گلہائے چمپا: ایک تنقیدی مطالعہ

0
128

—واحد نظیر

تذکروں کی افادیت اس میں مضمر ہے کہ وہ آئندہ نسلوں کے لیے تحقیقی منابع کی حیثیت رکھتے ہیں۔ تنقید کے ابتدائی نقوش کا سر چشمہ بھی یہی تذکرے ہیں۔ تاریخ سے اس کا رشتہ اس طرح قائم ہوتا ہے کہ تاریخ کوائف زمانی کی شارح ہوتی ہے اور تذکرے شخصی کوائف کو دائرۂ کار بناتے ہیں۔ اس طرح اس کے ڈانڈے سوانح نگاری سے بھی از خود مل جاتے ہیں۔ گویا ایک معیاری تذکرہ مکمل تاریخ، تنقید اور سوانح تو نہیں البتہ ان کے واضح خطوط اس میں ضرور روشن ہوتے ہیں۔
تذکرہ نگاری کوئی ایسی صنف نہیں جو قصداً معرضِ وجود میں آئی ہو۔ یہ بیاض کی ترقی یافتہ شکل ہے۔ اہل نظر جانتے ہیں کہ بیاض نویسی کے رواج کے پس پردہ اصلاً شخصی شعری ذوق کی تسکین کارفرما رہی ہے۔ جہاں اشعار کے انتخاب میں بیاض نویسوں کے شعری مذاق کے علاوہ کسی اور ہنر کو دخل نہیں تھا۔ لیکن رفتہ رفتہ شعر کے ساتھ شعرا کے تراجم اور منتخب اشعار سے متعلق آرا بھی شامل بیاض ہونے لگیں۔
اٹھارہویں صدی تک مذکورہ تمام تر رویے کسی اہتمام و انصرام کے بغیر ہی تھے۔ لیکن انیسویں صدی میں قصداً ایسی کوششیں کی جانے لگیں، جن سے تذکروں میں کار آمد حوالہ جات اور موضوع و مواد کے لحاظ سے خاصا تنوع پیدا ہو گیا۔ مثلاً شعری فنون اور موضوع و مسائل پر بھی بحثیں چھیڑی جانے لگیں۔ اس قبیل کے تذکروں میں سراپا سخن (محسن)، خوش معرکۂ زیبا (سعادت خان ناصر)، قطعہ منتخب (نساخ)، مدائح الشعرا (مہجور)، انتخاب دواوین (صہبائی) اور دستور الفصاحت (یکتا) وغیرہ کے نام پیش کیے جا سکتے ہیں۔
یہاں یہ غور طلب ہے کہ تاریخ، تنقید اور سوانح جیسی صنفیں جو انیسویں صدی تک ننھی کونپلوں کی طرح تذکروں کی آغوش میں پل رہی تھیں، آج تناور درخت بن کر شعر و ادب کو گھنی چھائوں مہیا کر رہی ہیں۔ گویا تذکرے کا ہر نکتہ پھیل کر بحر بے کنار کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ ایسے حالات میں یہ سوال خود بخود سر ابھارنے لگتا ہے کہ آج کے دور میں تذکرہ نگاری کی ضرورت ہے بھی یا نہیں؟ دراصل زوال پذیر اصناف کی فہرست پر نگاہ ڈالیں تو جہاں تک میں سمجھتا ہوں ایسی صنفیں زیادہ متاثر ہوئی ہیں، جن کے مختلف اجزا آج انفرادی صنف کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ مثال کے طور پر داستان،قصیدے اور تذکرے کو ہم پیش کر سکتے ہیں۔ یہاں یہ اعتراف لازم ہے کہ زوالِ اصناف کے دیگر اسباب بھی نظرانداز نہیں کیے جا سکتے۔
جہاں تک موجودہ دور میں تذکرہ نگاری کی ضرورت و اہمیت کا سوال ہے، پروفیسر کلیم الدین احمد نے ’اردو تنقید پر ایک نظر‘ میں تذکروں کو ہی بے سود قرار دیا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ اب ادبی دنیا اس قدر ترقی کر چکی ہے کہ ان تذکروں میں ہمارے سیکھنے کے لائق کچھ بھی نہیں۔ محمد احسن فاروقی نے اپنی تصنیف ’اردو میں تنقید‘ میں تذکروں کے پورے سرمایے کو ہی ردّی کاغذوں کا ڈھیر قرار دے دیا ہے۔ ایسی تنقید کی وجہیں صاف ہیں کہ جب ہر پھول کی الگ الگ کیاری موجود ہو تو گلستاں کی تلاش چہ معنی دارد؟
میں ان بزرگوں کے خیال سے نیم اتفاق رکھتا ہوں۔ چوں کہ کسی بھی تذکرے کی اہمیت اس وقت تک باقی رہتی ہے جب تک اس میں شامل ایک ایک شاعر پر علیحدہ جامع کتاب منظر عام پر نہ آ جائے۔ مثال کے طور پر ظفر مجیبی کا تذکرۂ شعرائے چمپارن بنام ’گلہائے چمپا‘ میں ترانوے شعرا کے تراجم مع نمونہ کلام شامل ہیں۔ ان میں دو شاعر عبداللہ حامیؔ اور شاہؔ عظیم آبادی پر باضابطہ تحقیقی مقالے لکھے جا چکے ہیں۔ گویا ان دو شعرا کے حوالے سے اس تذکرے کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہتی۔ لیکن دیگر اکیانوے شعرا کے تعلق سے یہ تذکرہ اہم ہی نہیں بلکہ نشانِ منزل کی حیثیت رکھتا ہے۔
اب غور کرنے کی چیز یہ ہے کہ یہ تذکرہ، تذکرہ نگاری کے تقاضوں کو کس حد تک پورے کرتا ہے۔ اس سلسلے میں دو نکات اہم ہیں۔ ایک یہ کہ تذکرے کی ترتیب میں مرتب کا طریقۂ کار کیا رہا ہے اور دوسرا یہ کہ خود مرتب کی ذہنی اور فکری سطح کیا ہے۔ چوں کہ واجبی ذہانت کے حامل اشخاص سے کسی معیاری کام کی توقع کار عبث کے سوا کچھ بھی نہیں۔ جہاں تک طریقۂ کار کا تعلق ہے اس کے تحت فراہمی مواد اور اس مواد سے تذکرہ نگار کا سلوک جیسے عوامل پر غور کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ یہ تذکرہ محض ترتیب ہے۔ اس میں تذکرہ نگار کی آرا اور پسندیدگی یا ناپسندیدگی کا کوئی دخل نہیں۔
ایسے تذکروں کے فائدے یہ ہیں کہ قاری متعلقہ عہد کے شعری رجحانات اور ادبی میلانات کو سمجھنے میں آزاد ہوتا ہے اور مرحلۂ تفہیم میں کسی کی رائے دخیل نہیں ہوتی۔ نیز کوائف (باحیات شعرا) کی بلاواسطہ فراہمی کے سبب تسامحات کی گنجائش بھی کم ہو جاتی ہے۔ لیکن اس طریقۂ کار کی خامی یہ ہے کہ تذکرہ نگار انھی کلام پر قانع ہوتا ہے جو خود شاعر کے انتخاب پر مبنی ہوتے ہیں۔ ایسی صورت میں تذکرہ نگار کسی شاعر کا زیادہ سے زیادہ کلام دیکھنے سے محروم رہتا ہے اور شاعر کا اصل معیار سامنے نہیں آپاتا۔ دوسرے یہ کہ بسا اوقات شعرا کذب بیانی سے کام لیتے ہیں۔ مثلاً شعر گوئی کی ابتدا سے متعلق عام طور پر ایسے سنہ نشاندہی کی جاتی ہے، جب شاعر کی عمر دس بارہ سال سے زائد نہیں ہوتی۔ نتیجتاً کسبی اور خیراتی شعرا بھی پیدائشی شاعروں کی فہرست میں شامل ہوجاتے ہیں۔
یہاں یہ نکتہ بھی وضاحت طلب ہے کہ ظفر مجیبی نے اپنے مقدمہ بہ عنوان ’نقوشِ چمپارن‘ (ص ۱۳) میں طریقۂ کار سے متعلق صرف ایک اشارہ کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ:
’’شاعرانِ رفتہ کا تذکرہ حسب تناسب عمر کیا گیا ہے اور اسی تناسب سے زندہ شاعروں کو بھی پیش کیا گیا ہے۔‘‘
اس جملے میں لفظ ’تناسب‘ کا استعمال ’مناسبت‘ کے معنی میں ہوا ہے۔ یہ زبان کا معاملہ ہے۔ مجھے یہ بتانا مقصود ہے کہ پورے تذکرے میں اہتمام صرف یہی ہے کہ شعرا کی ترتیب ان کی تاریخ پیدائش کے مطابق رکھی گئی ہے۔ ترتیب کا یہ طریقہ مرتب کو کئی بار دشواریوں میں ڈال دیتا ہے۔ مثلاً وہ شعرا جن کے سالِ پیدائش اور سال وفات کا علم نہ ہو سکا، فہرست میں کہاں رہیں گے؟ ظاہر ہے ایسی صورت میں مرتب اپنے معینہ اصول سے انحراف برتے گا اور قیاس آرائی دامن گیر ہوگی۔ یہی سبب ہے کہ متقدمین سے متاخرین تک تمام اہم تذکرہ نگاروں نے الفبائی ترتیب کو فوقیت دی ہے۔
گذشتہ سطور میں میں نے یہ بات کہی ہے کہ کسی تذکرے کا مطالعہ کرتے ہوئے تذکرہ نگار کے طریقۂ کار کے ساتھ اس کی ذہنی اور فکری سطحوں کا عرفان بھی لازمی ہے۔ چوں کہ تذکروں میں اقربا پروری اور اساتذہ پرستی کے جو طوطے مینے اڑائے گئے ہیں ان سے سب لوگ واقف ہیں۔ ظفر مجیبی کے طریقۂ کار سے متعلق چند اشارے پیش کیے جا چکے ہیں، اب کچھ باتیں ذہن و فکر سے متعلق۔
ذہنی اور فکری سطحوں کی دریافت کے مواقع تخلیقی اور تنقیدی نوعیت کی نگارشات میں زیادہ ہوتے ہیں۔ ایسی کتابیں جو خالصتاً ترتیب و تذہیب کے زمرے میں آتی ہیں، مرتب کے باطن کی تائید نہیں کر پاتیں۔ ظاہر ہے افکار و نظریات کا تعلق شخصیت کے د اخلی پہلو سے ہوتا ہے اور اس کا عرفان تب ہی مکن ہے کہ متعلقہ شخص کی تقریر یا تحریر سے آپ واقف ہوں۔ ’گلہائے چمپا‘ میں گیارہ صفحات ایسے ہیں جو ظفر مجیبی کی نثری اور شعری تحریروں پر مشتمل ہیں۔ نقوش چمپارن کے عنوان سے چھ صفحات بہ طور مقدمہ صرف ہوئے ہیں اور پانچ صفحات تراجم شعرا کے تحت ہیں۔ جن میں دو صفحے سوانحی کوائف اور تین صفحے نمونۂ کلام پر محتوی ہیں۔ ان صفحات کے غائر مطالعہ سے یہ انکشاف ہونے میں زیادہ دیر نہیں لگتی کہ معصومانہ ذہن، مخلصانہ سلوک، تعمیری جنون اور محکم عزم و حوصلے کے مجموعے کا نام ظفر مجیبی ہے۔ معصومانہ ذہن کے حوالے سے ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیں۔ موصوف لکھتے ہیں:
’’۸ اگست ۱۹۶۳ء کو موتیہاری میں ایک ادبی تنظیم ’بزم عترت‘ کی بنیاد رکھی اور جنرل سکریٹری کی حیثیت سے ایک طویل عرصے تک نمایاں کردار ادا کرتا رہا۔ فی الحال بزم عترت کے عہدۂ صدارت پر فائز ہوں۔‘‘
ظاہر ہے اپنے سلسلے میں ’نمایاں کردار ادا کرتا رہا‘ اور ’عہدۂ صدارت پر فائز ہوں‘ جیسے جملے پہلی نظر میں خود نمائی، خود ستائی اور خود رائی جیسے فعل کے ارتکاب کی غمازی کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ ان کے معصومانہ ذہن کی ہی دلیل ہے کہ خود سے متعلق ایسے تعریفی جملے انھوں نے بڑی بے تکلفی سے رقم کر دیے ہیں۔ ورنہ آپ جانتے ہیں کہ موجودہ دور میں بیشتر ادیب و فنکار اپنی خدمات کے اعتراف میں ان جملوں سے کئی گو نہ زیادہ توصیفی جملوں کی مدد سے خود کو مشتہر کر رہے ہیں لیکن ان کا شاطرانہ ذہن ایسے ادبی ہتھکنڈوں کو استعمال کرتا ہے کہ ان پر خودنمائی کا الزام منطبق نہیں ہوتا۔ من ترا حاجی بگویم تو مرا حاجی بگو کا رائج الوقت فارمولہ سامنے کی مثال ہے۔ ایک چھوٹی سی مثال سے یہ حقیقت اور بھی آئینہ ہو جائے گی۔ تصور کیجیے ایک جلسے میں کوئی مقرر آتا ہے اور صدر جلسہ کی بے تحاشہ تعریف کر کے گزر جاتا ہے۔ اب بے چارے صدر اپنی صدارتی تقریر میں لامحالہ اس مداح مقرر کی تعریف کیے بغیر نہیں رہ سکیں گے۔ جب کہ آپ نے ایسے مقرر کو بھی سنا ہوگا جو اپنی تقریر کا آغاز ہی اس طرح کرتا ہے کہ حضرات! میں بڑی مشکل سے وقت نکال کر یہاں تشریف لایا ہوں۔ دراصل آپ لوگوں کی گزارش کو میں ٹھکرا نہیں سکا۔ بلاشبہ ایسے مقرر کے معصومانہ ذہن پہ شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہو سکتی۔
اب کتاب کے مقدمے سے ایک اقتباس کا کچھ حصہ ملاحظہ فرمائیں۔ جس سے ظفر مجیبی کے مخلصانہ سلوک کی پوری پوری تائید ہوتی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
’’۔۔۔۔۔اس سرزمین سے تعلق رکھنے والے شہرۂ آفاق ناقد شکیل الرحمن اور معتبر نوجوان ناقدین کوثر مظہری، ڈاکٹر شیخ محمد عقیل، صفدر امام قادری، نسیم احمد نسیم، ڈاکٹر مولا بخش اور احمد کفیل صاحبان موجود ہیں۔ میری ان سے گزارش ہے کہ دوسری ریاستوں کے محققین و ناقدین سے سبق سیکھتے ہوئے یہاں کے شاعروں اور ادیبوں کو زاویۂ خمول سے نکال کر منصہ شہود پر لائیں۔‘‘
اس اقتباس میں جہاں اپنی مٹی سے والہانہ محبت کے اشارے موجود ہیں وہیں نوجوان ادیبوں سے نہ صرف پر امید گزارش ہے بلکہ ان کی صلاحیتوں کا مخلصانہ اعتراف اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اپنے عزیزوں کی کس درجہ حوصلہ افزائی کا جذبہ رکھتے ہیں۔ وہ بھی ایسے دور میں جب بزرگ اپنے عزیزوں کی پذیرائی تو دور ان کی حق تلفی میں عار محسوس نہیں کرتے۔ ظفر مجیبی اس سے بہ خوبی واقف ہیں کہ بزرگوں کی ادبی میراث کے محافظ یہی نوجوان ہیں۔ لہٰذا بزرگوں کو ایسا غاصبانہ رویہ نہیں اپنانا چاہیے کہ عزیز ان کی رحلت کی دعائیں مانگنے لگیں۔ یہاں یہ اعتراف ضروری ہے کہ بہار سے متعلق ناقدین میں پروفیسر وہاب اشرفی وہ تنہا ناقد ہیں جنھوں نے اپنے بعد کی نسلوں کی مختلف سطحوں پر نہ صرف آبیاری کی بلکہ اپنے مضامین اور اپنی تصنیفات میں انھیں نمایاں جگہ دے کر قومی ادبی منظرنامے پر لا کھڑا کیا۔
معصومانہ ذہن اور مخلصانہ سلوک کی ان مثالوں کے بعد ظفر مجیبی کے تعمیری جنون اور محکم عزم و حوصلے کے حوالے سے صرف یہ اشارے کافی ہیں کہ ان کی پہلی کتاب تو ۱۹۸۷ء میں منظر عام پر آئی لیکن ۱۹۹۹ء سے ۲۰۰۵ء کے درمیان ان کی تین کتابیں شایع ہو چکی ہیں۔ ایک کتاب زیر طبع ہے اور ایک ترتیب کے مرحلے میں ہے۔ عمر کی اس منزل میں یہ سرگرمی یقینا ان کے ادبی جنون اور محکم عزم و حوصلے کی ایسی مثال ہے جو نوجوانوں کے لیے بھی رشک آمیز ہے۔
اس مختصر مطالعے کے بعد نتیجے کے طور پر یہ کہنے میں کوئی تامل نہیں کہ ’گلہائے چمپا‘ ظفر مجیبی کی ایسی کوشش ہے جو چند کمزوریوں کے باوجود ڈوبتے کو تنکے کا سہارا کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ صرف ایک کتاب نہیں بلکہ روشن چراغوں کو طوفانِ حوادث سے محفوظ رکھنے کے لیے فانوس مہیا کرنے کی خوبصورت تحریک بھی ہے اور کامیاب کوشش بھی۔ موت و حیات کے مالک اللہ عز و جل سے میری دعا ہے کہ ایسے مخلص بزرگوں کا سایہ تادیر قائم رہے۔ ساتھ ہی اس کار حسن کے لیے اس امید کے ساتھ انھیں صدہا مبارک باد کہ آئندہ بھی اپنی خدمات سے اہل اردو کو مستفیض کرتے رہیں گے۔


Previous articleاردو ظرافت پر تنقید کا مسئلہ
Next article’’ضحاک‘‘ کا ما خذ

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here