طارق جمیلی : یادوں کے دریچے سے از: نزہت طارق ظہیری

0
141

استاد محترم پروفیسر طارق جمیلی مرحوم
کی 88 ویں یومِ پیدائش کے موقع پر ایک
خصوصی مضمون
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

طارق صاحب میرے ہمدم ، میرے دوست ، ساتھی ، رفیقِ حیات اور استاد تھے ۔

اتنا سب کچھ اچانک اور ایکبارگی مجھ سے چھن گیا کہ میں بھری دنیا میں خود کو اکیلا محسوس کرنے لگی جیسے میرے پاس کچھ بھی باقی نہ بچا ۔ تنہائی میں ہر لمحہ لگتا کیا کہوں ، کس سے کہوں ، کسے سناؤں ، کس سے باتیں کروں ، کس سے پوچھوں ؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک عمر ساتھ گزارا پھر بھی لگتا کہ چند دنوں کا ہی ساتھ رہا ۔ ابھی تو کچھ کہا نہیں ، ابھی تو کچھ سنا نہیں !
آہستہ آہستہ کچھ عرصہ بعد خود کو سنبھالا ۔ اپنے آپ کو سمجھایا ۔۔۔۔۔۔ ایک کھونٹا نا رہا تو کیا ہوا ؟ ابھی ماشآءاللہ چار کھونٹے سلامت ہیں ۔ تین بیٹے ، ایک بیٹی ، تین تین بہوئیں ، داماد ، نواسے ، نواسیاں ، پوتیاں ۔۔۔۔۔۔۔ میں تنہا کہاں ہوں ؟ سبھی میری خوشنودی اور دلجوئی کی کوشش میں لگے رہتے ہیں ۔ خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے ، سب میرے اپنے ہی تو ہیں ۔
سال بھر کی طویل علالت نے جیسے مجھے اندر سے توڑ دیا ۔ مگر الحمداللہ ! اب میں پہلے سے بہتر ہوں ۔ بچوں کا بار بار یہ اصرار کہ میں پہلے کی طرح لکھوں پڑھوں لیکن میرا قلم تو جیسے ٹوٹ چکا ہے ۔۔۔۔۔ نہ ہاتھوں میں وہ جنبش رہی نہ آنکھوں میں وہ دم باقی رہا کہ میں خود کو کچھ کہنے اور لکھنے پر آمادہ کر پاؤں ۔ پھر بھی آج بہ ہزار دقت اپنے ٹوٹے قلم کو جوڑ کر چند سنہری یادوں کو صفحہء قرطاس پر محفوظ کرنے کی خاطر اسے چلنے پر آمادہ کیا ہے ۔ خدا کرے میرا قلم چلتا رہے اور میں لکھتی رہوں ۔ بچوں کی خواہش کب تک ٹالتی رہوں گی جبکہ یہی بچے میرا سرمایہء حیات ، میری زندگی کا مقصد ، میرا سہارا اور میری تمام خوشیوں کا مرکز ہیں ۔

طارق صاحب کے مداحوں ، ہم عصروں ، دوستوں اور شاگردوں نے اتنی ڈھیر ساری باتیں ان کی شاعری ، افسانوں ، ڈراموں اور تحقیق و تنقید کے متعلق لکھ رکھا ہے کہ اب میرے پاس کچھ کہنے کو بچا ہی کیا ہے ؟ سوچتی ہوں گھریلو زندگی کی کچھ نجی باتیں ہی سنا ڈالوں جو قارئین کے لئے ان کہی اور ان سنی ہوں ۔
بچپن سے میرے گھر میں پڑھنے پڑھانے کا ماحول رہا ۔ طارق صاحب کی والدہ بھی اپنے زمانے کی پٹنہ بی این آر ۔۔۔۔۔۔ اسکول سے مڈل پاس تھیں ۔ میرے چچا آفتاب ظہیری اپنی ملازمت کے سلسلے میں ہم سب کے شامل پٹنہ میں ہی رہتے تھے اور طارق صاحب کا بھی ایم اے ، ایل ایل بی کے سلسلے میں آنا جانا لگا رہتا تھا گرچہ وہ سبزی باغ کے کسی لاج میں رہا کرتے تھے ۔ یہ دونوں ادبی ذوق رکھنے والے حضرات تھے لہذا دونوں کے درمیان خوب ٹھنی رہتی ۔ لیکن گھر میں ادبی ماحول بنا رہتا ۔ ہم بھائی بہنوں کو اکثر لکھنے کے لئے کوئی نہ کوئی موضوع ملا کرتا کبھی سفر نامہ تو کبھی پکنک پر جانے کی روداد ، کبھی چاندنی راتوں کا سماں ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم بھائی بہن ایک دوسرے سے چھپ چھپا کر لکھتے ۔ میری بڑی بہن نیلوفر اور بھائی شمیم احمد کچھ نہ کچھ لکھتے اور انھیں دکھایا کرتے ۔ تحریر پسند آنے پر پذیرائی حاصل ہوتی اور انعام بھی ملتا ۔ ان دونوں کی وجہ سے ادبی رسالے بھی پڑھنے کو مل جاتے ۔ اس زمانے کے بڑے ادیبوں احمد ندیم قاسمی ، اختر اورینوی ، شکیلہ اختر ، کرشن چندر ، منٹو ، راجندر سنگھ بیدی وغیرہ کے افسانوں سے روشناس ہوئی ۔ اس طرح ہم سب میں اچھا خاصا ادبی ذوق پیدا ہو گیا ۔

میری خوش قسمتی تھی کہ میں طارق صاحب کی شریکِ حیات بنی ۔ اس طرح بچپن کے شوق کو آگے بڑھنے کا موقع نصیب ہوا ۔ دیگر بھائی بہنوں کو ایسا موقع نہ مل سکا ۔ زندگی کی الجھنوں ، پریشانیوں ، بچوں کی پرورش اور گھر گرہستی وغیرہ کے کاموں نے کافی دنوں تک اس سلسلے کو بریک لگائے رکھا ۔
سال 1978 ء کے آخری ایام جب میں باضابطہ طور پر پورنیہ میں رہنے لگی تو رفتہ رفتہ یہ ٹوٹے ہوئے تار پھر سے جڑنے لگے اور کاغذ و قلم سے میرا رشتہ دوبارہ استوار ہوا ۔ اس کام میں طارق صاحب کی حوصلہ افزائی اور مدد سے کافی تقویت حاصل ہوئی اور آہستہ آہستہ میں افسانہ نگار بن گئ ۔ میری افسانہ نگاری میں پورنیہ ریڈیو اسٹیشن کا بھی بڑا ہاتھ ہے ۔ وہ لوگ اکثر مجھے مدعو کرتے اور میں بھی اپنی تمام تر مشغولیات کے باوجود کچھ نہ کچھ لکھ لیتی ۔ کبھی لڑکیوں کی تعلیم ، کبھی چائلڈ لیبر اور کبھی عورتوں کی آزادی کے موضوعات زیر بحث ہوتے ۔ پولیو پر بھی میں نے افسانے لکھے جو ان لوگوں کو کافی پسند آئے ۔ میرا افسانہ ‘ دو بوند ‘ جب جب پولیو ڈراپس کی خوراک بچوں کو پلانے کی مہم چلتی ریڈیو اسٹیشن سے ضرور نشر ہوتا ۔ اسی طرح لکھتے لکھتے میرے افسانوں کا مجموعہ ‘ ایک روٹی سات پہاڑ ‘ مکمل ہو کر منظر عام پر آ گیا ۔
طارق صاحب کی شخصیت بڑی تہہ دار تھی ۔ دل لوٹنے اور لٹانے والی شخصیت کے مالک تھے ۔ فلموں کے بھی بڑے شوقین تھے ۔ ایک زمانے میں دلیپ کمار ان کا محبوب ایکٹر تھا بلکہ ہمیشہ رہا ۔ اس کی فلمیں شاید ہی ان سے کوئی چھوٹی ہو ، مگر بنگلہ فلمیں انہیں زیادہ پسند تھیں ۔ ان فلموں میں انھیں زندگی کی حقیقت نگاری کی جھلک نظر آتی تھی ۔ بنگلہ فلموں کی سادگی اور قدرتی مناظر کی عکاسی ان کے دل کو چھو لیتی ۔ اس کے علاوہ کھیلوں کے بھی کافی شوقین تھے ۔ بچپن میں فٹبال کھیل کا زور تھا ، فٹبال میچ دیکھنے ضرور جاتے مگر والدین سے اجازت لےکر ۔ ان دنوں دیر شام تک باہر رہنا والدین پسند نہیں کرتے تھے ۔ بعد میں ٹیلیویژن کا دور آ گیا تو فٹبال ورلڈ کپ ہو یا کرکٹ میچ رات بھر جاگ کر دیکھنا ذرا بار نہ گزرتا تھا ۔ رات کو جاگنا ان کی عادت تھی ۔ طالب علمی کے زمانے میں بھی راتوں میں جاگ کر پڑھنے میں انھیں زیادہ سکون اور یکسوئی محسوس ہوتی ۔ گھر کے خاص کام بھی وہ رات کے وقت ہی انجام دیا کرتے ۔

ان کی بہن معیز صاحب وکیل سے بیاہی تھیں ۔ خزانچی ہاٹ جامع مسجد کے قریب ہی دونوں کا مکان تھا ۔ دونوں گھر ایک بنے رہتے ۔ چھوٹے چھوٹے بھانجے بھانجیوں سے بڑی محبت تھی ۔ چھٹیوں میں ہمیشہ جب کالج بند ہوتا کبھی بہن تو کبھی بچوں کو لےکر حاجی پور گھر جاتے ۔ دیوالی پر محلے کے بچوں کو گھروندہ بناتے دیکھ ہمارے بچے بھی مچل پڑتے ۔ بچوں کی خوشی کی خاطر وہ تمام بھانجے بھانجیوں کے ساتھ مل کر آنگن میں اینٹ اور مٹی کے گاڑے سے گھروندہ تیار کرتے اور بڑی ہنرمندی سے چونا اور مختلف رنگوں سے اسے سجاتے ۔ تمام بچوں کے نام کے الگ الگ کمرے تعمیر ہوتے جن پر سب کے ناموں کی پرچیاں بھی لگتیں ۔ دھاگے سے بجلی کے تار اور چِمکی سے بلب بناتے جاتے ۔ شام میں سب بچوں کو دیوالی کی سیر پر لے جاتے اور میلے سے رنگ برنگے مٹی کے کھلونے لا کر گھروندے میں سجائے جاتے ۔ گھروندے میں ایک دیا بھی روشن ہو جاتا ۔ بچے خوش تو یہ بھی خوش ۔
طارق صاحب کی باتیں بڑی دلچسپ اور چاشنی سے لبریز ہوتیں ۔ جہاں جاتے سب ان کے گرد جمع ہو جاتے پھر وقت اور ماحول کے مطابق طرح طرح کے کھیل بھی جما دیتے کیرم ، تاش ، لوڈو وغیرہ ۔ ہر طرح کی خوبیاں اپنے اندر سمیٹے ہوئے تھے ۔ کرکٹ میچ دیکھتے بھی ، دکھاتے بھی اور ہر ایک کو سکھاتے بھی ۔ بچوں میں کھیل سے دلچسپی پیدا کرواتے ۔ فرصت میں بچوں کو پڑھاتے اور انھیں نئی نئی باتیں سکھاتے ۔ گویا کہ سارے بھانجے بھانجیوں کے چندا ماما تھے ۔ محرم کا اکھاڑہ ہو یا کوئی میلہ یا ایگزیبیشن ہر جگہ سب کو لےکر ضرور جاتے ۔ انھیں گھومنے گھمانے کا کافی شوق تھا جو کچھ دیکھتے چاہتے کہ دوسرے بھی دیکھیں اور لطف اندوز ہوں ۔ اسی میں انھیں سچی خوشی حاصل ہوتی ۔

زندگی ایک ضخیم کتاب ہے ۔ ورق پلٹتی جاتی ہوں پرتیں کھلتی جاتی ہیں ۔ کوشش تو کی ہے کہ ان کی شخصیت کا ہر گوشہ اجاگر ہو سکے مگر ایک مضمون میں سب کہاں ممکن ہے ۔ کتابوں ، رسالوں ، خطوط ، اخبار کے طرح طرح کے تراشے ان کی الماری کی جمع پونجی ہے ۔ جس جگہ بیٹھتے ان چیزوں کا انبار لگا لیتے ۔ ان کے بکھرے کاغذات ، کتابوں اور تراشوں کو اگر قاعدے سے رکھ دوں تو بہت ناراض ہو جاتے ۔ کہتے ان چیزوں کو چھوا نہ کرو ، جیسے ہیں رہنے دو ۔ ان بےترتیب کاغذوں کی ترتیب وہی سمجھ پاتے تھے ۔
چھٹیوں کے دن ان کے احباب کا جمگھٹا میرے گھر پر رہتا ۔ چودھری جی ، شفیع صاحب ، رحمن صاحب ڈیمانسٹریٹر ، عالم صاحب ، رمن جی اور بھی کتنے سارے لوگ جمع ہوتے ۔ ان سب کے ہمراہ کبھی تاش ، کبھی شطرنج اور کیرم کا دور چلتا ۔ اس میں انھیں زیادہ خوشی محسوس ہوتی ۔
لکھنا پڑھنا ان کا محبوب مشغلہ تھا ۔ کاغذ ، قلم اور کتابوں کے بغیر تو ان کا تصور کرنا بھی مشکل تھا ۔ گھر کے اندر باہر ٹہلتے رہنا بھی ان کی عادتوں میں شامل تھا ۔ نچلے بیٹھ کر باتیں کرتے ہی کہاں تھے ۔ کچھ نہ کچھ کرتے رہنا ان کا شغل تھا ۔ گھریلو کاموں میں بھی ہاتھ بٹایا کرتے ، جہاں کہیں کچھ الٹ پلٹ دیکھا سنوارتے جاتے ۔
کتابوں کے تو بس کیڑا تھے ۔ ہر قسم ، ہر ذوق کی کتابیں ان کی الماریوں میں مل جائیں گی چاہے گیتا مہابھارت ہو یا انجیل ، شیکسپیئر اور برنارڈ شا کی کتابیں ہوں یا قرآن ، قرآن کی تفاسیر ، قرآن کے انگلش ترجمے ، پرانے وقتوں کے رسالے اور آج کے دور کے بھی ہر طرح کے رسالے ۔ انگلش ناولوں اور فلمی پرچوں کا بھی خاصا شوق تھا ۔
باغبانی کا شوق انھیں اپنے والد سے ورثہ میں ملا تھا ۔ جس طرح ان کے والد کی پھلواری طرح طرح کے پھولوں سے سجی رہتی تھی اسی طرح طارق صاحب کی پھلواری بھی رنگ برنگے پھولوں سے بھری مہکتی رہتی ۔ یہ ذوق ان کے خاندان کے سبھی افراد میں بدرجہ اتم موجود ہے ۔ آخری برسوں میں جب صحت نے رفتہ رفتہ ساتھ دینا چھوڑ دیا بوگن ویلیا ، مدھو مالتی ، کیکٹس اور کروٹن سے ہی دل بہلا لیا کرتے ۔
سادگی پسند انسان تھے ۔ زیادہ ٹپ ٹاپ ، رکھ رکھاؤ اور فیشن انھیں نہیں بھاتا تھا ۔ اکثر گھر سے باہر نکلتے وقت اگر کپڑے کچھ میلے یا شکن آلود ہوتے میں انھیں ٹوک دیتی کہ باہر ہر طرح کے لوگ ملیں گے کپڑے تبدیل کرلیں تو کہتے ” لوگ مجھ سے ملنے آتے ہیں میرے کپڑوں سے نہیں ۔ ”
انسانی محبتوں پر ان کا ایمان تھا ۔ ہمیشہ دوسروں سے تعلق بناکر رکھنا ، دوسروں کے کام آنا ، دور کے رشتے داروں سے بھی اسی محبت اور اپنائیت بھرے انداز میں ملنا ملانا قائم رکھتے چاہے وہ شہری بابو ہوں یا دیہات کے رشتے دار ۔ جب تک خط و کتابت کا چلن تھا اسی کے ذریعہ سب لوگوں سے رابطہ قائم رہا پھر ٹیلی فون اور موبائل آ گئے مگر اس میں وہ لذت کہاں جو خط نویسی میں تھی ۔
خدمت گزاری اور تیمار داری کا جذبہ بھی انھیں وراثت میں ملا تھا ۔ گھر میں بیمار کوئی نوکر چاکر ہی کیوں نہ ہو بڑی محبت اور لگن کے ساتھ بیمار کی خدمت کرتے ۔
ماں تو خیر ماں تھیں وہ بھی ایک مجبور اور معذور ماں ، ان کی خدمت اور تیمار داری سبھی بھائی بہنوں نے اپنے اپنے طور پر کی ۔ طارق صاحب نے بھی آخری دم تک ان کی ہر طرح سے خدمت کی ۔ کسی کام میں کوئی عار نہ تھا ، جو بھی کیا بڑی خندہ پیشانی کے ساتھ کیا ۔
ایک واقعہ یاد آیا ، سڑک پر کا ایک آوارہ کتا جسے کسی منچلے یا اناڑی نے اپنی کار سے کچل ڈالا تھا کمر میں سخت چوٹ آ جانے کی وجہ سے بالکل معذور ہو گیا تھا اسے روتے چلاتے دیکھ اٹھا لائے اور اپنے پورٹیکو میں پناہ دی ۔ کھلایا پلایا ، مرہم پٹی اور دوا دارو کی ، برسات کا موسم تھا بورے اور چٹائ سے اس کی حفاظت کا انتظام کیا حتی’ کہ اس کی غلاظت بھی اپنے ہاتھوں صاف کیا کرتے ۔ ہمدردی کا یہ خدا داد جذبہ ان کے اندر موجود تھا ۔

اپنے بھائی بہنوں سے بڑی محبت اور شفقت سے پیش آتے ۔ ان لوگوں کا احترام کرتے ۔ ہماری بیٹی حنا کے رشتے کی بات کلکتے میں چل رہی تھی ۔ اس سے پہلے بہار سے باہر ہمارے خاندان میں کسی کی شادی نہیں ہوئی تھی ۔ اتنی دور جاکر لڑکے والوں کے بارے میں کچھ پتہ لگانا بھی دشوار تھا ۔ اتفاقا ” ان کے چھوٹے بھائی کا آفس کے کام سے کلکتہ جانا ہوا ۔ سرراہ ان سے وہاں پتہ لگانے کو کہہ دیا گیا ۔ ان کے بھائی افضل کو وہاں سب کچھ پسند آ گیا ۔ ہمارے گاؤں کے کچھ لوگ بھی کلکتے میں رہتے تھے ، سب نے لڑکے اور اس کے خاندان کی تعریف کی ۔ لڑکے والے بھی بہار کے ہی رہنے والے تھے ۔ ان کے بھائی افضل کو اللہ نے چار بیٹے ہی عطا کئے تھے ، بیٹی نہ تھی ۔ واپسی پر انہوں نے اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا اور کہا کہ اگر میری کوئی لڑکی ہوتی تو میں ضرور یہ رشتہ پکا کردیتا ۔ یہ سننا تھا کہ طارق صاحب برجستہ بول پڑے ” حنا تمہاری بیٹی نہیں ہے کیا ؟ اسی بات پر الحمداللہ رشتہ طئے پا گیا ۔
ان سب کے باوجود ایسا نہیں کہ ہم دونوں میں کسی بات پر تکرار یا بحث نہ ہوتی ۔ اختلافات کہاں نہیں ہوتے ؟ ناپسندیدہ باتوں پر بالکل اکھڑ جاتے ۔ کبھی کبھی نوک جھونک بھی ہو جایا کرتی مگر شکر خدا کا کہ یہ دیرپا ثابت نہ ہوتا ۔ کچھ دیر بعد ہنستے مسکراتے باہر سے چلے آرہے ہیں جیسے کچھ ہوا ہی نہیں ۔
شاہ اکرام الحق صاحب ان کے یار غار تھے ۔ پٹنہ میں پڑھائی کے دنوں سے ہی ان کے درمیان دوستی تھی ۔ اتفاق سے دونوں کا میدانِ عمل پورنیہ ہی رہا ۔ دونوں پھر یکجا ہو گئے ۔ کچہری سے واپسی پر اکرام صاحب سیدھے میرے گھر تشریف لاتے ۔ طرح طرح کی باتوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ چل پڑتا ۔ ناشتہ ، چائے ، پان کا دور بھی باتوں کے درمیان جاری رہتا ۔ کبھی کبھی دونوں میں اتفاق رائے قائم نہ ہو پانے کی وجہ سے آپسی نظریاتی تکرار بھی ٹھن جاتے اور کوئی کسی کی بات ماننے کو تیار نہ ہوتا ۔ گرما گرمی اس حد تک پہنچ جاتی کہ آئندہ ایک دوسرے سے بات نہ کرنے اور دوبارہ کبھی نہ ملنے کا الٹی میٹم بھی دے دیا جاتا ۔ غصے کی حالت میں اکرام صاحب پاؤں پٹختے باہر نکل جاتے ۔ بالکل کٹس ہو جاتی ۔ اندر ہم بےچینی سے یہ سب سنتے اور پریشان ہوتے رہتے کہ خدا جانے اب کیا ہونے والا ہے ؟
الحمداللہ ! دوسری شام کچہری سے واپسی پر ان کی گاڑی حسب معمول میرے دروازے پر آ رکتی ۔ گزشتہ ساری رنجشیں بھلا کر دونوں اس طرح گھل مل کر باتیں کرتے کہ دیکھنے والے حیران رہ جاتے کہ کیا یہ وہی دونوں حضرات ہیں جو کل کبھی نہ ملنے اور کسی قیمت پر نہ آنے جانے کے دعوے کر رہے تھے ۔

خوب تھے دونوں دوست بھی !
ڈاکٹر ضیاء الرحمن صاحب سے بھی بڑی محبت اور احترام کا رشتہ تھا ۔ فرصت کے اوقات میں اکثر وہ بھی ہمارے گھر تشریف لایا کرتے حالانکہ اپنی کلینک سے وقت کم نکال پاتے تھے ۔ رات کے اوقات میں بھی اگر گھر میں کسی کی طبیعت خراب ہو جائے تو بلاتامل سلیپنگ سوٹ میں ہی تشریف لے آتے ۔
پورنیہ سے چھٹیوں میں حاجی پور جب بھی گھر جاتے ان کی خواہش ہوتی کہ والد کا کام خود اپنے ہاتھوں انجام دیں ۔ ان کے کچہری جانے سے قبل ان کی شیروانی جسے پہن کر وہ کچہری جایا کرتے تھے برش ست جھاڑ کر سجا دینا ، ان کے کپڑے ٹھیک ٹھاک کر رکھ دینا ، جوتے پالش کر دھوپ میں رکھ دینا طارق صاحب کا معمول تھا جسے وہ بڑی تندہی اور کمال محبت سے انجام دیا کرتے تھے حالانکہ ان کاموں کے لئے الگ سے ایک خادم معمور تھا ۔ کچہری سے واپسی پر اپنی پھلواری میں وقت گزاری طارق صاحب کے والد گرامی کا معمول تھا ۔ سوکھے پتے چن چن کر یکجا کرنا ، قینچی سے پودوں کی کاٹ چھانٹ ، کیاریوں کی صفائی ، گوڑائ اور ان میں پانی دینا وغیرہ ۔ لیکن طارق صاحب ان کی گھر واپسی سے قبل ہی یہ سارا کام خود اپنے ہاتھوں انجام دے لیا کرتے کہ والد گرامی کو یہ سب نہ کرنا پڑے ۔ ان کاموں میں انھیں بےحد خوشی حاصل ہوتی ۔
کالج میں ان کے پڑھانے کا انداز کچھ الگ اور انوکھا تھا ۔ لڑکے بڑی دلجمعی سے ان کا کلاس اٹینڈ کیا کرتے ۔ وہ خوشگوار ماحول میں بڑی محبت کے ساتھ پڑھایا کرتے ۔ اکثر لڑکے کہتے کہ ایک بار ان کا کلاس اٹینڈ کرنے اور لیکچر سننے کے بعد دوبارہ سبق پڑھنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی ۔
جب لڑکوں کو معلوم ہوا کہ ان کے ریٹائرمنٹ کے چند دن باقی رہ گئے ہیں تو سارے لڑکے بہت مایوس ہوئے ۔ ان لوگوں نے طارق صاحب سے گزارش کی کہ اب آپ کی ملازمت کے جتنے دن بھی بچے ہیں ہماری خواہش ہے کہ وہ تمام کلاسز آپ ہی لیں ۔ وہ ہمیشہ بچوں کی خوشنودی کا خیال رکھتے ۔ لہذا کالج کے آخری دن ، آخری کلاس تک پڑھاتے رہے ۔
آخری کلاس لے کر جب کلاس روم سے نکلنے لگے تو ایک لڑکے نے آگے بڑھ کر ان سے کہا ” سر ! آپ چلے جائیں گے تو ہم اردو کے طالب علم یتیم ہو جائیں گے “۔
انھوں نے مسکرا کر اس کی پیٹھ تھپتھپاتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔ ” فکر نہ کرو تم لوگوں کے کلاسز اسی طرح ہوتے رہیں گے ” ۔
طارق صاحب ایک فرض شناس بیٹا ، شفیق باپ ، چاہنے والا شوہر ، محبتوں سے بھرا بےلوث استاد ، سبھوں سے مضبوط رشتہ قائم رکھنے والا روادار ، متوازن ، ادب نواز انسان تھے جو اب ہمارے درمیان نہ رہے ؂
بھور کی بیلا طاق پہ رکھی اک بجھتی سی باتی ہوں
ساحل لگتی نیا ہوں اور سانجھ کی ڈھلتی لالی ہوں
سال 2019 کے ماہ اپریل کی تین تاریخ کو یہ باتی بجھ گئ اور دن بھر نیا کھینے والا مانجھی تھک کر ہمیشہ کے لئے سو گیا ۔
دعا ہے خدا انھیں اپنے جوار رحمت میں جگہ دے ۔
آمین !!
۔۔۔۔۔۔۔
نزہت طارق ظہیری
شیو مندر کے پیچھے
لائن بازار ۔

Previous articleجب وہ پیدا ہوا تو اس کی ماں نے اسے دیکھ کر منہ پھیر لیا۔۔از: مولانا عبیداللہ خاں اعظمی
Next articleمولانا محی الدین ساتن پوری ؒ از: مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here