طنز و مزاح “…. کےنام…….” از: ڈاکٹر محمد شاہنواز عالم

0
226

اسسٹنٹ پروفیسر ملت کالج دربھنگہ.

اپنی کتاب کو کسی کے نام منسوب کرنے کے فن کو ادبی زبان میں ‘انتساب’ کے نام سے جانا جاتا ہے.یہ میں نہیں کہہ رہا ہوں. ایسا میرے ایک دوست کا خیال ہے، جو کئی کتابوں کے مصنف ہیں. حیرت کی انتہا تو یہ ہے کہ ان کے اس خیال سے اختلاف کی گنجائش کے باوجود اختلاف کرنے کی جسارت قطعی نہیں کر سکتا ہوں. کیونکہ اپنی ایک درجن کتابوں میں سے ایک کتاب کا انتساب انہوں نے میرے نام کیا ہوا ہے. حالانکہ اس تعلق سے راوی کا یہ بیان ہے کہ اس کار خیر کو انجام دیتے وقت انہیں انتقال ذہنی کے دور سے گزرنا پڑا. کیونکہ بروز اجراء کتابوں سے ذوق رکھنے والوں نے ان کی کتاب سے زیادہ ‘انتسابیہ’ جملے پر تبصرہ کیا. پھر کیا تھا انہوں نے اس ضمن میں اپنا تاریخی بیان دیا کہ ” انتساب کرنا دراصل میری مجبوری تھی.”
ان کی مجبوری والی بات نے اچانک میرے تجسس کو بیدار کر دیا. لہٰذا غور کیا کہ آخر انتساب کیا بلا ہے کہ ہرمصنف کے اندر اس کی دیوانگی پائی جاتی ہے. بعد تحقیق بسیار یہ بات منکشف ہوئی کہ کتاب اور انتساب ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں.

انتساب کرنے کا سب سے زیادہ روشن پہلو یہ ہے کہ اس سے کتاب کی قدر و قیمت میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہونے کا امکان ہوتا ہے. لہٰذا کتابوں کا انتساب جس قدر مشہور و معروف ادیبوں اورنقادوں کے نام ہوتا ہے اسی لحاظ سے دوسرا، تیسرا ایڈیشن شائع ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے. اور اکثر اکادمی والوں کی نظر عنایت ہونے میں تاخیر نہیں ہوتی. گویا کسی بھی کتاب کو انتساب کے بغیر ماہی بے آب کی مانند سمجھنا چاہیے . اور شاید یہی وجہ ہے کہ دور جدید میں انتساب کرنے کی روایت مقبولیت حاصل کرنے لگی ہے. اتنا ہی نہیں اردو کے دیگر اصناف کی طرح اسے بھی ایک صنف کا درجہ دینے کی چہ میگوئیاں اردو ادب میں ہونے لگی ہیں. کیونکہ بعض ناقدین کا اس تعلق سے یہ کہنا ہے کہ انتساب کرنا ایک فن ہے اور دیگر اصناف ادب کی طرح اس کے بھی چند اجزائے ترکیبی ہیں جس کا خیال ہر مصنف بڑی ایمانداری سے کرتا ہے.

انتساب کے اس جدید فن نے نہ صرف کتاب کے ابتدائی صفحہ پر بلکہ اس سے باہر بھی رنگا رنگ قسم کے گل بوٹے کھلائے ہیں. انتساب کا یہ فن بڑے
بھیانک اور خطرناک قسم کی خانہ جنگی کا محرک بھی بنتا ہے. کچھ جانبدار قسم کے ادیبوں کا کہنا ہے کہ ادبی گروہ بندی کی کونپلیں یہیں سے پھوٹتی ہیں. روایت ہے کہ اکثر کتابوں کا انتساب درجہ بدرجہ کیا جاتا ہے. یعنی پہلے اپنے کنبے کے کسی بزرگ کے نام، پھر استاد کے نام، کسی مشہور و معروف ناقد کے نام اور آخر میں کسی دوست یا کسی مرحوم کے نام. اس طرح کے انتساب کی نوعیت رشتوں کو مضبوط کرنے کے علاوہ کتاب کی قدر و قیمت میں اضافہ کرنے کی ہوتی ہے. اب یہ الگ بات ہے کہ نہ رشتے مضبوط ہوتے ہیں اور نہ کتابوں کی مقبولیت میں کچھ اضافہ ہوتا ہے. ہاں کچھ خوش نصیب مصنفین کو اس مشن میں کامیاب ہوتے دیکھا گیا ہے.
بعض شاعر و ادیب اس قدر بسیار نویس ہوتے ہیں کہ ان کے یہاں شخصی انتساب کا قحط ہو جاتا ہے. لہٰذا ایسے حضرات اپنی کتابوں کا انتساب کچھ اس طرح کے جملے کے نام کرتے ہیں.

با وفا دوستوں کے نام….. جو نہیں جانتے وفا کیا ہے.
حیوان ناطق کے نام……جو کائنات کا سب سے بڑا ناقد ہے
روشنائی کے نام……. جو فکر و خیال کی محافظ ہے.
کرکٹ کے اس لال گیند کے نام. . . جو شکست و فتح کا امین ہے. وغیرہ وغیرہ.

کچھ لکھنے والے اپنی کتابوں کا انتساب اپنے استاد محترم کے نام کرتے ہیں. آپ نے اکثر دیکھا ہوگا.
استاد محترم (….) کے نام
جن کی تحریر سے مجھے تحریر کرنے کی تحریک ملی.

شاید ایسے لکھنے والے جوش شاگردی میں آ کر استاد کا نام روشن کرنا چاہتے ہیں یا پھر طالب علمی کے زمانے میں ہوئی زیادتیوں کا بدلہ لینا چاہتے ہیں.
انتساب کے رنگا رنگ اور مختلف النوع صفات کے مد نظر یہ گمان ہوتا ہے کہ آخر اب وہ زمانہ گزر گیا جب ہمارے ادب میں شاعروں کو یہ کہہ کر اعلیٰ مقام دیا جاتا تھا کہ فلاں شاعر نے اپنے کلام میں کیا خوب عشق کے گل بوٹے کھلائے ہیں. اب تو یہ کار خیر انتسابیہ الفاظ اور جملے میں ہی بڑے مبہم طور پر یوں کیا جاتا ہے کہ عشقیہ شاعری کے قدیم شعرا بھی انگشت بدنداں ہیں. جس عشق کے واقعات و کیفیات کو بیان کرنے کے لئے ان کو بحر، رکن اور نہ جانے عروض و بلاغت کے کتنے خاردار راہوں سے گزرنا پڑتا تھا، اسی کیفیت کو نئی پود کے نوجوان شعراء نے اتنے معنی خیز انداز میں پیش کرنے کی روایت قائم کی ہے کہ پرانے شعرا اپنی ذہانت کو کو سنے پر آمادہ ہیں . اور روایت کے برعکس انہوں نے نئی پود کے شاعروں کی تقلید شروع کر دی ہے. لیکن اس جدید ‘صنف’ کی ایسی نزاکتیں ہیں کہ تمام کوششوں کے باوجود یہ حضرات اپنے انتساب میں نوجوان ادیبوں اور شاعروں کا سا زور اور وزن پیدا کرنے سے قاصر ہیں. آپ کتابوں کو بھلے ہی نہ پڑھیں لیکن انتساب کو لازمی طور پر پڑھیں. میں پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اس وقت جبکہ آپ انتساب پڑھ رہے ہونگے، نہ صرف یہ کہ آپ کو اپنے اوپر، اس کتاب کے اوپر، اس مصنف پر بلکہ اردو زبان و ادب پر بھی فخر ہوگا کہ اردو نے کیسے کیسےموتی ان شاعروں اور ادیبوں کے دماغ نما سیپ میں بھر دئیے ہیں. الفاظ اتنے نامانوس کے لغت کی طرف ہاتھ بڑھانا پڑے. جامع اتنے کہ اگر تبصرہ کریں تو کئی صفحات سیاہ ہو جائیں اور مبہم اتنے کہ فوراً دماغی تھکاوٹ محسوس کریں. آخر میں ایک بات اور عرض ہے کہ انتساب کی اس روایت نے روتے ہوئے کو ہنسایاہے اور ہنستے ہوئے کو رلایا ہے. یہ بڑی عجیب و غریب ‘صنف ادب’ ہے. اس کے اندر دوستی بھی کرانے کی صلاحیت ہے اور دشمنی بھی. آپ ان باتوں پر حتمی طور پر یقین کر سکتے ہیں کیونکہ یہ ساری باتیں تحقیق شدہ ہیں. لیکن اگر آپ آزمانا چاہتے ہیں تو آزما سکتے ہیں. شرط یہ ہے کہ پہلے ایک کتاب لکھیئے.

Previous articleخاص مقصد اور نظریہ کو فروغ دینے میں میڈیا کا اہم کردار مفتی محمد ثناء الہدی قاسمی اور ڈاکٹر ریحان غنی کا اہم خطاب
Next articleعقیل حشمی کی یاد میں از:امتیاز وحید

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here