نظم ”مسلمان اور موبائل“ از: خالد عرفان (نیویارک)

0
251

ہاتھوں میں موبائل ہے مسلمان کا ہتھیار
متروک ہوئے تیر، پرانی ہوئی تلوار

کافر کی یہ ایجاد ہے، اس عہد کا قصّہ
اب ٹیکنالوجی بھی، عقیدت کا ہے حصّہ

مسواک، نہ ٹوپی، نہ فضائل پہ نظر ہے
مسجد میں مسلماں کی موبائل پہ نظر ہے

یہ آج کا میسیج کبھی،رکھتا نہیں، کل پہ
کفّار سے لڑجاتا ہے، الفاظ کے بل پہ

بن مانگے مریضوں کو دوا بھیج رہا ہے
میسیج میں جنازے کی دعا بھیج رہا ہے

کچھ ایسے مسلمان بھی ہیں ساٹھ برس کے
”وٹس ایپ“ پہ لیتے ہیں خواتین سے چَسکے

جب شمع جلاتا ہے، جمعرات کو اپنی
ویڈیو میں دکھاتا ہے عبادات کو اپنی

اللہ رے! مسجد میں موبائل کا یہ رُتبہ
چیٹنگ ہے اِدھر اور اُدھر جمعہ کا خطبہ

مسجد میں نمازی کی لگن اتنی ہے سچّی
مولانا تو منبر پہ ہیں، لائن پہ ہے بچّی

بیٹھا ہے نمازی جو سمیٹے ہوئے زانو
کامینٹس میں لکھتا ہے ”غضب لگتی ہو جانو!“

باندھی جو نیت، کان موبائل کی طرف ہے
پڑھتا ہے ثنا، دھیان موبائل کی طرف ہے

گولی سے، نہ بجلی سے، نہ آئل سے لڑے گا
اب جنگ مسلمان موبائل سے لڑے گا

پھیلائے گا دشمن کی صفوں میں یہ تباہی
”مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی“

Previous articleفراق گورکھ پور ی کے شہر میں نصرت عتیق کا شعری مجموعہ ’’ احساس کی امربیل‘‘ کی رسم رونمائی
Next articleپطرس کی مزاج نگاری: از ڈاکٹر محمد شاہنواز عالم

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here