ضلع کٹیہار میں اردو شاعری کا منظر نامہ(دوسری قسط ) از: احسان قاسمی

0
226

بسلسلہ ” سیمانچل ادب کا گہوارہ ”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ضلع کٹیہار میں اردو شاعری کا منظر نامہ
( دوسری قسط )
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
‘ پلٹنیا روڈ ‘ مٹتی ہوئی تاریخ کا ایک باب ۔
دوستو !
آئیے ! ایک مٹتی ہوئی سڑک یا مٹتی ہوئی تاریخ سے بھی ملتے چلیں ۔ پورنیہ کٹیہار اسٹیٹ ہائ وے پر رانی پترا اور روتارا قصبہ کے درمیان آپ نے سڑک کنارے ایک بورڈ لگا دیکھا ہوگا جس پر لکھا ہے ‘ پلٹنیا روڈ ‘ ۔ انگریزوں کے زمانے میں دراصل یہ ایک فوجی اہمیت کی سڑک ہوا کرتی تھی جو مرشد آباد اور کلکتے کی جانب جایا کرتی تھی ۔ اس سڑک سے فوجی دستے / پلٹن ( Platoons ) گزرا کرتے تھے لہذا عرف عام میں اسے ‘ پلٹنیا سڑک ‘ کہا جانے لگا ۔

اب پورنیہ کٹیہار اسٹیٹ ہائ وے نیشنل ہائی وے میں تبدیل ہو چکا ہے ۔ گنگا ندی پر پل کی تعمیر کا کام مکمل ہوتے ہی پورنیہ سے کٹیہار ، منیہاری ہوتے ہوئے صوبہ جھارکھنڈ کے صاحب گنج اور اس سے آگے کا سفر بہت آسان ہوجائے گا ۔ آنے والی نسل کو شاید پلٹنیا روڈ سے روشناس ہونے کا موقع حاصل نہ ہو ، اس لئے سوچا آپ کو بتا دوں ۔

پرانے وقتوں میں خصوصا” نوابوں اور بڑے بڑے زمینداروں کے دور میں پڑھی لکھی ، تہذیب یافتہ ، باذوق طوائفوں کا کافی چلن تھا ۔ ان میں سے بعض شعر و سخن سے بھی نسبت رکھتی تھیں ۔
آپ نے پڑھا اور سنا بھی ہوگا کہ لکھنؤ کے نواب اپنے بچوں کو زبان ، تہذیب اور شائستگی سیکھنے کے لئے طوائفوں کے پاس بھیجا کرتے تھے ۔
مرزا ہادی رسوا کا ناول ‘ امراؤ جان ادا ‘ اس دور کی بہترین عکاس ہے ۔ اس کے علاوہ جوش ملیح آبادی کی خود نوشت ‘ یادوں کی برات ‘ میں بھی اس دور کی تہذیبی جھلکیاں موجود ہیں ۔
کٹیہار میں بھی ایک ایسی ہی شاعرہ طوائف کا ذکر ملتا ہے ۔ ان کا نام گلاب جان اور تخلص گلاب تھا ۔

11 – گلاب جان گلاب
کٹیہار کی ایک پیشہ ور موسیقار و طوائف تھیں ۔ اشعار کہنے کا شوق تھا اور عمدہ غزلیں کہتی تھیں ۔ کوئ غیر معروف شاعر استاد تھے جو اصلاح دیا کرتے تھے ۔ 1910ء تک باحیات تھیں ۔ ان کے کلام کا نمونہ ماہنامہ ” پیام یار ” لکھنوء جون 1904 ء جلد 22 شمارہ 6 سے ان کی طرحی غزل شاداں فاروقی نے نقل کی ہے جو نذر قارئین ہے ؂
جان من تم کو پیار کرتے ہیں
دل تمہیں پر نثار کرتے ہیں
اب تو آوء جی خدا کے لئے
ہر گھڑی انتظار کرتے ہیں
نہ شب وصل کی سحر ہو کبھی
یہ دعا کردگار کرتے ہیں
دیکھیں کس دن ہو اس کا وصل گلاب
روز و شب انتظار کرتے ہیں
( ڈاکٹر عنصری بدر کی کتاب ‘ اردو شاعری کے ارتقاء میں قدیم پورنیہ کی خدمات ‘ سے ماخوذ )

کٹیہار ضلع کا مورسنڈہ گاؤں تعلیمی لحاظ سے ایک قابلِ ذکر گاؤں رہا ہے ۔ یہاں اعلى’ تعلیم یافتہ لوگوں کی اچھی تعداد رہی ہے ۔ اس گاؤں سے تعلق رکھنے والے کئی افراد اعلى’ عہدوں پر فائز رہے ۔ اس گاؤں نے اردو ادب کو دو شعراء دیئے ہیں ۔

12 – احمد ندیم مورسنڈوی
آپ شاعر ، افسانہ نگار ، ناول نگار اور معلم ۔۔۔۔۔ گویا کہ ہمہ جہت شخصیت کے مالک قلمکار ہیں ۔ مختصر تعارف پیش ہے ۔
اصل نام :- ندیم احمد
والد :- ابو مظفر حکیم عبد القدیم مرحوم
والدہ :- خدیجہ خاتون مرحومہ ( پرورا ۔ ضلع : پورنیہ )
تاریخِ پیدائش :- 03 مارچ 1949 ء
سرٹیفیکیٹ :- 03 مارچ 1950 ء
آبائ وطن اور جائے پیدائش :- مورسنڈہ ۔ تھانہ : پھلکا ۔ ضلع : کٹیہار
بحیثیت ہیڈ ماسٹر ، مڈل اسکول مورسنڈہ سے مارچ 2019 ء میں سبکدوش ہوئے ۔
تلمذ :- 1. – والدِ محترم ابو مظفر حکیم عبدالقدیم مرحوم
2 – حضرت آسی رام نگری مرحوم
1976 ء سے افسانہ نگاری اور شاعری کا آغاز ۔
مندرجہ ذیل کتابیں اب تک منظرعام پر آ چکی ہیں ۔
۱ – آئینہء سخن ( شعری مجموعہ ) 2015 ء
۲ – آئینہء صداقت ( شعری مجموعہ ) 2018 ء
۳ – روپ کی رانی ( افسانوی مجموعہ ) 2016 ء
۴ – درد کا رشتہ ( ناول ) 2016 ء
ہندی زبان میں بھی ایک ناول ‘ چاند کا ٹکڑا ‘ شائع ہو چکا ہے ۔
آپ ایک استاد شاعر ہیں ۔ علم العروض پر دسترس رکھتے ہیں ۔

13 – افتخار احمد راز مورسنڈوی
پیدائش – 20 جنوری 1938 ء
وفات – 20 اگست 2021 ء
آپ کی پیدائش مورسنڈا میں ۲۰ ؍ جنوری ۱۹۳۸ ء کو ہوئی تھی ۔
آپ دھمداہا ہائ اسکول کے برسوں وائس پرنسپل رہے ۔ 1998 ء میں ملازمت سے سبکدوش ہوئے ۔ آپ کی علمی لیاقت اور تدریسی خدمات کے سبھی معترف رہے ۔ آپ کے زمانے میں دھمداہا ہائ اسکول کو کافی عروج حاصل ہوا اور اس کی شہرت دور دراز کے مقامات تک پہنچی ۔
جواں سال فرزند کا انتقال آپ کےلئے ایک بڑا سانحہ تھا جس نے آپ کو عرصہ دراز تک دکھ اور اندوہ کے گہرے ساگر میں ڈبوئے رکھا ۔ اپنے ٹوٹے ہوئے دل کی ترجمانی کے لئے آپ نے آخر کار شاعری کا سہارا لیا ۔ آپ کے دو شعری مجموعے منظرعام پر آ ئے ۔
۱ – نجم الثاقب
۲ – تحفہء عالم

14 – سبطین پروانہ
پیشے سے معلم اور دل سے شاعر سبطین پروانہ کا شعری مجموعہ ‘ درد نہاں ‘ این سی پی یو ایل ، نئ دہلی کے جزوی مالی تعاون سے دسمبر 2020 ء میں منظرعام پر آیا ہے اس میں بیس حمدیہ کلام ، اکتالیس نعتیہ کلام ، ایک نظم اور چند قطعات کے علاوہ 131 غزلیں شامل ہیں ۔ ان کا مختصر تعارف پیش خدمت ہے ۔
اصل نام ۔ سید غلام السبطین
والد – سید نیر اعظم مرحوم
دیلال پور ۔ پوسٹ : سالماری ( کٹیہار )
تاریخ پیدائش – یکم اگست 1973
تعلیم ۔ مولویت
ملازمت – سرکاری اسکول میں معلم
شاعری کی ابتدا – 1992 ء
تلمذ – راز ساغر ، مدھیہ پردیش ۔ ثمر مانچوی ۔ صبا دربھنگوی ۔
شعری مجموعہ – ‘ دردِ نہاں ‘ مطبوعہ دسمبر 2020

15 – انور ایرج
پروفیسر ڈاکٹر انور حسین شعر و سخن کی دنیا میں انور ایرج کے قلمی نام سے شہرت رکھتے ہیں ۔ وہ ڈی ایس کالج کٹیہار کے صدر شعبہء اردو کے عہدے پر فائز ہیں ۔ ان کی زیر نگرانی کئ اسکالرز نے تحقیق کا کام کیا ہے ۔
1999 ء سے جولائی 2003 ء تک وہ بہار لیجسلیٹیو کاؤنسل میں ملازم رہے ۔ بعد ازاں ڈی ایس کالج جوائن کیا ۔
انور ایرج آل راؤنڈر آدمی ہیں ۔ معلم ، محقق اور شاعر ہونے کے ساتھ ہی آل انڈیا مشاعروں ، سیمیناروں سیاست اور سماجی خدمات میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا کرتے ہیں ۔ وسیع حلقہ رکھتے ہیں ۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ان کا شعری مجموعہ اب تک منظرعام پر نہ آ سکا ہے ۔
ان کا مختصر تعارفی خاکہ پیش خدمت ہے ۔
اصل نام ۔ انور حسین
والد ۔ صغیر احمد مرحوم
آبائی وطن ۔ ہند پیڑھی ۔ رانچی ( جھارکھنڈ )
تاریخ پیدائش – 2 مارچ 1963 ء
شعر گوئی کا آغاز ۔ 1982 ء کے آس پاس ۔
نظمیں ، غزلیں ، دوہا ، رباعی اور قطعات کہتے ہیں لیکن غزل گوئی سے خاص دلچسپی ہے ۔
باضابطہ کسی استاد کی شاگردی اختیار نہیں کی ۔
پہلی غزل ماہنامہ ‘ روبی ‘ دہلی میں شائع ہوئی تھی ۔
رسائل و جرائد جن میں تخلیقات کی اشاعت ہوئی :- اوراق ( پاکستان ) ، شاعر ، کتاب نما ، مباحثہ ، عہد نامہ ، زبان وادب ، بھاشا سنگم ، نیادور ، تعمیر ہریانہ ، جمنا تٹ ، اردو دنیا ، رنگ ، انوار تخلیق ، دستاویز ، ترجمان ، عکس ، افکار ملی ، امید سحر ، نقاد وغیرہ ۔
اشاعت کا کام :- رانچی سے سہ ماہی ادبی رسالہ ” حصار ” کی اشاعت ۔ اس کے تین شمارے شائع ہوےء ۔
شاذ رحمانی مرحوم کے بوجہ علالت گوشہ نشین ہو جانے کے بعد کٹیہار کی نیم مردہ ادبی فضا میں نئ روح پھونکنے کا کام بلاشبہ ڈاکٹر انور ایرج نے انجام دیا ۔ انھوں نے ‘ کاروانِ قلم ‘ کی بنیاد ڈالی اور نوجوان نسل کو اس سے جوڑنے کا کام کیا ۔ ‘ کاروانِ قلم ‘ کے بینر تلے ادبی نشستوں کا انعقاد ہونے لگا اور نوجوان نسل کو سیکھنے سکھانے کا ایک پلیٹ فارم حاصل ہوا۔
آج بھی وہ کئ انجمنوں کی سرپرستی کر رہے ہیں ۔
این سی پی یو ایل کے اشتراک سے ہر سال اہم موضوعات پر سیمینار کا انعقاد بھی کیا کرتے ہیں ۔
مطبوعات :- ( 1 ) دار و رسن : کیفی اعظمی کی شاعری
( 2 ) تخلیق اور تنقید کے حوالے سے
بطور استاد

16 – ڈاکٹر قسیم اختر
اصل نام – محمد قسیم اختر
والد – محمد یسین مرحوم
تاریخ پیدائش – یکم دسمبر 1975 ء
ڈاکٹر قسیم اختر ، اسسٹنٹ پروفیسر ڈی ایس کالج کٹیہار میری ہی طرح دوہری شہریت کے حامل ہیں ۔ حالانکہ معاملہ اس لحاظ سے الٹا ہے کہ ان کی جنم بھومی گاؤں بہادر پور پورنیہ ضلع کے امور بلاک میں واقع ہے ۔ لیکن فی الحال انھیں کٹیہار کے کھاتے ڈالنے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ اب یہی ان کی کرم بھومی ہے ۔
ڈاکٹر قسیم اختر فعال شخصیت رکھنے والے مضمون نگار ، تنقید نگار ، محقق اور شاعر ہیں ۔ معلم کیسے ہیں یہ تو آگے چل کر معلوم ہوگا کیونکہ پروفیسری کا معاملہ ابھی تازہ تازہ ہے ۔ ویسے ان کی علمی صلاحیت ، ایمانداری اور اخلاص اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ ان شآء اللہ وہ ایک بہترین معلم ثابت ہوں گے ۔
آپ ارریہ سے شائع ہونے والے رسالے ‘ ابجد ‘ کے ایک عرصہ تک مدیر رہے ۔ آپ کے دورِ ادارت میں ابجد کو عالمی شہرت حاصل ہوئی ۔
ان کے مضامین ہند و پاک کے مقتدر رسائل و جرائد میں تواتر کے ساتھ شائع ہو رہے ہیں ۔
ان کی غزلیں بھی اکثر شائع ہوتی رہتی ہیں ۔
قسیم اختر نے گوکہ مختلف اصناف شاعری میں طبع آزمائی کی ہے لیکن غزل ان کا خاص میدان ہے ۔ اپنی بات سلیقے سے کہتے ہیں اور عصری تقاضوں کو بھی ملحوظ خاطر رکھتے ہیں ۔
شعری مجموعہ زیر ترتیب ہے ۔
جس طرح بزرگ اپنی حیات میں پوتے کا منھ دیکھنا چاہتے ہیں کم و بیش ان کے شعری مجموعہ کے حوالے سے میری حالت بھی ویسی ہی ہے ۔
مطبوعہ تصنیف – ‘ مخمور سعیدی کے شعری آفاق ‘ ۔ مطبوعہ 2018 ء
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( سلسلہ جاری رہےگا ان شاء اللہ )
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Previous articleآزادی کے بعدآج تک کی سب سے بڑی اُردو تحریک
Next articleکب تک ہوس کی چھری سے بیٹیاں قتل کی جاتی رہیں گی؟ کیا رابعہ سیفی کو انصاف ملے گا؟ ​از :ڈاکٹر کہکشاں عرفان الہ آباد

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here