طرزی شناسی کا نقش اول از: امتیاز وحید

0
266

خان محبوب طرزی اردو کے کثیرالتصانیف ناول نگارتھے۔ اردو فکشن ان کا اوڑھنا بچھونا تھا۔وہ اردو میں ساءنس فکشن کے موسسین میں سے ایک تھے۔ انھوں نے اپنے ناول میں اسرار اور مہم جوءی کی ایک دنیا خلق کی تاہم اردو اور اردو سے شغف رکھنے والوں کا بھی عجب عالم ہے۔ انھیں طمانیت بہت کم نصیب ہوتی ہے، حالات کے جبر نے خان محبوب طرزی کو بھی جھکنے اور تیسرے درجے کاادب خلق کرنے پر مجبور کیا اور اس راہ میں ان کی بہترین صلاحیتیں صرف ہوءیں۔ طرزی اپنے معاصرین ناول نویسوں رشید اختر ندوی، رءیس احمد جعفری، قیسی رامپوری، اے۔آر۔خاتون بلکہ اپنے پیشرو فیاض علی اور ایم اسلم جیسے نامور ناول نگاروں کی فہرست میں امتیازی شان کے حامل خیال کیے جاتے ہیں۔

ع ”ہاتھ ہمارے قلم ہوءے ”کا کنایہ شاید طرزی جیسے ادیبوں پر ہی صادق آتا ہے۔ طرزی کے ناولوں کی کل تعداد 86 بنتی ہے۔ یہ مقام استعجاب ہے اور یہ سمجھ پانا دشوار ہے کہ طرزی ناولوں کی خاکہ بندی کس طرح کرتے رہے ہوں گے؛انھیں خیال کی بھٹی میں پکاتے کب ہوں گے اور کس طرح انھیں کاغذ پر بکھیرتے ہوں گے۔ لیکن مسرت کی بات یہ ہے کہ طرزی نے اپنے معیار کو مقدار کی کثرت کے سمندر میں غرقاب ہونے نہیں دیا۔ مرحوم شمس الرحمان فاروقی نے انھیں بڑے اچھے سیاق میں یاد کیا ہے اور انھیں ساءنس فکشن کا نہ صرف موجد بتایا ہے بلکہ انھیں اپنے معاصرین میں اپنے منفرد کارناموں کی بدولت ابداع اور تنوع کا حامل بھی بتایا ہے۔

طرزی نے کل پچاس برس کی عمر پاءی ۔ اس میں 111 ناول، افسانے کی تخلیق مضامین اور زیست کے تقاضوں کے پیش نظر وہی وہانوی کے نام کے پیچھے چھپ کر فحش، نیم فحش افسانے اور مختصر ناول اس پر مستزاد ۔ یہ کوءی آسان کام نہیں بلکہ مہم جویانہ شغل ہے۔ طرزی اپنے ناول میں تجسس اور تحیرکی ایک دنیا آباد کرنا جانتے تھے وہ اس طرح کہ قاری ناول ختم کیے بغیر چین سے نہیں بیٹھ سکتاتھا۔ اسی خوبی کے سبب ان کے ناول کثرت سے چھاپے اور پڑھے جاتے تھے۔ ساءنسی اور تحیراتی عناصر کی وہ روایت جو داستان امیر حمزہ سے چلی تھی طرزی نے اس لیگیسی کو مضبوطی سے آگے بڑھایا۔

60کی دہاءیاں ختم ہوءیں تو طرزی کی بساط بھی پلٹ دی گءی۔ اردو کا زور کم ہوا تو اس کے قلم کار اپنے کارناموں سمیت ماضی کے دھندھلے میں روپوش ہوتے چلے گءے۔ اردو کے لیے یہ دور اپنی کم سوادی کے باوصف ان معنوں میں قابل ذکر ہے کہ آج ہمارے درمیان کچھ اسکالرس ایسے بھی ہیں جو اردو کے لیے اپنا خون پانی کرنے میں یقین رکھتے ہیں۔ عزیزی ڈاکٹر عمیر منظر کو ہم اسی محبت آمیز سیاق کا اسکالر پاتے ہیں۔ادب کے لیے آجکل یہ اپنے جنون اور فرزانگی کے سبب خاص شناخت قایم کررہے ہیں۔ خدا معلوم طرزی کا ذکر ان کے کانوں میں کیسے پڑا ۔تووہ عازم سفر ہوءے اور بڑے منصوبہ بند طریقے اورجتن سے انھوں نے کءی برسوں کی محنت شاقہ کے بعدطرزی شناسی کی ایک عمدہ مثال قایم کی اور ”خان محبوب طرزی:لکھنو کا ایک مقبول ناول نگار”کے نام سے ایک مبسوط کتاب مولف کی۔ 446صفحات پر مشتمل طرزی سے متعلق انھوں نے سات ابواب میں طرزی کے احوال و کواءف،طرزی کا فکشن، ناول سے متعلق طرزی کی تحریریں، طرزی کے ناولوں پر مقدمے اور آرا، طرزی کی تحقیقی تحریریں، طرزی کا ناول اور افسانہ اور طرزی کی کچھ متفرق تحریریں کو بڑے سلیقے سے مرتب کیا ہے۔ اس طرح اس میں شامل مشمولات کی کل تعداد 63 بنتی ہے۔

عمیر منظر نے56 صفحات کا ایک طویل مقدمہ بھی لکھا ہے اور شرح و بسط سے طرزی کے ناولوں کے موضوعات اور اس کے تنوعات پر گفتگو کی ہے اور بتا یا ہے کہ عام ڈگر سے ہٹ کر طرزی کو یہ کمال حاصل تھا کہ وہ بیک وقت کءی موضوعات پر ایک ساتھ قلم اٹھانے کی قدرت رکھتے تھے۔ انھوں نے سماجی، سیاسی، جاسوسی، تاریخی اور نفسیاتی موضوعات پر ناول لکھے اور تان ساءنس فکشن پر توڑی۔ پروفیسر شارب ردولوی کے بقول طرزی نے کوءی موضوع نہیں چھوڑا۔ صرف تاریخی موضوعات پر لکھنو کو مرکز بناکر طرزی نے ایک درجن ناول سپردقلم کیے۔ مرتب کا مقدمہ طرزی کے ناولوں کے اندرون کا جاءزہ لیتا ہے، اس کے فنی امتیازات کو نشان زد کرتا ہے ، معاصرین میں اسی زمین اور مزاج پر لکھے گیے ناولوں سے طرزی کے ناولوں کے انفراد کو سامنے لاتا ہے۔ طرز نگارش اور اسلوب کی خوبیوں سے کلام کرتا ہے۔ فروغ اردو کے طرزی نمبر سے اخذ و استفادہ کی داستان رقم کرتا ہے۔ اور سب سے اہم بات یہ کہ اپنی بات یا مفروضات کی تاءید و توثیق کے لیے بڑے اہتمام سے تمام حوالے قارءین کے سامنے پیش کرتا ہے۔ اسی مقدمے میں انھوں نے جدول کی شکل میں طرزی کے جملہ ناولوں کی فہرست بھی شامل کردی ہے، جس سے ایک ساتھ طرزی کے فکشن کے ابعاد ہمارے سامنے آجاتے ہیں۔ نام، ماخذ، اشاعتی ادارہ اور سن اشاعت یہ بنیادی معلومات اس فہرست میں دی گءی ہیں۔طرزی شناسی کے باب میں ڈاکٹر عمیر منظر کی کدوکاوش کی توقیر و تحسین کی جانی چاہیے۔ فاروقی مرحوم نے اس اہم کام کے لیے عمیر منظر کی حوصلہ افزاءی کی ہے اور لکھا ہے کہ” اس طرح ماضی قریب کا ایک قیمتی سرمایہ محفوظ ہوگیااور شاید اس طرح خان محبوب صاحب کے کارناموں سے دنیا دوبارہ واقف ہوسکے”۔ امید قوی ہے کہ فاروقی مرحوم کی راءے سے مزین عمیر منظر کی یہ کتاب خان طرزی اور ان کے فن کے لیے افہام و تفہیم کی فضا بندی میں معاون ثابت ہوگی اور سنجدہ ادبی حلقوں میں اس کا استقبال کیا جاءے گا۔

Previous articleبھارت میں مسلمانوں پر ظلم وبربریت کا طوفان ! از:سرفراز احمد قاسمی،حیدرآباد
Next articleملک کا طبی نظام اور ڈاکٹر و ہسپتال کی لوٹ کھسوٹ از:حافظ محمد ہاشم قادری مصباحی جمشیدپور

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here