘ کے عنوان سے لکھے گئے نقوی صاحب کے مضمون کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ مبصر کا پہلا اعتراض عنوان اور مضمون کی غیر ہم آہنگی پر ہے۔ انھوں نے اپنی بات کا تسلسل قائم رکھتے ہوئے نقوی صاحب کے ان خیالات کی بھی تردید کی ہے جن سے قاضی عبدالودود کے تئیں گیان چند جین کے خیالات کی تائید ہوتی ہے۔ مثلا قاضی صاحب کے اسلوب ، ان کی احتیاط پسندی، ان کے آرا سے اختلاف کی عدم ہمتی اور ا ن کے مضامین کی شخصی نوعیت کے حوالے سے گیان چند جین نے قاضی صاحب پر جو الزامات عائد کیے ہیں۔ نقوی صاحب ان کی حمایت میں کھڑے نظرآتے ہیں۔مگر مبصر نے ان تمام پہلوئوں کا جواب پیش کیا ہے جس سے مبصر کی سنجیدہ ذہنی اور تحقیقی اصول کی پاسداری کاا حساس ہوتا ہے۔ اس حصہ کے تین صفحات میں اس مضمون کا ماحصل پیش کردیا گیا ہے۔
اس شق کا آخری مضمون ’’مثنوی قطب مشتری کا تنقیدی مطالعہ:ازابوالبرکات کربلائی‘‘ہے ۔ یہ کتاب کا ایک اہم مضمون ہے جس میں مبصر کی جانکاہی، تحقیقی شعور اور موضوع پرعمدہ دسترس کے پہلو سامنے آتے ہیں ۔ تحقیق کے ایک ایک نکتے کو ذہن میں رکھ کرظفر کمالی نے پوری کتاب کا جائزہ اس اندازسے لیا ہے کہ آنکھیں کھلی رہ جاتی ہیں۔ اس تبصرے کو پڑھنے کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ تحقیق کے نام پر آج کے لکھنے والے جہالت کے کس اندھیرے غار میں بھٹک رہے ہیں۔
اس تبصرے میں غلطیوں کی نشاندہی کتاب کی سنہ اشاعت سے شروع ہوتی ہے۔ پھر متن کی بنیاد کی خامی، اشعار کی لفظی تحریف، صوتی خامی، غلط قرأت سے مفہوم کا خبط ہونا، لفظوں کے حرکات و سکنات کی خامی، بے احتیاطی، اشعار کا بحرووزن سے خارج ہونا، نثری اقتباس میں تحریف اور تحقیقی و تنقیدی غلطیوں پر جرح و تعدیل کی بساط بچھادی گئی ہے۔
ظفر کمالی نے ایک ایک جز پر بحث کرتے ہوئے اپنی بات پوری وضاحت سے پیش کی ہے۔ ابوالبرکات کی کتاب میں سنہ اشاعت نہیں ۔ انھوں نے اس کا سنہ اشاعت ۱۹۸۶بتایا ہے۔ ابوالبرکات صاحب نے جس نسخے کو اپنے مطالعے کی بنیادبنایا ا س کا متن ڈاکٹر وہاب اشرفی کی کتاب’’قطب مشتری اور اس کا تنقیدی جائزہ‘‘میں شامل ہے۔ یہاں مبصر کا بڑااعتراض تحقیقی اصول پر یہ ہے کہ یہ نسخہ قابلِ اعتبارنہیں ۔اس کی وجہ مبصر کی نظر میں’’قطب مشتری‘‘کی کتابت کا نئے سرے سے ہونا ہے جس میں غلطیوں کے امکان سے انکارنہیں کیا جاسکتا اور وہاب اشرفی نے جس نسخے کو بنیاد بنایا وہ مولوی عبدالحق کا ترتیب دیا ہواہے جس کی اہمیت کو مبصر تسلیم تو کرتے ہیں مگر ان کی نظر میں فنِ تدوین کے لحاظ سے وہ غیر معیاری ہے۔ یہاں ظفر کمالی نے اپنی بات کی تائید میں مثالوں کا التزام نہیں کیا۔ وہاب اشرفی کی کتابوں کے ڈھیر میں جتنی غلطیاں پوشید ہ ہیں وہ سنجیدہ تنقید اور غیر جانب دارانہ محاسبے کی متقاضی ہیں مگر مذکورہ متن کی غلطیوں کی وجہ نئے سرے سے کتابت کے مفروضے کو بنانا بغیر دلیل کے ہضم نہیں ہوتا۔ اسی طرح جب مولوی عبدالحق کی کتاب بھی ان کے پیشِ نظر نہیں تھی تو اسے بھی غیر معیاری کہنے کے لیے شہادت کی ضرورت تھی۔ یہ ضرور ہے کہ تبصرے میں آگے چل کر متن کے حوالے سے جو گرفت ملتی ہے اس سے اس کمی کا ازالہ ہوجاتاہے اور شاید یہی بات مبصر کے پیشِ نظر رہی ہوگی جو انھوں نے یہاں حوالوں کا التزام نہیں کیا۔
کسی بھی موضوع پر تحقیق کے لیے اس پر پوری دسترس کے ضمن میں مبصر نے جو پیراگراف لکھا ہے وہ جامع اور معلوماتی ہے اس میں تحقیق کے ابتدائی نکات کی عمدہ نشاندہی کی گئی ہے۔ اس پیراگراف کا ابتدائی حصہ ملاحظہ کریں:
’’کسی بھی موضوع پر قلم اٹھانے کی اساسی شرط یہ ہے کہ مصنف اس پر پوری دسترس رکھتا ہو۔ موضوع اگر شعری ادب سے متعلق ہو تو اس کی ذمے داریوں میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے مثلاً وہ موزوں طبع ہو، اوزان و بحور اور شاعری کی مبادیات سے واقف ہو اور مثالیں پیش کرتے وقت صحّتِ متن کا پورا خیال رکھ سکتا ہو۔ قدیم متون پر لکھنا ویسے بھی آسان نہیں۔ خاص طور سے متن کا تعلق اگر دکنی ادب سے ہو تو پیچیدگی اور بڑھ جاتی ہے۔ فی زمانہ صورتِ حال یہ ہے کہ مطبوعہ دکنی کلاسیکی مثنویوں میں سے شاید ہی کوئی ایسی ہو جس کے متن پر ہم پوری طرح بھروسہ کرسکیں۔‘‘
(ص۱۳۳)
مذکورہ اقتباس میں تحقیق کے جتنے پہلو روشن کیے گئے ہیں وہ تبصرہ کے پہلو بہ پہلو آئینے کی طرح سامنے آتے چلے جاتے ہیں۔ پورے تبصرے کی مجموعی قرأت سے یہ بات مکمل طور پر واضح ہوجاتی ہے کہ برکات صاحب ایسی کتاب لکھنے کے اہل نہیں تھے۔ ا ن کا موضوع چونکہ شعریات سے منسلک ہے اس لیے ان کی غیر موزوں طبیعت اور اوزان وبحورکی عدم واقفیت کو سامنے لا تے ہوئے ڈاکٹر ظفر کمالی نے دواشعار کے حوالوں سے اپنی بات پیش کی ہے۔ اسقامِ متن کے حوالے سے چھے، لفظی تحریف کی ۳۷؍ اشعارمیں تبدیلیوں کی ۲۵؍تنقیدی و تحقیقی غلطیوں کی ۳۵؍ اور تضاد بیانی کی ۵؍ مثالوںمیں صحیح اور غلط کی نشاندہی مع حوالے کی گئی ہے۔ ان کے علاوہ انھوں نے سرقے کی مثال کے ساتھ کتاب کے آخر میں فرہنگ کے اسقام اور قطب مشتری کی فنی قدروقیمت متعین کرنے میں برکات صاحب کو کٹہرے میں کھڑاکردیا ہے۔
۱۵۵؍صفحات پر مشتمل برکات صاحب کی کتاب کی مذکورہ خامیوں کو دیکھتے ہوئے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ تحقیق کے نام پر اس کتاب میں کیسی دھول اڑائی گئی ہے۔چند مثالوں سے مبصر کی تحقیقی ژرف نگاہی کا اندازہ لگائیے:
اسقام متن کی مثال
’’(۱)دکھن (کذا) ملک بھوتیج خاصا اہے (ص۱۲)
یہاں ’’بھوتیج‘‘ کے بدلے ’’بھوتیچ‘‘ کا محل ہے۔ دکنی میں تاکیدی حروف ’’ہی‘‘ کے بجائے تاکیدی ’’چ‘‘ کا رواج رہا ہے اور یہاں اسی روایت کی پیروی کی گئی ہے۔‘‘ (ص۱۳۴)
اسقامِ متن کی تمام مثالوں میں ظفر کمالی نے جس محنت اور شاعرانہ ذوق کا مظاہرہ کیا وہ سراہے جانے کے قابل ہے۔ دکنی متن کی پیچیدگیاں ماہرِ لسانیات سے پورشیدہ نہیں۔ اس کو پڑھنا ہی سخت جانی کا کام ہے۔ سمجھنا اور سمجھانا تو بعد کے مرحلے ہیں۔ ظفرکمالی نہ باضابطہ کوئی ماہرِ لسانیات ہیں اور نہ ہی دکنی ادب ان کا موــضوع رہا ہے پھر بھی انھوں نے دکنی زبان کی باریکیوں سے اپنی واقفیت کا جو احساس یہاں دلایا ہے وہ اس بات کی طرف مشیر ہے کہ اگر ادیب اور محقق وسیع المطالعہ ہو تو اس کی علمی زنبیل خالی نہیں ہوتی۔
تحقیقی غلطی کی مثال
(۳) ’’وجہی کا مزار حیدرآباد میں سید حسن شاہ برہند کی درگاہ میں موجود ہے۔‘‘ (ص۱۵)
سید حسن شاہ کے ساتھ لفظ ’’برہند‘‘ غلط ہے اس کی جگہ ’برہنہ‘‘ ہوناچاہیے ۔ یہ درست ہے کہ وجہی کی تربت حسن شاہ برہنہ کی درگاہ میں تھی لیکن اس کی موجودگی کا دعوا نظرِ ثانی کا محتاج ہے۔ ’’حیات وجہی‘‘ (اشاعت ۱۹۹۰ء)کے مصنف ڈاکٹرم۔ ن۔سعید نے لکھا ہے کہ ’’وجہی کے مزار کی جستجو میں راقم الحروف نے بہت سا وقت صرف کیا۔ حضرت سید حسن برہنہ شاہ کے گنبد کے ارد گرد بے شمار قبریں اور مزارات ہیں اور کافی شکستہ حالت میں ہیں۔ کسی واضح رہنمائی اور کسی قطعی اشارے کے نہ ہونے کی وجہ سے وجہیؔ کے مزار کا پتہ لگانا ممکن نہ ہوسکا۔‘‘ (ص۱۳۹)
تنقیدی خامی کی مثال
(۸) ’’اس میں مثنوی کے فن کے مطابق تعلّی، زورِ بیان، ربط و تسلسل اور ارتقا ملتا ہے۔‘‘ (ص۳۰)
موصوف وہ پہلے شخص ہیں جنھوں نے مثنوی کے فن میں تعلّی کو بھی شامل کیا ہے۔ علماے ادب اس نکتے سے اب تک بے خبر ہیں۔(ص۱۴۰)
ایسی مثالوں سے پورے اکیس صفحات بھرے پڑے ہیں۔جن میں ابوالبرکات کربلائی کی چھوٹی بڑی تمام تحقیقی فروگذاشتوں کو بڑی ذمے داری سے سا منے لایاگیاہے۔ایسے تبصرے نہ صرف محقق کا رس نچوڑ لیتے ہیں بلکہ قاری کے بھی چودہ طبق روشن کردیتے ہیں۔ آج کے تحقیقی ماحول میں اس قسم کے آٹھ دس تبصرے اگر سامنے آجائیں تو نہ صرف کتنوں کی پگڑی گرجائے گی بلکہ تحقیق کو صحیح سمت و رفتار بھی نصیب ہوگی۔ بہر حال ظفر کمالی نے مرکز سے دور رہ کر بھی ایسے تبصروں سے کتنے سنجیدہ قارئین کو تسکین پہنچائی ہے وہ تو قارئین ہی جانتے ہیں۔
تیسری شق کے مضامین میںمدرس، تدریس او رتحقیق‘‘’’ضحاک کا ماخذ‘‘’’بزمِ فرّخ ناٹک‘‘اور ’’ڈرامااور اسٹیج‘‘ شامل ہیں جن میں ذاتی کھوج اوراصل صورتِ حال کی تلاش سے کام لیا گیاہے۔
’’مدرس، تدریس اورتحقیق‘‘میں موجودہ اردو نصابی کتب کی خامی، اساتذہ کی ذمے داری اور مرتبین کتب کی نااہلی کو ظفر کمالی نے مرکزی حیثیت دی ہے۔ اس تبصرے میں تعلیم جیسے حسّاس گوشے کے منفی پہلو ئوں کو انھوں نے اس طرح پیش کیا کہ دل کڑھنے لگتا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ تعلیم کی بنیاد اگر مستحکم نہ ہو تو اس پر کھڑ ی عمارتوں کا کوئی اعتبارنہیں ۔ موجود نسل کی تعلیمی بنیادجن درسی کتابوں پر رکھی جارہی ہے ان میںجابجا مرتبین و مؤلفین کی نااہلی، سستی، غیر ذمے داری اور اصنافِ ادب کی عدمِ واقفیت کے جلوے بہت واضح طورپر سامنے آتے ہیں۔ انھیں کی زبانی سنیے:
’’ ہندستان میںدرسی کتابیں تیار کرنے کا مرکزی ادارہ این۔ سی۔ ای۔آر۔ٹی ہے۔اس ادارے سے اردو کی جو کتابیں شائع ہوتی ہیں،معمولی فروگزاشتوں سے قطع نظر ان کا معیار تسلّی بخش ہوتا ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ملک کے مختلف صوبوں کے سرکاری اسکولوں میں یہ کتابیں اپنی اصل صورت میں داخلِ نصاب نہیں ہوتیں بلکہ صوبائی ضرورتوں کے پیشِ نظر ان میں تبدیلیاں بھی کی جاتی ہیں۔بیش تر ریاستوں میں اسی طرز پر جداگانہ،اپنا علاحدہ نصاب تیار کیا جاتا ہے لیکن اس عمل میں ماہرین کے ذریعے جو مجرمانہ غفلت برتی جارہی ہے وہ دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔یہ غلطیاں چھوٹی بڑی ہر طرح کی ہوتی ہیں۔ان کتابوں کے املا پر غور کیجیے تو حیرت ہوتی ہے کہ کیسے کیسے بوالہوسوں نے اس کام کا ذمہ لے رکھا ہے جو اپنی کم علمی یا تن آسانی کی بدولت اردو کی جان پر ہر طرح کا ستم ڈھانے پر آمادہ ہیں۔انھیں نہ املا کی جانکاری ہے اور نہ الفاظ کا صحیح تلفظ معلوم۔وہ نہ اِمالے کا استعمال جانتے ہیں اور نہ اردو قواعد سے خاطر خواہ واقفیت رکھتے ہیں۔نظم و نثر کا صحیح متن پیش کرنے میں بھی وہ قاصر نظر آتے ہیں۔شعری متن کا معاملہ تو اور دگرگوں ہوتا ہے۔بعض اوقات ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مولفین کو وزن و بحر سے دور کی بھی نسبت نہیں ہے۔وہ اچھے بھلے اشعار کو نقل کرتے ہوئے انھیں ناموزوں یا غلط کردیتے ہیں اور انھیں اس کی خبر نہیں ہوتی۔ایسی حالت میں مدرس بیدار مغز اور تحقیقی ذہن کا نہ ہو تو دورانِ تدریس جو خرابیاں پیدا ہوں گی اس کا اندازہ بہ خوبی کیا جاسکتا ہے۔‘‘ (ص ۱۵۴تا۱۵۵)
اس اقتباس میں پورے تبصرے کا اجمالی جائزہ پیش کردیا گیا ہے۔ پھر صوبۂ بہارکومحوربناکرمذکورہ اقتباس کے ایک ایک پہلو مع مثال پیش کیے گئے ہیں جو ہماری آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہیں۔ جن کتابوں کو انھوں نے اپنے مطالعے میں شامل رکھاان میں ’’اردوکی پہلی کتاب‘‘’’اردوکی دوسری کتاب‘‘’’اردوکی نئی کتاب(حصہ ۹)‘‘اور’’درخشاں(حصہ اول)(حصہ دوم)‘‘جیسی نصابی کتابیں ہیں جو بہاراسٹیٹ بک پبلشنگ کارپوریشن لمیٹیڈ سے شائع ہوئی ہیں۔ان اسکولی نصاب کی کتابو ں کے علاوہ انھوں نے کالج کے نصاب میں شامل دوکتابوں ’’انوارِ ادب‘‘اور ’’انتخابِ قصائدِ ذوق‘‘کو بھی اپنے تجزیے میں شامل رکھا ہے۔ ڈاکٹرظفر کمالی نے مذکورہ کتابوں کے جائزے میں الفاظ، تذکیروتانیث، لفظی تحریف، فرہنگ کی غلطی اور معنوی تبدیلی کے ساتھ شعری اصناف کے نام کے تغیر کی عجیب و غریب اور انوکھی مثالیں پیش کی ہیں۔
’’اردوکی پہلی کتاب‘‘کے صفحہ اکہتر پر ’’پیاسا کوا‘‘کے عنوان سے لکھی کہانی کے محض چار جملوں :
’’اس نے کنواں کے پاس ایک گھڑا دیکھا۔گھڑا میں تھوڑا پانی تھا۔پانی تک کوّا کی چونچ نہیں پہونچی۔اس نے گھڑا میں کنکڑ ڈالا‘‘۔
کا تجزیہ ملاحظہ کیجیے:
’’ان میں پہلے جملے میں کنواں کی جگہ کنویں،دوسرے میں گھڑا کی جگہ گھڑے،تیسرے جملے میں کوّا کی جگہ کوّے اور پہونچی کے بدلے ’پہنچی‘ اور چوتھے جملے میں گھڑاکی جگہ گھڑے اور کنکڑ کی جگہ کنکر ہوناچاہیے۔چار مختصر جملوں میں چھے غلطیاں کس قدر افسوسناک ہیں‘‘۔(ص۱۵۶)
اس تبصرے سے پتہ چلتا ہے کہ مرتبین نے ان کتابوں کی ترتیب میں جا بجا اپنی جہالت اور اردو زبان سے محض مفادات تک محبت کا ثبوت دیا ہے۔ ورنہ ’’ژراف‘‘کو ’’ظراف‘‘’’اردومیں یاے معروف سے پہلے کسرے کا التزام‘‘’’مذکر کی جگہ مؤنث اور اس کے برعکس‘‘’’سَودا‘‘بالفتح کو ’’سُودا‘‘بالضم’’بھیگی مَسیں ‘‘کو ’’بھیگی حسیں‘‘’’افلاس اچھا‘‘کی جگہ’’افلاس اچھی‘‘’’احباب‘‘کی جگہ’’ افسوس‘‘’’ہے‘‘ کی جگہ’’ہیں‘‘’’کرّنا‘‘ کی جگہ ’’کرتا‘‘اور قطعات کو رباعی کہنے یا لکھنے کی جسارت نہ کرتے۔ ڈاکٹر ظفر کمالی نے ان تمام پہلوئوں کو علمی دیانتداری کے ساتھ قاری کے روبرو کیا ہے۔
اس تبصرے کے آخری تین صفحات پر موجودہ تعلیمی حوالوں سے مبصر نے بڑی دانشمندانہ باتیں کی ہیں۔ اس حوالے سے چند اقتباسات ملاحظہ کریں:
’’ہمارے یہاں محنت اور ایمانداری سے اجتماعی کام کی فضا سازگار نہیں۔تن آسانی اور فرائض سے غفلت شعاری ہمارے خمیر میں داخل ہوچکی ہے۔یہ صورتِ حال مجموعی اعتبار سے ہمارے سسٹم کا ایک حصہ بن گئی ہے ۔ سسٹم میں تبدیلی لانا آسان نہیں ہوتا اور نہ یہ کام انفرادی طور پر ممکن ہے۔ہمارے مدّرسین کو اگر اسی طرح کی درسی کتابیںملتی رہیں تو اچھے اساتذہ کو اپنی تحقیقی سوجھ بوجھ کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے ہوش و گوش کا دائرہ وسیع کرنا ہوگا۔انھیں الفاظ کے معنی ٹھیک کرنے ہوں گے،غلط متن کو درست کرنا ہوگا اور املا کی غلطیوں پر بطورِ خاص نظر رکھنی ہوگی۔یعنی ضرورت پڑنے پر خود کوزہ،خود کوزہ گر و خود گِلِ کوزہ کی مثل کو سچ ثابت کرنا ہوگا۔‘‘(ص ۱۶۳)
’’بڑے گھرانوں کے بچے اردو میں داخلہ نہیں لیتے۔اب زیادہ تر غریب بچے ہی اردو پڑھتے ہیں۔ان کمزور گھرانوں کے بچوں کی ذہنی استعداد کو بڑھانے میں مدرسین کوزیادہ محنت کرنی ہوگی۔بچوں کو کیسے وقت پر کتابیں دستیاب ہوں،وہ کیسے روانی سے اردو پڑھیں لکھیں،اسکولوں اور اسکول سے باہر کیسے تعلیمی فضا قائم کی جائے اور بچوں میں زبان و ادب کا ذوق رفتہ رفتہ کس طرح پروان چڑھے،ہمارے مدرسین کو اس جانب بھی توجہ کرنی ہوگی۔‘‘ (ص ۱۶۴)
’’مدرس کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ طالبِ علم کو ابتدا ہی سے ٹکسٹ بک پڑھنے کی جانب راغب کرے۔آج صورتِ حال یہ ہے کہ چھٹی ساتویں جماعت سے ہی بچے ٹکسٹ بک کے بدلے گیس اور پاسپورٹ پر بھروسا کرتے ہیں۔اگر یہی عادت ان کی فطرت کا حصہ بن گئی تو تحقیق کے وقت وہ اصل مآخد سے رجوع کرنے کے بجاے ثانوی مآخد پر بھروسا کرنے لگیں تو یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہوگی۔آج کالجوں اور یونیورسٹیوں میں کتنے ایسے طلبہ ہیں جو امتحانات کی تیاری میں شعرا و ادبا کی اصل تصنیفات پڑھنے میں دل چسپی رکھتے ہیں۔کیا مرکزی یونیورسٹیوں میں بھی ایسے طالبِ علم موجودہیں جو سوداؔ یا ذوقؔ کا کوئی قصیدہ درست پڑھ کر اس کے ٹھیک ٹھیک معنی سمجھا سکیں۔پھر ہندستان بھر کے چھوٹے چھوٹے شہروں اور قصبات کے کالجوں کے طلبہ کا کیا حال ہوگا،یہ کہنے کی کوئی بات نہیں۔‘‘ (ص۱۶۴تا۱۶۵)
’’کالجوں اور یونیورسٹیوں کے اساتذہ اگر ضمیر کی آواز پر توجہ دیں،اعزاز و اکرام کی بھاگ دوڑ اور مختلف منفعت بخش کمیٹیوں میں شمولیت کا چکر چھوڑ کر اپنے پیشے کے تئیں ایماندا رہوجائیں تو یہ ہاری ہوئی بازی بھی جیتی جاسکتی ہے۔زمانہ زندہ قوموں سے ہر لمحۂ گریزاںکا جواب طلب کرتا ہے۔آخر ہم درس و تدریس اور تحقیق و تنقید کے سلگتے ہوئے سوالوں کو دربدر کی ٹھوکریں کھاتے ہوئے تماشائی بن کر کب تک دیکھتے رہیں گے؟اگر سید محمد ہاشم یہ سمجھتے ہیں کہ ’’فرہنگِ مصطلحاتِ ٹھگی‘‘رشید حسن خاں نے لکھی ہے تو طلبہ کو کون بتائے گا کہ یہ کتاب خاں صاحب نے لکھی نہیں بلکہ ترتیب دی ہے۔کتاب کے مصنف تو علی اکبر الہ آبادی ہیں۔اگر نامی انصاری اپنی کتاب ’’آزادی کے بعد اردو نثر میں طنز و مزاح‘‘میں یہ لکھتے ہیں کہ ’’نگارستانِ فارس‘‘ محمد حسین آزاد کا سفرنامہ ہے تو یہ کس کی ذمے داری ہے کہ وہ اپنے ریسرچ اسکالر کو آگاہ کرے کہ یہ سفرنامہ نہیں بلکہ فارسی شعرا کا تذکرہ ہے۔اگر مالک رام ’’تذکرۂ ماہ و سال ‘‘ میں یہ لکھیں کہ پرویز شاہدی۳۱؍ستمبر کو پیدا ہوئے تھے تو اس کی نشاندہی کون کرے گا کہ ستمبر کے مہینے میں صرف تیس دن ہوتے ہیں لہٰذا ۳۱؍ستمبر کو کسی کے پیدا ہونے کا سوال ہی نہیں ہوتا۔‘‘ (ص۱۶۶)
مذکورہ اقتباسات میں جس قسم کے نتائج اخذ کیے گئے ہیں ا ن سے ڈاکٹرظفرکمالی کی تعلیمی ہمدردی اور سچی تڑپ سامنے آتی ہے۔ انھوں نے ان میں گہری بصیرت کے ساتھ اپنے مشاہدات قلم بند کیے ہیں جو حقیقت پر مبنی ہیں۔
اس شق کے بقیہ مضامین ’’ڈراما‘‘ کے موضوعات سے تعلق رکھتے ہیں۔ ’’ضحاک کا ماخذ‘‘ میں ڈاکٹرمحمد حسن کے ڈراما ’’ضحاک‘‘اور اختر شیرانی کے ترجمہ شدہ ڈراما’’ضحاک‘‘ کا تقابلی جائزہ پیش کرتے ہوئے دونوں کے ماخذ کی جستجو کی گئی ہے۔ ڈاکٹر ظفر کمالی نے اپنے تمہیدی پیراگراف میں جن باتوں کی طرف اشار یے کیے ہیں ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ بعض لوگوں نے ڈاکٹر محمد حسن پر اختر شیرانی کے ترجمہ شدہ ڈراما’’ضحاک‘‘ سے سرقے کا الزام عائد کیا تھا، جس کا جواب خود ڈاکٹر محمد حسن نے اپنے دیباچے اور گیان چند جین نے اپنے پیش لفظ میں دینے کی کوشش کی تھی مگر ان دونوں حضرات کی پیش کردہ صفائی مبصر کی نظر میں ناکافی تھی۔ اس لیے انھوں نے اس نزاعی مسئلے کے تصفیے کے لیے ازسرِنو تحقیق کا سہارا لیا اور پھر انیس صفحات پر مشتمل اپنی تحقیق پیش کی۔
اس تحقیق میں اختر شیرانی کے ’’ضحاک‘‘ کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے افرادِقصہ، مناظر اورنظاروں پر بحث کی ہے۔ پھر بطورِ نتائج بارہ نکات کے ذریعے دونوں ڈراموں کے ماخذ، خصوصیات، کردار کی انفرادیت او ر قصوں کی مختلف نوعیت کی عمدہ نشاندہی کی ہے۔ان بارہ نکات کو رقم کرنے کے لیے مبصر کو جس باریک بینی سے دونوں ڈراموں کے مطالعے کی ـضرورت پڑی ہوگی اس کا اندازہ اس تبصرے کو پڑھے بغیر نہیں لگایا جاسکتا۔ ان بارہ نکات کے بعد مبصر نے بحیثیتِ مجموعی جو جائزہ پیش کیا ہے اس سے ان کی تنقیدی نظر کی تیزی سامنے آتی ہے۔ یہ حصہ ملاحظہ کریں:
’’ڈاکٹر محمد حسن اور اختر شیرانی کے ترجمہ کردہ ڈرامے میں بس اس قدر مشابہت ہے کہ دونوں ڈراموں کا نام ’’ضحاک‘‘ ہے۔ دونوں ضحاک ظالم ہیں۔ لوگوں کو قتل کرانے میں دونوں کو کوئی عار نہیں اور آخر میں دونوں کی حکومت کا خاتمہ ہوجاتا ہے ورنہ دونوں ڈراموں میں پیش آنے والے واقعات و حادثات ایک دوسرے سے قطعی مختلف ہیں۔ ڈرامے کے کردار بھی ایک دوسرے سے کوئی خاص مماثلت نہیں رکھتے۔ دونوں کا مرکزی کردار بالکل جدا ہے۔ دونوں کے مکالمے ایک دوسرے سے مطابقت نہیں رکھتے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ محمد حسن کے ڈرامے کا پلاٹ جس قدر عمدہ ہے، واقعات کا بہاو جس قدر تیز ہے، کش مکش اور تصادم کی فضا جس طرح پورے ڈرامے کو اپنی گرفت میں لیے ہوئے ہے، مکالموں میں جیسی تندی اور تیکھاپن ہے، قدم قدم پر جس طرح ڈرامائی موڑ وجود میں آتے ہیں حتیٰ کہ ڈراما اختتام تک پہنچتے پہنچتے جس طرح قاری کے دل و دماغ پر چھاجاتا ہے، سامی بے کے یہاں ان سب چیزوں کا فقدان ہے۔ ڈرامے کا پلاٹ خاصا کمزور ہے۔ واقعات کچھوے کی رفتار سے آگے بڑھتے ہیں۔ فرہاد، مہرو، خوب چہر اور فریدوں کش مکش کا شکار ضرور ہیں لیکن اس کش مکش میں شدت نہیں۔ تصادم براے نام ہے۔ مکالمے عموماً روکھے پھیکے اور بے کیف ہیں۔ ڈراما ختم ہوتے ہوتے دماغ بالکل تھک جاتا ہے محمد حسن کے ضحاک کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس میں شروع سے آختر تک دل چسپی موجود ہے لیکن سامی بے کے یہاں دل چسپی کی یہ فضا برقرار نہیں رہ پاتی۔ ’’آہ‘‘ اور’’ ہاے‘‘ کا استعمال اس کثرت سے کیا گیا ہے کہ کرداروں سے ہمدردی ہونے کے بجاے بدگمانی پیدا ہونے لگتی ہے ، جی اوب جاتا ہے اور مکالموں میں تصنع کی جھلک صاف محسوس ہونے لگتی ہے۔‘‘ (ص ۱۸۰تا۱۸۱)
مذکورہ اقتباس میں ایک ایک جز کو جس طرح الٹ پلٹ کر دکھایا گیا ہے وہ مطالعے کی یکسوئی اور عمدہ تنقیدی نظر کے بغیریا پھر ڈرامے کے فن سے پوری واقفیت کے بغیر ممکن نہیں۔دونوں ڈراموں میں جن جن باتوں میں مماثلت اور جن جن باتوں میں مغایرت پائی جاتی ہے ان کو واضح طورپر قاری کے ذہن کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔
اس تبصرے کے آخر میں تحقیقی اور تنقیدی نظر سے بھی خوب کام لیا گیا ہے۔ یہ اختتامیہ ڈرامے کے نزاعی بحث کو سمیٹتے ہوئے تبصرے کا اہم حصہ بن گیا ہے۔
ناٹک کے حوالے سے دوسرا وقیع مـضمون ’’بزمِ فرّ خ ناٹک معروف بہ فرّخ سبھا حافظ‘‘ ہے۔ اس ناٹک کے حوالے سے تحقیق تشنہ تھی۔ بعض لوگوں نے اس ڈرامے کو حافظ محمد عبداللہ کے ڈراموں میںشامل تو رکھا مگرکوئی تفصیلی بحث نہیں کی۔ بعضوں کو اس کے سنہ اشاعت میں بھی دھوکا ہوا اور بعض لوگوں نے اس کی تفصیلی معلومات سے لاعلمی کا اظہار بھی کیا۔ ان حالات میں اس نایاب اور اہم ڈرامے کی ازسرِ نو تحقیق ضروری تھی جس کی تکمیل ڈاکٹر ظفرکمالی نے اپنے اس تبصرے سے کی ۔
ڈاکٹر ظفر کمالی کی تحقیقی جانکاہی نے نہ صرف خدا بخش لائبریری پٹنہ (نمبرAcc24916)میں محفوظ اس کے ایک نسخے کودریافت کیا بلکہ اس کا تفصیلی تعارف بھی پیش کیاہے۔انھوں نے حافظ عبداللہ کے دیباچے سے ایک اقتباس نقل کرکے بہت سے تحقیقی پہلو منور کیے ہیں مثلا یہ ڈراما کس مقام پر لکھاگیا، کب اسٹیج کیا گیا، کب ترمیم کی گئی، پہلی بار کتنی جلدیں طبع ہوئیں اور مختلف محققین نے بغیر دیکھے محض قیاس آرائی کے ذریعے اس کے سنہ تصنیف کے متعلق جو متضادباتیں کہی ہیں ان کی نشاندہی جیسے زاویے اس تبصرے کا حصہ ہیں۔اس ڈرامے کے قصے کی تفصیلات میں اس کے ایک ایک حصے کو اجاگر کر نے کی سعی کی گئی ہے۔مبصر کے مطابق اس ڈرامے میں چار ایکٹ اور سولہ سین ہیں جن کی جزئیات کوساڑھے چار صفحات میں سمیٹ کر قصے کی تفہیم کی گئی ہے
اس ڈرامے پر اصل بحث اور مبصر کی دقت نظری آخری گیارہ صفحات میں سامنے آتی ہے۔ ان صفحات میں جن پہلوئوںپر بحث کی گئی ہے وہ ڈرامے کے فنی لوازمات سے منسلک ہیں۔ اس ڈرامے پر کن ڈراموں کے گہرے اثرات ہیں،کہاں شعوری تبدیلیاں کی گئی ہیں، کہاں کسی ڈرامے کے کسی حصے کا چربہ اتارلیا گیا ہے ان کی جھلک دکھائی گئی ہے۔ ایسے ڈراموں میں بقول مبصر’’آرام کے ڈرامے ’’فرخ سبھا عرف قمرالزماں و بزم آرا‘‘اور ’’اندرسبھا امانت‘‘کے ساتھ ’’سحرالبیان‘‘کے قصوں کے گہرے اثرات موجود ہیں جو جزئیات کے پہلو بہ پہلو سامنے لائے گئے ہیں۔حافظ نے اپنے ڈرامے میں جن اشعار سے مد د لی ہے ان کا امانت کے اشعار سے تقابلی جائزہ بھی یہاں پیش کیا گیاہے۔ مبصر نے حافظ کے ڈرامے کے پلاٹ کو دلچسپی کے عناصر سے مملو ضرورقرار دیاہے مگر اس ڈرامے کی جو کچھ اہمیت ان کی نظر میں ہے وہ بس یہ ہے کہ یہ ابتدائی دور کے ڈراموں میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے حافظ کی بعض ایسی باتوں کی گرفت کی ہے جو ڈرامے کو مضحکہ خیز بناتی ہیں۔مثلا جب حبشی سیم تن پری سے اپنی شادی کی خبر سنتا ہے تو جو مذموم حرکتیںبادشاہ کے سامنے کرتا ہے اس سے حافظ کی فنی کمزوریاں اجاگرہوتی ہیں ۔ مبصر کے بقول:
’’اردو ڈراموں کے ابتدائی دَور کو پیش نظر رکھتے ہوئے فنی اعتبار سے ’’فرخ سبھا‘‘ کو قابلِ قدر قرار دیا جاسکتا ہے۔ڈرامے کا پلاٹ سپاٹ نہیں بلکہ اس میں پیچیدگی کے ساتھ ساتھ دل چسپی کے عناصر موجود ہیں۔تصادم کی فضا بھی برقرار ہے ،لیکن بعض مقامات پر عنبر حبشی اور سیم تن پری کی گفتگو قابلِ اعتراض ہے۔تنہائی میں ان دونوں کی آپسی بات چیت کو حالات کے پیشِ نظر گوارا کہہ سکتے ہیں۔لیکن ڈرامے کے اختتام میں یہ دونوں جو رویہ اختیار کرتے ہیں وہ غیر فطری اور حد درجہ افسوسناک ہے۔‘‘ (ص ۲۰۵تا۲۰۶)
اس شق کا آخری مضمون ’’ڈراما اور اسٹیج‘‘ہے۔اس تبصرے میں نظریاتی بحث سے بھر پور کام لیا گیاہے۔ ڈراما اور اسٹیج کے درمیان رشتوں کے حوالے سے ایک دو نقاد کو چھوڑ کر اکثریت ایسے نقادوں کی رہی ہے جنھوں نے دونوں کو لازم وملزوم کا درجہ دیا ہے۔ پورے تبصرے میں اس پہلو کے ساتھ ڈراماپر تنقید، ڈراما اور اسٹیج کے معیاراو ر اس کے تجارتی پہلو بھی جائزے میں شامل ہیں اور ان پہلوئوں کی مختلف جہات کو مطالعے کا محور بنایا گیاہے۔یہاں ڈاکٹر ظفر کمالی نے مختلف نقادوں کے نظریات اوراقتباسات نوٹ کرنے کے بعد اپنی بات اس اند از سے پیش کی ہے کہ اعتراـضات کے جواب کے ساتھ ساتھ ان کا انفرادی نظریہ بھی واضح ہوتا چلا گیاہے۔
ڈراما اور اسٹیج کو علت و معلول یا چولی دامن کا ساتھ کہنے والے نقادوں کی فہرست میں ڈاکٹر محمد حسن، پروفیسر محمودالٰہی، پروفیسر قمر رئیس، شمس الرحمن فاروقی، پروفیسر فصیح احمد صدیقی، عشرت رحمانی، ریوتی سرن شرما، اے۔ بی اشرف، ڈاکٹراخلاق اثر، ڈاکٹر مسیح الزماں، نیمی چندرجین، سید بادشاہ حسین، پروفیسر اختر اورینوی، اطہر پرویز، پروفیسر محمد اسلم قریشی، ڈاکٹر حسن اختر، ڈاکٹر اسلم پرویز، سید صفی مرتضیٰ، ڈاکٹر سید ذاکر حسین نقوی، ڈاکٹر علیم اللہ حالی، ہند ی ڈراما نگار چتربھج اور گریش رستوگی کل ۲۲؍ ادبی شخصیات کے نام شامل ہیں جو اس بات کے قائل ہیں کہ ڈراما اسٹیج کی چیز ہے۔ ان نقادوں میں شاید ہی کوئی ہوگا جنھیں ادبی دنیا نہ جانتی ہو۔ غورطلب امر یہ ہے کہ جب اتنے نظریات کا اجتماع ایک قول پر ہے تو اس مو ضوع پر قلم اٹھاتے ہوئے کسی کے لیے بھی اختلاف کی گنجایش کا فی کم رہ جاتی ہے۔یہاں اختلاف کے لیے مستحکم دلائل و براہین کے ساتھ پہلوئوں کو تحقیقی نقطۂ نظر سے جانچنے کی لیاقت بھی ضروری ہے۔ مذکورہ نقادوں سے اختلاف کرتے ہوئے ڈاکٹر ظفر کمالی نے کئی ایسے دلائل پیش کیے ہیں جن سے کسی کو اتفاق ہو یا نہ ہو مگر ان کاجواب شاید ہی کسی سے بن پڑے ۔
اس تبصرے میں سات نکات ایسے پیش کیے گئے ہیں جن میں مذکورہ نقادوں کے خیالات سمٹ آئے ہیں۔ پھر ہر ایک کا معروضی انداز میں جواب دیا گیا ہے۔ ڈراما اور اسٹیج کے حوالے سے کھال اوربدن، گوشت اور ناخن جیسے نظریات رکھنے والے تمام نقاد مبصر کی نظر میں ’’ڈراما‘‘کے لفظی معنی ’’کرکے دکھانے‘‘ پر ہی منحصرہیں۔ مگر اس کے معنوی تناظرپرارتکاز سے کئی سوالات کھڑے ہوتے ہیں جن کی طرف ظفرکمالی نے اشارے کیے ہیں۔ مثلا جب ڈراما کرکے دکھائے بغیر اپنی حیثیت نہیں رکھتاتوغزل کے لغوی معنی محبوب سے بات کرنے کے ہیں حالانکہ غزل میں اپنے عہد کے مسائل کی عکا سی بھی ہوتی ہے۔ اگر ڈراما کاغذکے صفحات پر بے روح اور جامد نقوش ہے جس سے کوئی حظ نہیں اٹھایا جاسکتا تو پھر ناول، افسانہ ، انشائیہ ، غزل، نظم، قصیدہ، مرثیہ وغیرہ بھی تو کاغذ کے صفحات پر الفاظ ہی کے ذریعے سامنے آتے ہیں۔ تو جب قاری انھیں الفاظ کے ذریعے ان اصناف سے حظ اٹھاسکتاہے تو ڈراما سے کیوں نہیں؟
’’اگر ان اصناف میں الفاظ اپنی قدروقیمت رکھتے ہیں اور اپنے قارئین پر اثر انداز ہوتے ہیں تو پھر کوئی سبب نہیں کہ ڈرامے کو پڑھ کر ہم لطف اندوز اور متاثر نہ ہوسکیںاس لیے کتب و رسائل کو ڈرامے کے لیے ’’دلدل‘ کہنا سراسر ناانصافی ہے۔ اگر یہ بات صحیح نہیں تو پھر ’’زورِ قلم‘‘ ، ’’جادو نگار‘‘، ’’جادوبیان‘‘ اور ’’سحر آفریں‘‘ جیسی اصطلاحات سے کنارہ کشی اختیار کرنی ہوگی۔‘‘ (ص۲۱۲تا۲۱۳)
مبصر کی نظر میں یہ تمام پیچیدگیاں اس وجہ سے ہیں کہ ڈراما کو اسٹیج کا فن متصور کیا گیا ہے۔ حالانکہ یہ دونوں بالکل علا حدہ چیز ہیں۔ اسٹیج ڈرامے کا دستِ نگر اور محتاج ہوسکتا ہے اور ہے لیکن ڈراما اسٹیج کا نہیں۔ ڈرامے کے ناقدوں نے ڈرامے پر تنقید لکھتے ہوئے اس کے اسٹیجی پہلو کو نظرمیں رکھ کر اپنی بات پیش کی ہے تاکہ اداکاری اور اسٹیج کے ذریعے ڈراما مجموعی تاثر کے ساتھ اسے’’چیزے دیگر ‘‘بناسکے۔ اس حوالے سے بھی مبصر نے چندمثالیں پیش کی ہیں۔ دو مثالیں ملاحظہ کریں:
’’ایام محرم میں مرثیہ خواں حضرات مجلسوں میں مختلف شعرا کے مراثی پڑھ کر ایک سماں باندھ دیتے ہیں اور شرکاے مجلس آہ و بکا پر مجبور ہوجاتے ہیں اسی مرثیے کو پڑھ کر ممکن ہے آپ کے دل میں وہ جذبات پیدا نہ ہوں جو مجلس میں سن کر ہوئے تھے لیکن اس کے باوجود مرثیے کو ادب کے بجاے ’’مجلس کا فن‘‘ نہیں قرار دیا جاسکتا اور نہ کوئی یہ دعوا کرسکتا ہے کہ ان مرثیوں کی قدر و قیمت کا تعین مجلس کے بعد ہی لگایا جاسکتا ہے پڑھ کر نہیں‘‘۔
(ص۲۱۴تا۲۱۵ )
اگر اس مفروضے کو تسلیم کرلیا جائے کہ ڈرامے کی خوبی اور خامی کو پرکھنے کی واحد کسوٹی اسٹیج ہے تو یہ نازک مسئلہ اٹھ کھڑا ہوتا ہے کہ ایسی حالت میں کوئی ڈراما نصاب میں کیسے شامل کیا جائے۔ اس لیے کہ ہر چھوٹے بڑے کالج میں ڈرامے کو سمجھنے اور سمجھانے کے لیے اسٹیج کہاں سے مہیا ہوسکتا ہے؟ اس کے لوازمات (اسٹیج پراپرٹی) کا انتظام کیونکر ہوگا؟ ہدایت کار ، اداکار وغیرہ کہاں سے آئیں گے؟ ان باتوں کے پیشِ نظر کیا ہمارے نقاد یہ کہہ سکتے ہیں کہ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں آج تک جو ڈرامے بغیر اسٹیج کی مدد کے بطور صنفِ ادب پڑھائے جاتے رہے ہیں ان سے تضیعِ اوقات کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا؟‘‘(ص۲۱۵)
اسی طرح انھوں نے ریڈیو ڈرامے کی بھی مثال دی ہے جہاں اسٹیج کا کوئی تصورنہیںہوتا۔ مبصر کے یہ وہ دلائل ہیں جن سے شاید ہی کسی کو انکار کی گنجایش ہوگی اگر ہم نے ڈراما اوراسٹیج کو ایک دوسرے کے لیے لازم وملزوم قراردے دیا تو ادب کی کسی بھی صنف کے معنوی تناظرسے آگے بڑھنا گویا خود قائم کردہ اصولوں سے منحرف ہونا ہوگا اورہم ایسا نہیں کرسکتے ورنہ ہمارے ادب کی بنیاد ہی ہل کر رہ جائے گی۔
ڈرامے کے تجارتی پہلو پر بھی مبصر نے بڑی تفصیلی بحث کی ہے اور انھوں نے یہ تسلیم کیا ہے کہ اسٹیج پر کسی ڈرامے کی کامیابی یا ناکامی کو محض ڈراما نگار سے جوڑنا قرینِ انصاف نہیں۔ ان کے الفاظ میں :
’’اسٹیج پر ڈرامے کی کامیابی یا ناکامی کا ذمے دار فردِ واحد کو نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ اچھی اسکرپٹ کے باوجود اگر ہدایت کار ذہین نہیں ہے تو وہ ڈرامے کا بیڑا غرق کرسکتا ہے۔ ادا کاروں کی غیر معیاری ادا کاری، تلفظ کی غلطیاں، اسٹیج کی غیرمناسب آرایش وغیرہ بھی ڈرامے کو کمزور یا ناکام بنانے میں کم اہم رول ادا نہیں کرتیں۔ ‘‘ (ص۲۱۶)
اس حوالے سے انھوں نے جو دلیلیں دی ہیں ان سے مذکورہ اقتباس کی پوری تائیدہوجاتی ہے۔ ’’ایک چادرمیلی سی‘‘عصمت چغتائی کے حوالے سے خواجہ احمد عباس کی فلم’’دھرتی کے لال‘‘مولوی عبدالحق کے ’’ناٹک ساگر‘‘پرتبصرے اور ’’انارکلی‘‘کے منظروپس منظر کو انھوں نے اپنے نظریات کی توثیق کے لیے جس طرح پیش کیا ہے وہ ان کے تبصراتی لمحوں کی محنت کے ساتھ ایک موضوع کے حوالے سے ہر پہلو کومدِ نظر رکھنے کی خُو کو سامنے لاتا ہے۔ امانت کی اندرسبھا جو آج بھی ڈرامے میں اپنی اہمیت کی وجہ سے مقبو ل ہے۔ اس کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے لکھا ہے کہ :
’’ کسی ڈرامے کی مقبولیت اس کی ادبی اہمیت کی دلیل نہیں ہے۔ امانت کی اندر سبھا اور مداریؔ لال کی اندر سبھا دونوں اپنے زمانے میں کامیابی سے اسٹیج کی گئیں۔ عوام میں مداریؔلال کی اندر سبھا زیادہ مقبول تھی لیکن آج ہم امانتؔ کی اندر سبھا کو ہی بہتر سمجھتے ہیں وجہ کیا ہے؟ امانتؔ کی اسکرپٹ کا ادبی اور فنی حسن۔‘‘ (ص۲۱۸)
انھوں نے اسٹیج کے معیار کو بھی اس تبصرے میں جگہ دی ہے اور موجودہ منظرنامے میں ٹی ۔وی سیریل اور ویڈیو نے ڈرامے کے تجارتی پہلو پر جس طرح اپنے اثرات مرتب کیے ہیں انھیں بھی سامنے لانے کی کوشش کی ہے۔اکتا لیس حوالوں سے اس مضمون کی تشکیل میں مدد لی گئی ہے جو چودہ صفحات کے ایک تبصرے پر مبصر کے مطالعاتی پہلو کا خوبصورت احسا س دلا تے ہیں۔
برسبیلِ گفتگویہ بات کہتا چلوں۔ حال ہی میں صفدرامام قادری کی کتاب ’’مشاہدات‘‘ میں ’’تحقیقی تبصرے‘‘ پر ان کا تبصرہ نظر سے گزرا جو صفدر امام قادری کے اپنے انفرادی اسلوب کا عکاس ہے اور اس کتاب کے محتویات پر بڑی معنی خیز گفتگو اس میں موجودہے لیکن ’’ڈراما اوراسٹیج‘‘ والے مضمون میں ایک جگہ انھوں نے جو نتیجہ اخذ کیاہے اس سے کسی طرح بھی اتفاق نہیں کیا جاسکتا کیوں کہ اس پورے مضمون میں ڈاکٹر ظفر کمالی نے ڈراما اور اسٹیج کے لازم وملزوم جیسے رشتے کے خلاف احتجاج کیا ہے پھر بھی صفدر صاحب لکھتے ہیںکہ’’…حتمی طورپر ظفرکمالی نے ڈرامے اور اسٹیج کو لاز م وملزوم ہی ماناہے‘‘(مشاہدات ص ۱۴۲)
ڈراموں کے حوالے سے مذکورہ تینوں مضامین کے تجزیے سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ ظفر کمالی کی ڈراما تحقیق سے خاصی دلچسپی رہی ہے۔ انھوں نے ان مضامین میں جس قدرجزئیات سمیٹے ہیں اور پہلو بدل بدل کر جو زاویے دکھائے ہیں ان میں تحقیقی حوالوں سے بہت کچھ مواد جمع ہوگیا ہے جن سے خاطر خواہ استفادہ کیا جاسکتاہے ۔ بہت سے لوگوں نے اس موضوع پر کام کیا اورمضامین بھی تحریر کیے ہیں مگرحقِ موضوع اداکرنے میں کسی خاص ہنرمندی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ اس حوالے سے ظفر کمالی کے یہ تینوں مضامین نہ صرف اہم اور منفرد ہیں بلکہ مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔
’’تحقیقی تبصرے‘‘ میں جن مو ضوعات کومبصر نے اپنا محور بنایاہے اس کی اہمیت وقتی نہیں بلکہ جیسے جیسے وقت گزرتاجائے گا ان کی قدروقیمت بڑھتی جائے گی۔ قاضی عبدالودود، رشید حسن خاں ، حنیف نقوی، عطاکاکوی اور گیان چند جین یہ وہ لوگ ہیں جنھیں ان کے تحقیقی حوالوں سے دنیا جانتی ہے۔ ان حضرات نے تحقیق کے جو اصول اور نظریات پیش کیے ہیں مو جود ہ نسل کے ساتھ آیندہ نسلیں بھی ان سے فیض یاب ہوں گی۔ اس پہلو سے غور کریں تو ان موضوعات کی عظمت کا احساس ہوتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان تبصروں سے مبصر کی بڑے اور اہم موضوعات پرقلم اٹھانے کی شعوری کوشش دکھائی دیتی ہے۔
’’تحقیقی تبصرے‘‘ کے اسلوب کو ہم نظر انداز نہیں کرسکتے۔ اس کے اسلوب میں اردو نثر کی معیاری صورت نظرآتی ہے۔ عصرِحاـضر میں اردونثر کے منظرنامے کو خوش گوار نہیں کہا جاسکتا۔ زبانوں کی شکست وریخت اس قدر عام ہے کہ ہم اچھی نثرکی شناخت بھی بھولتے جارہے ہیں۔ اچھی اور گہری نثر جہاںادب کی مخصوص روایت سے ہم آہنگ ہوتی ہے وہیں معنوی سطح پر اس کے جملے سادہ اور پرکارہوتے ہیں اور اس کی نشست و برخاست سے جو مجموعی فضا ابھرتی ہے اس میں دلکشی اور شگفتگی کا سامان موجود ہوتاہے۔ ایسی نثر میں جملوں کی طوالت یا اس کے اختصار سے زیادہ نظرکم سے کم جملوں اورلفظوں میں زیادہ سے زیادہ معانی سمیٹے جانے پر ہوتی ہے۔ ’’تحقیقی تبصرے‘‘میں جا بجا اس کے نمونے ملتے ہیں۔ بطورِ مثال یہ چند اقتباسات دیکھیں:
’’’’غلطیہاے مضامین‘‘ پر قلم اٹھاتے وقت انھوں نے(گیان چندجین) تحقیقی ذمّے داریوں کا لحاظ نہیں رکھا اور حد درجہ بے نیازی سے کام لیا۔انھوں نے ایک جگہ لکھا ہے کہ ’’آپ کو بالکل درست جواب ملے تو لکھیے ورنہ موجودہ مواد کے پیشِ نظر اپنی معذوری کا اعتراف کرلیجیے۔یہ ہرگز نہ ہو کہ آپ دوسرے کے بیان کو غلط ٹھہراکر کوئی تصحیح کردیں اور دوسرا اس تصحیح کا کھوکھلا پن بآسانی ثابت کرسکے‘‘ (تحقیق کا فن ص ۵۸۸)۔مجھے ان کے قول سے پورا اتفاق ہے۔‘‘(ص۲۹)
’’تحقیق دراصل پتھر نچوڑکر پانی نکالنے کا نام ہے‘‘(۳۰)
’’تصوّف کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ سکون کے ساتھ گھاٹیوں کو طے کرنے اور چپکے چپکے قلعے پر قبضہ کرنے کا نام ہے،اردو تحقیق میں یہی کارنامہ نقوی صاحب نے انجام دیا۔‘‘ (ص۵۵)
’’میرے نزدیک جین صاحب نے رائی کا جو پربت بنایا ہے وہ محض ان کی نیت کا ثمرِ بے موسم ہے‘‘۔ (۸۰)
جین صاحب نے جتنا اور جو کچھ لکھا ہے اس میں کچھ چیزیں بے شک اہم ہیں لیکن انانیت کی بڑھی ہوئی لے اور ضرورت سے زیادہ خود اعتمادی کوئی اچھی بات نہیں۔ ابھی ان کی تحریروں کو ادب کی برساتیں جھیلنا اور وقت کی کڑی دھوپ سے گزرنا باقی ہے۔‘‘ (۱۰۹)
’’زبان و ادب کے تعلق سے آج کابڑا المیہ یہ ہے کہ جڑوں پر ہماری توجہ کم ہے اور پتیوں پر چھڑکاو زیادہ ہورہا ہے۔ نماز کے تعلق سے کہا جاتا ہے کہ جب مسجدیں کچّی تھیں تو نمازی پختہ تھے اور جب مسجدیں پکّی بننے لگیں تو نمازی کچے ہونے لگے۔اردو کی صورتِ حال بھی اس سے مختلف نہیں‘‘۔ (۱۵۳)
پہلے اقتباس میں یہ کہہ کرکہ ’’مجھے ان کے قول سے پورا اتفاق ہے‘‘پوری فضا کو معنوی تہہ داری کے ساتھ طنزیہ شدت سے معمورکردیا ہے۔ان کی تحریرں کو برساتیں جھیلنا باقی ہیں، کچے نمازی میں ارد و کی صورتِ حال کا دیکھنااورنیت کا ثمرِ بے موسم…جیسی عبارتیں اسلوب کو شگفتگی کے ساتھ تہہ دار بناتی ہیں۔
’’تحقیقی تبصرے‘‘ عام تخلیقی ادب کے بجاے محض’’تحقیق‘‘ پر مبنی ہے۔ تحقیقی زبان کا معاملہ یہ ہے کہ مختلف محققوں کے ہاں اس کے جو نمونے ملتے ہیں ان میں کافی اختلاف راے پایاجاتا ہے۔ قاضی عبدالودود، رشید حسن خاںاور گیان چند جین کی تحقیقی زبان ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہے۔ بعض دل کشی کے قائل ہیں، بعض دواوردوچارکی طرح محض اپنی بات پیش کردینے پر اکتفاکرتے ہیں اور بعض کے ہاں سچائی کے اظہار میںبعض موقعوں پر جذباتی شدت دکھائی دیتی ہے۔ ڈاکٹر ظفرکمالی نے اس سنگم پر اپنی بیداری کا ثبوت دیتے ہوئے تحقیقی تبصرے کے لیے جس زبان اور اسلوب کا انتخاب کیا ہے اس میں مذکورہ حضرات کی زبان کے بغورمطالعے سے ایک انفرادی نثرلکھنے کا احساس ہوتاہے۔ زیادہ تر مضامین میں قاضی عبدالودود کا معروضی اندازملتاہے مگر اسلوب کا جھکاو رشید حسن خاں کی طرف ہے۔ رشید حسن خاں کے ہاں بھی بسااوقات جملوں میں طنز یہ شدت کا غلبہ ہوجاتاہے مگر ڈاکٹرظفر کمالی طنز نگار ہوتے ہوئے بھی اس شدت سے اپنا دامن بچالیتے ہیں۔
بعض تبصروں میں جن موضوعات کو انھوں نے اپنا محور بنایاہے وہاں سچی بات کا سراغ ملتے ہی انسان کا جذباتی ہونا ایک فطری امرتھا مگر یہ ضروری نہیں کہ سچی بات کہتے ہوئے ایسا اسلوب اختیارکیا جائے جس سے کسی کی دل آزاری ہو، بلکہ یہاں تو حد درجہ ملائمت اور سنجیدگی سے کام لیا جانا چاہیے کہ سچی بات خودہی کڑوی ہوتی ہے۔ ڈاکٹر ظفر کمالی نے اپنے اسلوب میں مزید کڑواہٹ پید اکرنے کے بجائے ’’الحق مر‘‘سے بھرپور فائدہ اٹھایا ہے جو ان کا اپنا انفرادی اسلوب بن گیا ہے۔ آج کے دور میں تحقیق کے لیے جس اسلوب کا سہارا لیا جارہا ہے اس میں ’’تحقیقی تبصرے‘‘ کے اسلوب اور معروضی انداز کو ہم بطورِ نمونہ پیش کر سکتے ہیں۔


Previous articleمجتبی حسین ! ایک تاثر
Next articleشاعر کا خط مدیرِ محترم کے نام

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here